حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے کو کوڑے مارنا۔۔ حقیقت یا افسانہ۔۔ تحریر اکبر علی خان

روایت : کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کوڑے لگائے تھے؟

یہ قصہ گو بے شرم واعظین اور جاہل میلادی ملَّاوں کے لوگوں کو رُلانے والی ایک ایسی سبائی وضع کردہ روایت ہے جس سے سُنی حضرات تک محفوظ نہیں۔یہ روایت تین طرح سے مروی ہے ۔ہم ان تینوں کو اختصار کے ساتھ پیش کرکے پھر اس کی خامیوں اور کمزوریوں کو واضح کرکے قارئین پر اس کا جھوٹا ہونا ثابت کریں، اور یہ بات بھی ثابت کریں گے کہ یہ ایرانی، سبائی اور رافضی شیعوں اور صحابہ پر تبرَّا کرنے کی ذہنیت رکھنے والے کذابوں کے فنِ قصہ گوئی کے کرشمہ سازیاں ہیں۔

پہلی روایت کا اختصار: اس میں ایک عورت کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گھر آنے جانے کا ذکر ہے ،جس نے پوچھنے پر بتایاکہ میری گودمیں بچہ ابو شحمہ رضی اللہ عنہ کا ہے۔جس نے میرے ساتھ غلط حرکت کی تھی۔حضرت عمر نے اس کو بلوایا اور اقرار کے بعد پچاس کوڑے خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور پچاس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لگائے۔جس کے بعد وہ مرگیا۔

دوسری روایت کا اختصار:یہ روایت ذرا طویل اور بہت رُلانے والی ہے اس میں ان جعل سازوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدل وانصاف کی آڑ لے یہ بات ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ علمِ دین سے نابلدتھے۔ایک عورت آئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میری گود میں یہ بچہ تیرا بیٹا ہے ۔آپ رضی اللہ عنہنے فرمایا کہ میں تجھے جانتی تک نہیں تو یہ کس طرح میرا بیٹا ہوا۔پھر اس عورت نے پوری داستان سنائی۔کہ تیرا بیٹا یہودی کی بھٹی میں شراب پی کر آرہاتھا، مجھے ملا ،وہ مجھے ایک احاطے میں لے کر گئی، میں بیہوش گر پڑی اور جب ہوش آیا تو میراسب کچھ لُٹ چکاتھا۔پھر سزا دینے کا ایک فلمی اور ڈرامائی انداز ہے جسے سن کر اور پڑھ کر روناپڑتاہے۔ اس روایت کا جھوٹا ہونا کئی وجوہ سے ظاہر ہے:

٭یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودکو مدینہ سے جلا وطن کیاتھا تو ان کی شراب کی بھٹیاں کہاں سے آگئیں۔

یہ عورت شادی شدہ تھیں ،تو اس کا یہ بیان کس طرح درست ہوسکتاہے کہ تیرے بیٹے نے مجھ سے زنا کیا جس سے یہ لڑکا پیدا ہو۔جبکہ گواہان موجود نہ تھے ۔یہ تو اس عورت کا جھوٹ بھی ہوسکتاتھا کیونکہ شادی شدہ عورت بغیر گواہوں کی کس بنیاد پر کسی پر زنا کا الزام لگاسکتی ہے ۔اگر غیرشادی شدہ عورت کے ہاں بچہ پیداہوتویہی کہاجاسکتاہے کہ یہ بچہ زنا سے ہے لیکن شادی شدہ عورت کے ہاں تو بچے پیداہوتے ہیں اس لئے صرف اس عورت کایہ کہنا کہ مجھ سے فلاں نے زناکیااور یہ بچہ اس زناسے پیدا ہوا،یہ کوئی ذی شعور انسان بغیر گواہوں کے نہیں مانے گا،چہ جائیکہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہجیسا مدبر اور ‘‘بابِ علم ’’شخصیت ہو۔

اور اگر نو ماہ تک یہ عورت اتنا سنگین یہ واقعہ چھپاتی رہی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ زنا بالجبرکا نہیں بلکہ رضا ورغبت کا معاملہ تھا۔اس صورت میں دونوں گناہ گار اور دونوں مستحقِ حد تھے ۔اس صورت میں جبکہ عورت شادی شدہ تھیں اس کو سنگسار کرانا تھا، مگر روایت میں اس کی سزا کا کوئی ذکر نہیں۔

اور یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وقعہ کی چھان بین کے بغیر اہلِ مدینہ کو جمع کرنے کیلئے منادی کرادی۔کہ آو جی میں اپنے بیٹے کو حد لگواتاہوں۔یہ تمام باتیں اس قصے کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔

تیسری روایت کا اختصار:

اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے تھے،عبداللہ اور عبیداللہرضی اللہ عنہما۔اس عبیداللہ کو ابو شحمۃ کہاجاتا تھارضی اللہ عنہ ۔یہ نبی کریم ﷺ کے بہت مشابہ تھا۔اور ہر وقت تلاوت قرآن کریم میں مشغول رہتا۔یہ بیمار ہوا۔اُمہات المومنین رضی اللہ عنہن اس کی عیادت کیلئے آتے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کو کہاکہ اگر آپ نذر مانے جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہنے مانی تھی اور اللہ نے حسن وحسین رضی اللہ عنہما کو عافیت بخشی تھی۔حضرت عمر اور اس کی بیوی نے تین روزوں کی نذر مانی ۔اللہ نے اس کو شفا بخشی ،وہ یہودی کی بھٹی میں گیا ،نبیذ پی لی اور ایک عورت سے زنا کا مرتکب ہوا ۔’’

اس روایت کے خبیث راویوں نے پہلے اس ابو شحمۃ کو نبی کریم ﷺ کا مشابہ ثابت کیا اور پھر اس سے زنا کرایا۔

علامہ ابن جو زی ان تمام طرق پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے جسے قصہ گو لوگوں نے عوام اور خواتین کو رُلانے کیلئے وضع کیاہے ،پھر اس میں اضافات کئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ان باتوں کی نسبت کی جو ان کی شان کے لائق نہیں۔

٭ان روایات کی رکاکت اس کے من گھڑت ہونے کی دلیل ہے، اور احکامِ شریعت سے اس واضع یعنی گھڑنے والے کی کم فہمی اور احکامِ شرع کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔

٭اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہپر یہودی کے ہاں سے شراب پینے کی بات کی گئی ہے جو کہ غلط ہے اس لئے کہ یہود اس وقت مدینہ میں نہیں تھے۔اور اس وقت شراب حرام تھا اور حرمت کا سبب بھی حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اصرارہی تھا تو شراب اس وقت مدینہ میں کہاں سے آگیا۔

٭اس میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے سے اقرار کیلئے اس کو قسم دینے بات ہے جو کہ غلط ہے اس لے کہ جب نبی کریم ﷺ کے سامنے ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نے اقرارِ زنا کیا تو آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیرا۔اس نے دوبارہ اقرار کیا ،تو آپﷺ نے پھر اس منہ پھیرا اور جب وہ باز نہ آیا تو آپﷺ نے فرمایا: تم پاگل تو نہیں ہو۔

اور یہ بھی نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ:

﴿اِدْ رَاُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعتُمْ﴾‘‘یعنی جہاں تک ہوسکے، حدود نافذ نہ کرو۔’’

اور خود حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس شخص کو فرمایاتھا جس نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اقرار کیاتھاکہ:

‘‘اللہ نے آپ کی پردہ پوشی کی ،تم نے خود اپنی پردہ پوشی کیوں نہ کی۔’’

تو دوسروں کو یوں فرماتے ہیں اور اپنے بیٹے سے قسم دے کر اقرار کرواتے ہیں ،ایسا غیر شرعی کام کا ہونا حضرت عمر کی شان سے بعید ہے ۔

٭……٭پہلی روایت میں مجاہیل(1) ہیں،اس کے ساتھ وہ روایت منقطع بھی ہے۔اور سعید بن مسروق اعمش کے شاگردوں میں سے تھا تو اس کی عمررضی اللہ عنہ سے کہاں ملاقات ہوئی کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات 23 ؁ ہجری میں ہوئی اور سعید بن مسروق کی پیدائش اس کے بعدہے۔اس لحاظ سے یہ روایت منقطع ہے۔

٭……٭دوسری روایت کی روایت کی سند میں بھی مجاہیل ہیں ۔امام دارِ قطنی رحمہ اللہ متوفی 385؁ہجری اس دوسری روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجاہد والی روایت صحیح نہیں۔

٭……٭تیسری روایت عبدالقدوس سے مروی ہے ،اور عبدالقدوس کذاب یعنی سخت جھوٹاہے ۔ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ عبدالقدوس ثقہ راویوں کی طرف منسوب کرکے احادیث گھڑتاتھا ،اس کی حدیث لکھنا حلال نہیں۔جہاں تک صفوان کا تعلق ہے تو اس کے اور حضرت عمر کے درمیان راویوں کا ذکر نہیں۔

اس تیسری روایت سے یہ حقیقت بھی سامنے آگئی کہ اس روایت کے واضعین کس قسم کے لوگ ہیں۔انہوں نے چندالفاظ میں نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر بھی حملہ کیا۔اور چونکہ سبائی طبقہ اس قرآن کریم کو نہیں مانتا اس لئے قرآن پڑھنے والوں کا بھی مذاق اڑایا۔

مگر ان بد طنیتوں کو یہ پتہ نہیں کہ ابو شحمۃ عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی کنیت نہیں بلکہ عبدالرحمن الاوسط رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔(دیکھے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حجر ،ترجمہعبدالرحمن ابن عمر الاوسط رضی اللہ عنہما)

اور اگر ان کی بات مان لی جائے تب بھی یہ ان کی جھوٹ کی کھلی اور واضح دلیل ہے۔اس لئے کہ عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنگِ صِفَّین تک زندہ رہے، اور میدانِ صِفِّین میں ربیع الاوَّل 36؁ ہجری میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوے شہید ہو ئے ۔(دیکھے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حجر ،ترجمہ عبیداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.1 مجاہیل مجہول کی جمع ۔مجہول ایسا راوی جس کا کچھ حال احوال معلوم نہ ہو۔

