قسط:1۔۔ کن لوگوں کی کتابوں کا مطالعہ عوام کے لئے حرام ہے۔۔ مصنف اکبر علی خان

شیخ عبدالقادر جیلانی اور دوسرے اولیاء اللہ رحمہم اللہ کا عقیدہ
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ بہت بڑے موحد تھے۔آخری دم تک آپ توحید کی نشرواشاعت میں منہمک رہے۔ زندگی کے آخری لمحات میں اپنے بیٹے شیخ عبدالوہاب کو فرماتے ہیں:
علیك بتقویٰ اللہ ولا تخف أحدًا سوی اللہ ولا ترج أحداً سوی اللہ ووکل الحوائج إلی اللہ عزوجل ولا تعتمد إلا عليه واطلبھا جمیعا منه ولا تثق بأحد غیر اللہ عزوجل التوحید التوحید
’’صرف اور صرف اللہ سے ڈر۔اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈر، اور نہ ہی اسللہ کے سوا کسی سے اُمید رکھ ۔ اپنی تمام حاجتیں اللہ ہی کو سونپ اور اس کے سوا کسی پربھروسہ نہ کر ۔جو مانگنا ہو ،اسی سےمانگ۔ اس کے سوا کسی کی مدد پر بھروسہ نہ رکھ۔ توحید کو مضبوط پکڑ، توحید کو لازم پکڑ۔‘‘(فتوح الغیب)
(فتوح الغیب)
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ متوفی561 ہجری کی وصیت
’’مرض الوصال میں آپ کے بیٹے شیخ عبدالوہاب رحمہ اللہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا:
’’مجھے ایسی وصیت فرمائیے جس پر میں بعد میں عمل کرسکوں۔‘‘
شیخ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا:’’…تجھ پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتارہو،…اور اس کے علاوہ مخلوقات میں کسی سے خوف نہ کھائے،…اللہ کے سوا مخلوقات میں کسی سے اُمیدیں اور حاجات وابستہ نہ کر ،…اپنے تمام کاموں کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کئے رکھ،…اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ رکھ ،…اسی سے اپنی تمام ضروریات طلب کر ،…اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ رکھ اس لئے کہ یہ شرک ہے۔‘‘ (فتوح الغیب ، اردو ترجمہ ،مقالہ نمبر:79،باب حضرت کی وصیتیں اور مرض الوصا ل )
یہ بالکل قرآن والا عقیدہ ہے، مگر مجاوروں اور مشرک صوفیاء نے لوگوں سے اسے چھپایا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ متوفی 561 ہجری علمِ غیب بلاشرکتِ غیرے اللہ تعالیٰ کا صفتِ خاصہ مانتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ان(شیعوں) کا عقیدہ ہے کہ امام صاحب کو ایسا علم ہوتا ہے کہ جو چیز پچھلے زمانہ میں ہوچکی ہے (مَاکَانَ)، اورجو آئندہ ہونے والی ہوتی ہے (مَایَکُونَ)،چاہے دنیا کے متعلق ہو ،اور چاہے دین کے متعلق ، ہر ایک کوجانتا ہے۔ یہاں تک کہ سطح زمین پر جس قدر ٹھیکریاں اوربارش کے قطرے پڑتے ہیں، ان کی تعداد بھی اس کو معلوم ہوتی ہے۔ اور درختوں کے جتنے پتے ہیں ، ان کے شمار سے واقف ہے،اور اماموں نے اپنے معجزے بھی دکھلائے جیسے کہ انبیاء علیہم السلام نے معجزے دکھلا ئے ہیں ۔(ان شرکیہ عقائد کی وجہ سے)ان لوگوں پر تاقیامت اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں کی اور تمام مخلوق کی لعنت رہے ۔اللہ تعالیٰ ان کانام و نشان اس جہاں سے مٹا ڈالےے۔‘‘(غنیۃ الطالبین ،مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور، ص:168)
وہ ذات جس سے مانگا جاتا ہے، اور جو عطا فرماتا ہے،وہ صرف اللہ ہی ہے
فلیکن لك مسئول واحد وھمة واحد وھو ربك عزوجل الذي نواحي الملوك بیده و قلوب الخلق بیده
’’تجھے ایک ہی ذات سےمانگنا چاہیے اور تجھے دینے والا بھی صرف ایک ہے۔ او رتیرا مقصود بھی ایک ہے او روہ تیرا پروردگار ہے ،جس کے قبضہ میں بادشاہوں کی پیشانیاں ہیں اور جس کے قبضہ میں تمام مخلوق کے دل ہیں۔‘‘
شیخ صاحب کے نزدیک دین قرآن و سنت کی پیروی کا نام ہے
إن کمال الدین في شیئین في معرفة اللہ تعالیٰ و اتباع سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
’’دینِ کامل دو چیزوں میں ہے: اللہ کی معرفت (جو قرآن سے حاصل ہوتی ہے) اور سنت کی پیروی۔‘‘
