جعلی مزارات کس طرح بنتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔٭پیر گدھا شاہ سرکار:
قارئین! پیٹ کے پجاری شیطان کی شاگردی میں ایسے ایسے کام کرجاتے ہیں کہ شیطان بھی حیران رہ جاتاہے کہ ہائے رے! میرے شاگرد بھی اب مجھے مات دے گئے، یہ دیکھ دیکھ کر وہ خوش ہوتاہے کہ چلو اب میری لشکر میں دن دگنی رات چگنی اضافہ ہوتارہے گا اور بنی آدم جہنم کی اَتاہ گہرائیوں میں گرتا رہے گا۔اس طرح کے چند عبرت آموز قصے نذرِ قارئین ہیں:
ایک عبرت انگیز واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
‘‘صراط مستقیم بر منگھم برطانیہ مجریہ جنوری 1999 میں بحوالہ}حرمین جہلم{قطر سے جناب عبدالخالق خان ولد عبدالرحمٰن کا ایک مراسلہ شائع کیا گیا ہے جس میں موصوف نے سندھ کے ایک مزار کی داستان تحریر کی ہے۔ فرماتے ہیں:
‘‘میں قطر آنے سے پہلے سعودی عرب کے شہر جدہ میں تھا ،وہاں پر میرے ساتھ ایک سروئیر (Surveyor) صادق صاحب جوراولا کوٹ چیروٹی پاچھوٹ کے رہنے والے تھے،میرے ساتھ کمرے میں رہائش پذیر تھے وہ راوی ہیں کہ میں سند ھ کی کسی کمپنی میں تھا وہاں پر ایک درگاہ تھی، جہاں عرس میلے وغیرہ ہوتے تھے،ایک مرتبہ وہاں عرس ہوا تو اچانک وہاں پر شوروغل ہونے لگا۔ہم لوگ بھی چلے گئے قبر کے بوڑھے مجاور دونوں بھائی تھے،انہوں نے اعلان کیا کہ اے لوگو! یہ درگاہ کسی پیر کی نہیں بلکہ ہمارے گدھے کی قبر ہے۔انہوں نے جب یہ کہا تو لوگوں میں ہلچل مچ گئی کہ پیر صاحب کی گستاخی کی گئی ہے۔کچھ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیاکہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا ہم دو بھائی تھے۔ہمارے پاس ایک گدھا تھا جس پر ہم محنت مزدوری کیا کرتے تھے،گدھا مر گیا تو ہم نے سوچا اس نے ہماری بڑی خدمت کی ہے،اس کو یہاں ایک درخت کے نیچے راستے کے ایک طرف گڑھا کھود کر دفنا دیا اور اس کے اُوپر لکڑی کھڑی کر کے اُوپر ایک کپڑا باندھ دیا تھا ،تاکہ گزرنے والے لوگ گدھے کی قبر پر پاؤں نہ رکھ سکیں۔کچھ ہی دنوں بعد دیکھا توایک اور کپڑا باندھا ہو اتھا۔پھر کپڑوں میں اضافہ ہوتا گیا،ہم بھائیوں نے موقع کو غنیمت سمجھا،ہمارے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔ہم آکر یہاں بیٹھ گئے اور پھر ہمیں نذرانے ملنے لگے اور ہم نے اس کے اوپر ایک عمارت تعمیر کی اور اس کا نام رکھ دیا۔اب ہمارے بیٹے پڑھ لکھ کر اچھے کام پر لگ چکے ہیں ہمارے کاروبار نوکر چاکر گدھے کی ہڈیوں کے صدقے سے بہت ہیں اب ہم دونوں بھائیوں نے مشورہ کیا ہے کہ ہم بوڑھے ہوچکے ہیں اور ا ﷲ کے سامنے کیا منہ دکھائیں گے ،ہم سچ بتا رہے ہیں تاکہ اﷲ ہمیں معاف کردے اور ہم آپ لوگوں سے بھی معافی مانگتے ہیں جو چاہیں سزا دیں،کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ غلط ہے،کچھ لوگ کہتے تھے کہ اتنے بڑے بزرگوں کی کی گستاخی ہوگی،انہوں نے بے ادبی کی ہے اور یہ پاگل ہو گئے ہیں ۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملنگ ہمیشہ یہاں ہر رہتے ہیں شاید یہ سچ ہی ہو۔الغرض قبر کو اکھاڑ نے کی ہمّت کسی کو بھی نہ ہوئی،بالآخر بوڑھے مجاوروں نے خودہی قبر کو اکھاڑا تو اندر سے} گدھا جی{کی ہڈیاں اور سر برآمد ہوا ،اور پھر لوگوں کو معلوم ہو ا کہ ہم تو }پیر کھوتے شاہ{ سے مرادیں مانگتے رہے۔
