اِلٰہ کا معنی۔۔۔ تحقیق و تحریر اکبرعلی خان

اِلَٰه کا معنی و مفہوم

قرآن میں اِلَٰه کا مطلب کیاہے اور اِلَٰه کس کو کہا جاتا ہے؟

تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت یہی تھی، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی دعوت بھی یہی تھی کہ: یَااَیُّھَا النَاسُ قُولُوا لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ تُفلِحُوا

’’ اے لوگو!تم سب کہو کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی اور (اِلٰہ) نہیں، تو تم کامیاب ہو جاؤگے۔‘‘ (مسند احمد،حدیث ربیعہ بن العباد الدیلمی)

یعنی اللہ عزوجل کے سوا کوئی دوسرا کارساز ،مشکل کشا، مددگار، دستگیر، فریاد رس، غوثِ

اعظم، تصرف اور مدبر نہیں، اس لئے تمام قدرت و کمالات کا مالک صرف وہی ہی

عبادت کا لائق بھی ہے۔

مشرکینِ مکہ اور ان کے پیشرو مشرکین اللہ کی عبادت کے منکر نہ تھے بلکہ اگر صرف اللہ کی عبادت ہی کی بات ہوتی تو اس پر مشرکینِ مکہ کوکوئی اعتراض نہ تھا مگر اللہ عزوجل کے ساتھ (دوسروں) کوبھی کائنات کے چلانے میں دخیل و شریک سمجھنا ان مشرکینِ مکہ بلکہ دنیا کے تمام مشرکوں کا شرک تھا اور آج بھی ہے۔

اور وہ (دوسرے) ان کے زعمِ باطل میں وقتِ رفتہ کے ممتاز اور بزرگ شخصیات تھے جیسا کہ تمام بت پرست اقوام نے اپنے بت اپنے قوم کے قابلِ تقلید اور بزرگ شخصیات کے نام پر بنائے ہیں۔ اور جیسا آج کل کے مسلمانوں کا بھی عقیدہ ہے کہ:

’’اولیاء  رحمہم اللہ،  اللہ کے چہیتے ہیں، اور وہ اللہ عزوجل  کومجبور کر سکتے ہیں،العیاذ باللہ من ذلک۔‘‘

اللہ تعالیٰ اس آیت میں لوگوں کے اس خودساختہ زُعم اور فاسد عقیدے کی نفی یوں فرماتاہے:

لَوْ کَانَ فِیھِمَا آلِہَۃ’‘ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا،فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُون (الانبیاء:22)

’’اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا، اور بھی خدا ہو تے تو زمین و آسمان میں فساد برپا

ہوجاتا (یعنی برباد ہوجاتے)،تو پاک ہے عرش والا رب ان باتوں سے جو یہ مشرک اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔‘‘

اس آیت میں ایک زیادہ اِلٰہ ہونے کو کائنات کی بربادی کا سبب بتایا تو وہ اس طرح کہ ایک اِلٰہ اپنی مرضی پوری کرتا تو دوسرا اِلٰہ اپنی مرضی۔

ایک اِلٰہ کہتا میں فلاں علاقے پر بارش برساتا ہوں، دوسرا کہتا نہیں مجھے وہاں کے لوگ پسند نہیں میں وہاں بارش برسانا بند کروں گا۔ ایک ﵟاِلَٰهﵞ کہتا میں فلاں کو موت دیتا ہوں،

 دوسرا کہتا نہیں میں اُسے زندہ رکھنا چاہتا ہوں۔

 ﵟاِلَٰهﵞ کا معنی صرف معبود کرنا قرآن کی ان بے شمار آیات کا بھی خلاف ہے جن میں چیلنج کی انداز میں بار بار فرمایا گیا ہے کہ کیا یہ کام ﵟاِلَٰهﵞ کے علاوہ کوئی اور کر سکتا ہے؟:

ﵟأَمَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهۡجَةٖ مَّا كَانَ لَكُمۡ أَن تُنۢبِتُواْ شَجَرَهَآۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ يَعۡدِلُونَﵞ

