کَرامات اور احوالِ اولیاء پر لکھی گئی کتابیں جھوٹ کے پلندے ہیں۔۔۔ تحریر اکبر علی خان

کَرامات اور احوالِ اولیاء پر لکھی گئی کتابیں جھوٹ کے پلندے ہیں۔۔۔ تحریر اکبر علی خان
کرامات کا منکر کوئی نہیں مگر من گھڑت کَرامات ماننا بھی جہالت ہے
کراماتِ اولیا ء کا مسئلہ قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ اس لئے کوئی مسلمان اولیاء رحمہم اللہ کے مقام و مرتبے اور ان کے کرامات کا منکر نہیں مگر من گھڑت کرامات کی آڑ میں ہمیشہ پیرانِ باطل شکار کھیلتے آرہے ہیں اور یہی ہمارامقصد ہے کہ قارئین کو جھوٹوں کی جھوٹطشت از باک کر دے۔ اولیاء کے تذکروں کی کتابوں میں ایسے ایسے کرامات گھڑے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ۔ نعوذباللہ من ذلک۔ اللہ تعالیٰ نے ساری خدائی زمین پر اولیاء کے حوالے کی ہے۔ اللہ کی پناہ ایسے کرامات سے۔اولیاء کے احوال و کرامات پر لکھے گئے کتابیں ان اولیاء کی وفات کے بعد لکھے گئے ، اور اُن لوگوں نے لکھے، جن سے ان اولیاء کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ بلکہ ان اولیاء کی اولاد میں سے کسی نے ان کرامات کا ذکر ہی نہیں کیا، اور پھر کئی صدیاں بعد کوئی جھوٹا ،یسے شطنوفی، یحیی تادفی کی صورت میں پیدا ہوا، اور کفر کی حدود پھلانگتے ہوئے ایسے کرامات گھڑے جس سے کفر بھی منہ چھاکر شرماتاہے۔
میرے اس دعوے کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے کرامات شخ صاحب رحمہ اللہ کی وفات کے سو سال بعد ایک مصری شخص نے لکھیں۔ یہی حال اس قسم کی اکثر وبیشتر کتب کا ہے۔
شیخ جیلانی رحمہ اللہ رحمہ اللہ کے کرامات لکھی گئی دو کتابیں، جن کو اس سلسلے میں اُمہاتِ کتب کی حیثیت حاصل ہے، ایک ہے بہجۃ الاسرار اور دوسرا ہے قلائد الجواہر۔بہجۃ الاسرار شیخ جیلانی کے وفات کے تقریباً 120 سال بعد مصر میں بیٹھے ایک اَخون قسم کے صوفی شطنوفی نے لکھی، اور دوسری کتاب تقریباً 450 سال بعد شام میں بیٹھے ایک خرافاتی جاہل صوفی محمد بن یحیی تادفی متوفی 963 ہجری نے لکھی۔
شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی وفات 561ہجری میں ہوئی، اس کے وفات کے 86 سال بعد علی بن یوسف شطنوفی نامی ایک بہروپیہ پیدا ہوا۔ اس کی ولادت بھی قاہرہ(مصر) میں ہوئی اور وفات بھی ۔ مگر بغداد سے ہزاروں میل دور قاہرہ میں بیٹھ کر اس نے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے کرامات، احوال اور اقوال لکھے، اور اس کتاب کا نام بہجۃ الاسرار و معدن الانوار رکھا، جو حقیقت میں نہ تو بہجۃ الاسرار ہے اور نہ ہی معدن الانوار بلکہ حقیقتاً وہ بہجۃ الاضرار اور معدن الاِضلال ہے جس نے بے علم اور سادہ لوح مسلمانوں کے عقائد کی بگاڑ اور گمراہی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔شطنوفی نے اس کتاب میں روایات کی صحت کا کوئی خیال نہیں رکھا، اور ہر مجہول اور جھوٹے کی روایت قبول کرکے کتاب کی ضخامت بڑھا دی۔
علامہ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ متوفی 748 ہجری شیخ جیلانی رحمہ اللہ کے بیٹے عبدالرزاق رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ شیخ صاحب رحمہ اللہ کے 49 اولاد تھیں جن میں 27 بیٹے اور
22 بیٹیاں تھیں۔‘‘(سِیَر اعلام النبلاء)
جن میں صرف 13 بیٹے زندہ رہے اور باقی بچپن میں فوت ہوتے تھے۔شیخ رحمہ اللہ کے سب سے بڑے بیٹے عبداللہ رحمہ اللہ کی پیدائش 508ہجری میں ہوئی اور 81 سال کی عمر میں 589 ہجری میں فوت ہوئے۔شیخ صاحب کی وفات کے وقت بڑے بیٹے کی عمر 43 سال تھی۔سب سے چھوٹے بیٹے یحیٰی رحمہ اللہ کی پیدائش 550ہجری میں ہوئی۔ اور 600ہجری میں پچاس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ شیخ صاحب کی وفات کے وقت اس کی عمر 11 سال تھی۔ان 13 بیٹوں نے اپنے والد کا ایک طویل دور دیکھا۔مگر ان میں سے کسی نے بھی آپ کے کرامات یا اقوال اتنی تعداد میں قلمبند نہیں کئے جتنی بڑی تعداد میں شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی وفات کے چار سو سال بعد پیدا ہونے والےقلائد الجواہر کے مصنف محمد بن یحییٰ تادفی اور 86 سال بعد پیدا ہونے والے شطنوفی نے قلمبند کئے۔حالانکہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بیٹوں سے کتاب فتوح الغیب میں جو اقوال منقول ہیں ، وہ بالکل اسی قسم کے ہیں جن کے ماننے والوں کو آج کل وہابی گستاخِ رسول کہا جاتا ہے ۔ یعنی ان بریلویوں کے بنائے گئے اُصولوں کے مطابق حضرت شیخ پکے گستاخِ رسول اور وہابی تھے، معاذاللہ۔