صرف یہی نہیں بلکہ آپ نے ان قرآن و سنت کومضبوطی سے پکڑنے کے بارے میں فرمایا:
فعلیك بالتمسك بالکتاب والسنة والعمل بھا أمرًاو نھیاً أصلاً وفرعاً فیجعلھما جناحیه یطیربھما في الطریق الواصل إلی اللہ عزوجل
’’آپ پر لازم ہے کہ قرآن و سنت کو مضبوط پکڑو اور ان دونوں پر ہی عمل کرو۔ ان کے احکام کو پورا کرو، اور ان کے منع کردہ کاموں سے منع ہوجاؤ۔ اُصول اور فروع میں ان کے پابند رہو۔ یہ(قرآن و سنت) دو پَرہیں جن سے پرواز کرکے آدمی اللہ تک پہنچتا ہے۔‘‘(فتوح الغیب)
خیر و شر کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے
لا محیص لمخلوق من القدر المقدور الذي خط لوح المسطور وإن الخلائق لو جھدوا أن ینفعوا المرأ بماله یفضه اللہ تعالیٰ لم یقدر عليه ولو جھدوا أن یضروہ بمالم يفضه اللہ لم یستطیعوا کماور دفي خبر ابن عباسؓ قال قال اللہ تعالیٰ وإن یمسك اللہ بضر فلا کاشف له إلاھو وإن یردك بخیر فلا رآد لفضله یصیب به من یشآء من عباده
کسی مخلوق کو اللہ کی قضا و قدر سے ، جو لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے، سے خلاصی ممکن نہیں۔اگر تمام مخلوق کسی کو نفع پہنچانا چاہے جو اللہ نے اس کی قسمت میں نہیں کیا تو مخلوق اس نفع کو پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی اور اگر تمام مخلوق کسی کو نقصان پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی قسمت میں نہیں کیا تو مخلوق اس کو نقصان پہنچانے پرقدرت نہیں رکھتی۔ (فتوح الغیب)
یہی عقیدہ قرآن ہمیں سکھاتاہے، یہی عقیدہ رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن عباس کو سکھایا۔ فرمایا: ”فرمان الہٰی ہے، اگر تجھے اللہ تکلیف پہنچانا چاہیں تو اس کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا اور اگر اللہ تجھے بھلائی دیں تو اس کے فضل و کرم کو روکنے والا کوئی نہیں۔” اپنے بندوں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل و کرم پہنچاتا ہے۔‘‘(مسند احمد)
شیخ کا عقیدہ جو اس نے ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ ایک جس طرح ایک زورآور بادشاہ کا پاؤں میں بیڑیاں اور گلے میں طوق ڈالا قیدی ہے جو درخت سے اُلٹا لٹکایا گیا ہو، اور سارے لوگ اس کا تماشہ دیکھ رہاہو، مگر بادشاہ کی رعب اور خوف سے اسے چھڑا نہیں سکتے۔ کیا اس وقت کوئی انسان اس وقت کوئی ڈوبتا ہوا شخص، یا قیدی، یا بے غربت کا مارا غریب بھوکا اس سے مدد مانگے گا؟ قطعا نہیں اور جو ایسا کرے گا بے وقوف سمجھاجائے گا۔بالکل اس مثال کی طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق اس بےبس قیدی کی مانند ہے، زندگی ، موت خوشی، غمی، سب کچھ مخلوق کو اسی کی طرف سے آتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔(فتوح الغیب)
شیخ صاحب کے نزدیک ﵟاِلٰہﵞ کا معنی
إن الخلق یفزعون و یتضرعون إليه في الحوادث والحوائج فھو یألھم
أی یُجِیرُھُم مسمی إلھا
’’بیشک اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس کی بارگاہ میں عاجزی و فریاد سے اپنی ضرورتوں او رحاجتوں کو پیش کرتی ہے پس وہ ان کی رفع حاجات فرماتا ہے او رپناہ دیتا ہے اس لیے اس کا نام الٰہ ہے۔‘‘
اور اِلہ جو کام کرتا ہے وہ مخلوق میں کوئی بھی نہیں کر سکتا، نہ ہی انبیاء اور نہ ہی اولیاء۔ بلکہ نبی عربی خاتم النبیین محمد مصطفی ﷺ بھی ان کاموں کو قطعاً نہیں کرسکتا، صرف چند مثالیں لیجئے:
ﵟاِلَٰهﵞ کا معنی صرف معبود کرنا قرآن کی ان بے شمار آیات کا بھی خلاف ہے جن میں چیلنج کی انداز میں بار بار فرمایا گیا ہے کہ کیا یہ کام ﵟاِلَٰهﵞ کے علاوہ کوئی اور کر سکتا ہے؟:
أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ 61
کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان ن ہریں جاری کر دیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنادی، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی اِلَٰه بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں۔
أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِ
’’(کون ہے اللہ کے سواجو)پریشان حال اور مجبور کی پکار کو،جب وہ پکارے اسے، سن کر اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ بھی ہے؟۔‘‘
أﵟأَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
کیا وہ مخلوق کی پہلی بار پیدائش کرتا ہے، پھر اسے لوٹائے گااور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دے رہا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلَٰه بھی ہے؟ کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔‘‘
ﵟقُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ
’’تم بتاؤ اگر اللہ عزوجل قیامت تک تم پر رات مسلط کردے، توکیا اللہ عزوجل کے
سواکوئی اوراِلَٰه ہے جو تم کو روشنی لاسکے،پھر کیوں نہیں سنتے۔‘‘
٭وقتِ آدم سے لے کر تا قیامِ قیامت ہے کوئی نبی یا ولی جو صرف ایک پرندے کو، ہوا میں تھام سکے، زیادہ نہیں صرف ایک دن کے لئے؟
ﵟأَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ﵞ(سورت نحل:79)
’’کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہوکر فضا میں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا
کوئی اور تھامے ہوئے نہیں۔بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئےنشانیاں ہیں۔‘‘
…اللہ تعالیٰ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانا چاہے تو ولی تو کیا سرورِ کونین بھی اس کو بند نہیں کرسکتا۔
ﵟمَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٖ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَاۖ وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِﵞ (سورت فاطر:2)
’’اللہ تعالیٰ جو رحمت و مہربانی لوگوں کے لئے کھول دے، تو اس رحمت کو روکنے والاکوئی نہیں، اور اللہ جس رحمت و مہربانی کو روک دے، تو اللہ کے بعد اس رحمت کا کوئی جاری کرنے والا نہیں۔‘‘
… آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے رکھنا اور زمین پر نہ گرنے دینا ، ہے کوئی مخلوق میں؟
ﵟإِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِﵞ (سورت فاطر:41)
’’بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں، اور
اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام نہیں سکتا۔‘‘
٭بے ستون آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے رکھنا اور زمین کو ہلنے جلنے اور حرکت سے روکے رکھنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں:
ﵟخَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَا وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَبِكُمۡﵞ
’’اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستون کے پیدا کیاہے، تم انہیں دیکھ رہے ہو۔اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وہ تمہیں لے ڈگمگائے نہیں۔‘‘ (سورت لقمان:10)
اللہ کی طرف سے ملنے والی نفع یا نقصان نبی مرسَل علیہ السلام بھی نہیں ٹال سکتا ہے :
ﵟوَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ﵞ (سورت انعام:17)
’’اور اگر تجھ کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی خیرپہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
٭اگر اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے کہ پانی چوس جائے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟقُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭﵞ( الملک:30)
’’(اے نبی) آپ کہہ دیجئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں (ناقابلِ رسائی حد تک) نیچے چلاجائے تو کون ہے(اللہ کے سوا) جو تمہارے لئے نتھرا ستھرا پانی لائے؟
اور فرماتا ہے:
ﵟأَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَﵞ
’’ بھلا دیکھوتو جو فصل تم بوتے ہو (یعنی جو بیج بوتے ہو)اس کو تم اُگاتے، ہو یاہم۔‘‘
