ان من گھڑت روایات کا وبال۔۔۔ عیسائیوں کی طرف سے اعتراض
ان من گھڑت روایات کا وبال یہ ہوا کہ عیسائی مذہب کے پادری جسٹن منرو لکھتا ہے کہ دائود علیہ السلام بھی زنا اور (اوریا ہ کا) خون کرکے گناہ کا مرتکب ہوا۔ اور پھر یہی مصنف قرآن کی آیات کا حوالہ دیتا ہے:
وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّہٗ وَ خَرَّ رَاکِعًا وَّ اَنَابَ ﴿ٛ۲۴﴾ فَغَفَرۡنَا لَہٗ ذٰلِکَ ؕ وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿۲۵﴾
’’اور داؤد علیہ السلام نے خیال کیا کہ ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے
پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گر پڑے اور (خداکی طرف) رجوع کیا تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کیلئے ہمارے یہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘(سورۃ ص،آیات: 24تا 25)، (عصمتِ و نبوت،ص48)
دوسرے عیسائی بھی یہی لکھتے ہیں:
سموئیل 12،11۔ بائبل مُقدس میں لکھا ہے کہ داؤد نبی نے اوریاہ کی بیوی بت سبع کے ساتھ زنا کیا اور پھر اُسے چھپایا۔
عیسائی مصنفین لکھتے ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ اِس واقعہ کا کچھ حصہ قرآن میں بھی ہے۔ (21:38-24، 30)، اور بہترین مسلمان مفسر ہمیں بتاتے ہیں کہ اِن قرآنی آیات کی درست تشریح داؤد علیہ السلام کا اوریاہ کی بیوی کو ناروا طور پر لے لینا تھا۔ مثلاً ابن عباس سورہ 23:38-24، 26 کے بارے میں لکھتے ہیں:
(ایک دُنبی) یعنی ایک بیوی، (سو یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور بات چیت میں دباتا ہے) یہ ایک تشبیہ ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ داؤد کو سمجھ آ جائے کہ اُنہوں نے اوریاہ کے ساتھ کیا کیا تھا۔ ( تفسیر ابن عباس)
عیسائی مصنفین ان من گھڑت روایات کو دلیل بنا کر صرف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نبیوں میں صرف یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی مکمل طور پر بے گناہ ہونے کی مثال ہے، جس کی ہمیں پیروی کرنی چاہئے۔ دوسرے نبی کامل زندگی کی مثالیں نہیں ہیں۔
مسلمانو! یہ ہے من گھڑت روایات کی وجہ سے عیسائی پادریوں کا انبیاء علیہم السلام کے بارے میں عصمت کا عقیدہ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ تاجدار ختمِ نبوت سمیت تمام انبیاء علیہم السلام سے گناہ سرزد ہوئے ہیں اس لئے تمام انبیاء میں سوائے عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام کے، اور کوئی بھی معصوم عن الخطا نہیں ہے۔
دوسرا وبال۔۔۔ صوفیاء اور اُن کے جاہل پیروکار اس قصے کوفی الواقع سمجھتے ہیں
ہمارے معاشرے میں یہ دیکھا بھالا حقیقت ہےکہ جب کسی کو نصیحت کی جائے تو بعض افراد طنز کے طور پر جواب میں کہتے ہیں کہ خود تو جوانی میں خوب بھڑاس نکالی ہے، اور اب آئے مجھے نصیحت کرنے۔
اسی طرح جب داؤد علیہ السلام اور نبی عربی علیہ السلام کے بارے میں ایسے غیر اخلاقی لحاظ سے کردار کے کمزور پہلو بیان کئے جائیں تو بہت ممکن ہے کہ کسی کو خیال گزرے یا زبان پر بھی اظہار کرے،(اللہ کی پناہ ایسے خیالات اور ایسی باتوں سے ) کہ ان حضرات نے بھی اپنے وقتوں میں جوانی میں خوب مزے کئے ہیں۔ معاذاللہ ثم معاذ اللہ۔
ہمارے گاؤں مندیزائی گندے عقائد میں میونسپل کمیٹی کا کوڑا دان ہے جس میں ہر قسم کی گند، بد بو اور غلاظت پائی جاتی ہے۔اکتوبر 2024 کے پہلے ہفتے میں مجھے ایک دوست نے بتایا کہ اس کا ایک ساتھی داؤد علیہ السلام کا یہ قصہ سنا رہا تھا، جس پر ساتھ بیٹھے ایک تعلیمِ یافتہ شخص نے کہا کہ دیکھو جی! ان سب حضرات (انبیاء)نے بھی اپنے اپنے وقت میں خوب مزے کئے ہیں۔ جس بندے نے یہ قصہ سنایا اس بندےکے پیر سے میں(اکبرعلی) نے داؤد علیہ السلام اور رسول اللہ اور زینب رضی اللہ عنہا کی نکاح کا من گھڑت قصہ 23 سال پہلے کئی بار سنا ہے، اور وہ موت تک اسی عقیدے پر رہاہے۔ اور یہ مشرک صوفیاء ان باتوں پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ طریقت میں ایک اصطلاح ہے صحو ، اور دوسری اصطلاح ہے سَکر۔
صحو کا مطلب ہےکہ انسان ہوش و حواس میں ہو۔ اور سَکر کا مطلب ہے کہ وہ مغلوب الحال ہو اور مدہوش ہو، یعنی ہوش میں نہ ہو۔
اور کہتے ہیں کہ ہمارے نبی علیہ السلام حالتِ سَکر میں تھے یعنی مغلوب الحال تھےاس لئے اس کو اللہ کی طرف سے کچھ نہ کہا گیا اور اس کا یہ فعل گناہ شمار نہیں کیا گیا۔ اور داؤد علیہ السلام چونکہ حالتِ صحو یعنی بیداری اور ہوش کی حالت میں تھے اس لئے اس کے اس فعل پر اس کو اللہ کی طرف سے تنبیہ ملی، اور اس کا فعل گناہ شمار کیا گیا۔
رسول اللہ کے بارے میں غلبۂ حال اس حد تک ماننا کہ آپﷺ کو ہوش ہی نہ رہے کہ یہ کیا کیا، ایسا مانناہی جائز نہیں اس لئے کہ رسول اللہ نے اپنے بارے میں خود فرمایا ہے:
کسی بھی نبی (علیہ السلام) سے بتقاضائے بشریت اجتہادی خطاء کا صدورممکن ہے،لیکن اس خطاء کو بر قرارنہیں رکھاجاتا، بلکہ من جانب اللہ اس خطا ءپر انہیں مطلع فرما دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس خطا کی اصلاح کرسکے۔
جیسا کہ تفصیر بغوی میں ہے:
وَقَالُوا: يَجُوزُ الْخَطَأُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يُقِرُّونَ عَلَيْهِ
علماء فرماتے ہیں کہ کسی بھی نبی سے خطا کا صدور ممکن ہے،لیکن ان کی اس خطاء کو بر قرارنہیں رکھاجاتا۔‘‘
میں کہتا ہوں کہ اس قصہ کو کشف المحجوب نامی کتاب میں سید علی ہجویری رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علمِ حدیث اور اس کی نقد و جرح اور صحیح اور سقیم کی پہچان کے علم سے محروم تھے ورنہ وہ عصمتِ انبیاء کا اجماعی عقیدہ مدِ نظر رکھ کر ان روایات کے بارے میں شک میں پڑھ کی چھان بین کر لیتے۔
ہجویری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حالت صحو میں کئے گئے کام کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے، اور مثال میں دائود علیہ السلام کے ہاتھوں جالوت کی قتل اور اس کا اُوریا کی بیوی پر بُری نظر کرنے کی مثال دی ہے۔
اور حالتِ سکر میں کئے گئے کام کی نسبت بندے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے اور مثال میں (وَ مَا رَمَیتَ اِذْ رَمَیتَ وَ لَکِنَّ اللہ رِمَی) اور اے نبی! تم نے وہ خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے وہ پھینکی۔‘‘
حالانکہ اگر کوئی یہ آیت اور بخاری شریف کی حدیثِ ولی میں اعضاء کو حقیقت پر محمول کرے تو کافر ہوجائے گا۔ ابن کثیر لکھتا ہے کہ وہ کنکر یا ریت اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔‘‘ (الانفال:17)
یعنی انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ مٹھی بھر ریت یا کنکر پھینکے اور وہ ایک ہزار بکھرے ہوئے لشکر کی آنکھوں تک پہنچا دے بلکہ یہ کام صرف اور صرف اللہ ہی کرسکتا ہے، مگر چونکہ تحت الاسباب ریت نبی کریم علیہ السلام نے پھینکی تھی اس لئے آپ کی طرف مجازاً نسبت کی گئی، جس طرح ہم کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر کی علاج (تحت الاسباب) سے اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاءدی(ما فوق الاسباب)۔