مسلمانوں! قبر میں کسی گدھے یا جانور کی تدفین کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ہے،برصغیر ہندو پاک میں پتہ نہیں ایسے کتنے گدھے شاہ،کتے شاہ،بندرشاہ،گھوڑے شاہ اپنے عالی شان مزارات میں محو ‘‘استراحت’’ ہیں(آرام فرمارہے ہیں) اور ان کے دربار سے لاکھوں لوگوں کی مرادیں ان کے عقیدہ کے مطابق پوری ہورہی ہیں۔ ایسے درباروں سے وابستگی کے ذمّہ دار بھی یہ سیانے ملّا ہیں ، ان درباروں میں روزانہ لوگوں کی جیبوں کیساتھ ان کے ایمان پر دن کے اجالے میں ڈاکے ڈالے جاتے ہیں۔اور سادہ لوح اسلام کے دعویدار
ٹک ٹک دیدم۔۔۔۔ دم نہ کشیدن
کی زندہ تصویر بنے رہتے ہیں۔’’(کلمہ اخلاص،مصنف شہاب الدین ،ص:19تا24 )
مدیر مجلۃ الدعوۃ جناب محترم امیر حمزہ صاحب سلطان باہو رحمہ اللہ کے مزار کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
‘‘میں ایک کمرے میں ۔۔۔۔اجازت پاکرجو میں اندر گیا تووہاں قبریں ہی قبریں تھیں،جنہیں میں نے گنا تو وہ تقریباً 19 تھیں۔ان قبروں میں بعض پر لکڑی کے بُت رکھے ہوئے تھے ،یہ بت خواتین کے تھے ،ایک بت کی ہیئت یوں تھی کہ عورت نے بچہ اُٹھایا ہوا ہے۔’’
‘‘اگر مزید تسلی مطلوب ہو تو لاہور میں گھوڑے شاہ کے دربار کا مشاہدہ کرلیں،جہاں پر گھوڑوں کے بُت کثیر تعداد میں رکھے ہوئے ہیں،اور خواتین بالخصوص ان گھوڑوں کی پوجا کرتی دکھائی دیں گی۔
مسلمان اور شجر پرستی
شیخ احمد رومی حنفی رحمہ اللہ متوفی1000 ہجری اپنی کتاب مجالس الابرار میں لکھتے ہیں :
﴿قال ابوبکر طرطوشی :انظروا۔۔۔۔رَحِمَکُمَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔۔۔۔اینما وجدتم شجرۃ یقصدھاالناس ویعظمونہاویرجون البرء والشفاء من قِبَلِہَا و یضربون بھا المسامیر وَالْخِرَقْ فہی ذات انواط فاقطعوہا﴾
‘‘امام ابوبکر طرطوشی رحمہ اللہ متوفی 520 ہجری نے فرمایا: ‘‘ دیکھو!اللہ تم پر رحم کرے،جہاں کہیں بھی تم ایسا درخت پاؤ جولوگوں (کی حاجات)کا مقصود ہو ، اور وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں ،اور اس سے تندرستی اورشفاء کی اُمید رکھتے ہیں،ان میں کیل ٹھونکتے ہیں،اور ان پر کپڑے لٹکاتے ہیں، تو وہ (درخت ) ذاتِ انواط ہے ،پس اسے کاٹ دو ۔’’ (مجالس الابرار،مطبوعہ ریاض،ص:20)
صحابہ کرام نے شجر پرستی کی وجہ سے اس درخت کو کاٹا
یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عمرفاروق کو پتہ چلا کہ لوگ مقامِ حدیبیہ پر اس درخت کے پاس نماز پڑھنے کے ارادے اور قصد سے جاتے ہیں جس کے نیچے نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے بیعت لیا تھا ،تو عمرفاروق نے شریعت کے اُصول سدِّ ذرائع پر عمل کرکے اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا ۔ فاعتبروا یا اُولی الابصار۔
بلکہ بیری درخت کے بارے میں ہم قارئین کو مزید کچھ بتاناچاہتے ہیں:
مدیر مجلۃ الدعوۃ جناب محترم امیر حمزہ صاحب سلطان باہو رحمہ اللہ کے دربار کے متعلق مزید رقمطراز ہیں:
‘‘اسی طرح دربار کے پیچھے ایک بیری کا درخت ہے،اس درخت کے نیچے مرد اور عورتیں جھولیاں اور دا من پھیلا کر بیٹھے ہوئے ہیں ،جس کی جھولی میں پتا گرجائے وہ سمجھتا ہے مجھے بیٹی مل گئی،جس کے دامن میں پھل(بیر)لگنے کے موسم میں بیر گرگیا، وہ سمجھتا ہے لڑکا مل گیا۔’’
معلوم ہواکہ عرب کی مشرکین کی طرح نام نہاد مسلمان بھی درختوں کی پوجا پاٹ کرتا ہے ، ان درختوں کے ساتھ چادریں،سبزرنگ کے دوپٹے،جانوروں کی رسیاں اور پٹے بطورِ تبرک باندھتا ہے اور یہاں آکر اپنی مرادیں طلب کرتا ہے ۔ ’’ (کلمہ گو مشرک،مطبوعہ دارالاندلس لاہور، ص :95,94 )