احادیث سے دلیل
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لاَ یَقُولَنَّ زرَعْتُ،وَلٰکِنْ لَیَقُلْ: حَرَثْتُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ۔فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالزَّارِعُ (تفسیر قرطبی،،،تفسیر ابن کثیر)
’’یوں نہ کہو کہ میں نے اُگایا بلکہ یوں کہوکہ میں نے بویا۔‘‘
اور بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ: ’’ اُگانے والااللہ ہی ہے۔‘‘
بزرگی کے لباس میں ہندوستانی مشرک صوفیاء کا عقیدہ
مگر ہندوستان کے مشرک صوفیاء نے شیخ صاحب کا عقیدہ پسِ پشت ڈالا اور خرافات گھڑنے لگے۔ پاکستانی ابوجہل کی اولاد عطاری، بریلوی وغیرہم کہتے ہیں:
’’عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نےدریا کے کنارے ایک بوڑھی عورت کو زار و قطار روتے دیکھا ۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ بارہ سال قبل اس بڑھیا کے اکلوتے بیٹے کی بارات دریا پار سے کشتی میں گھر لایا جا رہا تھاکہ کشتی اُلٹ گئی اوردولہا دلہن سمیت ساری بارات ڈوب گئی۔شیخ صاحب کو ترس آیا اور دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے، جب چند منٹ میں کشتی نہ نکلی تو شیخ صاحب نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’یااللہ عزوجل!اس قدر تاخیر کی کیاوجہ ہے؟
’’ارشادہوا: کہ میں اُن کے ریزہ ریزہ جسم کو مچھلیوں اور دریائی جانوروں کے پیٹ سے نکال کر جمع کر رہاہوں۔۔۔ ابھی یہ کلام اختتام کو بھی نہ پہنچاتھاکہ اچانک وہ کشتی اپنے تمام ترسازوسامان کے ساتھ بمع دولہا،دلہن وباراتی سطح آب پر نمودار ہو کر کنارے آلگی۔۔۔(سلطان الاذکارفي مناقب غوث الابرار)
یہ کسی ہندوستانی ابوجہل ابن ابوجہل مشرک صوفی کی کتاب ہے ، اور یہ کرامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ شان میں بدترین گستاخی ہے اور شیخ جیلانی کے مسلمہ عقیدے کے خلاف ہے،شیخ جیلانی کا عقیدہ اُوپر قارئین نے پڑھا۔
قارئین! جس گدھے پیر، صوفی نے یہ جھوٹی کرامت بنائی ہے ، اس میں صرف دُم کی کمی تھی۔
…کشتی ڈوب گئی تو بڑھیا کیسے بچی؟ کیا بڑھیا ا کلوتے بیٹے کی بارات میں شامل نہیں تھی؟
دوسری بات اللہ تعالیٰ سے پوچھنا کہ یہ تاخیر کیوں کی؟ یہ بے ادبی اور گستاخی ہے، اور شیخ جیلانی سے
ایسی گستاخی ایک بعید اَمر ہے۔بلکہ یہ جھوٹی کہانی گھڑنے والا گدھا قرآن سے بالکل کورا تھااس لئے
کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ﵟلَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ وَهُمۡ يُسۡـَٔلُونَﵞ
’’اللہ تعالیٰ اپنے کاموں کے لئے کسی کے سامنے جوب دہ نہیں اور پوری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے جوب دہ ہے۔‘‘(سورت الانبیاء، آیت:23)
موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو بد دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ﵟقَالَ قَدۡ أُجِيبَت دَّعۡوَتُكُمَا فَٱسۡتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَﵞ
’’بالیقین آپ دونوں کی دعا قبول ہوئی۔پس اللہ سے مانگنے پر ثابت قدم رہیں اور اُن ناسمجھ لوگوں کی پیروی نہ کریں( جو اللہ کے وعدے میں شک کرتے ہیں۔‘‘
ابن جریر طبری رحمہ اللہ متوفی 310 ہجری اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
ابن عباس فرماتاہے کہ:فَٱسۡتَقِيمَا’’پس ثابت قدم رہو‘‘ کا مطلب ہے: ’’میرے حکم پر چلو، اور یہی ثابت قدمی ہے۔ اس بلا کے بعد فرعون چالیس سال تک باقی رہا۔
اور اس کا فرمان ہے: وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَاور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلو جو نا سمجھ ہیں‘‘یعنی جو میرے وعدے کی سچائی سے ناواقف اور جلد باز ہیں۔پس میرا وعدہ ٹوٹتا نہیں، اور میرعذاب فرعون اور اس کی قوم پر پڑے گا۔‘‘(تفسیر طبری)
