: سنت کیا ہے؟
سنت نبی کریم ﷺ کے عمل کو کہتے ہیں جبکہ بدعت اس کی ضد کو ۔یعنی جو عمل آپ ﷺ نے نہ کی ہو بلکہ آپﷺ کے بعد دوسرے لوگوں نے شرعی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بنائی ہو ۔اور یہی من گھڑت عمل کسی سنت عمل کے متروک ہوجانے کا سبب بنتاہے۔اور یہ تو قاعدہ ہے کہ{اَلاَشیَاء تُعرَفُ بِاَضدَادِھَا} چیزیں ان کی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔‘‘
اس لئے اس قول کے مصداق ہم بدعت کی تعریف پیش کرنے کے بعد بدعت کی ضد یعنی سنت کی وضاحت کریں گے کہ سنت کس چیز کانام ہے؟
علامہ شریف جرجانی حنفی رحمہ اللہ متوفی 816 ہجری سنت کی تعریف یوں کرتے ہیں :
{ اَ لسُّنَّۃ فی اللغۃ :الطریقۃ،مرضیۃ کانت او غیر مرضیۃ، والعادۃ و فی الشریعۃ : ہی الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین من غیر افتراض وجوب۔ فالسنۃ : ما واظب النبی ﷺ علیھا ،مع الترک احیاناََ ، فان کانت المواظبۃ المذکورۃ علی سبیل العبادۃ فسنن الھدی، وان کانت علی سبیل العادۃ فسنن الزوائد}
ترجمہ:’’سنت لغت میں راستے،طریقے اور عادت کو کہتے ہیں خواہ پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ ۔جبکہ شریعت میں اس طریقے کو کہتے ہیں جس کو فرض نہ سمجھ کر کیاجائے پس سنت اس عمل کو کہتے ہیں جسے نبی کریم ﷺ نے کیا بھی ہو، اور کبھی کبھار چھوڑا بھی ہو ۔پس اگر یہ مواظبت عبادات کی جنس سے ہو تو اس کو سنت عبادت کہتے ہیں اور اگر عادات میں سے ہو تو اس کو سنتِ زوائد کہتے ہیں۔ــ”(کتاب التعریفات،مطبوعہ مکتبہ حقانیہ ملتان ،ص:88)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سنت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
{السنۃ ما سنہ اللہ ورسولہ ٭لا تجعلوا حظ الرائی سنۃً لِلْاُمۃ} (الاعتصام للشاطبی )
ترجمہ:’’سنت وہ ہے جس کو اللہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ نے سنت قرار دیا ہے ۔اپنی آراء (خیالات ، نفسانی خواہشات،حیلے وغیرہ )کو اُمت کیلئے سنت نہ بنائو۔‘‘
حضرت عمررضی اللہ عنہکی اس تعریف سے بدعت کی تعریف بھی واضح ہوگئی کہ:
’’ہر وہ کام جسے نبی ا کرم ﷺ اور آپﷺ کے جان نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا، وہ اپنی نفسانی خواہش کی تسکین کے سوا کچھ نہیں اور نفسانی خواہشات کو قرآن کریم میں ’’ معبود‘ ‘ کہا گیا ہے اور غیراللہ کی عبادت کو شرک کہاگیا ہے لہٰذا بدعت بدترین گمراہی ہے۔ ‘‘
ْْْْحافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ متوفی 795 ہجری سنت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
{والسنۃ ہی الطریقۃ المسلوکۃ ،فیشمل ذلک التمسک بما کان علیہ ہو ﷺ وخلفائوہ الراشدون من الاعتقادات والاعمال ولاقوال ،وہذہ السنۃ الکاملۃ ولہذا کان السلف قدیماََ لا یطلقون اسم السنۃ الاَّ علی ما یشمل ذلک کلہ }(جامع العلوم والحکم،جلد:2،ص:بذیل حدیث :28)
ترجمہ:’’سنت اس راہ کانام ہے جس پر چلاجائے ،اور اس راہ کااختیار کرناہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفائے راشدین گامزن تھے ،قطع نظر اس کے کہ وہ اعتقادات ہو،یا اعمال و اقوال۔اور یہی سنتِّ کاملہ ہے، اور اسی وجہ سے اسلافِ کرام سنت کا اطلاق اس چیز پر کردیتے تھے جو ان سب اعتقاداوراعمال واقوال پر مشتمل ہوتا۔‘‘
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ متوفی 561 ہجری سنت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
