جھوٹ نمبر:11
فریدالدین عطار بشر حافی رحمہ اللہ کے احوال و مناقب میں لکھتے ہیں:
بشر حافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن علی جرجانی رحمہ اللہ کسی چشمے کے کنارے تشریف فرما تھے کہ اور میں بھی ان کے سامنے پہنچ گیا تو آپ مجھے دیکھ کر یہ کہتے ہوئے بھاگ پڑے کہ مجھے انسان کی شکل نظر آگئی جس کی وجہ سے میں گناہ کا مرتکب ہوگیا۔ (تذکرۃ الاولیاء، ص:106، بشر حافی کے حالات و مناقب)
اب تماشہ یہ ہے کہ بشر حافی 227 ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے، جبکہ علی جرجانی 392 ہجری کو۔ اور دوسرا تماشہ یہ کہ انسان کو دیکھنا کس نے گناہ کہا؟
دوسری بات، لکھتے ہیں اولیاء کی ایک جماعت تھی جو نہ ڈھیلے سے استنجاء کرتے تھے نہ ہی زمین پر تھوکتے تھے،کیونکہ انہیں ہر شے میں اور ہر جگہ انوارِ الٰہی کا ظہور محسوس ہوتا تھا،چناچہ بشر حافی کا اس جماعت سے تعلق تھا۔( ایضاً، ص:104)
اب ڈھیلے سے استنجاء نہ کرتے تھے تو پانی سے کرتے ہوں گے، یا بغیر استنجاء رہتے ہوں گے۔ دیکھئے پانی ڈھیلے سے افضل ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ و جعلنا من الماء کل شیء حیی۔ ہم نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو زندگی دی ہے۔
اب فیصلہ کریں کہ ان تذکروں کے لکھنے والے اللہ کا دین کتناجانتے تھے۔
جھوٹ نمبر:12
فرید الدین عطار، ذون النون مصری رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
’’حضرت ابو جعفر الاعور رحمہ اللہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں آپ کی مجلس میں موجود تھا اور آپ جمادات کی فرمانبرداری کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ جمادات اہل اللہ کے اس درجہ فرمانبردار ہیں کہ اگر میں اس سامنے والے تحت سے یہ کہہ دوں کہ پورے مکان کا چکر لگائے تو وہ ہر گز دریغ نہیں کر سکتا۔یہ کہہ کر ہی سامنے والا تحت پورے مکان کا چکر لگا کر پھر اپنی جگہ قائم ہوگیا۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء، ص:114)
اب تماشہ دیکھئے: ۔۔۔۔۔۔یہ بالکل شرکیہ بات ہے اس لئے کہ مافوق الاسباب سمجھانا اللہ ہی کر سکتا ہے، مخلوق نہیں۔ جمادات صرف اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی ولی کے ہاتھ جمادات کے ذریعے کوئی خرقِ عادت صادر فرمائے تو یہ بھی ممکن ہے اور یہی اس ولی کی کرامت ہوگی، اس کا بھی کوئی مسلمان انکار نہیں کرتا۔ مگر چونکہ یہ سارے تذکرے جھوٹے اور من گھڑت ہیں اس لئے ذیل میں ان جھوٹ بنانے اور اللہ سے ڈرنے والوں کی حقیقت آشکار ہوجائے گی:
پہلی دلیل: علامہ شمس الدین ذھبی سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ ذون النون مصری ابو جعفر منصور کے آخری ایامِ خلافت میں پیدا ہوئے۔ اور 246 یا 248 ہجری میں فوت ہوئے، اور اس کی عمر سو اور 90 سال کے درمیان ہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ترجمہ ذون النون المصری)
اور ابو جعفر منصور 148 ہجری میں حج کے لئے روانہ ہوئے اور راستے میں بیمار ہوکر بئر میمون کے مقام پر 6 ذی الحج 148 ہجری کو تریسٹھ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
اب ابو جعفر الاعور کے بارے میں پڑھئے:
ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی البغدادی الاعور 250 ہجری میں پیدا ہوئے،اور 329 ہجری کو فوت ہوئے۔ یعنی ابو جعفر الاعور، ذون النون مصری کی وفات کے دو سال بعد اس دنیا تشریف لائے، تو فریدالدین عطار کیسے ابو جعفر سے ذون النون مصری کا یہ واقعہ نقل کرتا ہے۔
بے غبار بات یہ ہے کہ یہ سارے کرامات نامے 98 فیصد جھوٹے اور من گھڑت کرامات سے بھرے پڑے ہیں ، اور یہ صادر نہیں ہوئے بلکہ یہ بند کمروں میں بیٹھ کر کاغذ اور سیاہی سے شیطان کی مفت معاونت اور اس کی شاگردی میں تراشے گئے۔
جھوٹ نمبر:13
بایزید بسطامی اور امام جعفر صادق کی ملاقات
فریدالدین عطار لکھتا ہے:
’’ایک مرتبہ آپ حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں تھے تو انہوں نے فرمایا کہ بایزید طاق میں جو کتاب رکھی ہے، وہ اٹھا لائو۔۔۔۔۔۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء،ص:128)
اب تماشہ دیکھئے۔۔۔۔۔
بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی تاریخ پیدائش 188 ہجری اور تاریخ وفات 261 ہجری ہے۔
73 سال عمر پائی۔ جبکہ امام جعفر صادق 88 ہجری میں پیدا ہوئے، اور 145 یا 148 میں وفات ہوئے۔ یعنی بایزید بسطامی، امام جعفر صادق رحمہما اللہ کی وفات کے تقریباً 33یا 30 سال بعد پیدا ہوئے۔یہ صوفیاء عجائب و غرائب بنانے، پھیلانے اور جھوٹ بولنے میں ایسے ویسے مشہور نہیں ہوئے بقول یحیی بن سعید القطان بحوالہ مقدمی صحیح مسلم، اور علامہ ابن جوزی نے ان کے بارے میں جو کہا کہ جس روایت کی سند میں صوفی آجائے اس روایت کی درست ہونے سے ہاتھ دھونا۔
جھوٹ نمبر:14
فرید الدین عطار ابراہیم ابن ادہم رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
حضرت سہیل فرمایا کرتے تھے کہ میں مرتبہ دورانِ سفر بیمار ہوا، تو آپ (ابراہیم ابن ادہم) کے پاس جو کچھ تھا، وہ سب میری بیماری پر خرچ ہوا۔۔۔۔۔(تذکرۃ الاولیاء،ص:93)
اب تماشہ یہ ہے کہ سہیل سے مراد سہیل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ ہے جس کی پیدائش 200 ہجری میں ہوئی، اور وفات 283 ہجری میں جبکہ ابراہیم ابن ادہم رحمہ اللہ 159 ہجری میں وفات پا چکے تھے، تو ان کی ملاقات کہاں ہوگئی۔
جھوٹ نمبر:15
فریدالدین لکھتاہے:
’’خلیفہ معتصم باللہ نے جب آپ(ابراہیم ابن ادہم رحمہ اللہ) سے آپ کی مصروفیات کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء، ص:94)
اب تماشہ یہ ہے کہ خلیفہ معتصم باللہ، ابراہیم ابن ادہم رحمہما اللہ کی وفات کے پورے 20 سال بعد 179 ہجری میں پیدا ہوئے تھے، اور 227 ہجری میں 49 سال کی عمر میں وفات ہوچکے تھے۔
جھوٹ نمبر:16
فریدالدین عطار ،عبداللہ ابن مبارک رحمہما اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتا ہے:
حضرت سہیل بیشتر آپ(عبداللہ ابن مبارک رحمہما اللہ)کے پاس تشریف لایا کرتے تھے، ایک مرتبہ چلتے ہوئے کہنے لگے کہ اب میں کبھی آپ کے پاس نہیں آئوں گا، اس لئے کہ آج چھت پر سے آپ کی کنیزیں مجھے اے سہیل اے سہیل کہہ کر آواز دے رہی رھیں۔ اور یہ بات میرے لئے بارِ خاطر ہوگئی۔ یہ سن کر عبداللہ نے کہا کہ آئو