یہ دونوں حضرات یعنی شطنوفی اور تادفی، شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی بعض کَرامتوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جس سے ان کی شیخ جیلانی رحمہ اللہ کے معاصر ہونے کا شک گزرتا ہے۔
علاوہ ازیں جن کرامتوں کو شطنوفی نے اپنی سند سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے، ان میں بھی اکثر و بیشتر روایات کے اسناد میں ضعیف و مجہول راوی موجود ہیں۔ اور مجہول راوی کی روایت مردود، ناقابلِ قبول اور ناقابلِ حجت ہوتی ہے۔ اسی لئے ائمہ محققین نے شطنوفی کی اس تالیف پرزبردست تردید و تنقید کی ہے۔ بطورِ مثال چند ائمہ رحمہم اللہ کے اقوال ذکر کئے جاتے ہیں۔ حافظ ابن حجر متوفی 852 ہجری شیخ الکمال جعفر رحمہما اللہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
’’شطنوفی نے شیخ جیلانی کے مناقب بہجۃ الاسرار نامی کتاب میں جمع کئے ہیں۔ کمال جعفر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شطنوفی نے اس میں عجائب و غرائب نقل کئے ہیں۔ اس کے بہت سارے حکایات اور اسانید پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘‘(الدرر الکامنۃ، ترجمہ: علی بن یوسف اللخمی الشطنوفی)
ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ 792 ہجری فرماتے ہیں:
’’شطنوفی نے شیخ جیلانی رحمہ اللہ پر تین جلدوں میں کتاب لکھی ہے اور اس میں رطب و یابس (اَول پَول) کا طومار باندھا ہے۔ حالانکہ (رسول اللہ ﷺکی حدیث کی رُو سے) کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی سی بات ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنا شروع کردے۔میں نے اس کتاب کے بعض مندرجات دیکھے ہیں، مگر میرا نفس اس بات پر مطمئن نہ ہوا کہ میں اس میں مذکور باتوں پراعتماد کرسکوں ۔کیونکہ اوّل تو اس میں مجہول راویوں سے روایتیں لی گئی ہیں اور دوسرا یہ کہ اس میں نہ صرف کذب و افتراء اور جھوٹ کے بے شمار پلندے موجود ہیں بلکہ ان جھوٹی باتوں کو شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرنا بھی شیخ جیلانی رحمہ اللہ کے شان کے منافی ہے۔علاوہ ازیں شیخ الکمال جعفر رحمہ اللہ کی یہ بات بھی میری نظروں سے گزری ہے کہ شطنوفی نے اپنی کتاب بہجۃ الأسرارمیں جو چیزیں بیان کی ہیں، انہیں بیان کرنے میں شطنوفی مُتّہَم(جھوٹ بولنے کا مجرم)ہے۔‘‘(ذیل الطبقات لابن رجب: ۱، ۲۹۳)
بہجۃ الاسرار کے علاوہ شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی کرامتوں پر دوسری جامع و مستقل کتاب قلائد الجواھر ہے جسے محمد بن یحییٰ التادفی متوفی 963ہجری نے لکھی ہے۔ (شیخ صاحب اور محمد بن یحییٰ کے درمیان 402 سال کاطویل زمانہ نوٹ کیجئے)۔ اس کی اِسنادی حیثیت بہجۃ الأسرار سے بھی زیادہ گئی گزری ،مجروح اور کمزور ہے۔ اکثر و بیشتر واقعات تو بہجۃ الاسرار ہی سے لئے گئے ہیں جبکہ بعض واقعات تو اتنے جھوٹے ہیں کہ خود جھوٹ بھی ان سے شرما جائے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ 748ہجری لکھتے ہیں:
’’میں کہتا ہوں کہ کبار اولیاء و مشائخ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کی عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے زیادہ کرامات معروف ہوں، تاہم شیخ رحمہ اللہ کی طرف جو کرامات منسوب ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر درست نہیں بلکہ بعض تو ویسے ہی ناممکنات میں سے ہیں۔‘‘(سیر اعلام النبلاء)
کچھ اسی طرح کا تبصرہ حافظ ابن کثیرنے تاریخ البدایہ والنھایہ (ج۱۲؍ص۲۵۲) میں بھی کیا ہے۔ ناممکن کَرامات کی مثالیں ہم نے ’’خرافات‘‘کے عنوان کے تحت ص: پرتفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں، اور ان من گھڑت کرامات کو عقلاً، نقلاً اور تاریخاً جھوٹ اور ناممکن ہونا ثابت کیا ہے۔
شطنوفی کی سند
علامہ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ متوفی 748 ہجری شطنوفی کے بارے میں لکھتے ہیں:
جمع أخباره ومناقبه في نحو من ثلاث مجلدات وكتب فيها عمن أقبل وأدبر فراج عليه فيها حكايات كثيرة مكذوبة