’’مومن پر لازم ہے کہ سنت وجماعت کی پیروی کرے ۔سنت وہ چیز ہے جو رسول اللہ ﷺ نے قولاََ ،فعلاََ مسنون قرار دی ہو ،اور جماعت وہ احکام ہیں جن پر صحابہ کرام نے خلفائے اربعہ یعنی خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی خلافت میں اتفاق کیا ہو۔‘‘(غنیۃ الطالبین،اردو ترجمہ،مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور،ص:)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہماسے منقول ہے کہ:
’’جس نے سنت کی مخالفت کی اس نے کفر کیا ۔‘‘
امام ابوحنیفہ متوفی 150 ہجری کے استاد امام شعبی متوفی105 ہجری رحمہمااللہ سے منقول ہے کہ:
{ما حدثوک عن اصاب محمد ﷺ فشد علیہ یدک وما حدثوک بہ من رایہم فبل علیہ}
ترجمہ:’’یعنی لوگ جو چیز محمد ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے نقل کریں تو اُسے مضبوطی سے تھام لو ،اور جوچیز اپنی رائے سے بیان کریں تو اس پر پیشاب کرو۔‘‘(ردِ بدعت کیلئے سنت کے رہنما اُصول،مطبوعہ دارالعلوم سعیدیہ اوگی مانسہرہ،ص:33)
’’پس ان نصوص کے باجود کسی مکروہ چیز کو مکروہ کہنے کی بجائے اس کو جائز کیوں کر کہا جاسکتا ہے ۔اور سنت کا سورج جب کسی شخص کے دل میں طلوع ہوتا ہے تو اس کے دل سے بدعت کی ہر مکھی کو کاٹ پھینکتا ہے، اور ہر گمراہی کے اندھیرے کو دُور کر دیتا ہے اس لئے کہ سورج کے دبدبے کے سامنے اندھیرا بے بس ہوتا ہے۔‘‘ (ردِ بدعت کیلئے سنت کے رہنما اُصول ، :33)
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ:
{علیک بالاستقامۃ ، واتباع الاثر،و ایاک والتبدع} (الابانۃ الکبری لابن بطۃ)
ترجمہ:’’( دین پر) ثابت قدم رہو، آثار و سنت کی پیروی کرو اور بدعات پیداکرنے سے بچو۔‘‘
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ:
ترجمہ:’’جو شخص سنت طریقہ پر ہو، اور بدعت سے منع کرتا ہو اور طریقہ نبویﷺ کی ترویج و اشاعت کرتا ہو، تو ایسے شخص کو دیکھنا عبادت ہے۔‘‘ (تلبیسِ ابلیس،اردو ترجمہ،مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور،ص:10)
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
ترجمہ: ’’ علم حاصل کرو قبل اس کے کہ وہ قبض ہوجائے اور اہلِ علم کا دنیا سے اٹھ جانا ہی علم کا قبض ہونا ہے۔ علم حاصل کرو کیونکہ تم میں سے کوئی شخص کسی بھی وقت اس علم کا محتاج ہوسکتا ہے جو اس کے پاس ہو ۔علم حاصل کرو لیکن خبردار! مبالغہ اور تعمق کرنے والے بدعتی سے بچو اور پرانے طریقے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے اور سنت)کو لازم پکڑے رہو۔‘‘ (بدعت اور بدعتی،مطبوعہ دارالکتاب لاہور،ص:۔۔)
یہ بھی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
’’جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو، وہ گزرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ زندہ کے با رے میں فتنے کا اندیشہ ہے ۔وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھی تھے ۔اس اُمت میں سب سے افضل ، سب سے نیک ، سب سے گہرے علم کے مالک ،اور سب سے زیادہ بے تکلّف۔اللہ عزوجل نے انہیں اپنے نبی ﷺ کی رفاقت کیلئے منتخب کیا، لہٰذا ،ان کا فضل پہچانو،اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت سے تمسک کرو کیونکہ وہ لوگ ہدایت کے صراطِ مستقیم پر تھے۔‘‘ (الرحیق المختوم ،مطبوعہ المکتبہ السلفیہ لاہور ،ص: 262)
خذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
{کل عبادۃ لم یتعبدہا اصحاب رسول اللہ ﷺ فلا تعبدوہا فان الاول لم یدع للآخر مقالاََ فاتقوا اللہ یا معشر المسلمین وخذوا بطریق من کان قبلکم} (کتاب الاعتصام للشاطبی )
ترجمہ:’’ جو عبادت رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضوان علیہم اجمعین نے نہیں کی ،وہ عبادت تم بھی نہ کرو ،کیونکہ پہلے لوگوں نے پچھلوںکیلئے کوئی کمی نہیں چھوڑی جس کویہ پورا کریں ۔اے مسلمانوں! اللہ عزوجل سے ڈرو، اور پہلے لوگوں کے طریقے اختیار کرو۔‘‘
’’حضرت خذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دو پتھر لئے ۔پھر ایک پتھر کو دوسرے پر رکھا اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا :’’ کیا تم ان دونوں پتھروں کے درمیان روشنی دیکھتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: کہ بہت تھوڑی روشنی نظر آتی ہے۔آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، آئندہ زمانے میں بدعتیں اس طرح پھیل جائے گی یہاں تک کہ حق اس روشنی کے بقدر تھوڑا نظر آئے گا ۔اللہ عزوجل کی قسم ! بدعتیں اس طرح پھیل جائیں گی کہ اگر کوئی شخص کسی عبادت کو چھوڑے گا تو لوگ کہیںگے کہ تم نے سنت چھوڑدی۔‘‘ (بدعت اور بدعتی،ص:)
آج کل بھی اگر کوئی حق پرست اعتراض کرے کہ صرف جمعہ کی رات{ تبارک الذی }لوڈسپیکر پر اس تخصیص وکیفیت کے ساتھ پڑھنا اورلوگوں کو سنانا بدعت ،گمراہی اور گناہ ہے توبدعتی حضرات کہتے ہیں کہ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ایسے بدبختوں اور ’’حلوہ خوروں ‘‘ کیلئے حضرت خذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی اس قولِ بلیغ میں کتنی اچھی نصیحت ہے ،لیکن ان کم بختوں کے دلوں پر شیطان کا قبضہ ہے۔
ایک اہم نکتہ
یہاں ایک بات نوٹ کیجئے کہ عبادت کا طریقہ اپنی طرف سے بنانا یا کوئی عبادت یا نیکی ایجاد کرنا شریعت میں بدعت کہلاتا ہے، آسان لفظوں میں عبادت میں ملاوٹ کانام بدعت ہے ۔اب دیکھئے کہ لفظ عبادت میں پانچ حروف ہیں یعنی: ع، ب، الف، د، ت ۔
اسی طرح لفظ بدعت میں چار حروف ہیں یعنی: ب،د،ع،ت۔
اب دیکھئے عبادت کا اصل روح اور جوہر اطاعت واتباع ہے۔
مختصراََ عبادت نام ہے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے نبی ﷺ کے احکام واَوامر بجالانے اوراللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی طرف سے منع شدہ کاموں سے منع ہونے کا ۔
لفظ عبادت میں :
٭الف: سے اللہ: یعنی اللہعزوجل کا بندہ اور غلام بن کر اللہ عزوجل کی رضا اور خوشنودی کو اپنا مقصدِ حیات بنانا عبادت ہے،اور عبادت اللہ کی رضاجوئی کیلئے کروں گا۔
٭الف :سے اطاعت: یعنی اللہعزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ کے احکام وفرائض کی اطاعت کروں گا،کسی اور کی نہیں۔
٭الف :سے اتباع : یعنی قرآن وسنت کی اتباع کو اپنے لئے ہرحال اور ہر قسم کی عبادات میں معیار بنائوں گا۔
٭الف: سے اقتدا ء : بمعنی پیروی یعنی اپنے دین و مذہب کی کامل پیروی کروں گا۔اور خواہشات کی پیروی سے پرہیز کروں گا، اس لئے کہ خواہشات کی پیروی کو قرآنِ کریم میں شرک سے تعبیر کرکے اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