پھر مورخین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو عبیداللہ بن عمر رضی

 اللہ عنہما نے ہرمزان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں قتل کردیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے منصبِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد سب سے پہلا یہی مقدمہ پیش ہوا۔(دیکھے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حجر ،ترجمہ عبیداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما)

اب خود فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ عبیداللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہماکے دورِ خلافت میں زنا کے الزام میں کوڑے کھاتے ہوئے مر گئے تھے اور مرنے کے 17,16سال بعد دوبارہ زندہ ہوکر جنگِ صِفِّین میں شامل ہوئے تھے؟

علامہ ابن حجر نے بھی اس قصہ کو‘‘ واہ ’’ یعنی بکواس کہہ کر رَد کیاہے۔(دیکھے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حجرترجمہ ابو شحمۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما)

اصل حقیقت:

قصہ دراصل یوں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے جس کانام عبدالرحمن الاوسط رضی اللہ عنہ ہے اور اسی عبدالرحمن رضی اللہ عنہکی کنیت ابو شحمۃ ہے ۔یہ مصر میں تھے ۔اس نے وہاں شراب پی لی ،اوراس پر نشہ چڑھ گیا ،یہ نادم ہوکر امیرِمصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہکے پاس گیا اور اس کو کہا کہ مجھ پر شراب کی حد جاری کیجئے ،اس نے وہاں اس کو شراب کی حد لگائی،جب یہ مدینہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہنے اس پر دوبارہ حد جاری کی اس وجہ سے کہ مصر میں حد لوگوں کے سامنے کیوں جاری نہیں کی گئی ،اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بھی ملامت کیا۔یہ قصہ مصنَّف عبدالرازق میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے ساتھ نقل ہے:

 ‘‘عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے بھائی عبدالرحمن الاوسط رضی اللہ عنہنے ابو سروعہ عقبہ بن الحارث کے ساتھ شراب پی لی ۔اور یہ دونوں حضرت عمررضی اللہ عنہ کی دورِ خلاف میں مصر میں تھے۔دونوں کو نشہ چڑھ گیا۔جب صبح ہوئی تو یہ دونوں گورنر مصر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔اور کہاکہ ہمیں پاک کر دیجئے کیونکہ ہم نے کچھ پی لی تھی جس سے ہم دونوں نشہ ہوگئے تھے ۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اپنے بھائی نے کہا کہ اس نے نشہ کیاہے ۔ میں نے کہا کہ گھر جائیے میں تجھے پاک کرتاہوں اور مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ دونوں گورنر کے پاس گئے ہیں۔مجھے عبدالرحمن نے بتایا کہ ہم نے اس بات کی خبر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دی ہے ۔عبداللہرضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں کے سامنے سر نہیں منڈواتے ۔گھر جائیے تاکہ میں آپ کا سر منڈوادوں۔اور ان دنوں حد کے ساتھ سر بھی منڈواتے تھے۔وہ گھر گیا اور میں نے اس کی سر منڈوادی،پھر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کو حد کے کوڑے لگوائے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے حضرت عمرورضی اللہ عنہ کو لکھا کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مجھے قتب پر بھیج دیجئے۔اس نے اس کو بھیجا ۔جب یہ مدینہ پہنچا تو عمررضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے لگوائے اور سزادی اس کی مقام و رتبے کی وجہ سے ۔پھر واپس ان کو مصر بھیج دیا ۔ایک ماہ تک یہ تندرست رہا پھر بیمار ہوا اور اس بیماری کی حالت میں انتقال کر گئے۔تو عام لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ یہ عمر کے کوڑوں کی وجہ سے انتقال کر گئے، مگر ایسا نہیں ۔ ’’ (مصنَف عبدالرزاق،حدیث نمبر:17047،،باب الشراب فی الرمضان و حلق الراس)

 یہ ہے حقیقت اس سارے من گھڑت داستان کی جو سبائیوں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمنی کی بنا پر کچھ کا کچھ بنادیا اور آج کے سُنی مُلَّا ‘‘جو سُنی سنائی’’ بات حقیقت سمجھ کر منبر و محراب میں لوگوں کے سامنے پیش کرتاہے تحقیق کئے بغیر،وہ ان شیعہ،روافض اور سبائیوں کی ہمنوائی کرتے ہیں۔

علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی852 ؁ ہجری نے اس کو ‘‘واہ’’ یعنی بہت زیادہ کمزور اور اہلِ عراق کی دروغ گوئی کہاہے۔(دیکھئے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حجرترجمہ ابو شحمۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما)

علامہ جلال الدین سیوطی متوفی911؁ہجری نے بھی اس کو من گھڑت اور موضوع کہاہے۔ (دیکھئے اللآلی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃ)

علامہ طاہر علی پٹنی متوفی978؁ہجرینے اس کو جھوٹے قصہ گو واضعین کی کارستانی بتایاہے۔ (دیکھئے تذکرۃ الموضوعات)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top