دلیلِ تمانع یا برہانِ تمانع
دلیلِ تمانع کامطلب یہ ہے کہ تعددِ آلہہ(ایک سے زیادہ خدائوں کا وجود)عقلاً ممتنع ہے یعنی از رُوئے عقل یہ بات قابلِ تسلیم نہیں ہوسکتی کہ دو یا زیادہ خدا ہو، کیونکہ تمام کائنات کے نظام میں جو ہم آہنگی اور اُستواری ہے اور جس طرح آسمان وزمین اور چاند وسورج قوانینِ قدرت کے تابع اور نوامیس اِلٰھیھ کے موافق ہیں۔ جن میں نہ کوئی رَخنہ ہے اور نہ کوئی فرق ،نہ کہیں تفاوت ہے اور نہ کوئی اختلاف، اور نہ کوئی تضاد ہے اورنہ کوئی تناقض ،یہ اس امر کی قطعی اور یقینی دلیل ہے کہ اس عالم کا پیدا کرنے والااور اس میں اپنی حکمت اورتدبیر سے تصرف کرنے والا ایک ہی ہے، اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو اوّل یہ نظامِ عالم وجود ہی میں نہ آتا اور اگر وجود میں آبھی جاتاتو اس میں بڑا اختلاف اور تضاد پایاجاتا،اور یہ اختلاف و تضاد اس میں ایسا عظیم فساد پیدا کر دیتا جو نظامِ عالم کو درہم برہم کردیتا۔
فرض کیجئے کہ کائنات میں زیادہ نہیں صرف دو خداہیں
اب ان دو خدائوں کا آپس میں کسی بات پر اختلاف بھی ہوسکتاہے ۔
فرض کیجئے ان میں سے ایک خدا دوسرے پر علم وقدرت میں غلبہ حاصل کرنا چاہتاہے۔ اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں:
…اوَّل یہ کہ یہ خدا دوسرے خدا پر مطلوبہ غلبہ حاصل نہ کرسکے،اس صورت میں یہ خدا عاجز ، مقہور اور بے بس ہوگیا ،خدا ہی نہ رہاکیونکہ… عاجز،…مقہور اور …بے بس خدا ہوہی نہیں سکتا ۔ باقی رہ گیا ایک خدا ۔
…دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ خدا نمبر1،خدانمبر2 پر علم و قدرت میں غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ایسی صورت میں اس خدا نمبر1کی خدائی تو تسلیم ہے اس لئے کہ وہ اس دوسرے کو شکست دینے میں کامیاب ہو ا،مگرخدانمبر2 عاجز،مقہور اور مغلوب ہوگیا اور وہ خدا نہ رہا ۔ تو باقی رہا ایک خدا۔اس دلیل کومتکلمین کی زبان میںبرہانِ تمانع کہتے ہیں۔
اس کی آسان مثال یوں سمجھئے کہ ایک خدا زید کو کسی بڑے منصب پر بٹھانا چاہتاہے جبکہ دوسرا خدا اس پر راضی نہیں۔اب دونوں صورتیں تو بیک وقت ممکن ہی نہیں،صرف ایک صورت ممکن ہے:
یا تو زید کو بڑے منصب پر بٹھانے والے خدا کا ارادہ پورا ہوگا ،یا اس کے برعکس اس کو اس منصب سے دور رکھنے والے خداکا۔
اگر زید کو بڑے منصب پر بٹھانے والے خدا کا ارادہ پورا ہوتاہے تو دوسرا خدا مقہور و مغلوب اور بے بس ہوگیا اور خدا نہ رہا۔اور اگر زید کو بڑے منصب پر بٹھانے والاخدا اپنے ارادے میں ناکام ہوتا ہے تو وہ مجبور ،مقہور اور بے بس ہوا ،اور اس صورت میں یہ خدا نہ رہا۔ بہر صورت صرف ایک خدا کا وجود بیک وقت ممکن ہے۔(تفسیر ابن کثیر ،سورت مومنون،آیت:91)
اس لمبی چوڑی بات کو قرآن نے ان مختصر اور فیصلہ کن انداز میں بیان کیاہے:
لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَةٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَاﺆ فَسُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَﭥ
(سورت انبیاء،آیت:22)
’’اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے سواء اور بھی خدا ہوتے تو زمین و آسمان میں میں فساد برپا ہو جاتا (یعنی برباد ہوجاتے)، پاک ہے عرش والا ربّ ان باتوں سے جو یہ مشرک لوگ اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔‘‘
اور یہ ارشادِ باری تعالیٰ:
وَّمَا کَانَ مَعَھ۫ مِنْ اِلٰھٍ اِذًا لَّذَھَبَ کُلُّ اِلٰھٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍﺚ
(سورت مومنون،آیت:91)