جب ایک جلیل القدر نبی موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے اور دوسرا جلیل القدر نبی ہارون علیہ السلام اس پر آمین کہے اور پھر بھی چالیس سال بعد وہ دعا قبول ہو، تو کون ہے جو اس کے دربار میں جلد بازی کی گستاخی کرے۔اور مذکورہ آیت میں اسی جلد بازی سے اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو منع بھی کیا کہ دعا تو آپ دونوں نے مانگ لی مگر کب قبول کروں گا، یہ میری مرضی ہے ۔
اس لئے ان سارے غلط سلط منسوب کفر وشرک اور گستاخیوں سے سارے جلیل القدر اولیاء اللہ بری الذمہ ہیں۔
اس لئے یہ بات واضح ہے کہ خرافات، من گھڑت کرامات اور جاہل مجاورینِ مزارات کے قصے کہانیوں اور جھوٹے کرامات پر مشتمل کتابیں، عقیدے کے بگاڑ اور ایمان کے لئے قوی خطرے کے سبب، پڑھنا حرام اور ناجائز ہے۔
…اگر کوئی’’اَخون‘‘ قسم کا پیر یا مولوی کہے کہ ان کتابوں میں کئی باتیں مفید بھی ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ان کتابوں میں موجود اچھی باتیں مستند، معتبر اور صحیح العقیدہ علمائے دین کی کتابوں میں بھی مل سکتے ہیں مگر ان میں موجود ’’زہر‘‘ کا اثر سیدھا عقیدے پر پڑتا ہے۔
…اگر کوئی کہے کہ اس میں دل نرم کرنے والی باتیں ہیں۔
تو ہم کہیں گے کہ رسول اللہ ﷺ کے احادیث کے کُتُب میں دل نرم کرنے والی باتوں پر مشتمل مستقل ابواب ہیں:
مثلاً …کتاب الزہد والرقاق، …جنت اور اس کی نعمتوں کے ذکر کی شکل میں،… اور گناہوں کے برے
نتائج اور عذاب کے بارے میں،جن سے ایک مسلمان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ عوام الناس کے لئے مفید ہے:
…تفسیر ابن کثیر اُردو اور تفسیر معارف القرآن ،… مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ کا معارف الحدیث عوام الناس کے لئے احادیثِ نبوی کا بہترین مجموعہ ہے،…مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا تعلیم الاسلام ۔
سنت اور بدعت کا فرق جاننے کے لئے شیخ محمد طاہر رحمہ اللہ کی ’’ردِ بدعت کے لئے سنت کے رہنما اصول‘‘ اُردو ترجمہ بآسانی دستیاب ہے،…ابن کثیر رحمہ اللہ کا قصص الانبیاء،…سیرت نبوی پر رحمت ا للعالمین، قاضی سلیمان منصور پوری،…فقہ میں فقہ السنہ عاصم حداد کی، اُردو میں دستیاب ہے،…فتاوی جات میں مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی کفایت المفتی۔ عوام الناس کے لئے مفید کتابیں ہیں۔
مسلمان پر عجمی تصوف سے خود کو بچانا فرض ہے
اسلام میں جب سے عجمی تصوف و طریقت کے لباس میں زنادقہ اور ملاحدہ داخل ہونے کے بعد علماء پر فرض ہے کہ وہ بعض کتابوں میں موجود اَضرار و نقائص اور خطرناکی کو مسلمانوں پر واضح کرے۔
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ﵟوَيْلٌ للَّذي يُحدِّثُ بِالْحَدِيثِ ‌لِيُضْحِكَ بهِ القَوْمَ فَيَكْذِبُ وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُﵞ
’’بربادی ہے اس شخص کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹی بات کرتا ہے۔بربادی ہے اس
کے لئے، بربادی ہے اس کے لئے۔‘‘(ترمذی،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَّتكلَّمُ بالكلمة يُضْحِكُ بِهَا ‌النّاسَ)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ﵟإن العبد ليقول الكلمة لا يقولها إلا ‌ليضحك به الناس يهوى بها أبعد ما بين
السماء والأرض وإنه ‌ليزل على لسانه أشد مما يزل عن قدمهﵞ
’’جب کوئی شخص صرف ہنسانے کے لئے کوئی بات کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ زمین و آسمان کے مابین فاصلے کے برابر نیچے گرتا ہے۔اور پاؤں کی نسبت زبان سے گرنا زیادہ سخت اور خطرناک ہے۔‘‘(شُعُبُ الْإِيمَان)
ملا علی قاری رحمہ اللہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
ﵟأَنَّ صُدُورَ الْكَذِبِ وَنَحْوِهِ عَنْ لِسَانِهِ أَضَرُّ عَلَيْهِ مِنْ ضَرَرِ سُقُوطِهِ عَنْ رِجْلِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَإِنَّ الضَّرَرَ الْبَدَنِيَّ أَهْوَنُ مِنَ الضَّرَرِ الدِّينِيِّﵞ