بھلا یہ تو بتاؤ کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے خوبصورت باغات اُگا دئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہیں اُگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی ﵟاِلٰہ ﵞ بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ (حق راستے سے) ہٹ جاتے ہیں۔

أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ 61

کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان ن ہریں جاری کر دیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنادی، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی ﵟاِلٰہ ﵞبھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں۔

أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ 62

’’(کون ہے اللہ کے سواجو)پریشان حال اور مجبور کی پکار کو جب وہ پکارے اسے، کی پکار قبول کرکے اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور ﵟاِلٰہ ﵞ بھی ہے؟ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔‘‘

أَمَّن يَهۡدِيكُمۡ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَمَن يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦٓۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ تَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ 63ﵞ

’’کون ہے (اللہ کے سوا)جو تمھیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتاہے؟ اور جو  اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والے والی ہوائیں چلاتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلَٰه بھی ہے؟ جنہیں یہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند و بالا تر ہے۔ ‘‘

ﵟأَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ 64

کیا وہ مخلوق کی پہلی بار پیدائش کرتا ہے، پھر اسے لوٹائے گااور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دے رہا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور ﵟاِلٰہ ﵞ بھی ہے؟ کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔‘‘

ﵟقُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ 71

’’تم بتاؤ اگر اللہ عزوجل قیامت تک تم پر رات مسلط کردے، توکیا اللہ عزوجل کے

سواکوئی اور  ﵟاِلَٰهﵞ ہے جو تم کو روشنی لاسکے،پھر کیوں نہیں سنتے۔‘‘

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلنَّهَارَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِلَيۡلٖ تَسۡكُنُونَ فِيهِۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ 72ﵞ

’’بتاؤ تو اگر اللہ عزوجل قیامت تک تم پر دن مسلط کر دے ، تو کیا اللہ عزوجل کے سواکوئی اور ﵟاِلٰہ ﵞ ہے جو تم کو آرام حاصل کرنے کیلئے رات لا سکے  ،پھر کیوں نہیں دیکھتے ۔‘‘

ﵟأَمَّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي يَرۡزُقُكُمۡ إِنۡ أَمۡسَكَ رِزۡقَهُۥۚ بَل لَّجُّواْ فِي عُتُوّٖ وَنُفُورٍ 21ﵞ 

’’اگر اللہ تعالیٰ اپنی رزق بند کردے تو بتاؤ وہ کون ہے جو تمہیں روق عطا کر سکے؟ اس کے باوجود وہ سرکشی اور بیزاری پر ڈٹے ہوئے ہیں۔‘‘

ﵟاِلَٰهﵞ کا معنی

حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ متوفی695 ہجری ﵟاِلَٰهﵞ کامعنی یوں کرتے ہیں:

اِنَّ المراد الاستقامۃ علی التوحید اِنَّمَا َاَرادَالتَّوحِید الکَامِل الَّذِی یُحَرِّمُ صَاحِبُہُ عَلَی النَّارِھُوَ تَحقِیق مَعنَی لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ فَاِنَ الِالٰہ ھُوَالّذِی یُطاعُ فَلَا یُعصیٰ خَشیَۃََ وَّ  اِجلَالاََ وَّمَھَابَۃََ وَّ مُحَبَّۃََ وَّرِجَائَ وَّتَوَکُلاَ وَّدُعَائَ (جامع العلوم والحِکَم،شرح حدیث رقم: 21)

’’اور توحید پر استقامت سے مرادوہ توحیدِ کامل ہے،جو اپنے اقرار کرنے والے پر جہنم کی آگ حرام کرنے کا ذریعہ ہے ،وہ کلمہ  لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی اقرار ہے۔ پس ﵟاِلَٰهﵞ وہ ذات ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہو ،اور جس کی ہیبت اور جلالتِ شان کی وجہ سے اس کی نافرمانی نہ کی جاتی ہو ۔اسی سے محبت کی جاتی ہو ۔اسی سے ڈرا جاتا ہو ۔ اسی سے اُمیدیں باندھی جاتی ہو،اسی پر بھروسہ اور توکل کیا جاتاہو،اسی سے مانگا جاتا ہو، اسی کو پکاراجاتاہو۔‘‘