٭الف :سے اَبیٰ : بمعنی انکار یعنی ہر قسم کے بدعات،منکرات ،خرافات اور خلافِ شرع عبادات سے منہ موڑوں گا۔ غیراللہ کی عبادت سے انکار کروں گا،دین کے معاملات میں حق بات کے مقابلے میں غلط طریقوں سے انکار کروں گا ، اختلافا ت اور فرقہ بندی سے پورا پرہیز کروں گا کیونکہ قرآن وسنت کی موجودگی میں اختلاف پیدا کرنا مسلمان کا طریقہ نہیں، اس لئے کہ اختلافات دُور کرنے کا عظیم نسخہ یعنی قرآن عظیم الشان ہمارے درمیان موجود ہے۔
عبادت میں جب شریعت کا حکم پامال کیا جاتا ہے تو اس لفظ سے حرف ’’الف‘‘ ختم ہوجاتا ہے اور بغیر ’’الف‘‘ کے انہی حروف کے اُلٹ پھیر سے لفظ عبادت، بدعت بن جاتا ہے ۔ یعنی جب عبادت میں اللہ عزوجل اور اللہ عزوجلکے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں رہتی ۔تو وہی عبادت، عبادت نہیں رہتی بلکہ بدعت بن جاتی ہے جسے نبی کریم ﷺ نے گمراہی کہاہے اور گمراہی کا ٹھکانہ جہنم بتایا ہے۔ بے شمار احادیث اس پر دلیل ہیں۔
یہ ہے لفظ عبادت میں ایک حرف یعنی ’’الف‘‘کی اہمیت و مضمرات۔
اب یہی ایک حرف ہٹادیجئے تو پورا لفظ بگڑجاتا ہے ، اور کوششِ بسیار کے باوجود اس سے کوئی دوسرا بامعنی لفظ جو قواعد کی رُو سے اسم (Noun) ہو ،نہیں بنتا۔ اس سے جو لفظ بنتا ہے وہ عبادت کی شکل میں مسلمان کیلئے زہرِ قاتل یعنی بدعت ہے۔
ابن قدامہ نے امام ابو حنیفہ متوفی 150 ہجری رحمۃ اللہ علیہما سے نقل کیا ہے کہ :
’’سلف کے طریقے اور نقش پا کو لازم پکڑو اور ہر نئے گھڑے ہوئے کام اور بدعت سے بچو۔‘‘ (بدعت اور بدعتی ،ص:116)
امام مالک رحمہ اللہمتوفی 179 ہجری فرماتے ہیں:
{ان السنۃ مثل سفینۃ النوح من رکبھا نجی و من تخلف عنھا غرق} (رحیمیہ 196/2)
ترجمہ:’’ سنت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی جیسی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ بچ گیا ،اور جو اس سے باہر رہا وہ غرق ہوا۔‘‘
یعنی نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار تقریباََ وہ اسیّ افرادڈوبنے سے بچ چکے تھے اور ان کے علاوہ نوح علیہ السلام کے بیٹے کنعان بھی سیلاب میں غرق ہوگیا تھا کیونکہ اس نے کشتی میں سوار ہونے سے انکار کیا ۔
وجہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی کشتی اللہ کی حکم کی نشانی تھی ۔اسی طرح جو لوگ سنتِ رسول ﷺ کی کشتی میں سوار ہوں گے وہ نجات پائیں گے اور جو اس میں سوار ہونے سے انکار کریں گے وہ ہلاک ہوجائیں گے ۔ رنگ ونسل اور حسب ونسب اور بدعت کی شکل میں کئے گئے نیک اعمال ڈوبنے الوںکو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ متوفی 241 ہجری کا ارشاد ہے:
’’کہ سنت کا اصول ہمارے نزدیک یہ ہے کہ رسول اﷲﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہمجس طریقہ پر تھے اس کو اپنا یا جائے اور ان ہی کی پیروی کی جائے،بدعات سے دور رہا جائے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘ (بدعت اور امت پر اس کے برے اثرات ، ص:24)
حافظ ابن کثیررحمہ اللہ متوفی 774 ہجری بدعت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
ترجمہ:’’اہلِ سنت والجماعت کا موقف ہے کہ:
’’ہروہ قول وعمل جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو ،وہ بدعت ہے کیونکہ اگر ان میں کوئی خیر ہوتا توصحابہ رضی اللہ عنہم ان کو ضرور کرتے۔انہوں نے ایسا کوئی نیک کام نہیں چھوڑا ۔‘‘(تفسیر ابن کثیر، سورت الاحقاف :11 )