’’شطنوفی نے اس (شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ) کے حالات و مناقب پر تقریباً تین جلد پر مشتمل کتاب لکھی ہے، جس میں وہ ثقہ اور غیر ثقہ (ضعیف، مجروح) راویوں سے یکساں روایت کرتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں اس نے بے شمار جھوٹے اور من گھڑت قصے نقل کئے ہیں۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ترجمہ: علی بن یوسف اللخمی الشطنوفی)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ متوفی 852 ہجری لکھتے ہیں:
ﵟوَجمع هُوَ مَنَاقِب الشَّيْخ عبد الْقَادِر وسمى الْكتاب الْبَهْجَة قَالَ الْكَمَال جَعْفَر وَذكر فِيهَا غرائب وعجائب وَطعن النَّاس فِي كثير من حكاياته وَمن أسانيده فِيهِﵞ
’’شطنوفی نے شیخ جیلانی کے مناقب بہجۃ الاسرار نامی کتاب میں جمع کئے ہیں۔ کمال جعفر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شطنوفی نے اس میں عجائب و غرائب نقل کئے ہیں۔ اس کے بہت سارے حکایات اور اسانید پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘‘(الدرر الکامنۃ، ترجمہ: علی بن یوسف اللخمی الشطنوفی)
شطنوفی نے جن لوگوں سے روایات نقل کئے ہیں ان میں سے بیشتر کے حالات معلوم نہیں اس لئے وہ مجہول ہوئے اور مجہول راوی کی روایت قابلِ قبول نہیں ہوتی۔
زندیق، شہرت کے بھوکے، قصہ گو جھوٹوں اور شانِ رسالت سے ناواقف لوگوں نے نبی
کریمﷺ پر جھوٹ بولنے سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا، تو اولیاء کی شان میں اپنی شہرت یا آسان طریقے سے ’’دال روٹی‘‘ کمانے کے لئے حد سے گزرنا اور جھوٹی کرامات اور روایات بنانا تو معمولی بات ہے۔
ہر دور میں شطنوفی اور تادفی جیسے جھوٹے موجود رہے ہیں جو جھوٹ بول کر اولیاء کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں اور مقصد ہوتا ہے عوام کی دینی جذبات سے ناجائز مالی فوائد اٹھانا، ایسے ہی ایک شطنوفی نے میری موجودگی میں 10 فروری بروزِ اتوار2008 مندیزائی شبقدر میں جنازے پر تقریر کرتے ہوئے ایک پیر و مولوی نے رسول اللہ پرعمداً جھوٹ بول کر پیٹ سے ایک حدیث بنائی اور کہا کہ ایک بار علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے گٹھنوں سے اپنےگھٹنے ملائے اور آپﷺ سے کہا کہ مجھے کچھ دیجئے ۔آپﷺ نے فرمایا کہ یہی لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہ پڑھا کرو۔ اس نے کہا: { اَخَصَّ لِی فِیہِ}مجھے اس میں کچھ خاص کیجئے۔‘‘
تو آپﷺ نے فرمایا: لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ۔۔۔لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ۔(یعنی ان بریلویوں کے انداز میں
زور زور سے ایک سانس میں)۔مقصد یہ تھا کہ لوگ میری بیعت کرے۔اور اس واقعہ کو یوں پیش کیا جیسے اس وقت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیعت ہوئے۔اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنا اس سیفی مولوی پر قیامت تک تعاقب کرنے والا قرض ہے۔
اس جھوٹے مولوی نے حوالہ دیا ترمذی شریف کا، جبکہ صرف ترمذی شریف نہیں بلکہ احادیث کی کسی بھی کتاب میں یہ روایت دستیاب نہ ہوسکی۔اگر اس کی مراد حکیم ترمذی ہو ، اور دھوکے کیلئے امام ترمذی کانام لیا تو جھوٹ کا ارتکاب حرام، اورجھوٹ کو حلال سمجھنا کفر، اورنبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنا اس سے بھی بد تر کفر۔ اس حدیث کو پوری سند اور سند کے اندر راویوں کی توثیق کے ساتھ پیش کرنا میری طرف سے اس پیر و مولوی پر آج تک قرض ہے، مگر وہ اس قرض کو چکانا تو دور کی بات ہے اس کی وجہ سے میرا سامنا بھی نہیں کرسکتا۔
حکیم ترمذی کی ایک کتاب نوادرالاُصول ہے۔ مگر علماء اس کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اس
میں صحیح ، ضعیف اور من گھڑت ہر قسم روایات موجود ہیں۔ جو بھی عالم یا پیر نبی کریم ﷺ
پر جھوٹ بولنا جائز سمجھتا ہو، وہ ابوجہل اور ابولہب سے بھی بڑا کافر ہے۔
لیجئے قارئین! من گھڑت اور پیٹ سے بنی حدیث کی مثال جو پانچ جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے مگر ہے بازاری گپ اور ایسا جھوٹ کہ جھوٹ بھی سن کر شرماجائے:
’’ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہاکا اکثر بوسہ لیتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہنے عرض کیا، یارسول اللہ! آپﷺفاطمہ رضی رضی اللہ عنہا کا اکثر بوسہ لیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب مجھے معراج ہوئی اور میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے جنت کے تمام پھل کھلائے گئے،جس سے میری پشت میں نطفہ تیار ہوا، اوراس نطفہ سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہرا۔جب مجھے ان (جنتی) پھلوں کے کھانے کا شوق پیداہوتاہے تو میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لیتا ہوں جس سے مجھے ان پھلوں کا
