اصلی اولیاء اللہ کون؟
اولیاء اللہ ، اللہ کے اُن نیک بندوں کو کہتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ:
…اُنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پوری اطاعت کرکے نیک اعمال بجا لانے اور بُرے اعمال سے خود کو بچانے کے ذریعے اللہ کی رضاجوئی حاصل کرنے کی پوری کوشش کی ہو۔
…دنیاوی لذات و شہوات اور نفسانی خواہشات سے مکمل اجتناب کیا ہو۔
…نفس کو قابوکرکے اس کو اللہ کے قانون کا پابند بنا کر اللہ کے رضا کے مقابلے میں اپنی رضا کو
قربان کی ہو۔
…عقیدہ و عمل میں اخلاص کے ساتھ صداقت، امانت، راست بازی، رزقِ حلال، شریعت کے اَوامر بجا لانے، نواہی اور منکرات سے بچنے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا و قرب کے لئے سعی کرتا ہو، تو ایسا شخص ولی اللہ ہے۔
اس لئے جان لینا چاہئے کہ… اللہ اور اس رسول ﷺکی نافرمانی کرنے والا، …شریعت اور طریقت کی جدائی کا قائل، …نبی آخرالزمان کے بعد بھی اسلام کے ساتھ عیسائیت، یہودیت ، مجوسیت وغیرہ کو بھی اللہ تک پہنچنے کے راستے سمجھنے والاولی الشیطان تو ہوسکتا ہے، ولی اللہ نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح کوئی… ننگا دھڑنگا، …کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھا، …نیم پاگل یا پورا پاگل، …کئی کئی مہینے نہ نہانے والا ایک معذور اور قابلِ رحم انسان تو ہوسکتا ہے ، ولی اللہ نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح…من گھڑت اور مکارانہ مجذوبیت کے بہانے کسی کے خلافِ شریعت بات کو ہضم کرنے والا کوئی پاگل تو ہوسکتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا تابعدار اُمتی اور عالمِ دین نہیں ہو سکتا ۔
اسلام اور مجذوبیت
اسلام میں مجذوبیت کا کوئی تصور نہیں۔نبی کریم ﷺ کے ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین میں یہ ڈرامہ بازانہ مجذوبیت کسی کے بارے میں ثابت نہیں۔ بلکہ جب انسان بھلے برے کی تمیز کھو دیتا ہے تو اسے پاگل اور مجنون کہا جاتا ہے۔
سیدناابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بڑا اور زاہد اور دنیا سے بے نیازی اور بے رغبتی رکھنے والا کون ہو سکتا ہے مگر ساری عمر ،ایک لمحہ کے لئے بھی، اس پر ایسی کیفیت طاری نہیں ہوئی جس میں اس سے خلافِ اخلاق، خلافِ شریعت اور خلافِ آدابِ مجلس کوئی بات یا کام صادر ہوا ہو۔
اس لئے بعد کے صوفیاء میں مجذوبیت کا ڈرامہ رچانے والے بڑے ڈھونگی اور ڈرامہ باز تھے،اور لاکھوں مسلمانوں کا ایمان برباد کیا۔
بےہوشی کے بارے میں قرآن میں مندرجہ زیل الفاظ آئے ہیں:
صَعِقَ:کسی آسمانی حادثہ سے بیہوش ہونے کے لیے۔موسیٰ علیہ السلام کی بے ہوشی جو جلد ختم ہوئی۔
سَکَرَ:عموماً شراب یا نشہ آور چیزوں سے بے ہوشی۔یا موت کے وقت طاری ہونے والی بے ہوشی۔ یہ نشہ اُترنے تک رہتی ہے۔