’’اور اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰھ ہوتا تو ہر ایک اپنا مخلوق لئے پھرتا اور ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔‘‘
یعنی ہر اِلٰھ اپنا مخلوق ساتھ لگاکر طاقت کے نشے میں ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا۔ جس طرح آج انسان کی جتھہ بندیاں اور گروہ بندیاں ہیں۔جن کی مثالیں بعض معاشروں میں نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
توحیدِ باری تعالیٰ کے بارے میں جلیل القدر ائمہ کے لازوال دلائل
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ متوفی 150 ء ہجری سے چند دہریوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس اللہ کے وجود کی دلیل کیاہے؟آپ نے فرمایا کہ دیکھو ایک کشتی ہے جو بغیر ملاح کے مسافروں کو دریا کے پار لے جاتی ہے، اس طرح آتی جاتی رہتی ہے۔ ان دہریوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ امام صاحب نے فرمایا کہ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا اور چلانے والا نہ ہو۔
امام احمد رحمہ اللہ متوفی 241 ہجری سے وجودِ باری تعالی کے بارے میں دلیل پوچھاگیا تو فرمایا:
’’ سنویہاں ایک مضبوط قلعہ ہے جس میں کوئی دروازہ نہیں ،نہ کوئی راستہ ہے بلکہ سوراخ تک نہیں، باہر سے چاندی کی طرح چمک رہاہے اور اندر سے سونے کی طرح دمک رہاہے،اور اُوپر نیچے ، دائیں بائیں چاروں طرف سے بالکل بند۔ہوا تک اس میں نہیں جاسکتی،اچانک اس کی دیوار گرتی ہے اور ایک جاندار آنکھوں ،کانوں والا بولتا چالتاخوبصورت شکل اور پیاری بولی والا چلتا پھرتا نکل آتاہے ۔ کہو اس بند اور محفوظ مکان میں اسے پیدا کرنے والا کوئی ہے یا نہیں ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ، سورت بقرہ، آیت:22 )
یہ انڈے کی مثال ہے،کیااس انڈے کے اندر نئے بچے کو رزق اور آکسیجن مہیا کرنے والا مخلوق میں سے کوئی ہوسکتا ہے ؟اس سوال کا جواب ’’نہیں ‘‘ کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ متوفی 206 ہجری فرماتے ہیں:
’’ توت کے پتے ایک ہی ہیں ۔ایک ہی ذائقہ کے ہیں،کیڑے اور شہد کی مکھی اور گائیں بکریاں ہرن وغیرہ سب اس کو کھاتے اور چرتے چُگتے ہیں،اسی پتے کو کھاکر کیڑے میں سے ریشم نکلتا ہے ، مکھی شہد دیتی ہے،ہرن میں مشک پیدا ہوتا ہے ،اور گائے بکریاں مینکنیاں دیتی ہیں ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ، بقر ہ :22)
اس ایک پتے کے اندر اتنے مختلف اور متنوع خصوصیات رکھنے والا کیا کوئی مخلوق ہوسکتا ہے؟اس سوال کا جوا ب ’’ نہیں ‘‘ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
٭دنیاکی کوئی بھی ہستی ایک چیز میں اتنے مختلف اور متنوع خصوصیات پیدا نہیں کرسکتا ٭
…لوگوں نے مخلوق کو خالق کا درجہ کیوں دیا؟…
…لوگ کس طرح اعتقادی اور عملی گمراہی میں مبتلاءہوئے؟ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًاﺆ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَﭵ (سورت بقرہ،آیت:38)
’’ ہم نے آدم اور حواء علیہما السلام کو کہا کہ تم سب اُتر جائو یہاں سے، پھر اگر میری طرف سے تمہاری طرف ہدایت آئے تو جس نے بھی میری اس ہدایت کی پیروی کی ،اس پر غم و خوف نہیں ہوگا۔‘‘
قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًۭا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّﺆ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًیﺃ فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقٰی (سورت طٰہٰ،آیت:122)