’’کسی کی زبان سے جھوٹ اور اس جیسی باتیں اس کے لیے منہ کے بَل گرنے کے نقصان سے زیادہ نقصان دہ ہیں کیونکہ جسمانی نقصان دین کے نقصان سے کم تر ہے۔‘‘ (مرقاۃ، حدیث: 4836)
یعنی محض ہنسانے کی غرض سے کوئی جھوٹی بات کرنا یا کوئی جھوٹا یا فحش واقعہ سنگین جرم ہے۔ جبکہ منبر و محراب پر ، یا کسی اور جگہ وعظ و نصیحت کرتے وقت، نیت کسی کو ہنسانے کی نہیں، مگر کوئی بات ایسی آئے جس پر لوگ ہنس پڑے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
…جھوٹ بولنا،جھوٹے واقعات اور خرافات سنانا اور فحش گوئی کرنا ، خواہ کتاب سے ہو، یا پیٹ سے،… ہر وقت ناجائز اور حرام ہے مگر منبرِ رسول ﷺپر جھوٹ بولنا، جھوٹے قصے اور جانتے بوجھتے جھوٹے کرامات اور واقعات سنانا اور بھی سنگین گنا ہ ہے، اور ایسے تمام واعظین اور خطباء اس حدیث کی عمومی وعید میں شامل ہے۔
اس لئے کہ منبر پر بیٹھاعالم ،مفتی کو دین کی لیبل کی وجہ سے معاشرے میں قابلِ بھروسہ مانا جاتا ہے
جس کی جھوٹی بات کو بھی سچ مانا جاتا ہے ، اور پھر اس کے مطابق عقیدہ و عمل بنتا ہے، اور اس پر ہمیشگی
اختیار کی جاتی ہے اس لئے کسی واعظ یا پیر مولوی کا یہ عمل اور بھی خطرناک اور ناجائز بنتا ہے۔
منبرِ رسول ﷺ پر میراوس گوئی
…اس اُصول کی دلیل پر عوام الناس کے لئے ’’میراوس ‘‘قسم کے خطیبوں کو سننا جائز نہیں، اس لئے کہ اُن کا وعظ یا تقریر سننے سے فائدے کی بجائے عقیدے کا بگاڑ اور ایمان کا نقصان زیادہ ہے۔اس لئے کہ ایسے مفتیان صاحبا ن، خطباء اور علماء اپنے سامعین کی تعداد بڑھانے یا موجود لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتے رہتے ہیں ۔
…اسی طرح جھوٹ کے ساتھ ساتھ قصداً، عمداً جانتے بوجھتےمن گھڑت کرامات محفل گرمانے کے
لئے سناتے رہتے ہیں۔
…اسی طرح اسی اُصول کی دلیل پر خطباء کو بھی’’میراوس گوئی‘‘ کی عادت ترک کرنا لازم ہے۔ اور اگر وہ خود’’میراوس گوئی کی عادت‘‘ترک نہیں کرسکتے، اور لوگوں کے لئے ایسے خطباء اور نام نہاد واعظین کو منبرِ رسولﷺ پر ’’میراوس گوئی‘‘سےمنع کرنا باعث فساد ہو تو پھر عوام کو چاہئے کہ ایسے واعظین اور خطباء کی بائیکاٹ کے ذریعے اُن کی حوصلہ شکنی کرے۔
میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ اگر ان مفتیوں اور خطیبوں سے پوچھا جائے کہ کیا آپ ایسے کرامات کو سچ مانتے ہیں؟ تو یہی جواب دیں گے کہ:
۱۔…یار تم گپ شپ کو بھی سنجیدہ لیتے ہو، ۲۔… میں تو فقط لوگوں کو ہنساتاہوں،۳۔… میں نے کب کہا کہ یہ کرامات صحیح ہیں،۴۔…تم لوگ بہت تشدد کرتے ہو۔مگر ان میراوس گو واعظین کے یہ چاروں جوابات سنگین منافقت پر مبنی ہوں گے۔
’میراوس گوئی‘ سے کیا مراد ہے؟
ربِّ کعبہ کی قسم! علماء کی کماحقہم قدر کرتا ہوں، مگر جب کوئی عالم،مفتی، خطیب ، مقرریا واعظ:
…محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بے بنیادﵟ لا اَصلَ لَہُ ﵞ قصہ عوام الناس کو سنائے،
…حدیث کے نام پر من گھڑت روایت، اس کی حیثیت واضح کئے بغیر ،عوام الناس کو سنائے،
…اولیاء اللہ رحمہ اللہ کے خلافِ شریعت اقوال اور اعمال رسول اللہ ﷺکے منبر پر سنائے مگر عوام پر اس قول کی غلطی واضح نہ کرے، تو ایسے مولوی کو’’ میراوس گوئی‘‘ میں ملوث کہتا ہوں۔
عوام الناس فطرتاً، عادتاً اور رجحاناً عجائب پسند ہیں۔اُن کو اگر کہا جائے کہ سورت یونس آیت:22 کے مطابق سمندر کے طوفانوں میں گھری کشتی صرف اللہ تعالیٰ ہی ڈوبنے سے بچاتا ہے، اولیاء اور انبیاء نہیں بچا سکتے، تو سورت زمر آیت:45 میں بیان کردہ حقیقت کے مصداق اُن کے پیشانی پر نفرت و
ناراضگی کی وجہ سے بَل پڑ جاتے ہیں۔
مگر جب کہا جائے کہ فلاں بزرگ نے بارہ سال بعد ڈوبی کشتی کو صحیح سلامت نکالا تھا ، اور ابھی ڈھول بھی بج رہے تھے تو قرآن کی مخالفت پر سورت زمر کی اسی آیت کے مطابق خوش ہوتے ہیں۔