سہیل کی نمازِ جنازہ اداد کریں۔چنانچہ اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا۔اور تجہیز و تکفین کے بعد جب لوگوں نے سوال کیا کہ موت سے پہلے ہی آپ کو ان کی موت کا علم ہوگیاتھا؟ فرمایا کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ تیری چھت پر سے کنیزیں مجھے اے سہیل اے سہیل کہہ کر آواز دے رہی تھیں، حالانکہ میرے یہان لونڈی نہیں ہے۔اور وہ یقیناً حوریں تھیں جو آواز دے رہی تھیں، اسی وجہ سےمیں نے ان کی موت کا یقین کر لیا۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء،:167)
اب تماشہ دیکھئے۔۔۔۔
سہیل سے مراد سہیل بن عبداللہ تستری ہے، سہیل، عبداللہ ابن مبارک کی وفات کے پورے 19 سال بعد 200 ہجری میں پیدا ہوئے، اس لئے یہ پورا واقعہ جھوٹ کا پلندہ ہے، جو فریدالدین عطار نے خودبنایا ہے۔
جھوٹ نمبر:17
فریدالدین عطار، سفیان ثوری رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتا ہے:
’’آپ نے حضرت حاتم رحمہ اللہ سےفرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں سے آگاہ کرتا ہوں۔۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء،ص:176)
اب تماشہ دیکھئےَ:۔۔۔۔
حاتم سے مراد حاتم اَصم ہے، سفیان ثوری رحمہ اللہ کی پیدائش 96 ہجری میں اور وفات 161 ہجری میں ہوئی۔حاتم اصم کی وفات 273 ہجری میں ہوئی ۔اس لئے ثابت ہوا کہ سفیان ثوری کے ساتھ حاتم اصم کا ملاقات تو دور کی بات ہے، حاتم رحمہ اللہ بے چارہ تو سفیان کی وفات کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے یہ واقعہ من گھڑت ہے، جو ایسے کتابوں کے من گھڑت ہونے اور ان کے پڑھنے میں وقت ضائع کرنے سے منع کرنےکے لئے کافی ہے، اس لئے کہ ایسی جعلی کتابوں سے عقائد خراب ہوتے ہیں، شخصیت پرستی، قبر پرستی، خرافات پرستی اور شرکیہ عقائد پروان چڑھتے ہیں۔
جھوٹ نمبر:18
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
’’حضرت فضیل، حضرت ابراہیم ابن ادہم اور حضرت بشر حافی رحمہم اللہ آپ کے تلامذہ
(شاگردوں) میں شامل ہیں۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء،ص:184)
مگرحقیقت یہ ہے کہ بشر حافی رحمہ اللہ، امام صاحب کی وفات کے دو سال بعد 152 ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے یہ بھی فریدالدین عطار کا جھوٹ ہے۔
جھوٹ نمبر:19
آگے لکھتے ہیں:
’’حضرت یحیی معاذ رازی رحمہ اللہ نے نبی اکرم ﷺسے خواب میں پوچھا کہ میں آپﷺ کو کس جگہ تلاش کروں، حضور ﷺنے فرمایا: ابو حنیفہ کے پاس۔‘‘ (ایضاً:190)
یہ جھوٹ ہے اس لئے کہ عبدالرحمن سلمی طبقات الصوفیہ میں لکھتے ہیں کہ یحیی بن معاذ رازی رحمہ اللہ تیسری صدی میں میں گزرے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تیسری صدی ہجری میں پیدا بھی ہوئے ہیں اور تیسری صدی ہجری میں اس کی وفات بھی ہو چکی ہے۔ جبکہ امام ابو حنیفہ دوسری صدی کی بالکل وسط یعنی 150 ہجری میں انتقال کر چکے تھے۔
جھوٹ نمبر:20
امام شافعی رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
’’حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ امام شافعی رحمہما اللہ کے دور میں ان سے زیادہ دانشور اور کوئی نہیں۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء،ص:191)
حالانکہ سفیان ثوری کی وفات کے وقت امام شافعی صرف 11 سال کے تھے، شاید سفیان ثوری نے اسے دیکھا بھی نہ ہو، اس کی دانشوری کے بارے میں رائے زنی کرنا تو بہت بعید از قیاس ہے۔
جھوٹ نمبر:21
امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں کہ:
’’ ایک دفعہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ سماعتِ حدیث کے لئے حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کی خدمیں مکہ معظمہ پہنچ گئے، اور روزانہ آپ کے یہاں حاضری دیتے۔۔۔‘‘ (ایضاً:196،197)
حقیقت یہ ہے کہ امام ثوری کی وفات 161 ہجری میں ہوئی اور امام احمد کی پیدائش 164 ہجری میں ہوئی تو یہ کیسے ممکن ہے مگر صودفیاء کی دروغ گوئی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
جھوٹ نمبر:22
آگے لکھتے ہیں:
’’آپ(امام احمد) حضرت عبداللہ ابن مبارک رحمہما اللہ سے شرفِ نیاز حاصل کرنے کے بے حد متمنی رہتے تھے۔اور اتفاق سے ایک دن وہ (ابن مبارک) آپ (امام احمد)کے یہاں خود تشریف لائے۔۔۔۔۔۔‘‘(ایضاً:197)
حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی جھوٹ ہے اس لئے کہ عبداللہ ابن مبار کی وفات 181 میں ہوئی اور امام احمد 164 ہجری میں پیدا ہوئے، اور کمال کی بات کہ 17 سال کی عمر میں اس کی شادی بھی ہوئی، اس کا بیٹا بھی پیدا ہوا، اور بیٹا اتنا بڑا اور سمجھدار بھی ہوا کہ آپ کو ابن مبارک کے آنے اطلاع بھی دی، اور جب آپ ابن مبارک سے ملاقات کے لئے نہ نکلے تو والد سے نہ ملنے کی وجہ بھی پوچھی۔ یہ ساری باتیں تب ممکن ہیں جب امام احمد کی عمر ابن مبارک کی وفات کے وقت کم از کم 40 سال ہو، جبکہ اس وقت امام احمد کی عمر صرف 17 سال تھی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی دو بیویاں عباسہ اور ریحانہ رحمہما اللہ تھیں، اور ایک باندی تھی۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا صالح رحمہ اللہ ہوا، اور دوسری بیوی سے عبداللہ رحمہ اللہ ۔ بڑابیٹا صالح، جو اصفہان کا قاضی تھا، اس کی پیدائش 203 ہجری میں ہوئی، اور چھوٹا بیٹا عبداللہ 213 ہجری میں پیدا ہوئے، ریحانہ کی وفات کے بعد ایک باندی خریدی اور اس سے نکاح کیا، اس پانچ بیٹے پیدا ہوئے، حسن اور حسین جو بچپن میں فوت ہوئے۔ اس کے بعد تین اور بیٹے پیدا ہوئے، حسن، سعید اور محمد۔ مگر یہ سب صالح اور عبداللہ سے عمر میں چھوٹے تھے۔ یعنی بڑا بیٹا عبداللہ ابن مبارک کی وفات کے 22 سال بعد اور چھوٹا بیٹا 32 سال بعد پیدا ہوا۔‘‘ (دیکھئے: سیر اعلام النبلاء، ترجمۃ: صالح بن احمد بن حنبل۔۔۔ ترجمۃ: عبداللہ بن احمد بن حنبل۔۔۔سیرت امام احمد بن حنبل، از عبدالرشید عراقی،ص:60)
جھوٹ نمبر:23
ابولحسن خرقانی متوفی425ہجری کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت ابو سعید اور حضرت جنید رحمہمااللہ دونوں نے اپنے قبض و بسط کے احوال کی باہمی تبدیلی کرنے کا قصد کیا تو دونوں بزرگ ایک دوسرے سے بغلگیر ہوگئے جس کے بعد اچانک دونوں کی حالت تبدیل ہوگئی اور حضرت ابو سعید گھر جاکر رات بھر سر زانو پر رکھے ہوئے روتے رہے اور ادھر حضرت ابوالحسن رات بھر عالمِ وجد میں نعرے لگاتے رہے۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء،ص:411، 412)
یہ فریدالدین عطار کا بنایا ہوا ڈرامہ ہے اس لئے کہ جنید بغدادی 297 ہجری میں انتقال کر چکے تھے جبکہ ابوالحسن خرقانی، جنید بغدادی رحمہ اللہ کی وفات کے 55 سال بعد 352 ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ جبکہ ابو سعید سے یا تو مراد ابو سعید ابو الخیر ہوں گے یا ابو سعید خراز۔ اول الذکر 357 ہجری کو پیدا ہوئے تھے اور 440 ہجری میں وفات پا چکے تھے۔ جبکہ مئوخرالذکر کی سنِ وفات 277 یا 286 ہجری ہے۔ بہر صورت اگر ابو سعید سے مراد ابو سعید ابوالخیر بھی ہو تب بھی جنید رحمہ اللہ کی وجہ سے یہ واقعہ ڈرامہ اور گھڑنت ہے، جو کہ فریدالدین عطار نے گھڑا ہے۔