چونکہ عبادت کا مقصد اللہ عزوجل کی رضاجوئی ہوتی ہے اور اللہ عزوجل کی رضا معلوم کرنا ایک غیبی امر ہے، اور غیبی اُمور کے بارے میں معلومات صرف وحی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے، اور وحی کا سلسلہ بند ہوچکا ہے اس لئے عبادات کے وہ طریقے قابلِ قبول ہو ں گے جو نبی کریمﷺ اپنے حیاتِ مبارکہ میں ہمیں سکھاچکے ہیں۔اب علماء اور عام مسلمانوں کا ایک ہی فرض رہ چکا ہے اور وہ ہے عمل۔
امام غزالی رحمہ اللہ متوفی 505 ہجری بدعت کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’بعض علماء کاکہنا ہے کہ سلف صالحین(صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عطام رحمہم اللہ) نے جس معاملہ میں کوئی ارشاد فرمایا ہو تو اس سے خاموشی اختیارکرنا (صرفِ نظر کرنا )نافرمانی ہے، اور جس معاملے سے سلف صالحین نے خاموشی اختیار کی ہو تواس کے بارے میں گفتگوکرنا تکلف ہے۔‘‘ (احیاء العلوم ،کتاب العلم ،باب السادس فی علامات علماء الآخرۃ و علماء السوئ)
امام غزالی رحمہ اللہ ان احادیث کا حوالہ دیتے ہیں:
{من احدث فی امرناھذا مالیس منہ فھو رد}
ترجمہ:۔جس شخص نے ہمارے امر دین میں کوئی ایسی چیز ایجا دکی جو دین میں نہ تھی وہ چیز رد کردی جائیگی۔‘‘
اور یہ قولِ رسولﷺ:
{من غش امتی فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین قالوا یا رسول اللہ وما الغش قال ان یبتدع لہم بدعۃ فیعمل بھا } (احیا العلوم،، )
ترجمہ:’’جس نے میری دین میں ملاوٹ کی، اس پر اللہ عزوجل اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو ،صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اور ملاوٹ کیسی ؟ یہ کہ کوئی بدعت ایجاد کرکے اس پر عمل کیا جائے۔‘‘
ابن امیر الحاج نے المدخل میں لکھا ہے کہ:
’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہ ہو تو بلا خلاف ایسا عمل بدعت ہے اور بدعت دین میں ممنوع ہے۔‘‘
آگے لکھتے ہیںکہ:
’’ثواب دراصل قرآن وسنت کے احکام ماننے اور اسلاف کی تابعداری پر مرتب ہوتا ہے وہ(یعنی اسلاف)اپنے اعمال میں سنت کی پیروی کرنے کے باوجود ڈرتے رہتے تھے۔‘‘ (المدخل لابن امیر الحاج،فصل فی ذکر صلاۃ الرغائب)
مشہور عالم اور عارف باللہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہبدعت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
’’سنت و بدعت دونوں پورے طور پر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ایک کا وجود دوسرے کے نقص و نفی کو مستلزم ہے۔پس ایک کا زندہ کرنا دوسرے کے مارنے کو مستلزم ہے ۔ یعنی سنت کا زندہ کرنا بدعت کے مارنے کا مو جب ہے، اور بالعکس(بدعت کا زندہ کرنا سنت کو مارنے کو مستلزم ہے)۔پس بدعت خواہ اس کو حسنہ کہیں یا سئیہ ،رفع سنت کو مستلزم ہے ۔ شاید حسن نسبی یعنی اضافی کا کیا اعتبار ہوگا کیونکہ حسن ِمطلق وہاں گنجائش نہیں رکھتا کیونکہ تمام سنتیں حق تعالیٰ کے نزدیک مقبول و پسندیدہ ہیں اور ان کے اضداد یعنی بدعتیں شیطان کی پسندیدہ ہیں۔آج یہ بات بدعت کے پھیل جانے کے باعث اکثر لوگوں کو ناگوار معلوم ہوتی ہے لیکن ان کومعلوم ہو جائے گا کہ ہم ہدایت پر ہیں یا یہ لوگ۔‘‘(مکتوبات امام ربانی ، ج1: ،ص:558)
آگے علمائے وقت کوسنت اپنانے اور بدعات کو حسنہ نہ کہنے کی پُر سوز نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’حقِ تعالیٰ علمائے وقت کو توفیق دے کہ کسی بدعت کو حسن کہنے کی جراء ت نہ کریں،اور کسی بدعت پر عمل کرنے کا فتوی نہ دیں خواہ وہ بدعت ان کی نظروں میں صبح کی سفیدی کی طرح روشن ہو کیونکہ سنت کے ماسوامیں شیطان کے مکر کو بڑا دخل ہے۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی ،ج2:،ص:80)