مزہ آجاتاہے جومیں نے(جنت میں) کھائے تھے۔‘‘ (موضوعات لابن جوزی)
یہ اس لئے بازاری گپ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو نبوت ملنے سے پانچ سال پہلے پیداہوئی تھی اور جب آپﷺ کو معراج کرایاگیا تو اس وقت سیّدۃ صاحبہ رضی اللہ عنہ کی
عمرسولہ یا سترہ سال تھی۔
کرامات اور احوالِ اولیاء پر لکھنے والے صوفیاء کی اکثریت ثقہ اور قابلِ اعتبار نہیں تھے بلکہ صوفیاء کی اکثریت جھوٹے اور وضاع تھی، اس لئے اپنی کتابوں میں روایات کی درستگی کا سرے سے اہتمام ہی نہیں کیا اور ہر اَیرے غیرے سے جو سنا وہی لکھا، بلکہ صوفیاءخود بھی جھوٹ بولنے کے عادی تھے اس لئے ایسے لوگوں سے (مجھے خبر دی فلاں نے) کہہ کر روایات نقل کئے جو ان سے بہت پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔
جو صوفیاء رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولے اور اپنے پیٹ سے کوئی بات گھڑ کر اسے رسول اللہ کا قول و حدیث بتائے ، ایسے غافل کو ولی ماننا تو دور کی بات ہے میں سے اچھا مسلمان بھی نہیں مانتا۔
مثال کے طور پر ایسے چند کرامات پیشِ خدمت ہیں جو تاریخی اعتبار سے ممکن ہی نہیں۔
محمد بن یحیی بن یوسف تاذفی متوفی 963 ہجری اپنی کتاب قلائد الجواہر میں سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ کو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا ہم عصر دکھاتا ہے حالانکہ سہل بن عبداللہ تستری متوفی 283 ہجری کی وفات اورشیخ جیلانی کی پیدائش (470ہجری) میں پورے 187 سال کا طویل عرصہ ہے۔
1…یہ کرامت پڑھئے:
’’سہل بن عبداللہ تستری نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ بغداد کی نظر سے آپرحمہ اللہ عرصہ تک غائب رہے۔۔۔۔لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے دریائے دجلہ کی طرف گئے تو ہم نے دیکھا کہ آپ پانی پر سے ہماری طرف چلے آرہے ہیں اور مچھلیاں بکثرت آپ کی طرف آن آن کر آپ کو ‘سلام علیک’ کہتی جاتی ہیں۔ ہم آپ کو اور مچھلیوں کے آپ کا ہاتھ چومنے کو دیکھتے جاتے تھے۔ اس وقت نمازِ ظہر کا وقت ہوگیاتھا۔ اسی اثنا میں ہمیں ایک بڑی بھاری جائے نماز دکھائی دی اور تختِ سلیمانی کی طرح ہَوا میں مُعلَّق ہوکر بچھ گئی۔ یہ جائے نماز سبز رنگ اور سونے چاندی سے مرصَّع تھی، اس کے اوپر دو سطریں لکھی ہوئی تھیں۔
پہلی سطر میں ﴿أَلا إِنَّ أَولِياءَ اللَّهِ لا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ﴾ اور دوسری سطر
میں اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الْبَیْتِ إنَّه حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ لکھا ہوا تھا۔
جب یہ جائے نماز بچھ چکی تو ہم نے دیکھا کہ بہت سے لوگ آئے اور جائے نماز کے برابر کھڑے ہوگئے۔ سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپ کی دُعا پر فرشتوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو ‘آمین’ کہتے سنا۔ جب آپ دعا ختم کر چکے تو پھر ہم نے یہ ندا سنی:
’’اَبْشِر فِإِنِّي قَدِ اْسْتَجَبْتُ لکَ‘‘ تم خوش ہو جاؤ، میں نے تمہاری دعا قبول کرلی۔” (قلائد الجواہر ترجمہ محمد عبدالستار قادری: ص۸۸،۸۹)
یہ کرامت بیان کرنے والا سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ ہے۔ سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ کی پیدائش 200ہجری میں بمقام تُستر ہوئی، اور وفات 283ہجری میں ہوئی، یعنی شیخ رحمہ اللہ صاحب کی پیدائش(470 ہجری) سے 187 سال پہلے سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ وفات پاچکے تھے۔ اس لئے ہم بِلا لَومۃ لائِم ببانگِ دُہل کہتے ہیں کہ اولیاء کے کرامت نامے لکھنے والے حدودِ شریعت سے نکلنے والے، شہرت کے بھوکے، دین اور عقیدہ توحیدسے غافل، شرک کے کے مریض اور جھوٹے کرامات بنا کر روزی کمانے والے نکمے ، کاہل اور جاہل اور لوگ تھے۔
اور اُنہوں نے کرامت نامے لکھ کر دین کی کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ انہوں ں نے کرامت ناموں کے پڑھنے والے لاکھوں لوگوں کے عقائد برباد کئے، اور خود بھی برباد ہوئے۔
فلعنۃ اللہ علی جمیع من وضعوا لکَرامات من بطونہم و نسبوہم اِلیٰ اولیاء
اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ شیخ صاحب رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرامات میں سے اٹھانوے فیصد کرامات شطنوفی اور تادفی کے گھڑے ہوئے ہیں۔ اور دو فیصد کَرامات درست ہوسکتے ہیں۔
2…شطنوفی شیخ عدی بن مسافر رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کے ایک خادم نے مجھے کہا کہ شیخ عدی نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور مجھے سارا قرآن یاد ہوگیا۔
یہ بھی سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ شیخ عدی بن مسافر 467ہجری میں پیدا ہوئے اور 557 یا بقول اس کے بھتیجے شیخ عدی بن صخر، 555ہجری میں فوت ہوئے۔ جبکہ شطنوفی 647 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اب اگر شیخ عدی کے اس خادم کی عمر شیخ عدی سے پچاس سال کم بھی مانا جائے تو اس کی تاریخ پیدائش فرض کریں گے 517 ہجری۔ اور اگر اس کی کل عمر 120 سال بھی ماناجائے تو اس کی تاریخِ وفات 637 ہجری ہوگی۔ جبکہ شطنوفی 644 یا 647 ہجری کو پیدا ہوئے، تو یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ مجھے شیخ عدی بن مسافر رحمہ اللہ کے خادم نے یہ قصہ سنایا۔
شطنوفی اور شیخ عدی بن مسافر کے خادم کے درمیان کم از کم دو اور راوی ہونے چاہئے جو یہ قصہ خادم کی طرف سے شطنوفی کو بیان کرے ۔
شیخ ابوبکر ہوار کہتا ہے، مجھے دو شیوخ نے خبر دی: زین الدین ابو لحسن علی بن ابو محمد عبداللہبن ابوبکر بن ابو الطیب مغربی جزائری مالکی مقری المعروف بابن الفلال بالقاہرہ المحروسۃ نے 664 ہجری کو، اور (دوسرا شیخ)ابو زید عبدالرحمن بن ابونجاۃسالم بن احمد بن ابو حمید بن صالح بن علی قرشی محدث بالقاہرہ 671 ہجری کو ۔
یہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں أبو الفتح ابن ‌أبي ‌الغنائم، نزيل الإسكندريّة نے 623 ہجری کو خبر دی
اور ابوالفتح کہتا ہے کہ مجھے شیخ احمد بن ابو الحسن رفاعی نے۔
شیخ رفاعی 578 ہجری کو وفات پاچکے تھے اور ابو الفتح جس کی تاریخِ وفات 624 ہجری ہے۔

3…شطنوفی، شیخ احمد رفاعی اور شیخ عدی بن مسافر رحمہما اللہ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
شطنوفی لکھتاہے :
خبر دی مجھ کو ابو الفضل منصور بن احمد بن ابی الفرح نے قاہرہ میں 674 ہجری میں، کہا کہ مجھے خبر دی ہمارے شیخ کمال الدین ابو العباس نے کہا کہ میں نے شیخ صالح ابو محمد یوسف بن مظفر (متوفی624 ہجری) سے سنا، کہا کہ میں نے 556 ہجری کو شیخ عدی بن مسافر کی زیارت کا ارادہ کیا۔ جب اُس سے ملا تو اس نے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا اصحابِ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ میں سے ہوں۔اور پھر شیخ عدی نے شیخ جیلانی رحمہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کیں جن میں بعض باتیں حدِ شرک کو پہنچتے ہیں،۔۔۔یعنی ہوا میں اُڑنا،۔۔۔ْ اور جب اُنہوں نے کہا تھا کہ میرا قدم ہر ولی کے گردن پر ہے تو ان سب اولیاء نے اپنی گردنوں کو ان کے سامنے جھکایا تھا۔ (بہجۃ الاسرار، ترجمہ احمد علی چشتی، 1995، ص:18)
اب اس کی حقیقت بھی سنئے:
پہلی بات یہ کہ یہ واقعہ شیخ ابو صالح یا شطنوفی یا اس سند میں کسی اور جاہل صوفی کا جھوٹ ہے اس لئے کہ شیخ عدی بن مسافر ایک مانا ہوا صاحبِ کرامات ولی اللہ ہے، اہلِ سنت والجماعت میں سے تھے، صحیح العقیدہ تھے۔ مگر اس کے بعد اس کے جاہل معتقدین اور اس کے نام پر شہرت اور دولت کمانے والوں نے بہت غلو کیا اور اسے ’اللہ‘ کا درجہ دیا۔
شیخ عدی بن مسافر کی تاریخِ وفات بعض حضرات 557 ہجری بتاتے ہیں مگر تاریخِ اربل میں صحیح سند سے شیخ عدی کے بھتیجے عدی بن صخر کا اپنا قول موجود ہے کہ …میں اپنے چچا عدی بن مسافر کی وفات کے دس دن بعد پیدا ہوا،… اور تاریخِ اربل کے مطابق اس کے بھتیجے کا تاریخِ پیدائش اس کے بیٹے کی روایت کے مطابق 555 ہجری ہے۔ (تاریخِ اربل، ترجمہ: ‌‌عدی بن ابی البرکات بن صخر بن مسافر)
4…ایک اور جھوٹ۔۔۔ احمد علی چشتی کے ترجمہ شدہ بہجۃ الاسرار کے مطابق شطنوفی کہتا ہے کہ مجھے ابو عبداللہ محمد بن ابی الحسن علی بن حسین بن محمد نے خبر دی، کہا کہ مجھے شیخ پیشواء ابوالمفاخر عدی بن شیخ ابی البرکات بن صخر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا شیخ عدی بن مسافر سے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ متقدمین مشائخ میں سے کسی نے کہا ہو سوائے شیخ جیلانی رحمہ اللہ کے، کہ میرا قدم ہر ولی کے گردن پر ہے۔۔۔۔ (اس کے بعد وہی من گھڑت بکواسات اور شریعت کا مذاق لکھا ہے)۔