اس لئے کہ ایک ہی ڈاکٹر کے علاج سے ایک ہی نوعیت کے مرض میں مبتلا مریض کو شفائ نہیں ملتی، جبکہ دوسرے مریض کو اسی نوعیت کی مرض میں اسی ڈاکٹر کے علاج سے اسی دوائی سے شفاء ملتی ہے۔
مفسر طبری وغیرہم اور سید علی ہجویری رحمہما اللہ کی بے احتیاطی
…پہلی فاش غلطی ان مفسرین نے کی ہے جو حاطب اللیل تھے۔ ہر ربط و یابس سے بغیر کسی نقد وجرح کے کتاب کی حجم بڑھانے کے جنون میں مبتلا تھے، انہوں نے انبیاء علیہ السلام کے مقام و مرتبے کا لحاظ کئے بغیر، اپنی کتابوں میں ہر رطب و یابس اور ہر ہذیان و بکواس کو جگہ دی۔
…اور دوسری بے احتیاطی وہ حضرات کر گئے جنہوں نے ان مفسرین کی اندھی، بہری اور گونگی تقلید کی، اور ان کے ذہن میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگنے والے بہتان والے واقعے کے بارے میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا بے ساختہ ردِ عمل نہیں آیا۔ اُم الموٴمنین سیدۃ طاہرۃ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب بدباطن منافقوں نے نارَوا تہمت لگائی اور آپﷺنے(دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ)عمر رضی اللہ عنہسے بھی رائے طلب کی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے سنتے ہی بے ساختہ کہا:’’توبہ! توبہ! یہ تو کھلا بہتان ہے۔‘‘
اور بعد میں انہی الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت اور پاک دامنی ثابت فرمائی:
لَوۡ لَا اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡہُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمۡ خَیۡرًا ۙ وَّ قَالُوۡا ہٰذَا اِفۡکٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۲﴾
’’اس (کھلی بہتان کو) سنتے ہی مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے حق میں نیک
گمانی کیوں نہ کی۔ اور کیوں نہ کہا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے۔‘‘(النور:12)
ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ سید عثمان علی ہجویری رحمہ اللہ پانچویں صدی میں گزرے ہیں، اس کی تاریخِ وفات خزینۃ الاولیاء کے مطابق 464ہجری ہے اور حنفی ہونے کا دعوی بھی کرتا ہے مگر افسوس کہ اس سے 350 سال پہلے اس کے امام، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے الفقہ الاکبر لکھی تھی، جس کےص:2 پر لکھا ہے:
الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کلھم منزھون عن الصغائر والکبائر والکفر والقبائح
’’سارے انبیاء علیہم السلام صغیرہ ،کبیرہ گناہوں اور کفر اور بے ہودہ کاموں سے پاک ہیں۔‘‘(الفقہ الاکبر،ص:2)
اگر یہ صاحب صرف فقہ الاکبر ہی پڑھ لیتے تو اسے پتہ چل جاتا کہ اس حدیث کی کیا حیثیت ہے؟ ہم کسی ہجویری رحمہ اللہ کے اُمتی نہیں بلکہ ہم تاجدارِ ختمِ نبوت کے اُمتی ہیں۔ اور نبی کریم علیہ السلام کی اطاعت کے بارے میں اللہ جل مجدہ ہمیں حکم دے کر فرماتاہے:
وَمَا اَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ مَا نَہٰکُم عَنہُ فَانتَہُوا
’’اور جو کچھ تمہیں یہ رسولﷺ دے، ان کو لے لو (ان پر عمل کرو) اور جن چیزوں سے منع کردے ان سے منع ہو جاؤ۔‘‘(الحشر: 7)
اور یہی رسول اللہﷺ کا حکم بھی ہے:
’’اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں کسی مخلوق کی بات نہیں مانی جائے گی، اس
لئے کہ اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں واجب ہے۔‘‘ (مسلم، حدیث نمبر:4765)
پس اگر کروڑوں اولیاء رحمہم اللہ کی بات ایک طرف ہو اور صرف رسول اللہﷺ کی بات دوسری طرف، تو اُمت پر رسول اللہ ﷺکی بات ماننا فرض ہے، اولیاء کی نہیں۔ کیونکہ اولیاء کی نافرمانی کرنے پر قرآن و سنت میں کوئی مواخذہ اور وعید نہیں جبکہ رسول اللہﷺ کی نافرمانی پر اعمال برباد ہونے کی وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اَطِیعُواللہ وَاَطِیعُوالرَّسُولَ وَلاَ تُبطِلُوا اَعمَالَکُم (سورت محمد،آیت:33)
’’اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسولﷺکی اطاعت کرو،اوراپنےاعمال ضائع مت کرو۔‘‘
کَشْفُ الْمَحْجُوب تصوف کی کتاب ہے مگر اس میں خودساختہ اصطلاحات (صحو و سَکر) کی بنیاد پر دو جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے بارے میں لغو اور من گھڑت اسرائیلی روایات کو دلیل بنا کر جو بے احتیاطی کی گئی ہے اس کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کی شان اور قدر و منزلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی اس لئے کہ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ متوفی 1034 ہجری بھی فرماتے ہیں:
’’آخرت میں شریعت کے بارے میں پوچھا جائے گا، طریقت کے بارے میں نہیں۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی)
ایک ممکنہ اعتراض اور اس کا جواب
اگر کوئی کہے کہ ان دونوں باتوں کی اصل تفسیر طبری میں ہے تو کیا پھر وہ بھی بے وقعت رہ جاتی ہے؟
اس کا جوابات یہ ہیں:
امام ابن جریر رحمہ اللہ روایات مع اسانید پورے اہتمام کے ساتھ لاتے ہیں ،اور عموماً اُن (روایات) کی صحت وسقم کے بارے خاموشی اختیا ر کرتے ہیں۔اس اعتبار سے ان کا وہی نظریہ ہے جو کہ اہل فن کے ہاں مشہور ومعروف ہے کہ:
من اسندلك فقد حملك للبحث عن رجال السند
’’جس نے سند بیان کردی اُس نے راویوں کے بارے میں تجھے بحث کا ذمہ دار ٹھہرایا۔‘‘
اس اُصول کے پیش نظر (ابن جریر) اسرائیلی روایات کثرت سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بسا اوقات غیر صحیح روایت کو جرح وتعدیل کی بناء پر رَد کردیتے ہیں۔
اس لئے مفسر طبری نے ان روایات کی سند ذکر کرکے سند میں موجود رُوات کی توثیق و تضعیف کی بنا پر فیصلہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ کوئی بھی ان سندات کی تحقیق کرکے سند کو صحیح، حسن، موضوع، من گھڑت یا ضعیف ثابت کرنے کے بعد روایت کو قبول اور رَد کر سکتا ہے۔
دوسرا جواب علامہ طبری کا یہ اعتراف جو اس نے تاریخ طبری مقدمہ میں کیا ہے جس میں انہوں نے واضح طور سے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بغیر نقد و تمحیص کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے راویوں کی روایات کو ان کی اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے:
’’فما یکن في کتابی ھذا من خبر ذکرناہ عن بعض الماضین مما یستنکرہٗ قارئُہٗ، أو یستشنعہٗ سامعہٗ من أجل أنہٗ لم یعرف لہٗ وجھًا في الصحۃ، ولا معنی في الحقیقۃ، فلیعلم أنہٗ لم یؤت في ذٰلک من قبلنا، و إنما من قبل بعض ناقلیہ إلینا، وإنا إنما أدینا ذٰلک علی نحوما أدی إلینا
’’لہذاہماری اس کتاب میں پڑھنے والاکسی خبر وروایت کو منکر اور اجنبی سمجھے یا سننے والا اسے قبیح قراردے صرف اس بناء کہ وہ اس روایت کو درست نہیں سمجھتا تو اسے جان لینا چاہیے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بنائی بلکہ بعض ناقلین سےوہ ہمیں اس طرح پہنچی ہیں، اور پس ہم نےان کواسی طرح آگے لکھ دیا جس طرح وہ ہم تک پہنچی تھیں۔‘‘ (مقدمہ تاریخ طبری، ص:13)
یہ بے احتیاطی اس جلیل القدر عالم، مفسر اور مئورخ سے ہوئی ہے، جس کے زخم اب بھی چاٹے جا رہے ہیں۔ ان کی ان کتب میں بے بنیاد روایات کی بنا پر اب بھی انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میںبد زبانی اور گستاخیاں کی جارہی ہے۔