جھوٹ نمبر:24
ابو الفضل حسن سرخسی کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
ابو سعید سے یا تو مراد ابو سعید ابو الخیر ہوں گے یا ابو سعید خراز۔۔ لقمان سرخسی چوتھی صدی ہجری میں گزرے ہیں۔
جھوٹ نمبر:25
محمد اسلم طوسی کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
کسی نے ابو علی فارمدی سے سوال کیا کہ وہ علماء جو حقیقت میں وارثِ انبیاء ہوتے ہیں ان میں کون کون ہستیہاں شامل ہیں؟ آپ نے حضرت محمد بن اسلم رحمہ اللہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے افراد ہوتے ہیں۔(تذکرۃ،ص: 215)
اب تماشہ دیکھئے:
محمد بن اسلم طوسی 180 ہجری میں پیدا ہوئے اور 242 میں وفات پا چکے۔ جبکہ ابو علی فارمدی 407 میں پیدا ہوئے اور 477 ہجری میں فوت ہوئے۔(سیر اعلام النبلاء ۔۔۔ تاریخ ابن الملقن۔۔۔الثقات لابن حبان،ترجمہ الفضل بن محمد بن علی الشیخ ابو علی الفارمدی۔۔۔ترجمہ محمد بن اسلم الطوسی)
محمد اسلم طوسی کے وفات کے وقت ابو علی فارمدی کے دادا صاحب کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔ مگر فریدالدین جیسے صوفی کے لئے اولیاء کی شان غلط طریقے سے بڑھانے کے لئے جھوٹ بولنا معمولی بات ہے جبکہ اسلام میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اللہ کے بندو! اولیاء کو اللہ تعالیٰ نے جو شان دیا ہے کیا وہ کافی نہیں کہ جھوٹ بول کر اپنا اعمال نامہ بھاری کرنے پر تُلے ہوئے ہو۔
جھوٹ نمبر:26
ابو سلیمان دارانی کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
آپ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ علم حاصل کیا تھا۔ (تذکرۃ،ص:211)
جھوٹ نمبر:27
اولیاء کو اللہ نے جو شان اور مقام دیا ہے اگر اس پر اکتفا نہ کیا جائے تو پھر حرام کا ارتکاب کرکے جھوٹ بولنا پڑے گا اور وہ بھی گندی جھوٹ۔ لیجئے حاتم اصم کا واقعہ:
ابو حازم مکی کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
ایک عورت آپ کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے آئی تو اتفاق سے اس کی ریح خارج ہوئی جس کی وجہ سے وہ بہت شرمندہ ہوئی۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ زور سے بات کہو میں بہرہ ہوں۔پھر اس نے بلند آواز سے مسئلہ پوچھاتو آپ نے جواب دیا۔ مگر حقیقت میں آپ بہرے نہیں تھے بلکہ اس عورت کی شرمندگی دور کرنے کے لئے جان بوجھ کر بہرے بن گئے تھے۔ اور جب تک وہ عورت زندہ رہی آپ مسلسل بہرے بنے رہے اسی وجہ سے آپ کو اصم کہاجاتا ہے۔(تذکرۃ الاولیاء،ص:219)
اس جھوٹ کا آپریشن
اگر آپ نے تو اس عورت کی شرمندگی ختم کرنے کے لئے خود کو بہرا بنا دیا تو پھر یہ واقعہ کس نے نقل کیا؟ جو آج تک لاکھوں لوگوں کو پہنچ چکا۔
مگر اولیاء کے جھوٹے قصے سن کر واہ واہ کرنے والوں کی کھوپڑی میں دماغ کہاں؟
جھوٹ نمبر:28
ابو اسحاق ابراہیم بن شہریار گارزونی رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