غَمَرَ:شدائد اور سختیوں کی وجہ سے بے ہوشی۔فرشتے جب کافر کا روح قبض کرنے آتے ہیں۔
صَرَعَ:بے ہوشی کی وجہ سے پٹاخ زمین پر گر پڑنے کے لیے۔قومِ عاد کی تباہی کے وقت بے ہوشی۔
غَشِيَ: کسی چیز کی دہشت یا مرض کی وجہ سے، یا کسی بھی وجہ سے بے ہوشی کے لیے عام لفظ ہے ۔ جیسے منافقین پر جنگ کی خبر سنتے وقت طاری ہوتی تھی، اس لئے جھوٹے بہانے بنا کر جنگ میں جانے سے بچنے کی کوشش کرتے۔
اولیاء اللہ اور اُن سے صادر ہونے والے کرامات کے بارے میں میرا موقف
اس مختصر کتاب میں ہم قرٓان وسنت کی حفاظت وصیانت کی خاطر اولیاء اللہ سے منسوب خرافات اور خلافِ شریعت عقائد و اعمال طشت ازبام کرنے کی کوشش کریں گے، اس لئے:
٭…٭میرا موقف یہ ہے کہ بحیثیتِ مسلمان اولیاء اللہ کے ساتھ نیک گمان رکھتا ہوں، اور اُن
کے کرامات کو قرآن و سنت سے ثابت مانتاہوں، اور اللہ کے ان نیک بندوں کی بے ادبی کو گمراہی سمجھتاہوں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عقیدہ رکھتا ہوں کہ کوئی ولی، قرآن و سنت کے خلاف بات، کام یا عمل نہیں کر سکتا۔ اور جو بکواسات سنے اور سنائے جاتے ہیں، وہ ان اولیاءکی طرف قصہ گو واعظین اور جاہل مجاورینِ مزارات کی طرف سے غلط سلط منسوب کئے گئے ہیں۔
لیکن یہ بھی ببانگِ دُہل کہتاہوں کہ بالفرض اگر کسی مقرب ولی نے کوئی خلاف شرع عقیدہ اپنایا ہو ، یا خلافِ شرع عمل کیا ہو تو اس کی ولایت اسی وقت ختم ہوئی ہے، اس لئے کہ جس چیز پر عمل سے ولایت ملتی ہے، اسی چیز سے منہ موڑنے پر ختم بھی ہوجاتی ہے۔
٭…٭میرا موقف یہ ہے کہ میں جن قصوں ،کہانیوں اور من گھڑت کرامات کا رَد کرتا ہوں، کوئی ماں کا لال اُنہیں سچ ثابت نہیں کر سکتا، اس لئے کہ دو میں سے ایک بات لازماً ماننی پڑے گی:
…شریعت کی مخالفت کی وجہ سے مزعومہ ولی کی ولایت سے انکار، یا… من گھڑت کرامات کا انکار۔
٭…٭میرا موقف یہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ کے احادیث میں من گھڑت، ضعیف ، سخت ضعیف، شاذ و مُنکر اور موضوع روایات کی نشان دہی محدثین نے کی اور علماء وفقہاء نے احادیث پر نقد و جرح کی روشنی میں ضعیف روایات چھوڑ کر صحیح روایات سے مسائل کا استنباط کیا ہے، تو ایسے خرافات قصے کہانیاں کیوں نہ رَد کیاجائے جو کسی ایسے شخص نے بلا ثبوت و بلا سند نقل کئے جو اس مزعومہ ولی سے کئی صدیاں بعد پیدا ہوا ہو۔
٭…٭میرا موقف یہ ہے کہ میرے کہنے پر کسی کے اچھے یا برے ہونے ،یا کافر و مسلمان ہونے کے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہوتے ہیں، نجات و عذاب کا اصل دارومدار انہی پر ہوتا ہے۔مگر ظاہر شریعت سے صاحبِ شریعت محمد مصطفیٰ ﷺکو بھی نکلنے کا اختیار نہیں تھا ۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام میں سے کسی سے بھی کوئی خلافِ شرع قول و فعل منقول نہیں بلکہ کسی اور کی کیا مجال جو ظاہر شریعت سے نکلے، اس لئے جو بھی بزرگ ایسا کرے گا کافر بنے گا۔