قارئین کرام! کیا ابن جریر طبری جیسے منصبِ اجتہاد پر فائز مصنف کے لئے صرف سند کے ساتھ رطب و یابس، غث و سمین اور ثقہ و غیر معتبر ہر طرح کی روایات کا نقل کرنا کوئی معقول عذر بن سکتا ہے؟
ابن جریر طبری کے رُوات
چونکہ تاریخِ طبری بڑے بڑے دروغ گو، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات سے بھری ہوئی ہے، بطور مثال کے تاریخِ طبری کی روایات کا ایک جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب نے تاریخِ طبری میں موجود ثقہ و غیر ثقہ راویوں کی روایات کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
تاریخِ طبری میں اس کے بارہ (۱۲) مرکزی رواۃ کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں، جن میں سے سات راوی کذّاب یا متہم بالکذب ہیں اور پانچ ثقہ ہیں:
دروغ گواور متہم بالکذب راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ
…محمد بن سائب کلبی کی بارہ (۱۲) روایات،…ہشام بن محمد کلبی کی پچپن (۵۵) روایات،…محمد بن عمر کی چار سو چالیس (۴۴۰)روایات،…سیف بن عمر تمیمی کی سات سو (۷۰۰)روایات،…ابو مخنف لوط بن یحییٰ کی چھ سو بارہ (۶۱۲)روایات،…ہیثم بن عدی کی سولہ(۱۶) روایات،…محمد بن اسحاق بن یسار کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات ہیں۔
ان سب کی روایات کا مجموعہ جن کو مؤرخ طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے وہ انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) ہے۔
ثقہ راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ
…زبیر بن بکار کی آٹھ(۸)روایات،…محمد بن سعد کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات، …موسی بن عقبہ کی سات(۷)روایات،…خلیفہ بن خیاط کی ایک(۱) روایت،…وھب بن منبہ کی چھیالیس (۴۶)روایات ہیں۔
تاریخِ طبری کے ان پانچ ثقہ راویوں کی روایات کا مجموعہ دو سو چھبیس( ۲۲۶) ہے۔
تو گویا تاریخِ طبری میں دو سوچھبیس( ۲۲۶)ثقہ روایات کے مقابلہ میں ان سات دروغ گو اور متہم بالکذب راویوں کی انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) روایات ہیں۔ ان دونوں کے تناسب سے اندازہ لگاجاسکتا ہے کہ تاریخِ طبری جیسی قدیم اور مستند سمجھی جانے والی کتاب کا جب یہ حال ہے تو تاریخ کی باقی کتابوں کا کیا حال ہوگا۔ اسی طرح یہی حال، یا کم از کم اس سے قدر بہتر، تفسیر طبری کی روایات کا بھی ہے۔ اور داؤد اور رسول اللہ علیہم الصلات والسلام کے یہ من گھڑٹ اور گستاخانہ روایات اسرائیلی روایات سے قصہ گو راویوں نے لئے اور ابن جریر طبری نے غفلت کا مظاہرہ کرکے ان کو اپنی تفسیر اور تاریخ میں جگہ دی۔
تفسیرِ طبری میں بھی کم و بیش انہی راویوں کے ساتھ ساتھ دوسرے دروغ گو، متَّہم، ضعیف، واہ، اور کمزور راویوں سے جلیل القدر نبی داؤد علیہ السلام اور سردارِ انبیاء خاتم النبیین کے بارے میں بے بنیاد گستاخانہ روایات نقل ہیں۔
مثال کے طور پر پہلی سند یوں ہے:
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن الحسن، احمد بن المفضل، اسباط بن نصر سے، سدی سے (تابعی کذاب)
دوسری سند:
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن سعد نے ،اپنے باپ سعد سے، وہ کہتا ہے، وہ اپنے چچا سے، وہ اپنے باپ سے، وہ اپنے باپ یعنی میرے دادا سے، اور وہ ابن عباس سے۔
تیسری سند:
ہمیں حدیث بیان کی بشر نے، یزید نے، سعید نے، مطر سے، حسن سے۔
چوتھی سند:
ہمیں حدیث بیان کی محمد ابن حُمَید رازی نے، سلمۃ الابرش نے، محمدبن اسحاق بن یسار سے، بعض اہلِ علم سے، وھب بن منبہ سے(تابعی)
پانچویں سند:
ہمیں حدیث بیان کی یونس نے، ابن وھب سے، کہ خبر دی مجھے ابن لہیعہ نے، ابو سخر سے، یزید رقاشی سے، انس بن مالک سے۔
حدَّثني يونسُ، قال: أخبرنا ابنُ وهبٍ، قال: أخبرني ابن لَهيعةَ، عن أبي صخرٍ، عن يزيد الرَّقاشيِّ، عن أنس بن مالك، سمعه يقولُ: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولُ: “إن داود النبي صلى الله عليه وسلم حين نَظَر إلى المرأةِ فَأَهِمَّ، قطَع على بني إسرائيلَ بَعْثًا فأوصى صاحب البعث فقال: إذا حضر
حدَّثنا ابن حميدٍ، قال: ثنا سَلَمةُ، عن محمدِ بنِ إسحاقَ، عن بعضِ أهلِ العلمِ، عن وهبِ بنِ مُنَبِّهٍ، أن داودَ حينَ دخَل محرابَه ذلك اليوم قال: لا يدْخُلَنَّ
حدَّثنا ابنُ حميدٍ، قال: ثنا سَلَمةُ، قال: ثنى محمدُ بنُ إسحاق، عن بعض أهل العلم، عن وهب بن مُنَبِّهٍ اليَمَانى،
حدَّثنا بشرٌ، قال: ثنا يزيدُ، قال: ثنا سعيدٌ، عن مَطَر، عن الحسن: إن داودَ جَزَّأَ الدهرَ أربعة أجزاء؛ يومًا لنسائِه، ويومًا لعبادتِه، ويومًا لقضاءِ
حدَّثنا محمد بنُ الحسينِ، قال: ثنا أحمدُ بنُ المُفَضَّل، قال: ثنا أسباطُ، عن السدىِّ في قولِه: {وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ (21)}. قال: كان داودُ قد قَسَم الدهرَ ثلاثةَ أيامٍ؛ يومًا يَقْضِى فيه بينَ الناسِ، ويومًا يخلو فيه لعبادة ربِّه، ويوما يَخْلو فيه لنسائِه، وكان له تسعٌ وتسعون امرأةً، وكان فيما يقرأُ من الكتبِ، أنه كان يجدُ فيه فضلَ إبراهيمَ وإسحاقَ ويعقوبَ، فلما وجَد ذلك فيما يَقْرأُ مِن الكتبِ، قال: يا ربِّ، أَرَى الخير كلَّه قد ذهَب به آبائي الذين كانوا قبلى، فأعطني مثلَ ما أعطيتَهم، وافْعَلْ بي مثلَ ما فعلتَ بهم. قال: فأوحَى اللهُ إليه: إن آباءَكَ ابْتُلُوا ببَلايا لم تُبْتَل بها؛ ابتلى إبراهيمُ بذَبْحِ ابنِه، وابتلى إسحاقُ بذَهابِ بصرِه، وابتُلِى يعقوبُ بحُزْنِه على يوسفَ، وإنك لم تُبْتَلَ مِن ذلك بشيءٍ. قال: يا ربِّ ابْتَلنى بمثلِ ما ابتليتهم به، وأعطنى مثلَ ما أعطيتَهم. قال: فأُوحِى إليه: إنك مُبْتَلى، فاحْتَرِسُ. قال: فمكث بعد ذلك ما شاء اللهُ أن يَمكُثَ، إذ جاءَه الشيطانُ قد تَمَثَّل في صورةِ حمامةٍ من ذهبٍ، حتى وقَع عندَ رِجلَيْه وهو قائمٌ يُصَلِّى. قال: فمَدَّ يدَه ليأخُذَه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی کشف المحجوب میں “سکر اور صحو” کی بحث قائم کرکے اسرائیلی روایات کے زیر اثر علی ہجویری صاحب نے اسرائیلی روایات کے تحت وہ ہوش ربا استدلال کیا ہے جو توہین انبیاء ہے۔ سکر یعنی ذکر الہیٰ میں اس قدر غرق ہوجانا کہ انسان مدہوش ہوجائے اور صحو یعنی ہوشمندی کا تقابل کرتے ہوئے علی ہجویری صاحب نبی ﷺ اور داؤد علیہ السلام کی مثالوں سے استدلال کرتے ہوئے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’داؤد علیہ السلام کی نظر وہاں پڑی، جہاں نہیں پڑنی چاہیئے یعنی ایک عورت پر جو اوریا کی عورت تھی جسے دیکھا، وہ ان پر حرام تھی۔ اور جب بندہ بحق قائم ہوگیا جیسے نبی ﷺ کہ نظر تو آپ کی بھی پڑی اس طرح زید کی بیوی پر، مگر وہ بیوی زید پر حرام ہوگئی۔ اس لئے کہ وہ نظر جو داؤد علیہ السلام کی تھی وہ محل صحو (یعنی ہوشمندی) میں تھی، اور یہ نظر جو نبی ﷺ کی تھی یہ محل سکر (کیفیت حال) میں تھی”۔ (کشف المحجوب صفحہ نمبر ۳۴۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ علی ہجویری رحمہ اللہ نے ان روایات کو تصوف کے دو من گھڑت اصطلاحات یعنی صحو و سکر سے درست ثابت کرنے کی کوشش میں داؤد علیہ السلام کو، نعوذ باللہ، زانی اور قاتل ثابت کیا جو کہ ایک جلیل القدر نبی علیہ السلام کی شان میں صریح اور عمداً گستاخی ہے۔ اور دوسری طرف حالتِ سکر میں نبی کریمﷺ کی نظر کو جہاں نہ پڑنی چاہئے تھی، وہاں پڑنے پر آپﷺ کی فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی۔اور اس طرح نبی کریم ﷺکے حق میں ایک حرام کام کی نسبت اس من گھڑت قصے کو درست مانا ہے، جوکہ نبی کریمﷺ کی شانِ اقدس و اَطہر میں صریح اور عمداً گستاخی ہے۔
