اولیاء کے کرامات پر کتابیں لکھنے والے اور جعلی کرامات لوگوں کو سنانے والے دونوں قسم کے پیر، صوفی اور مولوی اعلیٰ ترین قسم کے جاہل، احمق، گدھے اور بے وقوف لوگ تھے اور ہیں۔
دو مشرک پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے بارے میں انسانی فطری کمزوری رات کو احتلام ہوجانے کو کرامت کا نام دے کر بیان کر رہے تھے، ایک الیاس عطاری مشرک کا مشرک بیٹا عمیر عطاری اور دوسرا کوئی باریش حلوہ خور مشرک۔ مگر دونوں ایک ہی واقع کے بارے میں دو مختلف اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔ایک 17 بار احتلام بیان کرتا ہے، اور دوسرا 40 بار۔ آئیے ہم اسے وقت کی کسوٹی پر پرکھ کر اس مشرک دجالی فرقے کا جھوٹ طشت ازبام کرتے ہیں:
اگر دریائے دجلہ گھر سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہو تو آنے جانے میں 10 منٹ لگتے ہیں:
اس طرح 17 ×10= 170 منٹ۔ آنے جانے میں وقت لگا:2 گھنٹے اور 50 منٹ۔
۔ اب وہاں کپڑے اتارنے، شلوار سے منی صاف کرنے اور فرائض و سنن کا خیال رکھتے ہوئے غسل کرنے میں 15 منٹ بھی فرض کیا جائے تو:
17 ×15= 255
منٹ یعنی 2 گھنٹے اور 50 منٹ غسل کرنے میں لگے۔
۳۔ اسی طرح ہر بار چارپائی وغیرہ پر لیٹنے کے بعد اگر نیند آنے اور احتلام ہونے کے درمیان 10 منٹ بھی فرض کیا جائے تو :17 ×10= 170 منٹ۔ 2 گھنٹے 50 منٹ۔
۴۔ آپ کے حالاتِ زندگی میں منقول ہے کہ آپ ہر بار وضر کے بعد دو رکعت تحیۃ الوضو نفل بھی پڑھا کرتے تھے، اور آپ کی عادت مبارک تھی کہ آپ ان نوافل میں لمبی قیام اور سجدے کرتے تھے۔اور خوفِ خدا میں اس قدر روتے تھے کہ سینے سے رونے کی آواز سنائی دیتی تھی، اس لئے آپ جیسے شخصیت کا طویل قیام و رکوع اور سجدوں سے دو رکعت پڑھنے میں اگر 10 منٹ بھی فرض کیا جائے تو 17 ×10= 170 منٹ۔ 2 گھنٹے 50 منٹ۔
۵۔ بیچ میں حضرت رحمہ اللہ نے تہجد بھی پڑھنے ہیں اس لئے کہ آپ رحمہ اللہ پابندی سے 12 رکعت تہجد پڑھا کرتے تھے،اور 12 رکعت تہجد لمبی قیام و رکوع اور سجدوں کے ساتھ ، تو 60 منٹ یہاں لگے۔
اس طرح یہ کل وقت 825 منٹ بنتا ہے یعنی 13 گھنٹے اور 45 منٹ، جبکہ عشاء کی نماز پڑھ کر اگر جلد سو جانے کی عادت ہو تو 8 بجے بندہ سو جائے ۔
سردیوں میں سب سے لمبی رات بھی ہو تو فجر 6 بج کر 15 منٹ پر طلوع ہوتا ہے۔ اس لئے 8 بجے عشاء سے طلوعِ فجر تک کل وقفہ 615 منٹ یعنی 10 گھنٹے اور 15 منٹ بنتے ہیں۔
اگر 17 بار احتلام بیان کرنے والے مشرک کی بات مانی جائے تو 17 بار احتلام میں 825 منٹ لگتے ہیں۔ یعنی 13 گھنٹے اور 45 منٹ جبکہ سردیوں کی لمبی ترین 8 بجے سے طلوع فجر تک 10 گھنٹے اور 15 منٹ ہے۔
اور اگر دوسرے مشرک حلوہ خور کی بات مانی جائے اور 40 بار احتلام کا حساب کیا جائے ، تو
825/17*40=1941 منٹ بنتے ہیں یعنی 32 گھنٹے اور 21 منٹ۔
اس لئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کرامات پر لکھی گئی کتابیں جھوٹ اور غلاظت سے بھرے پڑے ہیں اس لئے عوام الناس کے لئے ان کا پڑھنا حرام ہے، اس لئے کہ ایسی کتابیں پڑھنے سےعقیدے کا بگاڑ پیدا ہونےکا قوی امکان ہے۔اس لئے سد ذرائع کے طور پر ایسی کتابیں پڑھنا حرام ہے۔اور اولیاء کے بارے میں ایسے مغلظات سنانے والے مولوی، پیر اور صوفی گدھوں سے زیادہ بے وقوف، اور ابو جہل سے بڑھ کر جاہل اور ابولہب سے بڑھ کر مشرک
اور جہنم کے کتے ہیں۔
اس لئے ایسے عالم، مفتی، پیر، صوفی اور واعظ کی محفل میں بیٹھنا اور ان سے ایسے مغلظات اور بکواسات سننا بھی حرام ہے۔
دین کی نسبت سے ایسے کے ساتھ بیٹھنے سے کوڑا دان پر بیٹھنے سے بھی برا ہے اس لئے کہ ان محفل میں بیٹھنے سے عقیدہ خراب ہوتا ہے اور کوڑا دان پر بیٹھنے سے کپڑے
ناپاک ہو جاتے ہیں۔