’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اُتر جائو ،تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو،پھر اگر میری طرف سے تمہاری طرف ہدایت آئے تو جس نے بھی میری بھیجی گئی ہدایت کی پیروی کی وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ ہی بد بخت ہوگا۔‘‘
جس حکیم و خبیر ذات نے جس چیز کو گمراہ نہ ہونے کا علاج بتایاتھا، انسان نے دنیا میں آکر وہ علاج بُھلا دیا ۔ایسی صورت میں یہ فطری بات ہے کہ:
’’جعلی حکیم اور ڈاکٹر‘‘ یعنی شیاطین غلط علاج سے انسان کو گمراہ کردے۔
یہ شیاطین انسانوں میں بھی ہیں جنہیں ہم اِنسی شیاطین کہہ سکتے ہیں، اورجنوں میں بھی ہیں جنہیں ہم جناتی شیاطین کہتے ہیں ۔
اور یہ دونوں قسم کے شیاطین اپنے اپنے منصوبوں کے مطابق انسان کی گمراہی میں بڑی مستعدی اور چالاکی دکھاتے ہیں ۔
’’دیر آئد ،درست آئد‘‘کی مصداق اب بھی اگر انسان قرآنِ مقدس کو اپنارہنما بنالے تو شیاطین(اِنسی اور جنی) کے منصوبے ناکام ہوں گے، اور انسان فلاح وکامیابی کے راستے پر گامزن ہوگا۔اورجب اللہ کی نافرمانی کی نحوست ختم ہوجائے گی تو ظاہر ہے کہ انسان کو روحانی خوش نصیبی ہی نصیب ہوگی ۔اللہ ہمیں گناہوں اور ربّ تعالیٰ کی نافرمانی کی نحوست سے بچائے، آمین۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا توبہ کتنا پیاراہے؟اس کا اندازہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے لگائیے:
’’اللہ اپنے بندے کی توبہ سے ،جبکہ وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرے ، اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا وہ آدمی جس نے کسی صحراء میں اپنی سواری کو گُم کردیاہو ۔وہ سواری اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی جبکہ اس کا کھانا پینا اس پر لداہواتھا۔وہ شخص اس کی تلاش میںمایوس ہوکر ایک درخت کے سایہ کے نیچے آکر لیٹ گیا۔اس دوران وہ سواری اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی، وہ اس کی نکیل تھام کر انتہائی خوشی میں یوں کہہ اٹھتاہے: اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَبْدِی وَاَنَارَبُّک۔ ’’اے اللہ تُو میرا بندہ اور میں تیرارب ہوں۔‘‘ گویا خوشی کے جوش میں وہ غلطی کر گیا۔‘‘
اوریہ بھی نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک ہے :
’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ کی ہی نہ ہو۔‘‘
(مشکوۃ ،باب الاستغفار والتوبۃ )
بالآخر حق مغلوب ہونے کے بعد غالب اور باطل غلبے کے بعد مغلوب ہوتاہے
حق اور باطل کے مابین کشمکش شروع سے جاری ہے۔اس کشمکش کے دو پہلو ہیں :
.1 کفر اور اسلام یعنی کفرباطل اور اسلام حق ہے۔حق اور باطل کے مابین کشمکش اس پہلو سے بھی تا قیامت جاری رہے گا۔
.2 مسلمانوں کے مابین فرقہ واریت کی شکل میںحق اور باطل کے مابین کشمکش۔
.1 حق وباطل کی کشمکش کا پہلا پہلوعالمِ کفر اور عالمِ ا سلام کا ایک دوسرے کے خلاف جاری کشمکش ہے جو آئے روز دیکھنے میں آتاہے ۔ کفر اِیڑی چوٹی کا زور لگارہاہے کہ کسی طرح اسلام اور مسلمان دنیا سے مٹ جائے ،مگر یہ آرزو اُن کیلئے حسرت ہی رہے گی، اس لئے کہ اللہ کا وعدہ اس دِین کے ساتھ ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَھ۫ لَحٰفِظُوْنَﭘ (سورت حِجر،آیت: 9)
’’اور ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ،اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘
لہٰذا بالآخر شکست کفر کی ہوگی ،اور اسلام غالب رہے گا۔