لکھتے ہیں:
’’داؤد علیہ السلام کی نظر وہاں پڑی، جہاں نہیں پڑنی چاہئے یعنی ایک عورت پر جو اوریا کی عورت تھی جسے دیکھا، وہ ان پر حرام تھی۔ اور جب بندہ بحق قائم ہوگیا جیسے نبیﷺ، کہ نظر تو آپ کی بھی پڑی اس طرح زید کی بیوی پر، مگر وہ بیوی زید پر حرام ہوگئی۔ اس لئے کہ وہ نظر جو داؤد علیہ السلام کی تھی وہ محلِ صحو (یعنی ہوشمندی) میں تھی اور یہ نظر جو نبی ﷺ کی تھی یہ محلِ سکر (کیفیت حال) میں تھی”۔ (کشف المحجوب صفحہ نمبر ۳۴۹)
اول تو یہ بات کہ اس سے زید بیوی زید پر حرام ہوگئی، بالکل غلط اور غیر شرعی ہے اس لئے کہ ایک تو یہ سارے روایات موضوع اور من گھڑت ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ جب بھی زید اپنی بیوی کا اس کے ساتھ نامناسب سلوک کا ذکر کرتے، تو نبی کریم اس کو برابر نصیحت فرماتے کہ:
(وَاِذ تَقُولُ لِلَّذِی اَنعَمَ اللّٰہُ عَلَیہِ وَ اَنعَمتَ عَلَیہِ اَمسِک عَلَیکَ زَوجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ
جب کہ تو اُس شخص سے کہہ رہاتھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیااور تو نے بھی،کہ تو اپنی بیوی کو آباد رکھ اور اللہ سے ڈر۔ (سورت احزاب،آیت:37) “
اگر زید کی بیوی اس پر حرام ہوچکی ہوتی تو نبی کریم اسے بیوی کو ساتھ رکھنے کی بجائے اس سے جدا ہونے کا مشورہ دیتے۔
اس لئے ہمارا موقف ہے کہ مضبوط علمی پسِ منظر نہ رکھنے والے عوام الناس کو اس قسم کی کتابوں کے مطالعہ سے پرہیز کرنا چاہئے اور ان کی جگہ احادیث کے کتب معارف الحدیث، مشکوۃ، ریاض الصالحین وغیرہ یا علماء کے مشورے سے دیگر مفیدِ عوام الناس کتبِ فقہ، کتبِ احادیث اور تفاسیر جیسے تفسیر ابن کثیر اور تفسیر معارف القرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
ہر مسلمان اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ شریعت کی گاڑی طریقت کے بغیر پوری طرح سو فیصد ، بلا روک ٹوک اور بلا کسی قید و بند بلا تعطل چل سکتی ہے، مگر طریقت کی گاڑی شریعت کے بغیر ایک انچ بھی نہیں چل سکتی بلکہ پہلے جھٹکے ہی میں جہنم کی اسفل السافلین میں اوندھے منہ گرے گی۔ اس لئے ہم ببانگِ دہل دعوی کرتے ہیں کہ شریعت کی مثال ہر لحاظ سے ایک کامل و مکمل انجن کی ہے، جبکہ طریقت و تصوف اس انجن کا ایک ایسا پرزہ ہے کہ اگر اسے نکال بھی دیا جائے تو نہ ہی انجن کی کارکردگی پر کچھ اثر پڑے گا، اور نہ ہی انجن کی قدر قیمت پر، اور نہ انجن کی ساخت اور خوبصورتی پر۔ اس لئے کہ طریقت و تصوف لازمہ دین میں سے بالکل نہیں جبکہ عصمتِ انبیاء علیہم السلام کا عقیدہ لازمہ دین میں سے ہے۔
سیدالمرسلین ﷺ پر ایک افتراء
جھوٹ بنانے والوں نے جہاں بہت جھوٹ بولاہے وہاں ان کی جھوٹ سے معصوم انبیاء علیہم السلام بھی نہ بچ سکے،اور جہاں جہاں،جتناجتنا ان سے ہوسکا انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی عصمت کو داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اور یہ بات چونکہ مشہور اور معتبر تفاسیر میں ہیں اس لئے ہمارے سُنی حضرات بھی ”سُن سُن“ کر ماننے کے مرض میں مبتلاہونے کی وجہ سے نبی کی عصمت پر داغ برداشت کر سکتے ہیں مگر کسی مفسر یا محدث سے خطا ہونے کو ممکن نہیں مانتے اور نہ ہی کسی روایت کے راوی کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔اسی گندہ مرض کانام روایت پرستی ہے۔
قارئین یہ بات ذہن نشین کیجئے کہ اس واقعے کے متعلق جو روایات نقل کئے گئے ہیں اگر ان کو درست تسلیم کرکے اس واقعے کو درست تسلیم کیاجائے تو ایمان کا خطرے میں پڑنا یقینی ہے۔ اس لئے بہت سے محقق مفسرین نے ان روایات کو ذکر کرنا بھی پسند نہ کیا اور مختصر الفاظ میں یہ کہا کہ ان کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں۔جیسے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ۔
زینب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی بے جوڑ شادی کی وجوہات
حضرت زینب حضور ﷺکی پھوپھی زاد اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تھیں جبکہ زید نبی کریم ﷺ کے منہ بولے بیٹے اور آپﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔اس لئے حضرت زینب اور اس کے بھائی رضی اللہ عنہما کی مرضی حضرت زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کرنے کی نہ تھی۔لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ کو یہ دنیاوی امتیازات نکاح کے راستے میں رکاوٹ بننا پسند نہ تھے،اس لئے آپﷺ نے حضرت زینب اور اس کے بھائی پر زور دیا کہ اس نکاح کو قبول کرلیں،پھر اس کے بارے میں یہ آیت بھی اُتری:
وَمَاکَانَ لِمُؤمِنِ وَّلاَ مُؤمِنَۃٍ اذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسَولَہ‘ اَمرًا اَن یَکُونَ لَہُمُ الخِیَرَۃُ مِن اَمرِہِم
”کسی مؤمن مرد یا عورت کو،جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا فیصلہ فرمادے،اپنے کسی کام کا اختیار نہیں رہتا۔‘‘ (سورت احزاب،آیت:36)
اس آیت کے بعد ان دونوں نے اپنی مرضی کو اللہ اور رسولﷺ کی مرضی پر قربان کر دیا،اور زینب کا نکاح حضرت زید سے ہوگیا۔زینب کی نگاہ میں حضرت زید حقیر لگتے، مزاج کی موافقت نہیں ہوئی،جب آپس میں لڑائی ہوتی تو حضرت زید حضور ﷺ سے ان کی شکایت کرتے اور کہتے کہ میں ان کو چھوڑتاہوں،حضور ﷺمنع فرماتے اور کہتے کہ ایسا نہ کر۔اللہ سے ڈرتے رہو،اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنی اہمیت نہ دو۔
جب معاملہ کسی طرح نہ سلجھا،اور باربار جھگڑے اور قضیے پیش آتے رہے تو ہوسکتاہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ سوچاہو کہ اگر زید اس کو طلاق دے گا تو زینب کی دلجوئی اس کے سوا کسی اور بات میں نہ ہوگی کہ میں خود اس سے نکاح کروں،مگر منافقین کی بدگوئی سے اندیشہ تھا کہ وہ کہیں گے کہ دیکھو اپنے بیٹے کی بیوی کو گھر میں رکھ لی۔
اور یہ تو پہلے سے معلوم ہے کہ اللہ کے نزدیک منہ بولے بیٹے کو کسی بات میں بھی بیٹے کا حکم نہیں،ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظورتھاکہ اس جاہلانہ رواج کو اپنے نبیﷺ کے ذریعے ختم کردے تاکہ منہ بولے بیٹے(1) کے معاملے میں لوگ خودساختہ تنگی سے نکل جائیں۔ اور یہی اس نکاح کی سب سے بڑی اور پوشیدہ حکمت تھی،جو نبی کریم ﷺ کو پہلے سے وحی الٰہی کے ذریعے بتادی گئی تھی۔
حضرت زید اور حضرت زینب کا نکاح،اگر چہ حضرت زینب کی مرضی کے خلاف ہواتھا مگر نبی کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کی شادی ایک غلام سے کرکے قبیلے اور نسب پر جاہلانہ فخروغرور اور امتیازکا خاتمہ کردیا۔ اب آئیے اس تما م قصے کے بعد وہ تفسیری روایات بھی دیکھتے ہیں:
مفسرطبری نے اپنی تفسیر طبری اور تاریخِ طبری میں یہ روایت نقل کی ہے کہ:
’’ایک دفعہ نبی کریم ﷺ حضرت زید سے ملنے ان کے گھر گئے،زید موجود نہ تھے۔ حضرت زینب اس وقت کپڑے تبدیل کر رہی تھیں،اسی حال میں نبی کریم ﷺ کی نظر اس پر گئی،نبی کریم ﷺ کے دل میں اس کی صورت کھپ گئی(یعنی وہ آپﷺ کو پسند آگئی،العیاذ باللہ من ذلک)،جس کی وجہ سے وہ زید کے دل سے اُتر گئیں۔اس کے بعد زید نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.1 منہ بولا یا لے پالک بیٹایا بیٹی نہ وراثت کا حقدار ہے، اور نہ ہی اس سے دوسرے محرم رشتہ داروں کی طرح پردہ نہ کرنا جائز ہے،بلکہ جو عورت منہ بولے باپ، بیٹے یا بھائی سے پردہ نہ کرے گی،وہ سخت گناہ گار اور حکمِ الٰہی کو توڑنے والی ٹھہرے گی،اسی طرح جو مرد منہ بولے ماں، بیٹی یا بہن سے پردہ نہیں کرے گا وہ بھی سخت گناہ گار اور حکمِ الٰہی کا توڑنے والاٹھرے گا۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی دوسرا شرعی رکاوٹ نہ ہو تو منہ بولے باپ،بیٹے، بیٹی اور بہن سے نکاح جائز ہے،خواہ ایک کروڑ بار کسی کوباپ، بھائی،بہن،بیٹا یابیٹی کہاہو۔قارئین اگر کبیدہ خاطر نہ ہو تو یہ سب: ”کچھ کرنے“ کے آسان ٹوٹکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قانونِ الٰہی پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،آمین۔
زینب آپ کو پسند آگئی ہو تو میں انہیں طلاق دے دوں۔“(تفسیر طبری،سورت احزاب،آیت:37،،،،، تارخ طبری)
اس واقعے کی سندی حیثیت ذکرکرنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کیجئے کہ ان روایات میں جو یہ بات کہی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نظر حضرت زینب پر پڑ گئی اور اس کی صورت آپ کے دل میں گھر کر گئی،اور آپﷺ زینب کے گھر سے (سبحان اللہ العظیم، سبحان مقلب القلوب) کہتے ہوئے لوٹ آئے۔“
ذرا ان روایات گھڑنے والے خبیث رایوں کے ذہن کو دیکھئے کہ کس طرح نبی کریم ﷺ کی عصمت اور پاکدامنی کو داغدار کرناچاہتاہے۔
قارئین اس حقیقت کو ذہن میں رکھئے کہ حضرت زینب آپﷺ کی پھوپھی زاد تھی۔خاندان ایک، گھرانہ ایک۔حضور ﷺ کا اپنے پھوپھی کے گھر آمد ورفت رہتاتھا،ویسے بھی پردہ کا حکم اس وقت نازل نہیں ہواتھا،اس لئے بچپن سے لے کر بلوغت تک زینب آپﷺ کی آنکھوں کے سامنے پلیں بڑھیں،حضرت زینب کی بچپن اور اس کے بعد کا زمانہ آپﷺ کی آنکھوں کے سامنے گزراتھا،وہ ہمیشہ آپ ﷺ کی نظروں کے سامنے رہتی تھی اس کے باوجود آپﷺ نے اس کی شادی حضرت زید سے کردی۔اگر آپﷺشروع ہی سے اس سے نکاح کا اظہار کرتے تو ان لوگوں کی خوشی کی انتہانہ ہوتی بلکہ وہ تو اللہ کا شکر اداکرکے اس شادی کو منظور کر لیتے مگر حضور ﷺ نے اس کا نکاح اس کے باوجود حضرت زید سے کردیا، اسلئے اس خبیث راوی کی یہ بات کہ:
٭حضرت زینب کپڑے تبدیل کر رہی تھی اور آپﷺ کی نظر اس پر پڑ گئی،اور آپﷺ کے دل میں اس کی صورت جگہ کرگئی،،،
٭اور آپﷺ(سبحان اللہ العظیم، سبحان مقلب القلوب) کہتے ہوئے لوٹ آئے،،،
نبی کریم ﷺ کی عصمت کو داغدار کرنے کے سوا کسی اور مقصد کیلئے نہیں، اللہ ان روایات کے گھڑنے والوں پر کروڑبار لعنت بھیجے،آمین۔
دِرایت کی رُو سے اس من گھڑت قصے کی خامیاں
قارئین! یہ بات تو جانتے ہی ہے کہ:
٭ جب کوئی کسی کے گھر جاتاہے تو تین بار اجازت مانگتاہے،یہ ہمیں ہمارے پیارے اور شفیق نبی علیہ السلام نے سکھایاہے،اگر اجازت مل جاتی ہے، تو ٹھیک ورنہ گھر داخل نہیں ہونا۔
٭دوسری بات یہ ہر باحیاء خاتون کپڑے اندر کمرے میں تبدیل کرتی ہے،باہر صحن میں نہیں۔
٭تیسری بات یہ جب کوئی قریبی رشتہ دار بھی کسی کے گھر جاتاہے تو لپک اندر کمرے میں گھستا نہیں بلکہ باہر سے کہتاہے کہ: ”بھئی کوئی ہے گھر پر۔“
٭چوتھی بات یہ کپڑے تبدیل کرتے وقت اپنی بیوی بھی شوہر کو کہہ دیتی ہے کہ:
”صبر کیجئے آتی ہوں۔“
یہ نہیں کہتی کہ: ”اندر آجا۔“
٭اور جب کمرے میں کپڑے تبدیل کرتی ہو، اور کوئی کہے کہ میں آجاؤ تو ایسے میں کوئی بازاری عورت کسی کو اندر آنے کی اجازت دے سکتی ہے،وہ عظیم خاتون نہیں جسے نبی کریم ﷺ کی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہو، جو نبی کریم ﷺکے معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہو، اور جو بالآخر نبی کریم ﷺ کی بیوی بننے والی ہو۔
اس من گھڑت قصے کی سندی حیثیت
ابن جریر طبری نے یہ قصہ تفسیرطبری میں ابن زید کی سندسے اور تاریخِ طبری میں مشہورِ زمانہ دروغ گو واقدی کی سند سے نقل کی ہے۔ان دونوں کا حال ملاحظہ کیجئے:
ابن زید سے مراد عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے یہ امام مالک کے ہم عصر ہے،اس سے اُپر کے راوی غائب ہیں۔اس طرح یہ روایت منقطع ہوئی،اور منقطع روایت قابلِ حجت نہیں ہوتی۔
عبدالرحمن بن زید بن اسلم:یہ مدنی کہلاتاہے۔ترمذی اور ابن ماجہ میں اس کی روایات پائی جاتی ہیں۔یہ تین بھائی ہیں:عبدالرحمن،عبداللہ اور اُسامہ۔
قاضی ابویعلیٰ موصلی کابیان ہے کہ میں نے امامِ رجال یحییٰ بن معین کو یہ فرماتے سناکہ زید بن اسلم کے تینوں بیٹے کچھ نہیں ہیں۔عثمان دارمی نے یحییٰ کا یہ قول نقل کیاہے کہ عبدالرحمن ضعیف ہے۔امام بخاری کابیان ہے کہ علی بن المدینی نے اس عبدالرحمن کو سخت ضعیف قرار دیاہے۔
امام احمد فرماتے ہیں کہ ان تینوں میں عبداللہ قابلِ اعتبار ہے، باقی دونوں ضعیف ہیں۔
ربیع بن سلیمان کاکہناہے کہ میں نے امام شافعی کو یہ فرماتے سناہے کہ میں نے اپنے کانوں سے سناکہ ایک شخص نے اس عبدالرحمن سے سوال کیا کہ کیاتم نے اپنے والد سے یہ روایت بھی سنی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی نے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی؟یہ صاحب کہنے لگا کہ ہاں۔
محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کا کہناہے کہ امام شافعی کا یہ بھی بیان ہے کہ امام مالک کے سامنے ایک روایت پیش کی گئی،امام مالک نے پوچھا کہ یہ روایت کس نے بیان کیا،اس نے جواب دیا کہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے۔امام مالک نے فرمایا: وہ تو اپنے باپ کے واسطے سے حضرت نوح علیہ السلام سے بھی روایت نقل کردے گا (مطلب یہ کہ جھوٹ بولنا اس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے)۔“(میزان الاعتدال، ترجمہ عبدلارحمن بن زید بن اسلم)
اس طرح یہ روایت اس عبدالرحمن بن زید کا جھوٹ کا جھوٹ ہے۔
امام حاکم نیشاپوری اس ابن زید کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
”عبدالرحمن بن زید اپنے باپ کے نام سے موضوع روایات نقل کرتاہے۔“(المدخل الیٰ معرفۃ الصحیح من السقیم)ا
امام ابوجعفر طحاوی حنفی متوفی321 ہجری کہتے ہیں کہ یہ عبدالرحمن محدثین کے نزدیک انتہائی ضعیف ہے۔ابن حبان کہتاہے کہ یہ احادیث میں تبدیلیاں کرتاہے۔قولِ تابعی کو قولِ رسول ﷺ بنا کر پیش کرتاہے۔حافظ ابو نعیم نے بھی امام حاکم کا اُوپر مذکورہ قول نقل کیا ہے۔ (السلسلۃ الاحادیث الضعیفہ،ج:1،ص:38)
طبری کی تاریخ والی روایت
طبری کی تاریخ والی روایت میں مشہورِ زمانہ دروغ گو واقدی ہے۔ حیلہ اسقاط والی روایت میں اس پر جرح گز چکی ہے،مگر قارئین کووہاں دوبارہ دیکھنے کی تکلیف دینے کی بجائے یہاں اس کو دوبارہ مختصراًً نقل کرتے ہیں:
محمد بن عمرالواقدی متوفی207 ہجری :