جبکہ ایک عربی متن کے مطابق ترجمہ یہ ہے:
شطنوفی کہتا ہے کہ مجھے ابو عبداللہ محمد بن ابی الحسن علی بن حسین بن محمد نے خبر دی 673 ہجری میں قاہرہ میں خبر دی ، کہا کہ مجھے شیخ پیشواء ابوالمفاخر عدی بن شیخ ابی البرکات بن صخر نے 620 ہجری میں موصل میں خبر دی، کہا کہ مجھے میرے والد (صخر) نے خبر دی، اس نے کہا کہ میں نے اپنے چچا عدی بن مسافر سے پوچھا۔۔۔۔
اس کے مطابق پہلا راوی کہتا ہے کہ مجھے عدی بن صخر نےخبر دی، اور عدی بن صخر نے کہا کہ مجھے میرے والد صخر بن مسافر نے خبر دی، اور صخر بن مسافر نے کہا کہ میں نے اپنے چچا سے پوچھا ۔۔۔
جبکہ یہاں یہ نوٹ کیجئے کہ صخر، جو عدی بن صخر کا والد ہے، وہ عدی بن مسافر کا بھائی ہے، بھتیجا نہیں اس لئے اسے کہنا چاہئے کہ میں نے اپنے بھائی (عدی بن مسافر) سے پوچھا۔
مگر یہاں بات اُلٹ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ من گھڑٹ سند اور من گھڑت واقعہ ہے، اور اس طرح کے من گھڑت واقعات سارے کے سارے شطنوفی یا کسی اور جاہل صوفی کے مینوفیکچرڈ کرامات ہیں جو واقع نہیں ہوئے بلکہ بنائے گئے ہیں۔ اور ہر دور میں ہر پیر و صوفی نے ایسے کرامات گھڑ کر اُمت میں محض شہرت اور پیسے کی بھوک مٹانے کے لئے پھیلائے ہیں۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ بھتیجے(عدی بن صخر) کا اپنے چچا (عدی بن مسافر) سے روایت کرنا بھی درست نہیں اس لئے کہ بھتیجا خود کہتا ہے کہ میں اپنے چچا کی وگات کے دس دن بعد پیدا ہوا۔
لیجئے ثبوت:
تاریخِ اِربل کے مصنف مبارک بن احمد متوفی 637ہجری لکھتے ہیں:
عدی بن صخر خود لکھتے ہیں کہ میں اپنے چچا عدی اکبر، عدی بن مسافر رحمہ اللہ کی وفات کے دس دن بعد پیدا ہوا۔مبارک بن احمد لکھتے ہیں کہ مجھے عدی بن صخر کے بیٹے ابو محمد حسن نے بتایا کہ میرے والد عدی بن صخر 555ہجری میں پیدا ہوئے اور یہ بھی بتایا کہ عدی اکبر عدی بن مسافر 555ہجری میں وفات ہوئے۔ اور لکھتا ہے کہ ابوالفرج عبدالرحمن بن نجم بن عبدالوہاب واعظ حنبلی نے عدی بن صخر بن مسافر سے اس کی سن ولادت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ میں اپنے چچا شیخ عدی بن مسافر کی انتقال کے دس دن بعد پیدا ہوا۔ (تاریخِ اربل، ترجمہ: ‌‌عدی بن ابی البرکات بن صخر بن مسافر)
علامہ ابن کثیر اور ابن خلکان نے بھی عدی بن مسافر کی سن وفات 555 بتایا ہے۔
(تاریخ ابن خلکان۔۔۔ البدایۃ والنہایۃ، ترجمہ: عدی بن مسافر بن اسماعیل بن موسی الہکاری)
تاریخِ اربل میں ضعیف قول (قِیلَ) سے 557 بھی لکھا ہے مگر صحیح 555 ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسی تاریخِ اربل میں اسی ابوالبرکات سے اپنے چچا عدی اکبر کی تاریخِ وفات 557 ہجری منقول ہے مگر تمریض کے صیغہ یعنی قِیلَ سے جبکہ بھتیجے کی پیدائش تاریخِ اربل کے مطابق 555ہجری میں ہوئی، اور یہ بھی منقول ہے کہ شیخ عدی بھی 555 میں وفات ہوئے تو پھر بھتیجے کی بات درست ہے کہ میں اپنے چچا کی وفات کے دس دن بعد پیدا ہوا۔ اس لئے یہ سارا قصہ اور یہ ساری سند بھی من گھڑت ہے۔(بہجۃ الاسرار، ص:23)
نیچے والی سند میں بھتیجا کہتا ہے کہ میں نے اپنے چچاسے پوچھا۔۔۔۔۔جبکہ مندرجہ بالا تاریخی حقائق کے مطابق بھتیجا چچا کے وفات کے دس دن بعد پیدا ہوا ہے۔
یہ عربی سند و متن دارلکتب العلمیہ بیروت لبنان 2002 ایڈیشن میں موجود ہے۔جس کا ترجمہ یوں ہے:
شطنوفی کہتا ہے کہ مجھے ابو عبداللہ محمد بن ابی الحسن علی بن حسین بن محمد نے قاہرہ میں 663 ہجری میں خبر دی، اس نے کہا کہ مجھے شیخ پیشواء ابوالمفاخر عدی بن شیخ ابی البرکات بن صخر نے خبر دی، اس(عدی بن صخر) نے کہا کہ میں نےاپنے چچا عدی بن مسافر سے پوچھا۔۔۔ ۔۔
اس سند میں جھوٹ ملاحظہ کیجئے:
(شطنوفی کے بعد)پہلا راوی کہتا ہے کہ مجھے عدی بن صخر نے کہا ، عدی بن صخر نے کہا کہ اس نے اپنے چچا عدی بن مسافر سے پوچھا۔۔۔۔
جبکہ عدی بن مسافر، صخر بن مسافر کا چچا نہیں بلکہ عدی اور صخر دونوں بھائی ہیں۔
5… یہی (میرا قدم ہر ولی کے گردن پر) والا قصہ:
شطنوفی کہتا ہے کہ خبر دی مجھ کو ابوالقاسم محمد بن عبادہ قاہرہ میں 674 ہجری میں، وہ کہتا ہے کہ میں نے شیخ ابولحسن علی الغزنوی سے دمشق میں 610 ہجری میں سنا، وہ کہتے تھے کہ ہمارے شیخ ابو سعید قیلوی سے کہا گیا ایسے حال میں کہ میں (علی الغزنوی) سن رہا تھا کہ کیا شیخ جیلانی رحمہ اللہ نے اللہ کے حکم سے یہ کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد وہی شرکیہ من گھڑت جملے اور داستان گوئی، اللہ کی پناہ شرک و کفر اور جھوٹ و خرافات سے۔
نوٹ: اُردو ترجمہ ازاحمد علی چشتی میں ’’ابوالحسن علی غزی‘‘ لکھا ہے جبکہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان کے 2002 ایڈیشن کے عربی متن میں ’’ابولحسن علی الغزنوی‘‘ لکھا ہے ۔
رجال کی کتب میں ابوالحسن کنیت رکھنے والے تین حضرات کے نام ملتے ہیں:
۱۔علی بن سالم بن عبدالناصر غزنوی شافعی کا نام ملتا ہے مگر:
اس کی تاریخ وفات 747 ہجری ہے۔اور یہ قدس میں درس دیا کرتے تھے۔(الدرر الکامنۃ لابن حجر عسقلانی)
اس لئے 610 ہجری میں یہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اور قدس غزہ میںرہتے تھے، اس لئے 610 ہجری میں اس سے روایت سننا جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔
۲۔ دوسرا ابو الحسن علی بن عثمان الغزنوي، جو صوفی ہے، مصنف ہے ، جس کی تصوف پر لکھی ہوئی کتاب کا نام ہے: كشف حجب المحجوب لارباب القلوب ۔ مگر اس کی تاریخ، وفات 465 ہجری ہے۔(معجم المؤلفین)
کشف الظنون میں 1488 نمبر پر اس کتاب کا نام موجود ہے۔
۳۔تیسرا ابولحسن ، علی بن ابراہیم بن نصرویہ بن سختام بن ہرثمہ غزنوی۔ مگر بقول اس کے میری تاریخِ پیدائش شعبان 365 ہجری ہے، اور وفات 441 ہجری ہے۔(سیر اعلام النبلاء)
۴۔ ابو ‌الحسن علی بن حسین غزنوی متوفی 551 ہجری ۔(تاریخِ اِربل)
اس لئے مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں آپریشن کے بعد حقیقت کچھ اور ہے:
ابو سعد قیلوی قادری کے حالات میں حاجی خلیفہ سُلَّمُ الْوُصُول اِلٰی طَبْقَاتُ الْفُحُول میں لکھتا ہے
کہ ابو سعد (بقول بعض ابو سعید) قیلوی عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے ساتھیوں میں سے تھے، اور اس کی وفات تقریباً 557 ہجری میں ہوئی۔(ترجمہ: شیخ ابو سعد قیلوی القادری)
کیا ابو الحسن علی بن ابراہیم غزنوی ، علی بن حسن غزنوی اور علی بن عثمان غزنوی 610 ہجری میں یہ جھوٹی داستان سنانے کے لئے دوبارہ زندہ ہوئے تھے؟
یا علی بن سالم غزنوی ، جو 610 ہجری میں اپبھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔
اگر کوئی کہے کہ یہ الغزی کوئی اور ہے، تو ہم پھر کہیں گے کہ تمہارے مزعومہ الغزی کی حالات ، اس کے سنِ پیدائش اور سنِ وفات تک پیش کرنا تمہارے ذمے۔اس لئے کہ مجہول راوی کی روایت قابلِ قبول اور قابلِ استدلال ہوتی نہیں۔
اپنے مزعومہ ابولحسن علی الغوزنوی یا الغزی کے حالات پیش کیجئے ہم مانیں گے، مگر قیامت کی صبح تک پیش نہیں کر سکتے۔

– ‌‌(الشَّيْخ عدي الْكرْدِي)
عدي بن مُسَافر بن إِسْمَاعِيل بن مُوسَى الزَّاهِد الشَّامي الهكاري ساح سِنِين كَثِيرَة وَصَحب الْمَشَايِخ وجاهد أنواعاً من المجاهدات وَسكن بعض جبال الْموصل لَيْسَ بِهِ آنس ثمَّ آنس الله بِهِ تِلْكَ الْمَوَاضِع وعمرها ببركاته حَتَّى صَارَت لَا يخَاف بهَا أحد بعد قطع السبل وارتدع جمَاعَة من مفسدي الأكراد وَعمر حَتَّى انْتفع بِهِ خلق وانتشر ذكره وَكَانَ لَهُ غليلة يَزْرَعهَا بالقدوم فِي الْجَبَل ويحصدها ويتقوت مِنْهَا ويزرع الْقطن ويكتسي مِنْهُ تبعه خلق وجازوا فِيهِ)
الْحَد حَتَّى جَعَلُوهُ قبلتهم الَّتِي يصلونَ إِلَيْهَا وذخيرتهم فِي الْآخِرَة
صحب الشَّيْخ عقيل المنبجي وَالشَّيْخ ‌حَمَّاد ‌الدباس وعاش الشَّيْخ عدي تسعين سنة وَتُوفِّي سنة سبع وَخمسين وخمسماية
ابْن العدية شهَاب الدّين اسْمه مُحَمَّد بن عَليّ
3 – ‌‌(
حماد بن مسلم دباس
سمع الحديث من أبي الفضل وغيره إلا أنه كان على طريقة التصوف، يدعي المعرفة والمكاشفة وعلوم الباطن، وكان عاريا من علوم الشريعة [4] ، ولم ينفق إلا على الجهال، وكان ابن عقيل ينفر الناس عنه حتى إنَّه بلغه أنه يعطي كل من يشكو إليه الحصى [5] لوزة وزبيبة ليأكلها فيبرا، فبعث إليه ابن عقيل إن عدت إلى مثل هذا ضربت عنقك، وكان يقول: ابن عقيل عدوى وكان الناس ينذرون [6] له النذور فيقبل الأموال، 115/ ب ويفرقها على أصحابه، ثم كره قبول النذر لقول رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/ «إِنَّ النذر يستخرج من البخيل» ، فصار يأكل بالمنامات، كان يجيء الرجل فيقول قد رأيت في المنام أعط حمادا كذا، فاجتمع له أصحاب ينفق عليهم ما يفتح له.