مفسر ابن جریر طبری رحمہ اللہ متوفی 310 ہجری ﵟاِلَٰهﵞ کامعنی یوں کرتے ہیں:

بَلِ الاِلٰہَ  المَعبُودالَّذِی لَہُ مَلک کُلَّ شَی ئِِ ،وَبِیَدِہِ تَصرِیف کُلُّ مَن فِی السَّمَائِ وَالَارض وَمَا بَینَھُمَا  (تفسیر طبری ،تفسیرسورت مائدۃ ،آیت:17)

’’ﵟاِلَٰهﵞ وہ لائقِ عبادت ذات ہے جس کے قبضے میںہر ہر چیز کا اختیار اور بادشاہت ہے، اور جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر ہر چیز پر اختیارِ کلی اور تصرف کا مالک ہے ۔‘‘

پس معلوم ہوا کہ عبادت کی لائق ذات (یعنی معبود)کیلئے لفظ ﵟاِلَٰهﵞجن تصورات اورصفات کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:

…اختراع وایجادِ خلق کا بلاشرکتِ غیرے ،مالک ومختارصرف(اللہ)ہی ہے، کوئی اور اس کے ساتھ اس صفت میں شریک نہیں۔

…حاجت روائی کرنے والا صرف(اللہ)ہی ہے، مخلوق مافوق الاسباب حاجت روائی  نہیں کر سکتا، خواہ نبی مُرسَل ہی کیوں نہ ہو۔

… تکلیف و مصیبت میں پناہ دینے والا صرف (اللہ) ہی ہے، مخلوق میں کوئی بھی مافوق الاسباب پناہ نہیں دے سکتا۔

…آرام و سکون بخشنے والا صرف (اللہ) ہی ہے،

…سب سے بالا تر و بالا دست صرف(اللہ) ہی ہے،

…سب سے بلند تر و برتر صرف(اللہ) ہی ہے ،،،

کوئی اور ان صفات میں اللہ کے ساتھ شریک نہیں۔نہ ہی کوئی نبی مُرسَل اور نہ ہی کوئی مقرب فرشتہ علیہم السلام ،اور نہ کوئی بزرگ اور ولی اللہ رحمہم اللہ۔

٭ان اختیارات اور طاقتوں کا مالک ہوناصرف اللہ ہی ہے جن اختیارات اور طاقتوں کی وجہ سے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ صرف وہی ذات معبود، مشکل کشا اور پناہ دہندہ

ہوسکتا ہے۔

٭٭اس ذات کا پراسرار ہونا یا منظرِ عام پر نہ ہونا اور انسان کا اس کی طرف مشتاق ہونا۔

ان مذکورہ صفات کا مالک ہی جملہ اقسامِ عبادت و بندگی کا لائق ومستحق ہوسکتا ہے، کوئی اور نہیں ۔

ﵟاِلَٰهﵞ کی تفسیرعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے

لفظ ﵟاِلَٰهﵞ کی تشریح میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول تفسیر ابن عباس میں منقول ہے: سورت محمد کی آیت:19فَاعلَمْ اَنَّہُ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی تفسیر میں یوں لکھتے ہیں:

[فَاعلَم]یا محمد [اَنَّہُ لَااِلٰہَ] لا ضَارَّ ولا  نَافِعَ  و لا  مَانِعَ ولا مُعْطِیَ ولا مُعِزَّ  ولا  مُذِلَّ [ اِلَّا اللّٰہ]