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ المعروف بہ پیرانِ پیر متوفی561 ہجری سنت اوربدعت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’پس مسلمان کے لئے توحید وسنت کی پیروی لازم ہے ۔اور اسی طرح شرک وبدعت سے پرہیز لازم ہے ۔بدعت یہی ہے کہ:’’ اپنے پاس سے بے سند چیزیں ایجاد کرکے دین و شریعت سے منسوب کردی جائیں ،اور ان کی پیروی کو اسلام کی پیروی سمجھاجائے ۔جیساکہ اللہ عزوجل نے ایک قوم کے متعلق فرمایا:{ن لوگوں نے رہبانیت کا ایک طریقِ عمل ایجاد کرکے اسے اپنے لئے لازم سمجھا حالانکہ وہ رہبانیت،گوشہ گیری اور دنیا کی جائز و حلال نعمتوں کا ترک کردینا ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کاحکم دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پھر وہ لوگ اپنے اس خلافِ فطرت طریقِ عمل کی پیروی بھی نہ کر سکے }(سورت الحدید ،آیت: 27)اس لئے:
’’ ہر عقیدہ یا عمل جس کی آسمانی کتابوں اور شریعت میں کوئی سند نہ ہو ،بدعت ہے ،اختراعِ نفس ہے ، اور اس کی پیروی عین گمراہی ہے ،راہِ راست سے منحرف ہونا ہے ۔
بدعت کی ضد سنت ہے اور سنت آنحضرت ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا وہ دستورالعمل ہے جسے اللہ عزوجل نے ’’اسوۃ حسنہ ‘‘ سے موسوم کرتے ہوئے فرمایاہے کہ:
’’ جو شخص اللہ عزوجل کی رضا چاہے۔اور روزِ حشر نجات کا آرزومند ہو،اس کیلئے رسول اللہ ﷺ کا طریقِ عمل ایک اُسوہ حسنہ یعنی ایک مثالی سیرت ہے۔‘‘(سورۃ کہف:100)اور ایک دوسری جگہ فرمایا:’’ہمارے نبی ﷺ اپنی خواہش ِ نفس سے کچھ نہیں فرماتے ،بلکہ ان کا کلام تو وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی گئی۔‘‘(سورت نجم،آیت: 3) یعنی آپﷺ کی لائی ہوئی شریعت سراسر من جانب اللہ عزوجل ہے،اختراعِ نفس نہیں ہے ۔ایک اور جگہ فرمایا:{قُل اِن کُنتُم تُحِبُونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُونِی یُحبِبکُمُ اللّٰہ }( سورت آلِ عمران:31)
ترجمہ:’’اے پیغمبرﷺ !انہیں سنا دیجئے کہ اے ایمان والوں ! اگرتم اللہ عزوجل کو دوست رکھتے ہو ،تو میری پیروی اختیار کرو ۔میرے اتباع سے اللہ عزوجل کے محبوب ہوجائوگے۔‘‘
پس اللہ عزوجل نے متعدد آیات میں واضح طور پر فرمادیا کہ اللہ عزوجل کی محبت و حمایت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ رسول اللہﷺ کے قول وفعل کا مکمل اتباع ہے ،اور اس کے خلاف بدعت و گمراہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :’’جو شخص کوئی بھی ایسا کام کرے گا ،جس کے جائز ودرست ہونے کے متعلق ہمارا قول بطورِ سند موجود نہیں ،تو اس کا وہ فعل سراسر باطل و مردود قرار پائے گا ۔‘‘ یاد رہے کہ آنحضرت ﷺ کے علاوہ قیامت تک ہمارے لئے کوئی اور نبی نہیں ہے ،جس کا ہم اتباع کریں ،اور قرآن کے علاوہ ہمارے لئے کوئی اور آسمانی و الہامی کتاب نہیں ہے جس کے احکام پر ہم عمل پیرا ہو۔
بنابریں میں تمام مسلمانوں کو تاکید کرتا ہوںکہ وہ اپنے عقائد واعمال کی صحت وقبولیت کیلئے صرف کتاب اللہ عزوجل اور سنت رسول اللہ ﷺکا اتباع کریں ورنہ وہ تباہ وبرباد ہوجائیں گے ۔قرآن وسنت سے انحراف شیطان کی گرفت میں آنا ہے اور اس کیلئے امتِ مسلمہ کو گمراہ کرنے کیلئے سہولیات پیدا کرنا ہے ۔پس عقیدہ وعمل کی ہر آفت سے سلامتی قرآن و سنت سے وابستہ ہے ۔ ‘‘(فتوح الغیب ،اردو ترجمہ ،ص:69,68)