.2 حق وباطل کے مابین کشمکش کا دوسراپہلو مسلمانوں کے مابین اختلافات کی شکل میں ہے۔
قارئین!مسلمانوں کا ہر فرقہ تو حق پر ہوہی نہیں سکتا، ورنہ پھر نبی کریم ﷺ کی یہ پیش گوئی جھوٹی ٹھہرے گی اور آپﷺ کی کسی پیش گوئی کو جھوٹا کہنے کی صورت میں ایمان سلب ہونے کا یقینی خطرہ ہے ۔آپﷺ کا فرمان ہے :
لَیَاتِی عَلٰی اُمَّتِی مَا اَتَی عَلٰی بَنِی اِسْرَائِیلْ حَذْوِ النَّعْلَ بِالنَّعْلِ حَتَّی اِنْ کَانَ مِنْھُم مَنْ اَتَی اُمَّھ عَلاَنِیَةً لَکَانَ فِیْ اُمَّتِی مَنْ یَصْنَعْ ذٰلِکَ وَاِنَّ بَنِی اِسْرَائِیلْ تَفَرَّقَتْ عَلٰی ثِنْثَینَ وَسَبْعِینَ مِلَّةِ وَتَفْتَرِقْ اُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثِ وَسَبْعِینَ مِلَّة کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلاَّ مِلَّةً وَاحِدًۃ قَالُوا وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُولَ اللہِ قَالَ مَااَنَا عَلَیھِ وَاَصْحَابِی۔
’’میری اُمت پربھی وہی کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیاتھااور دونوں میں اتنی مطابقت ہوگی جتنی جوتیوں کے جوڑے میں ایک دوسرے کے ساتھ۔یہاں تک کہ اگر ان میں کسی نے اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو تو میری اُمت میں بھی ایسا ہی ہوگا،اور بنی اسرائیل 72فرقوں میں تقسیم ہو چکے تھے ، اور میری اُمت 73 فرقوں میں تقسیم ہوگی، ایک فرقہ کے سواءسب کے سب دوزخ میںجائیں گے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ وہ نجات پانے والا فرقہ کونسا ہے؟فرمایا: وہ میرے اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقے پر ہوں گے ۔‘‘(ترمذی ، ابواب الایمان ،باب ماجاء فی افتراق ھذہِ الامۃ)
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ متوفی 1176 ہجری لکھتے ہیں :
’’ میں(شاہ ولی اللہ)کہتا ہوں کہ فرقیہ ناجیہ وہ ہے جو عقیدہ اور عمل دونوں میں قرآن وسنت کے مطابق ہو،اور جس پرجمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اور تابعین رحمہم اللہ کاربند تھے، کی پیروی کرتا ہوں۔‘‘
آگے لکھتے ہیں:
’’اور غیر ناجی وہ فرقہ ہے جوسلف صالحین کے عقیدے کے خلاف کوئی عقیدہ اور ان کے عمل کے خلاف کوئی عمل اختیار کرے۔‘‘(حجۃ اللہ البالغۃ ،بحوالہ راہِ سنت،پشتوترجمہ،ص:93)
اس لئے یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ حق کبھی بھی مستقل طور پردَبتا نہیں نہ ہی مستقل طور پر دبایا جا سکتا ہے بلکہ عارضی طور پر دبنے کے بعد ایسا اُبھرتاہے کہ اس کے دبانے والے بھی حیران رہ جاتے ہیں ۔ حق دبانے کی مثال سپرنگ دبانے کی ہے ۔
… اس کی مثال یہ لیجئے کہ سپرنگSpring کو جتنا زور سے دبائوگے ، ہاتھ ہٹانے کے بعداتناہی زیادہ اُونچا اُچھلے گا ۔
…یہی حال حق کا بھی ہے، جتنی شدت سے اس کو دبانے کی کوشش کی جائے گی اتنی ہی قوت اور رعب کے ساتھ ایک نہ ایک دن اُبھر ے گا۔
اسلام کی غرابت اور حق پرستوں کی کمی اور ان کے مخالفین کی کثرت سے بھی مرعوب نہیں ہونا چاہئے ، اس لئے کہ ہمارے آپ کے پیارے نبی کریمﷺ نے فرمایاہے:
بَدَئَ الاِسْلَامُ غَرِیبًا وَسَیَعُودُ کَمَا بَدَئَ غَرِیبًافَطُوبٰی لِلْغُرَبَائِ ۔
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان ان الاسلام بَدَئَ غریبا،،،وایضا اخرجہ الترمذی وابن ماجہ ومسند احمد ابن حنبل )
’’ اسلام کا ظہور اس حال میں ہوا کہ وہ لوگوں کی نگاہ میں اجنبی تھا او ر پھر ایک وقت آئے گاکہ پہلے کی طرح اجنبی ہو جائے گاسو اس وقت غُرَبَاء کیلئے خوشخبری ہو۔‘‘