’’اے محمدﷺ! جان لو کہ اللہ کے سوا نہ کوئی نقصان دینے والاہے اور نہ ہی کوئی نفع دینے والا ۔ اللہ کے سوا نہ ہی کوئی روکنے والاہے اور نہ ہی کوئی عطاکرنے والا۔اللہ کے سوا نہ ہی کوئی عزت دینے والا ہے اور نہ ہی کوئی ذلت دینے والا۔‘‘

کیا کوئی مسلمان شرک کرنے کے بعد مشرک ہو سکتا ہے؟

عوام الناس بلکہ بعض علماء بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ مسلمان شرک کر ہی نہیں سکتا اور مسلمان مشرک ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے کہ نبی کریم کا فرمان ہے:

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ، مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا

’’اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگوگے۔ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیاداری میں پڑ کر ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرنے لگو۔‘‘(بخاری:3596)

اگر کوئی مسلمان شرک کا ارتکاب کرے تو اس کا ایمان ختم ہوگا اور وہ مشرک بن جائے گا،اس کے بعد وہ مرتے دم تک مسلمانوں والاکلمہ بھی پڑھتارہے اور اسلامی عبادات بھی بجالائیں اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا جب تک شرک سے توبہ کرکے تجدیدِ ایمان نہ کرے۔

…اگر کوئی کہے کہ مسلمان کیسے مشرک ہوسکتاہے اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے تم پر شرک کا خوف نہیں ۔(بخاری ،کتاب الجنائز ،باب دفن اثنین اوالثلاثۃ فی قبر واحد)

اس کا جواب قرآن کی اس آیت اورنبی کریم ﷺکی ایک اور حدیث کی صورت میں لیجئے:

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

ﵟٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَﵞ

’’جو لوگ ایمان لائے اور ایمان کے بعد اپنی ایمانوں کو ظلم سے خراب نہ کرے تو ایسے لوگ امن میں ہوں گے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

’’عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام آپس میں کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہے جس سے ظلم کا ارتکاب نہیں ہوجاتا ؟تو اللہ تعالیٰ نے (سورت لقمان کی) آیت : ﵟإِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞﵞ نازل فرماکر( ظلم کی)وضاحت فرمائی (کہ ظلم سے مراد دراصل وہ ظلم ہے جس کی وضاحت سورت لقمان کی آیت میں آئی ہے، ظلم سے مراد اللہ کے ساتھ مخلوق کو اس کی ذات یا صفات میں شریک کرناہے)۔‘‘(بخاری،کتاب الایمان ،باب ظلم دون ظلم)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان۔اللہ نہ کرے ۔اگر شرک کرے تو اس کی مسلمانی ختم ہوجائے گی اور مشرک بن جائے گا اور اسے مشرک کہنا مناسب ہوگا۔اور اس کا امکان یقیناً موجود ہے اس لئے کہ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  ﷺ نے فرمایا:

{لاَ تَقُومُ السَّاعَۃ حَتّٰی تَضطَرِب اَلیَاتِ نِسَائَ دَوسِِ عَلَی ذِی الخَلصَۃ وَذُو الخَلصَۃ :طَاغِیَۃ الَّتِی کَانُوا یَعبُدُونَہَا فِی الجَاہِلِیَّۃ}

ترجمہ:’’ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ،جب تک بنی دوس قبیلے کی عورتوں کے سرین ذی الخلصۃ پر حرکت نہ کریں گے ۔ذوالخلصۃ دوس قبیلے کا بت تھا جس کی وہ جاہلیت میں عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘

سرین ہلنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بت کا طواف اور اس کی بندگی کریں گی ،معلوم ہوا کہ بت پرستی اُمتِ مسلمہ میں قیامت سے پہلے ایک بار پھر داخل ہوجائے گی ۔

قبیلہ بنی دوس کے بارے میں ذرا سنئے

…قبیلہ بن دوس مکہ مکرمہ سے تقریباََ 70 کلومیٹر دور (یعنی اللہ کے گھر بیت اللہ

شریف کے بالکل بغل میں )طائف کے مضافات میں ایک دیہاتی علاقہ ہے جو آج کل شہر کی صورت اختیار کرگیاہے۔ اس قبیلے میں میں بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گزرے ہیںجن میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔حیرت کی بات ہے اور ساتھ ہی ڈرنے کی بات بھی کہ اگر مکہ کے اتنے قریب ان جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم کے قبیلے میں شرک دوبارہ آئے گا تو’ دوسرے علاقے اور دوسرے لوگ کس کھیت کے مولی ‘ہیں کہ شرک بھی کریں اور مشرک بھی نہ کہلائیں؟ذرا سوچو ! اے آج کے غافل مسلمان!!!!