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین کی طرف نکلے،اور قریش ایک سبزدرخت تھاجس کے پاس مشرکین ہرسال آتے،اور اس پر اسلحہ لٹکاتے ،اس کے پاس بیٹھتے اور جانور ذبح کرتے ۔اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حنین کی سفر پر نکلے اور ہم نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ۔اور مشرکین کایک بیر کا درخت تھا جس کے پاس آتے اور (اعتکاف کی طرح) بیٹھتے اوراس پر اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس درخت کو مشرکین ذاتِ انواط کہتے تھے، جب ہم اس درخت کے پاس سے گزرے تو تو ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ :
‘‘جس طرح ان مشرکین کیلئے ذاتِ انواط ہے ، ہمارے لئے بھی اسی طرح کا ذاتِ انواط بنا دیں ۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا:
‘‘سبحان اللہ ،اللہ اکبر(یعنی اللہ شرک سے پاک ہے اور اللہ سب سے بڑاہے) ! یہ تو اسی طرح ہے جیسے بنی اسرائیل نے(موسیٰ علیہ السلام سے) کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایک معبود مقرر کردیں جس طرح ان(مشرک قوم) کے معبود ہیں ۔ البتہ ضرور تم پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔۔’’ (سنن ترمذی،کتاب الفتن ،باب لترکبن سنن من کان قبلکم)
مصنف عبدالرزاق ،باب سنن من کان قبلکم،حدیث نمبر:20763 ،،
٭مسند احمد،حدیث ابی واقد اللیثی رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:22537،،
٭صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ ، ذکر الاخبارعن اتباع ھذہ الاُمۃ سنن من قبلھم من الاُمَم،،،، اور ،،،
٭السنۃ لابن ابی عاصم حدیث نمبر:76کی تصریح کے مطابق وہ بیری کا درخت تھا ۔
مشرکین اس درخت پر اسلحہ لٹکا تے تھے تبرک کیلئے ، اور سلطان باہورحمہ اللہ کے دربار میں بھی بیری کے درخت کے نیچے لوگ بیٹھ کر اس درخت سے اولاد طلب کرتے ہیں ۔ذرا فرق ہمیں بتادیاجائے ؟
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ تبرک کیلئے درختوں پر اسلحہ لٹکانا، ان میں پتھر پھینکا ان میں کپڑے لٹکاکر گرہیں لگانادر حقیقت ان درختوں کو﴿ اِلٰہ﴾ بناناہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیری کے درخت کے ساتھ کوئی عقیدہ وابستہ کرنا شریعت کی رُو سے بے اصل اور بے بنیاد ہے۔
میں نے جب ایک قبرستان میں لوگوں کو ان خرافات کرتے دیکھا تو وہاں کے ایک عالم سے کہا کہ یہ کام جائز ہیں ؟ اس نے کہا بالکل نہیں ۔میں نے کہا پھر آپ کے گاؤں کے لوگ یہ کرتے ہیں اس سے معلوم ہواکہ آپ حضرات نے لوگوں کی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔اس نے کہا کہ یہ ہمارے گاؤں کے نہیں اردگرد کے دیہات سے آتے ہیں۔پھر ایک دن میں نے ایک لڑکے کو دیکھا کہ آنکھوں پر پتھر مَل رہاتھا، اس کی آنکھوں میں ہلکا سا بھینگا پن تھا،میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ایک لڑکے نے بتایا کہ یہ فلاں مولوی صاحب کا بھانجاہے،اور اسی مولوی صاحب کانام لیا، جس نے مجھے کہاتھا کہ ہمارے گاؤں کے لوگ ایسا نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا بھر کے مزارات میں مدفون نام نہاد اولیاء میں ایسے کفار بھی گزرے ہیں جن کےہر سال عرس کئے جاتے ہیں اور جن کی مزارات پر لوگ مرادیں پوری ہونے کے عقیدے سےجا کر ان سے دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر وہ رسول اللہ کی شریعت کے عملاً انکاری اور کافر تھے۔