حضرت شیخ رحمہ اللہ اسی کتاب میں ایک اور جگہ سنت کی تائید اور بدعت کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’مسلمانوں ! سنت کی پیروی اختیارکرواور بدعات سے دور رہو،اللہ عزوجل اور اس کے رسولِ برحق کے فرمانبردار ہوجائو اور اللہ عزوجل اور رسول اکرم ﷺکی حکم عدولی(نافرمانی) مت کرو۔‘‘ (فتوح الغیب ،مقالہ نمبر2،ص:9)
حضرت شیخ رحمہ اللہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ :
’’ساری خوبیوں کی جڑ نبی کریم ﷺ کا اتباع ہے ،آپﷺ کے قول میں بھی اور آپﷺ کے فعل میں بھی ۔ ‘‘(الفتح الربانی،مجلس:59،ص:438بحوالہ حقیقت الدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ لمفتی رحمت اللہ امین ، ص :25)
حضرت شیخ رحمہ اللہایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ:
’’تیری متابعت جناب رسول کریم ﷺکیلئے صحیح نہیں جب تک تو اس شریعت پرعمل نہ کرے جس کا آپﷺ نے تجھے حکم دیا ہے۔‘‘ (الفتح الربانی،مجلس:3،ص:22بحوالہ حقیقت الدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ لمفتی رحمت اللہ امین ،ص:25 )
حضرت شیخ رحمہ اللہایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ:
’’جوچیزشریعت کے دائرے سے خارج ہے،باہر ہے اس کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ (الفتح الربانی،مجلس:11،ص:7 ،،بحوالہ حقیقت الدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ لمفتی رحمت اللہ امین ،ص:26)
مولانا رفعت قاسمی صاحب فقہ حنفی کی معتبر کتاب در مختار مع حاشیہ شامی جلد اول صفحہ160 میں بدعت کی جو تعریف کی گئی ہے اسکا خلاصہ دیتے ہوئے لکھتا ہے :
’’دین میں کوئی ایسا نظریہ ،طریقہ اور عمل ایجاد کرنا بدعت ہے جوطریقہ نبوی ۔علی صاحباہ الصلوۃ والسلام۔کے خلاف ہو کہ آپﷺ سے نہ قولاَ ثابت ہو ،نہ فعلاََ ،نہ صراحتاََ،دلالتہََ اور نہ اشارۃََ۔اور جسے اختیا ر کرنے والا مخالفت نبوی۔علی صاحباہ الصلوۃ والسلام۔کی عرض سے بطور حسد و عناد اختیار نہ کرے ،بلکہ بزعمِ خود(اپنے خیال میں) ایک اچھی بات اور ثواب کا کام سمجھ کر اختیا کرے۔‘‘ ( مسائل شرک و بدعت ،مطبوعہ مکتبہ خلیل لاہور، ص:155)
ایک اور جگہ مولانا محمد رفعت قاسمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جوکام آنخضرت ﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے نہیں کیا بلکہ دین کے نام پر بعد میں ایجاد ہوا۔اسے عبادت سمجھ کر کرنا بدعت کہلاتاہے۔‘‘ (مسائل شرک و بدعت ص: 161 )
فقہ حنفی کی مشہور کتاب فتاوی عالمگیری میں ہیں کہ:
ـ’’جس چیز کے متعلق تردد ہو کہ سنت ہے یا بدعت؟تو اسے چھوڑ دیا جائے۔‘‘ ( مسائل شرک و بدعت ، ص:167،،،،فتاوی عالمگیری)
شریعت محمدی ۔علی صاحبہا الصلوۃ والسلام۔اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری نبیﷺ پر ایک کامل دین کی صورت میں اپنے بندوں کی رشد و ہدایت پر چلنے اور گمراہی و ضلالت سے بچنے کے لئے نازل فرمایا ہے۔
جیسا کہ اللہ عزوجل نے اپنی عظیم الشان کتاب قرآن مجید میں فرمایا:
{ اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دِینُکُم وَ اَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دِینَا}
ترجمہ:’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کیا، اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔‘‘ (سورت المائدہ ،آیت: 3)