ان حقائق کی روشنی میں آئیے قارئین کو اس حدیث کا صحیح مطلب بتادیں جس میں فرمایاگیاہے کہ:

’’ مجھے تم پرشرک کاخوف نہیں‘‘ اس حدیث کی شرح میں امام نووی  رحمہ اللہ

متوفی676ہجری لکھتا ہے :

’’مجھے تم سب پر ایک ساتھ دین سے پھرنے کا کوئی ڈر نہیں،(اور ہوابھی ایسا ہے) اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو( اس طرح ارتداد سے) محفوظ رکھاہے۔‘‘(شرح نووی علی مسلم)

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی852 ہجری ،علامہ حافظ بدرالدین عینی حنفی

متوفی855 ہجری اور احمد بن محمد قسطلانی  رحمہم اللہ متوفی911 ہجری اس کی شرح میں لکھتے ہیں(ترجمہ فتح الباری سے ہے ):

’’نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ( مجھے تم پر شرک کا ڈر نہیں) کا مطلب یہ ہے کہ تم مجموعی طور پر(پوری اُمت ِ مسلمہ ) شرک نہیں کروگے، اس لئے کہ اُمتِ مسلمہ میں سے بعض افراد سے شرک کا وقوع ہو ا ہے ،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔‘‘(فتح الباری ،کتاب الجنائز ،باب دفن الرجلین والثلاثۃ فی قبر واحد ،، عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری،،،ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری)

اسی طرح اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے جس میں فرمایاگیاہے کہ:

’’ میری اُمت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔‘‘(ابوداؤد،کتاب الفِتَن،باب ذکرالفتن و دلائلھا،،،،ترمذی)

یعنی میری اُمت سارے کا سارا گمراہی پر جمع نہیں ہوگی ،جہاں تک افراد کا تعلق ہے تو اس کی مثال بہت سارے غلط اور باطل فرقوں کا وجود ہے جو مسلمانوں میں بنے ہیں مگر وہ اُمتِ مسلمہ کا ایک حصہ ہے پوری اُمت نہیں اس لئے اس حدیث کے مصداق سے باہر ہے۔

اور یہ حدیث جس میں آپﷺنے واضح فرمایاہے کہ میری شفاعت ہر اُس میری اُمتی کیلئے ہوگی: {مَنْ مَاتَ مِنْ اُمَّتِی لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیئًا}

’’میری شفاعت میری اُمت میں سے۔ان شاء اللہ۔ ہر اس شخص کیلئے ہوگی جو اس حال میں مراہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیاہو۔‘‘(مسلم ،کتاب الایمان،

باب اثبات الشفاعۃ واخراج المئوحدین من النار)

امام مسلم نے اس باب کا نام رکھاہے:

باب: شفاعت کے اثبات اور مئوحدین کو جہنم سے نکالنے کے بیان میں۔

اے مسلمان!جاہل پیر فقیر کی بات مت مان ، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات مان۔

امکانِ شرک ہر وقت موجود ہے ۔اگر تم انبیاء علیہم السلام اور اولیاء رحمہم اللہ کو حاضروناظر اور تیرے حال سے ہر وقت باخبر ہونے کا عقیدہ رکھتے ہو ،اور تکلیف و مصیبت کے وقت ان کو حاضرو موجود سمجھ کر ان سے مدد طلب کرتے ہو تو بلا شک تم مشرک ہو۔اللہ ہم سب کو شرک سے بچائے ،آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top