ومات في رمضان من هذه السنة
علومِ شریعت سے محروم تھا ۔علم باطن، معرفت اور مکاشفوں کا دعویدار تھا، یعنی شریعت اور طریقت کی جدائی کا قائل تھا، جو کہ کفر ہے۔۔۔ابن عقیل اس سے لوگوں کو متنفر کرتا تھا،لوگوں کو خوابوں کی تعبیر بتا کر گزر بسر کرتا تھا، 525ہجری میں وفات ہوا۔(سیراعلام النبلاء)
6…بہجۃ الاسرار ترجمہ از احمد علی چشتی میں شطنوفی لکھتا ہے :
(شیخ تاج الدین ابوالوفاء)
شطنوفی لکھتا ہے کہ خبر دی ہم کو شیخ ابو عبداللہ محمد بن ابوالعباس احمد بن منظور کنانی عسقلانی شافعی نے قاہرہ کے میدان مقسم میں 671 ہجری میں۔
اب تماشہ دیکھئے:۔۔۔۔ شطنوفی 647 ہجری کو پیدا ہوئے جبکہ تاج الدین ابولوفاء 517 ہجری میں فوت ہوئے تھے۔ تاج الدین اور شطنوفی کے درمیان کم از کم تین واسطے ہونے چاہئے، وہ کہاں ہیں؟
دوسرا تماشہ۔۔۔ شیخ ابو عبداللہ کہتا ہے کہ ہم کو خبر دی تاج الدین ابو الوفاء نے 671 میں۔۔ بھائی جان وہ تو 517 ہجری میں اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوئے تھے تو تم کو خبر کس نے دی۔
اس لئے یہ سند بالکل جھوٹ کا پلندہ اور کسی صوفی کا گھڑنت ہے۔ اور جب سند وڑ گئی تو اس میں بیان کردہ قصہ بھی وڑ گیا۔
نبی کریم نصِ قطعی سے انبیاء علیہم السلام کے سردار ہیں، خاتم النبیین ہیں، سیدالثقلین ہیں، شفیع المذنبین ہیں، ساقی کوثر ہیں، شافعِ محشر ہیںصلی اللہ علیہ و علیٰ آلی و اصحابہ و ازواجہ و ذریاتہ وسلم۔
مگر ان تمام منصوص صفات و کمالات کے باوجود کبھی یہ دعوی نہیں کیا، کہ میرا قدم تمام انبیاء کے گردن پر ہے۔ نہ صرف اُمتِ محمدی کا بلکہ وقتِ آدم علیہ السلام سے لے کر قیامِ قیامت تک، انبیاء کے بعد، سب سے بڑی ولایت سیدنا ابو بکر صدیق کی ہے، مگر اس عظیم الشان ولی نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ میرا قدم تمام اولیاء کے گردن پر ہے۔
صحابہ کرام کے بعد سب افضل اولیاء تابعین میں گزرے ہیں مگر ان میں بھی کسی نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا۔
تابعین کے بعد سب سے افضل اولیاء اتباعِ تابعین میں ہوئے ہیں مگر انہوں نے بھی کبھی ایسا دعوی نہیں کیا۔ اس لئے کہ رسول اللہ کا فرمان ہے:
’’تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ (صحابہ) ہیں۔پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے(تابعین)، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد بھی آئیں گے(تبعِ تابعین)۔‘ (بخاری:2651)
اس لئے شیخ جیلانی رحمہ اللہ پانچویں صدی ہجری میں پیدا ہوئے، اور مشہود بالخیر لوگ تیسری صدی ہجری تک تھے، پس ثابت ہوا کہ بہترین اولیاء صحابہ کرام اور ان کے بعد کی صدی میں پیدا ہونے والوں میں گزرے ہیں، اور صحابہ کرام میں سب سے افضل ابوبکر صدیق ہے، اس لئے شیخ جیلانی ابوبکر صدیق کے مقابلے میں بہت بہت بہت ہی کمتر درجے کا ولی ہے، تو جب ایسا دعوی نہ نبی کریم نے کیا، نہ ابوبکر صدیق نے اور نہ ہی کسی اور صحابی نے(رضوان اللہ علیہم اجمعین)، جو دین میں حجت بھی تھے، تو ایک ایسے ولی ایسا دعوی کیسے کر سکتا ہے جس کا قول و فعل دین میں سرے سے حجت ہی نہیں۔
اگر اس کا کوئی قول و فعل قرآن و سنت کے مطابق ہو تو اس صورت میں وہ قول نقل کے اعتبار سے شیخ جیلانی کا قول ہوگا مگر اصل کے اعتبار سے وہ اللہ اور اس کے رسول کا قول ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ یہ قول کہ (میرا قدم ہر ولی کے گردن پر ہے) تکبر اور غرور ظاہر کرتا ہے جبکہ قرآن و سنت میں غرور و تکبر کی مذمت بیان کی گئی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top