سابق مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبسورت بقرہ کی آیت: 198 {وَاذکُرُوہُ کَمَا ہَدَاکُم}کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
’’ اس سے یہ اُصولی مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ اللہ عزوجل کے ذکر وعبادات کے طریقے انسان اپنی طرف سے نہیں بنا سکتا، نہ ان میں کمی بیشی کرسکتا ہے بلکہ صرف شرعی طریقوں سے کرنے کی وجہ سے ان کو ذکر وعبادت کہاجائے گاکیونکہ اس کے خلاف اللہ عزوجل کو پسند نہیں ۔آیت کا یہ حصہ اس غلطی کو بھی واضح کرتا ہے کہ نفلی عبادات اور نیکی کے کاموں میں اپنی طرف سے زیادتی کرنا یا ا ن کیلئے تخصیص کرنا جو اللہ عزوجل اور اس کا رسول ﷺ ضروری نہیں گردانتا ،جہالت کی عبادت سمجھی جاتی ہے جن کیلئے انہوں نے اپنی طرف سے طریقے وضع کئے تھے یا اپنی طرف سے وضع کئے گئے عبادتوں کو کرتے تھے۔‘‘ (معارف القرآن،پارہ دوم، بقرہ ،آیت:198،پشتو ترجمہ)
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی اس وضاحت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوئی کہ بدعت کامادہ ہی سئیہ ہے اس میںحسنہ، سئیہ کی تقسیم کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کا کام ہی لوگوں کو دھوکہ دے کر رزق کماناہوتا ہے ورنہ شریعت میں ایسی کوئی تقسیم نہیں بلکہ شریعت میں بدعت صرف سئیہ ہی ہے۔ اور بدعت کو حسنہ کہنے والے فقط و ہ لوگ ہیں جو علمِ دین صرف اور صرف ’’تراور روغنی نوالوں ‘‘کیلئے حاصل کرتے ہیں، اور اللہ عزوجل کاڈر، ان کے دلوں میں نہیںہوتا۔
بدعت کا منبع اور سر چشمہ خواہشات ہیں جن کو قرآن کریم میں {اِلٰہ} یعنی معبود سے تعبیر کیا گیا ہے جس طرح{اِلٰہ}کی عبادت کی جاتی ہے اس کے آگے سرِ تسلیم خم کیا جاتا ہے اسی طرح خواہش پرست اپنی خواہشات کے آگے سرِ تسلیم خم کرکے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور اس کے زرّین اور حکمت سے بھر پور احکام کوپسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ خواہشات کیلئے قرآن میں لفظ’’ھواء ‘‘ آیا ہے ۔ آئیے دیکھیں کہ ھواء کیا ہے؟
ھواء کیا ہے؟
انسان کا اپنی نفس کی تابعداری کرنا ،خواہ ایساکرنے سے قرآن وسنت کے احکام کو نقصان کیوں نہ پہنچے ، ھواء کہلاتاہے۔
ارشاد ربانی ہے:{ افََرَاَء یتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ‘ ھَوَاہ‘ } (سورت فرقان:43)ترجمہ:’’ کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے خواہشاتِ نفس کو معبود بنا رکھا ہے۔‘‘
اسی آیت ہی کے حوالے سے محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ متوفی 561 ہجری کا قول ہے کہ :
’’صرف بتوں کی عبادت شرک نہیں بلکہ تیرا اپنی خواہشات کی اندھا دھند پیروی کرنابھی شرک ہے۔‘‘ (فتوح الغیب،مقالہ نمبر:7،ص:16)
اس آیت کی تفسیر میں ابن جوزی متوفی 597 ہجری ابن قتیبہ رحمہما اللہ متوفی276 ہجری سے نقل کرتے ہیں کہ :
’’جو حق چھوڑ کر خواہشِ نفس کے پیچھے پڑ گیا، تو وہ اس کیلئے معبود ہے۔‘‘ (زاد المسیر،سورت فرقان:43)
علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ متوفی 1270 ہجری اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’اس آیت کی ذیل میں وہ تمام لوگ آتے ہیں جوغیر اللہ کی عبادت (قرآن و سنت کے احکامات کوپسِ پشت ڈال کر) اپنی نفسانی خواہش کے مطابق کرتے ہیں۔‘‘ (تفسیر روح المعانی)