عجمی طریقت کا فریب۔۔۔پیر کی بات ماننا چاہےقرآن کے خلاف کیوں نہ ہو
پیرانِ باطل اپنے سادہ لوح مریدوں کی ذہن میں شروع دن سے یہ بات ڈالتے ہیں کہ پیر جو حکم دے اسے بلاچون و چرا مان لو، اور کبھی پیر سے سوال کرنا کہ ’’کیوں‘‘ مت پوچھنا۔اس لئے کہ جو پیر سے ’’کیوں ‘‘ پوچھتا ہے، وہ سلوک کے منازل طے نہیں کر سکتا ہے ۔اس مکار طبقے کی اس شطح و فریب کے برعکس سول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ:
’’ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں کسی مخلوق کی بات نہیں مانی جائے گی، اس لئے کہ اطاعت تو نیکی کے کاموں واجب ہے۔‘‘ (مسلم، حدیث نمبر:4765)
جبکہ معصوم عن الخطا ، جس کی ہر ، ثابت شدہ بات واجب الطاعت ہے، وہ کائنات میں اللہ کے بعد صرف نبی عربی محمد مصفطیٰ ﷺ کی ہستی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
﴿وَمَا اَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ مَا نَہٰکُم عَنہُ فَانتَہُوا﴾ (سورت الحشر۔آیت: 7 )
’’اور جو کچھ تمہیں یہ رسولﷺ دے، ان کو لے لو ( ان پر عمل کرو) اور جن چیزوں سے منع کردے ان سے منع ہو جاؤ۔‘‘
اندھی عقیدت اور شخصیت پرستی کا وبال
ندھی بہری عقیدت اور شخصیت پرستی میں بات کہاں سے کہاں پہنچتی ہے۔پڑھئے اور ایسے جاہلوں
کی جہالت کا ماتم کیجئے:
مصنف ’’اختلافِ اُمت کا المیہ‘‘ حکیم فیض عالم صدیقی صاحب حلفاً ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ:
’’چند روز ہوئے ایک رشتہ دار میرے پاس آئے،جو شدت سے پیری مرید والے ہیں۔میں نے باتوں باتوں میں کہا کہ فلاں پیر صاحب کے متعلق اگر چار گواہ پیش کروں جنہوں نے پیر صاحب کو زنا کرتےوقت دیکھا ہو تو پھر ان کے متعلق تم کیا کہوگے؟
کہنے لگے:’’یہ بھی کوئی فقیری کا راز ہوگا،جو ہماری سمجھ میں نہیں آتاہوگا۔‘‘
پھر ایک اور پیر صاحب کی شراب خوری اور بھنگ نوشی کا ذکر کیا تو کہنے لگے: ’’ بھائی جان یہ باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں، وہ تو بہت بڑے ولی ہیں۔‘‘ (اختلافِ اُمت کا المیہ، ص94)
اکتوبر 2024 کے پہلے ہفتے میں مجھے ایک دوست نے بتایا کہ اس کا ایک ساتھی داؤد علیہ السلام کا یہ قصہ سنا رہا تھا، جس پر ساتھ بیٹھے ایک تعلیمِ یافتہ شخص نے کہا کہ دیکھو جی! ان سب حضرات (انبیاء) نے بھی اپنے اپنے وقت میں خوب مزے کئے ہیں۔وہ چونکہ یہ قصہ پیر سے سن چکا تھا، اور اس کے پیر نے اپنی پیر سے، عثمان ہجویری نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں غفلت میں یہ بات نقل کی ہے اس لئےاندھی عقیدت کی وجہ سے اس بندے کا پیر اور عثمان ہجویری غلچی کر ہی نہیں سکتا اس لئے وہ صاحب انبیاء کی شان کی پرواہ کئے بغیر یہ قصہ درست سمجھتا ہے۔اور اس رسالے کے لکھنے کا سبب بھی یہی بات بنی کہ شانِ انبیاء اور اُن کی عصمت کی دفاع میں غافلوں کو کبردار کرنے کے لئے کچھ نہ کچھی کو شش کی جائے۔
اسلام ظاہری عقیدت کی بجائے خلوصِ دل سے نیک اعمال بجالانے کو محبتِ رسول کے لئے ضروری سمجھتاہے
آپﷺ نے قیامت تک آنے والی اُمت کو اس جملے میں محبت کا طریقہ یوں سکھایا:
’’ایک دفعہ آپﷺ وضو کر رہے تھے وضو کا پانی جو دستِ مبارک سے گرتا فدائی برکت کے خیال سے اس کو چلو میں لے کر بدن میں مل لیتے، آپﷺ نے پوچھا کہ تم یہ کیوں کر رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں۔آپﷺ نے فرمایا :اگر کوئی اس بات کی خوشی حاصل کرنا چاہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ جب باتیں کرے تو سچ بولے۔ جب اسے کوئی امانت سپرد کی جائے تو وہ امانت کا خیال رکھے ، اور خیانت نہ کرے۔اور کسی کا پڑوسی ہے، تو ہمسائیگی کا خیال رکھ کر اس کے حقوق پورے کئے جائیں۔‘‘ (مشکوٰۃ بحوالہ شعب الایمان بیہقی)۔
روایتِ حدیث
ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب امام مالک سے نقل کرتے ہیں کہ:
’’علم حدیث چار (قسم لوگوں)سے نہ لیاجائے ،ان (چار)کے سوادوسروں سے لیاجاسکتاہے :
۱۔ ھواء پرست جو لوگوں کو برائیوں کی دعوت دیتاہو۔
۲۔ نہ کسی ایسے اناڑی سے جس کی بے وقوفی سے سبھی واقف ہو،اگرچہ روایتیں خوب بیان کرتا ہو ۔
۳۔ اور ایسا شخص جو جھوٹ بولنے کا عادی ہو ،گو وہ حدیثِ رسول ﷺ کے سلسلے میں جھوٹ بولنے کی تہمت سے بری ہو۔
۴۔ چوتھا وہ شخص جو صاحبِ فضل بھی ہو،صالح بھی ہو،عبادت گزار بھی ہو ،لیکن اسے حدیث کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ واقعی یہ حدیث ہے،تو کس درجہ کی ہے؟
امام شعبہ رحمہ اللہ سے دریافت کیاگیاکہ کسی سے حدیث کی روایت کس وقت ترک کی جائے گی؟ فرمایاکہ:
راوی ایسے لوگوں سے بیان کرے جسے لوگ عمدہ جانتے نہ ہو ،اگرچہ وہ روایت معروف ہی سے ہو۔اور اس قسم کی روایتیں کثرت سے بیان کرے۔یاغلط بیانی کا تناسب زیادہ ہو ۔یا مُتَّھَم بالکَذِب ہو۔
٭اگر کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس کے غلط ہونے پر لوگوں کا اجماع ہو ،مگر وہ اسے (اجماع ) کو تسلیم نہ کرے بلکہ بیان کرتا ہی رہے تو ایسی حدیث نہ لی جائے گی۔اس کے علاوہ دوسری باتیں اس سے روایت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘
امام شافعی نے کہا کہ ابن سیرین ،ابراہیم نخعی اور طاؤس کے سوا بہت سے تابعین رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ حدیث:
صرف ایسے ثقہ راوی سے قبول کی جائے جو روایت کے بارے میں واقف ہو ، اور حافظِ حدیث بھی ہو،اورعلمائے حدیث میں سے کسی کو اس کی رائے کی مخالفت کرتے نہ سنا گیا ہو۔’’(تاریخِ تدوینِ سنّت،مطبوعہ نشریات لاہور ،ص:245,244)
اس اُصول کی روشنی میں یہ بات ظاہر ہوگئی کہ شخصیت پرستی، اندھی تقلید اور پیر مرشد کا رشتہ روایت میں نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اگر کوئی پیر من گھڑت روایت بیان کرے تو اس کی وہ روایت رَد کی جائے گی۔ مگر عجمی طریقت اسلام دشمنی میں اسلام کے خلاف لا کھڑا کیا گیا ہے، اس لئے اس میں مریدوں کو اسلامی تعلیمات سے دور رکھنے کے لئے ایسے حربے استعمال کرکے مریدوں کی Brain washing کی گئی ہے کہ پیر کی بات پر کسی بھی صورت نہ اعتراض کیا جائے، اور نہ ہی جھوٹ سمجھ یا خلافِ شریعت سمجھ کر رِد کیا جائے۔
شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد
علماء کرام کا ایک بنیادی کام عوام کے ذوق وسوچ و فکر کی نگہداشت بھی ہے کہ دین کے کسی شعبہ میں غلو نہ پیدا ہونے پائے، دین کا ہر کام پورے توازن و اعتدال سے جاری و ساری رہے اور ملت اسلامیہ ذہنی و فکری طور پر راہِ اعتدال سے ہٹنے نہ پائے۔ اس کی خاطر علماء کرام کو ہر دور میں بڑے حزم و احتیاط سے کام لینا پڑا۔ سیدنا عمر فاروق کا شجرہ بیعت رضوان کو کٹوا دینا یا حجر اسود کے سامنے اعلان فرمانا کہ:
’’تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان‘‘ اسی حزم و احتیاط کا نمونہ تھا۔اورنگ زیب عالمگیر
کو جو کتب نہایت عزیز تھیں، ان میں ’’مکتوبات مجدد‘‘ اور ’’دیوان حافظ‘‘ شامل تھیں جو ان کے سرہانے رکھی رہتی تھیں، مگر ایک وقت میں عالمگیر نے اورنگ آباد کے حاکم کو فرمان لکھ بھیجا کہ ان دونوں کتب کے پڑھنے پڑھانے سے لوگوں کو حکماً روک دیا جائے کہ ان کے بعض مضامین عوام کی سطح سے بالاتر ہیں۔
ابتدا سے اور اس وقت تک جس قدر ضرر دین کو صوفیہ سے پہنچا ہے، اتنا کسی اور فرقہ سے نہیں پہنچا۔ ان سے روایت کے ذریعے بھی دین کو ضرر ہوا ، یعنی بے شمار من گھڑت روایات گھڑ کر رسول اللہ کی طرف پر جھوٹ باندھا۔اور عقائد کے لحاظ سے بھی ، کہ اُن کی وجہ سے اُمت میں مخلوق کے بارے میں مشکل کشائی،قبر پرستی کاور اعمال کے لحاظ سے بھی اور خیالات کے لحاظ سے بھی کہ ان صوفیاء نے دین کو نامکمل سمجھ کر بہت سارے من گھڑت وظائف، نمازیں اور اعمال ایجاد کئے۔جیسے صلوۃ الرغائب، صلوۃِ غوثیہ‘‘۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ سے بڑھ کر بدعات ورسوم وخرافات اور شیعیت کے خلاف کس نے لکھا ہوگا؟ مگران کی تیسری پشت ہی میں ان کی اولاد کے متعدد بزرگ دعوے دار تھے کہ وہی آج کے ’’قیوم‘‘ ہیں، زمین وآسمان انھی کے سروں پر قائم ہیں۔ ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ جیسی کتاب اٹھا کر دیکھیں ! قیوم کی تعریف وصفات میں صفحے کے صفحے بھرے پڑے ہیں، ساری الوہی وخدائی صفات’’قیوم‘‘ کو حاصل ہیں۔ قیومیت کا منصب کیا ہے ؟ اس کی توضیح وتشریح احسان مجددی نے اپنی کتاب ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ میں کی ہے جو سلسلہ مجددیہ کے مطابق قیوم رابع کے خلیفہ تھے۔ لکھتے ہیں:
’’قیوم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ماتحت اسماء وصفات، شؤنات، اعتبارات اور اصول ہوں اور تمام گزشتہ وآئندہ مخلوقات کے عالم موجودات، انسان وحوش، پرند ونباتات، پھر ذی روح، پتھر ودرخت، بحر وبر ہر شے، عرش وکرسی، لوح وقلم، سیارہ، ثواقب، سورج، چاند، آسمان بروج سب کے اس کے سایہ میں ہوں۔ افلاک وبروج کی حرکت وسکون، سمندر کی لہروں کی حرکت، درختوں کے پتوں کا ہلنا، بارش کے قطروں کا گرنا، پھلوں کا پکنا، پرندوں کا چونچ پھیلانا، دن رات کا پیدا ہونا، گردش کنندہ آسمان کی موافق وناموافق رفتار، یہ سب کچھ اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ بارش کا ایک قطرہ بھی ایسا نہیں جو اس کی اطلاع کے بغیر گرتا ہو، زمین کی حرکت وسکون اس کی مرضی کے بغیر نہیں‘‘۔ (۱؍ ۹۴)
بس پڑھتے جائیں! یہ سب عقیدت میں غلو کی کارستانی ہی تو ہے۔ یہ ساری خرابیاں تعظیم میں غلو اور اعجوبہ پسندی کی ذہنیت سے پیدا ہوئیں، اس لیے عوام کی ذہنیت کی نگہداشت علماء کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک بار حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحبؒ نے فرمایا:
’’جو اللہ کو اس کی ظاہری قدرت سے پہچانے گا ( جسے قرآن نے جگہ جگہ بیان کیا ہے)، مردہ زمین کو زندہ کرنا، جہازوں کا سمندر میں چلانا، آسمان کا بغیر ستون کے قائم کرنا وغیرہ وغیرہ، اس کا ایمان پہاڑوں جیسا مضبوط ہوگا اور جو عجوبہ پسندی (کشف وکرامات) کے دل دادہ ہوں گے، وہ سب دجال کے چیلے بن جائیں گے کہ دجال اس قسم کے سارے عجوبے وخارق چیزیں لے کر آئے گا، حتی کہ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے گا تو زمین کا ایک جھٹکا ( زلزلہ) مدینہ منورہ میں مقیم اس قسم کے ۷۰؍ ہزار عاشقان رسول کو دجال کی گود میں پھینک دے گا اور وہ سب دجال کے چیلے بن جائیں گے۔ ‘‘
اس لیے علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے ذہنوں کو اس طرح کے تماشوں کے بجائے عملی کاموں کی طرف لانے کی سعی کریں۔ دین کے دیگر شعبوں مثلاً تعلیم وتعلم، دعوت وتبلیغ وغیرہ میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، مگر ان کا نقصان تصوف کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے، کیوں کہ تصوف کا بگاڑ براہ راست شرک وبدعات پر منتج ہو تاہے۔ دنیا میں جتنی بدعات ہیں، سب نیک نیتی اور اچھے جذبات سے شروع ہوتی ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے اپنے وصیت نامہ میں تیسری وصیت یہ فرمائی کہ:
اس زمانہ کے مشایخ جو طرح طرح کی بدعتوں میں مبتلا ہیں، ان سے بیعت ہرگز نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی بیعت ممنوع ہے۔ اس سلسلہ میں عوام الناس کے غلو عقیدت کی پروا نہ کریں، نہ ان سے وابستہ کرامات کے و اقعات پر یقین کریں، کیوں کہ اکثر عوام الناس میں غلوِ عقیدت محض رسمی ہوتا ہے اور امور رسمیہ کاحقیقت میں کوئی اعتبار نہیں ہوتا‘‘۔ ( رود کوثر ، ص۵۸۰)
ہر پیر، مرشد،مرشد ہوتا نہیں بلکہ مضل (گمراہ کرنے والا) ہوتا ہے
پیر (فارسی سے ماخوذ) کے بنیادی معنی بزرگ، بوڑھے شخص، یا روحانی رہنما (مرشد) کے ہیں۔ تصوف و طریقت میں اس سے مراد وہ استاد ہے جو مریدین کی راہنمائی کرتا ہے۔ مرشد عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے رہنمائی کرنے والا ، راہ دکھانے والا۔
ان معانی کو دیکھ یں ارو آج کے پیر مرشد کو دیکھیں، تو صاف پتہ چلے گا کہ وہ بندہ کس طرح رہنما ہوسکتا ہے جس کا اپنا عقیدہ کفر اور شرک کی حد ود کو پھلانگ چکا ہو،ضو خود کو الم الغیب سمجھتا ہو، جو خود کو شریعت کا پابند نہیں سمجھتا، جو نماز،روزہ کی پابندی نہیں کرتا، جو خواتین سے پردہ نہیں کرتا، جو صبح و شام نشہ کرنے کا عادی ہو، بھنگ و رس پیتا ہو، شریعت کے حرام کردہ آلاتِ موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہوایسا شخص اچھا انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں، اسے مرشد اور اصلاھ کرنے والا بنانا تو درو کی بات ہے۔آج کل پیری مریدی ایک منافع کاروبار ہے جس میں نہ سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے ارو نہ ہی اس میں خسارے کا ادنیٰ سا امکان ہے۔