تاریخ طبری والی سند میں مشہور زمانہ دروغ گو اور کذاب محمد بن عمر واقدی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ آگ دراصل اُسی کی لگائی ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں اما م بخاری،عبد اللہ ابن مبارک ، ابن نمیراور اسماعیل بن زکریا اور ابو نعیم اصفہانی رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ یہ متروک الحدیث ہے۔‘‘ (کتاب الضعفاء للاصفہانی ، ،، ، ، الضعفاء الصغیر للبخاری)
یحییٰ بن معین رحمہ اللہمتوفی 233 ہجری کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں ۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہمتوفی1 24 ہجری لکھتے ہیں کہ:’’ یہ سخت جھوٹا ہے۔
اسحاق ابن راہوَیہ متوفی238 ہجری اورابو حاتم رحمہ اللہ متوفی 327 ہجری لکھتے ہیں کہ:’’یہ جعلی حدیثیں گھڑا کرتا تھا یعنی واضع الحدیث تھا ۔‘‘(المجروحین لابن ابی حاتم)
امام نسائی رحمہ اللہ متوفی 303ہجری کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ پر جو چار لوگ جھوٹی حدیثیں بنایا کرتے تھے ان میں واقدی مدینہ ، خراسان میں مقاتل، سعید المصلوب شام میں اور ایک اور ۔ ( تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی ،ترجمہ واقدی)
امام ابو دائود کہتاہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ علی بن مدینی کہاکرتے تھے کہ یہ واقدی تیس ہزار غریب احادیث روایت کرتاہے۔(اس کے سواکوئی اور ان کو روایت نہیں کرتا)
اسحاق بن الطباع کا کہناہے کہ میں نے واقدی کو مکہ جاتے ہوئے دیکھاتھا۔ یہ تو نماز بھی بری طرح پڑھتا تھا ۔‘‘(میزان الاعتدال،ترجمہ محمد بن عمر الواقدی،ترجمہ نمبر:7993)
امام شافعی رحمہ اللہمتوفی 204 ہجری لکھتے ہیں کہ:’’واقدی کی کتاب ساری کی ساری جھوٹ ہے۔‘‘
انتہائی مجروح اور ناقابلِ اعتبار راوی ہے جس روایت میں یہ ذاتِ شریف آئے اس روایت کے جھوٹے اور من گھڑت ہونے کیلئے صرف یہ صاحب بھی کافی ہے۔ اس کو متروک،کذاب اور جھوٹی احادیث گھڑنے والاکہاگیاہے۔(دیکھئے: کتاب الضعفاء للاصفہانی۔۔۔الضعفاء الصغیر للبخاری۔۔۔المجروحین لابن ابی حاتم۔۔۔تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی،ترجمہ واقدی۔۔۔میزان الاعتدال،ترجمہ محمد بن عمر الواقدی،ترجمہ نمبر: 7993)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور آپﷺ کی نکاح کا پورا قصہ
ایسے کمزور اور دروغ گو راویوں کی روایات پر اعتبار کرکے نبی کریمﷺ کی ذات پر ایسا ناپاک حملہ صحیح ماننا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔اب آئیے پورا قصہ پڑھئے:
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے،آپﷺ اس کو بہت عزیز رکھتے تھے۔حتی کہ لوگ اس کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے مگر جب یہ آیت اُتری: اُدعُوھُم لِآبَاءِ ھِم ھُوَ اَقسَطُ عِندَاللّٰہ
”ان کوان کے باپوں کے ناموں سے پکارو،یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔‘‘
اس کے بعد لوگ اسے زید بن محمد کہنا چھوڑ گئے۔آپﷺ نے اس کا نکاح اپنی پھوپی زاد بہن زینب بنت جحش سے کرایاتھا، چونکہ زید ایک غلام تھے اور زینب ایک اُونچی خاندان کی لڑکی تھی، مگر نبی کریم ﷺ کے حکم کے سامنے حضرت زینب نے سرِ تسلیم خم کیا،اور اس کے ساتھ نکاح کرنا قبول کیا۔مگر ان کا گھر نہ بنا اور بالآخر حضرت زید نے اسے طلاق دے دی۔ چونکہ عرب اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح عیب جانتے تھے،اور اللہ کو اس طرح منظور نہیں تھا بلکہ یہ ان حرام کردہ رشتوں میں تو نہیں تھا جن سے نکاح کرنا اللہ کی طرف سے حرام قرار پا گیا تھا اس لئے اس کام کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت زید سے طلاق کے بعد زینب کا نکاح نبی کریم ﷺ کے ساتھ کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں پر اس معاملہ میں کوئی حرج نہ ہو،اور وہ اس کو معیوب سمجھنا چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
(وَاِذ تَقُولُ لِلَّذِی اَنعَمَ اللّٰہُ عَلَیہِ وَ اَنعَمتَ عَلَیہِ اَمسِک عَلَیکَ زَوجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَ تُخفِی فِی نَفسِکَ مَا اللّٰہُ مُبدِیہِ وَ تَخشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن تَخشَاہُ فَلَمَّا قَضٰی زَید‘ُ مِنھَا وَطَرًازَوَّجنَاکَھَا لِکَی لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِےَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًاوَ کَانَ اَمرُاللّٰہِ مَفعُولًا))
جب کہ تو اُس شخص سے کہہ رہاتھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیااور تو نے بھی،کہ تو اپنی بیوی کو آباد رکھ اور اللہ سے ڈر، اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا،اور تو لوگوں سے خوف کھاتاتھا اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو اس سے ڈرے۔پس جب کہ زید نے اُس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے،جب کہ وہ (منہ بولے بیٹے) اپنا جی ان سے بھر لیں۔اور اللہ کایہ حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا۔ (سورت احزاب،آیت:37) “
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 774 ہجری لکھتے ہیں کہ:
”مفسر ابن ابی حاتم متوفی277 ہجری اور مفسر و مؤرخ ابن جریر طبری 310 ہجری نے اس مقام پر بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنابھی ہم نامناسب سمجھ کر ترک کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔مسند احمد میں ایک روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے، اس لئے ہم نے اس کا بھی ذکر نہیں کیا۔صحیح بخاری میں ہے کہ یہ آیت حضرت زینب بنت جحش اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کے بارے میں اُتری ہے۔
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے نبی کریم ﷺ کو خبر دے دی تھی کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کے نکاح میں آئیں گی۔
یہی بات تھی جسے آپﷺ نے ظاہر نہیں کیا اور زید کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں اور اپنا گھر نہ توڑیں۔“(تفسیر ابن کثیر،سورت احزاب،آیت:37)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔(تفسیر طبری،سورت احزاب، آیت:37)
(وَ تُخفِی فِی نَفسِکَ مَا اللّٰہُ مُبدِیہِ وَ تَخشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن تَخشَاہُ) (سورت احزاب،آیت:37)
”اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا،اور تو لوگوں سے خوف کھاتاتھا اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو اس سے ڈرے۔“
اور صحیح بخاری کی روایت میں صرف اتنا ہے،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ کے بارے میں اُتری ہے۔“(بخاری،کتاب التفسیر)
آیت میں ان الفاظ سے:
”یعنی تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا“
بہت سارے حضرات کو مغالطہ ہوا اور پھر قصہ گو اور اسلام دشمن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی شخصیت کو داغدار کرنے کیلئے قصے کہانیاں گھڑ کر آپﷺ کی ذات پرحملہ کرنے کیلئے مستشرقین کو اُنگلی اُٹھانے کی راہ ہموار کردی۔