پس جو واعظ، مفتی، عالم یا خطیب عوام کی قصص پسندی اور خرافات پسندی والے رجحان کو دیکھ کر وعظ و تقریر میں بطورِ مرچ مصالحہ ’’خرافات ‘‘ قصے، کہانیاں وغیرہ سناتے ہیں، اور اس کام سے ہونے والے عقیدے کی خرابی اور نقصان کی پرواہ نہیں کرتے، وہ ’’میراوس گوئی‘‘ اور قرآن کی حق تلفی کا بدترین مجرم ہے۔
علماء اگر انبیاء علیہم السلام کے صحیح معنی میں وارث ہیں تو۔۔۔۔۔
نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ﵟاَلْعُلَمَاء وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءﵞ
’’علماء انبیاء کے ( دین )کے وارث ہیں۔‘‘ ( مشکوۃ،کتاب العلم )
… علماء ، مفتیانِ کرام اور منبر و محراب پر بیٹھے خطیبوں اور واعظوں کی تنبیہ کیلئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ میرے دین کے وارث ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی(اللہ تعالیٰ کی پناہ) فضول گوئی نہیں کی، کبھی بھی عوام پسند قصے کہانیاں نہیں سنائے، لوگوں کو خوش کرنے اور ہنسانے کے لئے جھوٹ بولنے والوں کے لئے وعید سنائے،اس لئے اس فرمان کے ذریعے بھی خبردار فرمایا تاکہ میراوس گو خطباء اور علماء منبر ومحراب کا غلط استعمال کرکے سادہ لوح عوام کے عقائد و ایمان کو نہ بگاڑے۔
…لوگوں کی خواہش کے مطابق فتوے دینے اور اُن کو خوش کرنے والی باتیں سناکر قرآن و سنت کو
بالائے طاق رکھنے والے خطیبوں، واعظوں اور مفتیوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
{وَلَاِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَائَ ھُمْ مِنْ بَعْدِ مَاجَائَ کَ مِن الْعِلْمِ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظَّلِمِینَ}
’’اور اے نبیﷺ!تجھ کو وحی کا علم حاصل ہوجانے کے بعد اگر تُو ان لوگوں کی خواہش پر چلتا تو (اس صورت میں) تم بھی ظلم کرنے والوں میں شمار ہوتے۔‘‘(سورت بقرۃ،آیت:145)
نیک شاگرد، نیک معتقد اور نیک اولاد کی نشانی
ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی کا والد یا خاندانی بزرگ کوئی جرم کرتے فوت ہوا ہو، سود کرتا رہا ہو، کسی پر ظلم کیا ہو، تو اس کی نیک اور فرمانبردار اولاد اس کی وفات کے بعد دوسروں کی زبان سے اپنے والد کے ماضی میں کی گئی غلطیوں، کوتاہویوں اور گناہوں کا تذکرہ سننے پر آگ بگولا ہوجاتا ہے، اور لڑنے مارنے پر آمادہ ہوجاتاہے۔
اسی طرح اگر اولاد نافرمان بھی ہو، بد بخت اور سیاہ بخت بھی ہو تو اکثر و بیشتر اسے خودبھی اپنے والد کی برائی کرتے دیکھاجاتا ہے، لیکن اگر وہی نافرمان اولاد کسی دوسرے کی زبان سے اپنے والد کی غلطیاں سنتا ہے تو غیرت میں آکر لڑنے مارنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مقدس منبر و محراب کے ساتھ ساتھ FM چینلز پر اکثر واعظین اور میراوس گوئی کے شوقین علماء، صوفیاء اور غافل خظیب صاحبان ، اللہ کے نیک بندوں کے بارے میں وہ بکواس عوام الناس کو سناتے ہیں جو شرعاً ، عُرفاً اور اخلاقاً ہر طرح جائز نہیں سمجھا جاتا، مگر عوام کی مزاج اور میلان کو دیکھتے ہوئے اُن کو محظوظ کرنے لئے کچھ کہتے اور سنانے کی خارش ہوتی ہے۔
حاصل یہ کہ اگر یہ واعظین اور خطباءصحیح معنوں میں اولیاء کے ساتھ محبت رکھتے ہیں تو اُن کو چاہئے کہ من گھڑت کرامات ناموں کی وجہ سے ان کے ایمان، کردار اور اخلاق پر آنے والے اعتراض کا دفعیہ کرے، اور ان خرافات کو بیان کرنے سے خود کو بھی رُکے اور دوسروں کو بھی منع کرے، اور عوام الناس کی بھی اصلاح کرے۔
مختصراًخرافات اور من گھڑت قصوں کہانیوں کی مثالیں
دین کو پہنچنے والے نقصان کی پرواہ نہ کرنے والے غافل خطیب وغیرہ گزرے اولیاء کے بارے میں قصے سناتے ہیں کہ:
… فلاں ولی ننگا رہتا ، …فلاں ولی چھوکروں اور خوبصورت لڑکیوں کے چوتڑوںButtocks پر ہاتھ پھیرتا تھا،… فلاں مجذوب سرِ بازار گدھی کے ساتھ بدکاری کرتا،… فلاں مجذوب قرآنی آیات بناتا اور سناتا تھا، …فلاں ولی لوگوں پر پیشاب کرتا تھا…، فلاں ولی نماز نہیں پڑھتا تھا،… فلاں ولی کہتا کہ تکلیف و مصیبت میں مجھے پکارو،…فلاں ولی نے ویرانی میں گدھی کو دیکھا تو نیت خراب ہوا، …فلاں بزرگ عورت سے کسی نے غلط مطالبہ کیا تو بظاہر تو وہ راضی ہوگئی مگر بعد میں پتھر بن گئی،… فلاں بزرگ عورت کے ساتھ برے نیت سے ایک بندہ سو گیا تو اس شخص کا جسم پتھر کا بن گیا،…فلاں ولی نے پورا شہرِ حیوہ کو منگول فوج کی نظر سے ایک برتن کے نیچے چھپایا،…فلاں ولی رنڈیوں کے پاس جاتا تھا۔ پتہ نہیں ایسے بیکار مولوی اور پیراس قسم کے خرافات اور بکواسات سناکر اللہ کے ڈر سے کیوں نڈر ہیں؟
دراصل یہ سارا کھیل عوام میں مقبولیت اور مقبولیت کے نتیجے میں ملنے والی دنیا دولت کے لئے ہوتا
ہے جس کا ان سے روزِ حساب لیا جائے گا۔مگر دنیا میں ان ’’میراوس گو‘‘مولویوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے ایمان و عقائد برباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان مولویوں کی ایسی علم کی شر سے مسلمانوں کو بچائے ،اور اللہ تعالیٰ بعد میں بننے والے ایسے لوگوں سے علم جیسی مقدس نعمت کے حصول کو دور رکھے ، آمین۔
شعرانی، نبہانی،دباغ، سجلماسی، فرید الدین عطاری اور تمام جاہل صوفیاء اور بریلوی فرقوں کے متفقہ باطل عقائد
قارئین! سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ صرف یہ چند نام نہیں بلکہ یہ چند نام’’ نمونہ مشت از خروارے ‘‘کے طور پر دیا۔
دوسری بات یہ کہ منبر و محراب سے ان ناموں کو غفلت اور جہالت کی گندی آمیزش کی وجہ سے غافل، قصہ گو، لطیفہ گو اور دنیادار علماء ان لوگوں کے کتابوں کے زیادہ حوالے دیتے ہیں، مگر ان
کتابوں میں گند کو عوام الناس سے چھپاتا ہے۔
تیسری بات یہ کہ صوفیاء ان ناموں کو تصوف کے اَساطین، روحانیت کے علمبردار اور معرفت و سلوک کے اعلیٰ مراتب پر سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔
عبدالوہاب شعرانی نے طبقات الکبریٰ میں شیخ شمس الدین حنفی اور شیخ احمد البدوی کے حالات میں جو خرافات لکھے ہیں صرف وہی بے شمار ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہےکہ شعرانی بھی ایک خرافاتی ولی الشیطان تھا۔
آج کل سوشل میڈیا پر صرف پاکستانی، ہندوستانی بریلویوں کے تقاریر بھی سنے جائیں تو لاکھوں صفحات خرافات سے بھرے جا سکتے ہیں۔ مختصراً عبدالوہاب شعرانی اور اس جیسوں کا عقیدہ ہے کہ:
…ولی کے سامنے ساری دنیا ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح ہے،…لوح محفوظکا لکھاولی کو نظر آتا ہے،
…ولی مرنے کے بعد مدد مانگنے پر قادر ہے اس لئے اس سے ہر وقت اور ہرجگہ مدد مانگو،
…ولی مرنے کےبعدبھی قیدی کو جیل سے چھڑا سکتا ہے،
…ولی مغرب میں بھی ہو تو، حتی کے موت کے بعد بھی، ڈوبتے شخص کو مشرق میں بچا سکتا ہے،
…ولی مرنے کے بعد قبر سے نکل کر دنیا کا چکر لگاتا ہے،
…ولی جس چیز کو ﵟکُنﵞ ’’ہوجا ‘‘کہے تو ﵟفَیَکُونْﵞ’’وہ ہوجاتی ہے‘‘جب کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص اور بلاشرکتِ غیرے صفت ہے،
…ولی اعتراض سے بالاتر ہوتا ہے، خواہ وہ نماز نہ پڑھے، شراب ، چرس ، بھنگ پئے، اور زنا کرے، …ولی پر ظاہر شریعت کی تابعداری لازم نہیں،…عام لوگوں کے لئے حرام ولی کے لئے حلال ہوتا ہے بلکہ ولی حرام حلال کی چکر سے آزاد ہوتا ہے،
…ولی سے پردہ کرنا لازم نہیں اس لئے کہ اس میں اللہ حلول کئے ہوتا ہے، اس کفر سے اللہ کی پناہ،
…ان کا عقیدہ ہے کہ ولی کو ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا نام و نسب بھی معلوم ہوتا ہے،
…فلاں ولی کے بارے میں فلاں ولی نے کئی سو سال پہلے خبر دی تھی،
…ولی کے پاس زندگی میں اور موت کے بعد بھی ساری دنیا کے خزانوں کی کنجیاں ہیں،
… ولی اللہ تعالیٰ سے زبردستی بات منواسکتا ہے،اور اولاد عطا کرتا ہے،
…اللہ تعالیٰ بھی ولی کو’’ اے غوث‘‘ کہہ کر پکارتا ہے۔اللہ تعالیٰ کفر، شرک اور گمراہی سے بچائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top