(۔۔۔۔ابو اسحاق گارزونی فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔) نمازِ استخارہ پڑھ کر سجدے میں دعا کی اے اللہ! مجھے مطلع فرما دے کہ میں ان تینوں بزرگوں(عبداللہ الخفیف، حارث محاسبی اور عمرو بن علی رحمہم اللہ) میں سے کسی کے دامن سے وابستگی اختیار کروں۔ اس دعا کے بعد مجھے سجدے ہی میں نیند آگئی اور خواب میں ایک بزرگ اونٹ پر بہت سی کتابیں لادے ہوئے تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ تمام کتب عبداللہ الخفیف کی ہیں اور انہوں نے یہ تمام کتب اونٹ سمیت تمہیں ارسال کی ہیں۔ چنانچہ خواب سے بیدار ہوکر میں سمجھ گیا کہ مجھے حضرت عبداللہ خفیف کے دامن سے وابستہ ہونا چاہئے، اس کے بعد شیخ اکار میرے پاس آئے اور عبداللہ خفیف کی بہت سے کتابیں مجھے عطا کیں، اس واقعہ سے مجھے اور زہادہ یقین ہوگیا اور میں نے انہیں(عبداللہ خفیف) کے طریقہ پر عباد شروع کی۔(تذکرۃ الاولیاء،ص:398)
الحمدللہ! ہم اولیاء کے قدردان اور ان کا احترام کرنے والے ہیں،مگر ان کے نام پر فریدالدین عطار کی لکھی گئی خرافات دینِ اسلام اور مسلمانوں کے لئے زہر سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں، اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے رسول اللہ کا یہ حکم موجود ہے کہ:
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہاہوں جت ان دونوں پر عمل پیرا رہوگے تو گمراہ نہ ہوں گے، اور وہ دو چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت۔(حوالہ لکھو )
دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ نے اپنی اُمت کو بالخصوص خلفائے راشدین اور بالعموم صحابہ کرام کی پیروی کا حکم دیا ہے، کسی پیر فقیر یا ولی کی پیروی کا حکم نہیں دیا۔
تیسری بات یہ کہ تمام عبادات کے طریقے وغیرہ رسول اللہ نے اُمت کو سکھائے ہیں اس لئے جو بھی اللہ کے لئے عبادت کرتا ہو، وہ رسول اللہ کے سکھلائے گئے طریقے سے عباد کرے گا، پیر فقیر کے من گھڑت طریقے سے نہیں۔ آپ کا فرمان ہے:
اسی طرح نماز پڑھا کرو، جس طرح مجھے نماز پڑھتے تم نے مجھے دیکھا۔
پس یہ طریقہ صحابہ کرام نے رسول اللہ کر سن کر اور دیکھ کر سیکھا اور یہی طریقہ اُمت کو پہنچایا گیا۔ اسی طرح آخری حج کے موقع پر فرمایا:
مجھ سے حج کے مناسک (طریقے) سیکھو۔ (حوالہ لکھو )
لہذا حج کے طریقے صحابہ کرام نے رسول اللہ کو سن اور دیکھ کر سیکھے اور یہی طریقے اُمت کو پہنچائے گئے۔
اسی طرح زکوۃ کے مصارف سارے کے سارے قرآن میں ذکر کئے گئے ہیں:
صدقات (زکاۃ) فقراء کے لئے۔۔۔۔
اور اس کا نصاب رسول اللہ نے ہمیں بتایا کہ اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان کے برابر نقدی موجود ہو تو نقد اور مالِ تجارت پر سال گزرنے کے بعد ڈھائی فیصد (یعنی چالیسواں حصہ) بطورِ زکوۃ نکالے۔ اسی زرعی پیداوار میں اگر فصل کی سیرابی قدرتی ذرائع سے ہو تو عشر دس فیصد (دسواں حصہ)اور اگر سیرابی پر پیسے خرچ ہوتے ہو تو پانچ فیصد (بیسواں حصہ) بطورِ زکوۃ نکالے۔
عبادات فرض ہو، یا واجب۔ سنت ہو یا نقل، تمام اقسامِ عبادات کے طریقے، اوقات، تعداد، کیفیت سب شریعتِ محمدی میں مذکور ہے تو عبداللہ خفیف کے طریقے پر عبادت شروع کرنے کا کیا مطلب؟
یہ سب بکواسات اولیاء کے احوال و مناقب پر لکھے گئے جعلی اور من گھڑت کتب میں ملتے ہیں، دین کی کتابیں ایسے بکواسات سے پاک ہیں۔