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی کا بخاری کی روایت پر تبصرے کا خلاصہ
جبکہ بات بہت سیدھی تھی اور وہ یہ کہ لوگ کہنا شروع کریں گے کہ محمد ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کی، اور جو بات آپ ﷺ چھپاناچاہتے تھے وہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پہلے سے خبر دی تھی کہ ان دوں کی نہیں بنے گے،اورحضرت زینب آخر میں آپﷺ کی زوجیت میں آئے گی۔اتنی سی بات پر اکتفا کیاگیاہے۔حافظ ابن حجر نے حضرت قتاہ والی روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھاہے کہ اس سلسلہ میں دوسرے آثار بھی منقول ہیں جنہیں ابن ابی حاتم اور طبری نے نقل کیاہے اور دوسرے مفسرین نے بھی نقل کیاہے لیکن وہ تمام روایات اس لائق نہیں کہ ان کا ذکر بھی زبان پر لایاجائے۔(فتح الباری،شرح صحیح بخاری))
وہ کیا تھا جو آپﷺ چھپاناچاہتے تھے اور اللہ اسے ظاہر کرناچا ہتا تھا
جو بات نبی کریم ﷺ چھپارہے تھے، اور اللہ نے فرمایا کہ اللہ وہ بات لوگوں پر ظاہر کر دے گا آخر وہ کونسی بات تھی؟ تو قارئین وہ بات یہ تھی جو اس آیت میں ہے کہ:
(فَلَمَّا قَضٰی زَید‘ُ مِنھَا وَطَرًازَوَّجنَاکَھَا)(سورت احزاب،آیت:37)
’’پس جب کہ زید نے اُس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔‘‘
اور یہ کس واسطے ہونے والا تھا؟
اس کی وضاحت بھی اللہ تعالیٰ نے فرمادی:
(لِکَی لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِےَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًا)(سورت احزاب،آیت:37)
تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے، جب کہ وہ (منہ بولے بیٹے)اپنا جی ان سے بھر لیں۔‘‘
اور چونکہ اللہ کے علمِ ازلی میں یہ بات تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبیﷺ کو بذریعہ وحی بتایاتھا کہ زید اس بیوی کو طلاق دے گا اور پھر آپﷺ سے اس کی شادی ہوگی،اس لئے آیت کے آخر میں فرمایا:
(وَ کَانَ اَمرُاللّٰہِ مَفعُولًا)(سورت احزاب،آیت:37)
”اور اللہ کایہ حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا۔“
مگر اسلام دشمن راویان نے کچھ کا کچھ بنادیا،یہاں تک کہ غیر محتاط مفسرین نے ایسے ایسے روایات اپنی تفسیروں میں درج کئے جنہیں پڑھ کر انبیاء علیہم السلام کی عصمت پر پختہ یقین رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
یہ بات غلط مشہورہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے نبی ﷺ کی نکاح میں دے دیا اس لئے ولی کی،مہر کی،گواہوں کی اور ایجاب وقبول کی ضرورت نہیں۔یہ مغالطہ بعض حضرات کو آیت کے ان الفاظ سے ہواہے:
(فَلَمَّا قَضٰی زَید‘ُ مِنھَا وَطَرًازَوَّجنَاکَھَا)(سورت احزاب،آیت:37)
”پس جب کہ زید نے اُس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔“
چونکہ حضرت زینب ایک مطلقہ عورت تھیں اس لئے امام ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق اس کی نکاح کیلئے ولی کی ضرورت نہیں تھی۔
اس کا یہ مطلب لینا غلط ہے کہ اس کی نکاح آپﷺ کے ساتھ اللہ نے کیا اس لئے مہر، ولی وغیرہ کی ضرورت نہیں رہی۔
اس لئے کہ بقول ابن ہشام حضرت زینب کا نکاح اس کے بھائی ابو احمد بن جحش نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیا اور آپﷺ نے چارسودرہم مہر ادافرمایا۔اگر اس روایت کی سند میں کوئی اشکال بھی ہو تو پھر بھی یہ قرآن مقدس کی واضح آیات اور اُصولِ شرعیہ کے عین مطابق ہے۔اور جن روایات میں مہر ادا نہ کرنے کا ذکر ہے،وہ خلافِ قرآن ہونے کی وجہ سے قطعاً ناقابلِ قبول ہیں۔
’’قرآن کے ان الفاظ (زَوَّجنَاکَھَا) ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔‘‘ کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نکاح زمین پر نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زید سے طلاق پانے اور عدت پوری ہونے کے بعد اس کی نکاح کا فیصلہ ہم نے آپﷺ سے کردیا۔“
اس کا آسان مطلب یہی ہے۔ اور یہ مطلب بھی کہ جو رکاوٹ تھی کہ عرب اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح معیوب سمجھتے تھے، اس رکاوٹ کو اپنے حکم کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور کر دیا۔اور آیت میں ہماری اس بات کی تائید بھی ان الفاظ میں موجود ہے:
(لِکَی لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِیَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًا)(سورت احزاب،آیت:37)
’’تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے،جب کہ وہ(منہ بولے بیٹے) اپنا جی ان سے بھر لیں۔‘‘
اور جب نکاح ابواحمد بن جحش کی موجودگی میں ہواتو ابو احمد بن جحش اس نکا ح کا گواہ بھی ہوا،اس لئے یہ کہنا کہ نکاح بغیر گواہوں کے ہوا ہے یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ایک اور ثبوت ہماری اس بات کی یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ پر آیت نازل ہوئی، اور آپﷺ کو اس نکاح کی اجازت مل گئی تو آپﷺ نے یہ آیت سب سے پہلے کاتبینِ وحی سے لکھواکر لوگوں کو ضرور سنایا ہوگا ،جو اس نکاح پر گواہ بن گئے۔
قرآن کے اس لفظ(زَوَّجنَاکَھَا) ’’ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔‘‘
کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نکاح زمین پر نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زید سے طلاق پانے اور عدت پوری ہونے کے بعد اس کی نکاح کا فیصلہ ہم نے آپﷺ سے کردیا۔“ اس کا آسان مطلب یہی ہے۔ اور یہ مطلب بھی کہ جو رکاوٹ تھی کہ عرب اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح معیوب سمجھتے تھے، اس رکاوٹ کو اپنے حکم کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور کر دیا۔اور آیت میں ہماری اس بات کی تائید بھی ان الفاظ میں موجود ہے:
(لِکَی لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِےَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًا)(سورت احزاب،آیت:37)
’’تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے،جب کہ وہ(منہ بولے بیٹے) اپنا جی ان سے بھر لیں۔‘‘
اور جب نکاح ابواحمد بن جحش کی موجودگی میں ہواتو ابواحمد بن جحش اس نکا ح کا گواہ بھی ہوا،اس لئے یہ کہنا کہ نکاح بغیر گواہوں کے ہوا ہے یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ایک اور ثبوت ہماری اس بات کی یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ پر آیت نازل ہوئی اور آپﷺ کو اس نکاح کی اجازت مل گئی تو آپﷺ نے یہ آیت سب سے پہلے کاتبینِ وحی سے لکھواکر لوگوں کو ضرور سنایا ہوگا،جو اس نکاح پر گواہ بن گئے۔اور یہ آپﷺ کی عادت تھی کہ جو آیت اُترتی آپﷺ اسے لوگوں کے سامنے تلاوت فرماتے۔اس لئے روایات میں جو مشہور ہے کہ آپﷺ بغیر اطلاع اس کے گھر چلے گئے تھے وہ بھی غلط ہے اس لئے کہ:
جب آیت نازل ہوئی،اسے لوگوں کو سنایاگیا، کاتبین سے لکھوایاگیا، ابواحمدبن جحش نے نکاح کیا،تو اس تمام مرحلے کے بعد حضرت زینب آپ ﷺ کی بیوی بن چکی تھی، اس لئے آپﷺ کا اس کے گھر جانے کیلئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت تو نہیں رہی تھی۔
