آج تک بابوں کے کارنامے
آج تک کسی بابا نے جلال میں آکر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں کیا۔
سورج کو کان سے پکڑ کر ملتان لایا تو وہ بھی اپنے لئے باربی کیو کا شوق پورا کرنے اور اپنی بوٹی پکانے کیلئے۔ورنہ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا کوئی معاہدہ کرکے سورج کو واپس بھیج دیتے۔
یہ بابے آسمانوں میں اُڑے بھی تو اکیلے اکیلے خود عالمِ لاہوت و ناسوت کے سیر سپاٹے کرتے رہے۔ ورنہ کرامت سے انسانیت کیلئے اُڑن طشتریوں کا انتظام کر جاتے، مگر یہ کام انگریزوں کیلئے چھوڑ گئے۔
ان بابوں نے اپنی کرامات سے ہسپتال بنائے نہ سکولز، کنویں کھودے، نہ واٹر چینلز لگائے۔
ہاں جلال میں آکر کنویں میں اُلٹا ضرور لٹک گئے-
یہ سارے مذکورہ ڈرامے کرامات کے تذکروں پر لکھی گئی کتابوں میں درج ہیں، اس لئے کہ اس زمانے میں کیمرہ ایجاد نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ مگر جب کیمرہ ایجاد ہوا، اور سوشل میڈیا کا درو شروع ہوا تو اس وقت سے:
…کنویں میں اُلٹا لٹکنا، … ایک پائوں پر کئی کئی ہفتے، سال وغیرہ کھڑا رہنا، …بالوں کی لٹ کو شہتیر میں باندھ کر کئی کئی رات مسلسل نہ سونا، …ہوا میں اُڑنا، …پانی پر چلنا جیسے جعلی کرامات کا دور ختم ہوا۔
سوشل میڈیا نے بریلوی بابوں کی کرامتوں کی پیدائش و گھڑنت کا سلسلہ بالکل بند کیا ہے اس لئے کہ اب لوگ ان سے ہر چیز کی دلیل اور ثبوت مانگ سکتے ہیں جبکہ ان کے سارے عجائب و غرائب تو جھوٹ اور سادہ لوح لوگوں کو مرغوب کرنے کےلئے ہیں، ان میں حقیقت تو ہے ہی نہیں، اس لئے عجائب و غرائب تو اب زیادہ نہیں بول سکتے مگر جھوٹ سے باز آنا ان کے لئے ممکن بھی نہیں اس لئے کہ جھوٹ سے توبہ کرنے پر پھر ان کا شیطان ان سے ناراض ہوجائے گا اور شیطان ان کے لئے مرید ڈھونڈنے کا کام چھوڑے گا، پھر یہ بے چارے کھائیں گے کہاں سے۔ کام ہُنر ان کو آتا نہیں، بس یہی ناجائز اور حرام نذرانے اور ایک ایک وقت کی روزی روٹی کے محتاج مریدوں کی جیبوں پر نظر رہتی ہے ان کی۔