کون ہے جو اپنے بیوی کے ہاں جانے سے پہلے لوگوں سے اجازت مانگتاہے؟سوچوبھئی!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید علی ہجویری کا پورا نام سید ابو الحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری ہے جو کہ ۴۰۰ ہجری میں غزنین میں متولد ہوئے۔ ہجویر اور جلاب غزنین کے دو گاؤں ہیں اسی وجہ سے آپ ہجویری اور جلابی کہلاتے ہیں۔ آپکا سلسلہ نسب سیدنا علیؓ سے ملایا جاتا ہے۔ تبلیغ کی غرض سے آپ لاہور تشریف لے آئے اور ساری زندگی وہیں گزاری اسی لئے آپ کے نام کے ساتھ لاہوری کا لاحقہ بھی لگتا ہے۔ آپ کی سب سے مشہور اور واحد باقی رہ جانے والی تصنیف “کشف المحجوب” ہے۔ وہ اہل علم جو کہ تصوف کے قائل ہیں وہ علی ہجویری صاحب کو معتدل صوفیاء میں سے مانتے ہیں جن کی تعلیمات تصوف میں در آنے والے ناقص خیالات سے پاک تصور کی جاتی ہیں ۔ تاہم ان کی کتاب “کشف المحجوب ” کا عمیق مطالعہ اس دعویٰ کی نفی کرتا نظر آتا ہے۔
علی ہجویری صاحب کے اساتذہ میں کئی جلیل القدر صوفیاء کے نام آتے ہیں جن میں شیخ ابوالعباس اشقاقی، شیخ ابو القاسم بن ہوازن قیشری، شیخ ابو احمد مظفر بن احمد، شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصیدلانی وغیرہ شامل ہیں۔ موخرالذکر استاد شیخ ابو جعفر الصیدلانی مشہور ملحد صوفی حسین بن منصور کے طریقہ کی طرف مائل تھے اور شیخ علی ہجویری نے حسین بن منصور حلاج کی بعض تصانیف ان ہی الصیدللانی سے پڑھی تھیں۔ یار رہے حسین بن منصور حلاج وہی صوفی ہے جس نے انا الحق کا نعرہ لگایا تھا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ میں اللہ کے دین سے کفر کرتا ہوں اور یہ کفر میرے لئے واجب ہے جب کہ تمام مسلمانوں کے نزدیک یہ برا ہے۔ حسین بن منصور حلاج کے یہ شعر بھی کافی مشہور ہیں کہ “پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے ناسوت (یعنی حسین بن منصور) کو اپنے لاہوت ثاقب کی چمک کا راز بنا کر ظاہر کیا۔ پھر وہ اپنی مخلوق میں ایک کھانے اور پینے والے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی مخلوق نے اس کو اس طرح دیکھا، جس طرح ایک دیکھنےوالا دوسرے کو دیکھتا ہے۔ ” (تاریخ بغداد جلد ۸ صفحہ ۱۲۹) ان ہی ملحدانہ اور کفریہ دعاوی و نظریات کی بناء پر عباسی خلیفہ المقتدر باللہ نے ۲۴ذی قعدہ ۳۰۹ ہجری میں حسین بن منصور حلاج کو قتل کروادیا۔ اس طرح کے ملحدانہ و کفریہ نظریات رکھنے کے باوجود علی ہجویری صاحب اپنی کتاب “کشف المحجوب” میں حسین بن منصور حلاج کی منقبت میں یوں رقم طراز ہوتے ہیں:
“انہیں میں سے مستغرق معنی ابوالغیث حسین بن منصور حلاج ہیں۔ آپ سرمستان بادہ وحدت اور مشتاق جمال احدیت گزرے ہیں اور نہایت قوی الحال مشائخ میں تھے۔” (صفحہ ۳۰۰)
بلکہ حسین بن منصور حلاج کے مقام و مرتبہ کا دفاع کرتے ہوئے مختلف صوفیاء کے اقوال ان کی منقبت میں نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“دیکھتے نہیں کہ حضرت شبلی حضرت حسین بن منصور کی شان میں کیا فرمارہے ہیں۔ آپ کا اعلان ہے کہ میں اور حسین بن منصور حلاج ایک ہی طریق پر ہیں مگر مجھے میرے دیوانہ پن نے پیچھے رکھا اور حسین بن منصور حلاج کو ان کی عقلمندی نے ہلاک کردیا۔ اب اگر معاذ اللہ حلاج بے دین ہوتے تو شبلی یہ نہ فرماتے کہ میں اور حلاج ایک ہی چیز پر ہیں۔ حضرت محمد بن خفیف نے فرمایا کہ حلاج عالم ربانی تھے اور ایسے اوروں نے ان کی بہت کچھ تعریفیں کی اور انہیں بزرگ بتایا ہے۔ “(کشف المحجوب صفحہ نمبر ۴۰۳)
اسی طرح اسی کتاب کے صفحہ ۵۴۴ پر صوفی ابن المعلا کی زیارت کا قصہ لکھ کر یہ بیان کیا ہے کہ ہمارے ان کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی ہمارے دلوں میں آنے والے خیالات پر وہ آگا ہ ہوچکے تھے اور اسی کے تحت انہوں نے ہماری حاجت روائی کی۔ گویا سید علی ہجویری کے نزدیک صوفی ابن المعلا اللہ کی صفت علم الغیب سے نہ صرف متصف تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آنے والے خیالات کو جان کر ان کی دستگیری بھی کرلیتے تھے۔
اسی کشف المحجوب میں “سکر اور صحو” کی بحث قائم کرکے اسرائیلی روایات کے زیر اثر علی ہجویری صاحب نے اسرائیلی روایات کے تحت وہ ہوش ربا استدلال کیا ہے کہ عبدالرحمٰن کیلانی مرحوم جیسے معتدل اہلحدیث عالم بھی اسکو توہین انبیاء کہے بنا نہ رہ سکے۔ سکر یعنی ذکر الہیٰ میں اس قدر غرق ہوجانا کہ انسان مدہوش ہوجائے اور صحو یعنی ہوشمندی کا تقابل کرتے ہوئے علی ہجویری صاحب نبی ﷺ اور داؤد علیہ السلام کی مثالوں سے استدلال کرتے ہوئے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“داؤد علیہ السلام کی نظر وہاں پڑی، جہاں نہیں پڑنی چاہیئے یعنی ایک عورت پر جو اوریا کی عورت تھی جسے دیکھا، وہ ان پر حرام تھی۔ اور جب بندہ بحق قائم ہوگیا جیسے نبی ﷺ کہ نظر تو آپ کی بھی پڑی اس طرح زید کی بیوی پر، مگر وہ بیوی زید پر حرام ہوگئی۔ اس لئے کہ وہ نظر جو داؤد علیہ السلام کی تھی وہ محل صحو (یعنی ہوشمندی) میں تھی اور یہ نظر جو نبی ﷺ کی تھی یہ محل سکر (کیفیت حال) میں تھی”۔ (کشف المحجوب صفحہ نمبر ۳۴۹)
کوئی تو بتائے کہ یہ سب کیا آخر کیا ہے؟ کیا اب انبیاء کی ذاتیں بھی معصوم نہ رہیں گی؟ اس پر تو صرف استغفراللہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ اسی کشف المحجوب میں قبروں کی مجاورت جس سے نبی ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے، کی تعلیم شیخ علی ہجویری آپ بیتی کی صورت میں اس طور سے دیتے ہیں:
“ایک دفعہ مجھے ایک مشکل پیش آئی۔ اس کے حل کے لیے میں نے بہت مجاہدے کیے۔ مگر یہ مشکل حل نہ ہوئی۔ اس سے پہلے بھی مجھے ایک مشکل پیش آئی تھی اور اس کے حل کے لیے میں نے حضرت شیخ بایزید بسطامی کی قبر کی مجاوری اختیار کر کے اس پر غور وفکر کیا تھا اور میری وہ مشکل وہاں حل ہو گئی تھی۔ اب کے میں نے پھر ایسا کیا۔ برابر تین ماہ تک ان کا مجاور بنا رہا۔ ہر روز تین مرتبہ غسل کرتا رہا۔ اور تیس دفعہ وضو کرتا رہا۔ اور امید کشف رہا لیکن انکشاف نہ ہوسکا۔آخر اٹھا اور خراسان کا سفر اختیار کیا۔ (کشف المحجوب صفحہ نمبر ۱۷۱)
الغرض اس طرح کی کئی اور نازیبا اور غیر درست تعلیمات “کشف المحجوب” میں سید علی ہجویری کے قلم سے ملتی ہیں۔جن کی بابت حسن ظن تویہی ہے کہ یہ سید علی ہجویری کے غالی صوفی اساتذہ کی تعلیمات کا نیتجہ رہی ہونگی۔ علی ہجویری صاحب نے لوگوں کو نکاح کی ترغیب دی لیکن خود نکاح نہ کیا، اس بابت آپ لکھتے ہیں کہ جو مخلوق سے الگ تھلگ رہتا ہو اس کے لیے غیر شادی شدہ رہنا اچھا ہے تا کہ نکاح کی وجہ سے اللہ کی یکسوئی میں خلل نہ پڑسکے۔ اس لیے آپ نے شادی نہیں کی بلکہ تجرد کی زندگی گزار دی۔ لیکن تجرد کے ہلاکت خ خیز خطرات کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے گیارہ برس تزویج (نکاح) کی آفت سے بچایا۔ لیکن تقدیر کا لکھا سامنے آیا اور میں بن دیکھے ایک پری صفت کا دل و جان سے گرویدہ ہو گیا۔ اور ایک سال اس طرح اس میں مستغرق رہا کہ قریب تھا کہ میرا دین تباہ وبرباد ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالٰیٰ نے اپنے کمال لطف و مہربانی سے میرے دل پر عصمت و پاکیزگی کا فیضان فرمایا اور اپنی رحمت سے مجھے اس آفت سے نجات بخشی۔