صابر کلیری علاء الدین علی احمد جعلی سید تھے۔۔۔ تحریر و تحقیق اکبر علی خان

علاء الدین صابر کلیری

علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ

شجرہ نسب یہ ہے:

سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبدالرحیم بن سید عبدالوہاب بن غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔

والدہ کی طرف سے آپ فاروقی ہیں حضرت گنج شکر کے حقیقی بھانجے اور داماد بھی ہیں۔

اس جھوٹی نسبت اور کذب بیانی کا ٓپریشن

عبدالواہب بن شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا عبدالرحیم نام کو کائی بیٹا تھا ہی نہین اس لئے یہ شجرہ غلط ہے، اور جس نے بنایے اس نے صابر کلیری کو حرامی النسب ہونے کی گالی دی ہے، یہ حرامی مجاورین اور جعلی گدی نشین کا کیا دھرا ہوتا ہے، اور سج طرح یہ شجرے جعلی ہوتے ہیں اسی طرح اولیاء کے بارے میں بیان کردہ کرامات بھی 99 فیصد غلط اور من گھڑت ہوتے ہیں۔

۱۔خزینۃ الاصفیاء  میں لکھتا ہے کہ سیف الدین  عبدالوہاب کے دو فرند تھے:

۱۔ ابو منصور عبدالسلام، ۲۔ ابوالفتح سلیمان۔(خزینۃ الاصفیاء، ج:1،ص:183)

مستند کتب میں عبدالوہاب کے تین بیٹوں کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے: ۱۔ عبدالسلام، ۲۔ سلیمان، ۳۔ داؤد۔(الاعلام للزرکلی،،،،تاریخ ابن اثیر)

عبدالوہاب کے ایک پوتے کا ذکر ملتا ہے،داؤد بن سلیمان بن عبدالوہاب ۔(طبقات الحنابلہ لابن رجب بذیل شیخ عثیمین)

اسی طرح والدہ کی طرف سے فاتروقی نسب ہون ے کا دعوی بھی جعلی ہے ، اس لئے کہ بابا فرید کے پانچ شجرے ہیں اور سارے کے سارے من گھڑت اور جعلی ہیں۔

موجودہ دور میں سادات سازی

موجودہ دور میں بھی سادات سازی کا  قبیح اور لعنتی سلسلہ بدستور جاری ہے۔جعلی سیِّد  اپنے پیر کے کہنے پر نام کے ساتھ پہلے ’’شاہ‘‘ کا لاحقہ لگاتے ہیں، اور اس کے بعد اسی پیڑی میں یا دوسری پیڑی میں ’’سیِّد‘‘ کا سابقہ لگانا شروع ہوجاتا ہے۔ اور پھر جعلی ’’سید زادہ ‘‘بن کر معاشرے سے ’’سید‘‘ ہونے کے بہانے حرام جاگیر، حرام اور شرکیہ نذرانے وغیرہ وصول کرتے ہیں، اور اپنے بارے من گھڑت قصے کہانیاں مشہور کرواتے ہیں۔ اس کام کے لئے ہر معاشرے میں ڈرامہ باز اور مکار خواتین سے پیسوں کی عوض مشہوری کرائی جاتی ہے۔

میرے اپنے گاؤں کے کچھ پشتون گگیانی نسب سے تعلق رکھنے والے میرے رشتہ دار جعلی سیَّد بنے ہوئے ہیں۔اُن کا پیر بٹل بٹگرام کا ایک  غیر سیِّد پشتون تھا، غربت کے ہاتھوں مجبور ہر کر پنجاب ہجرت کی، وہاں خود کو سید مشہور کیا اور 30 ایکڑ زمین کسی جاہل جاگیردار کی طرف سے ملی۔

اس فرقے  کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر مرید کو نام کے ساتھ ’’شاہ‘‘ لکھنے کا حکم دیتا ہے، اور اسی طرح اس کے مریدوں کے مرید بھی یہی کرتے آرہے ہیں۔

وہ نام کے ساتھ ’’خواجہ صوفی‘‘ کا سابقہ اور ’’شاہ‘‘ کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ اور ’’دین اور اصلاح‘‘ کے نام پر اس کے مریدوں کے لئے پنجاب اور سندھ کی سرزمین خاصی زرخیز ہے۔ میرے گاؤں کے ان جعلی ’’شاہ‘‘ پیر صاحبان کا اور میرا  لکڑ دادا پانچویں ، چھٹے  پشت پر ایک ہی ہے، اس لئے اگر میں سید نہیں تو وہ کیسے سید بن گئے؟

مگر حقیقت یہی ہے کہ آج اسلامی ممالک کا کوئی ضلع، تحصیل، بڑا، چھوٹا شہر بلکہ چھوٹے سے چھوٹے 50 گھرانوں کے دیہات میں بھی آپ کو سادات کا خاندان ملے گا، اور یہ اسی  جعلی طریقے سے بننے والے سادات ہیں۔

اللہ کی قسم!

جو اولیاء اللہ کا مذاق آڑائے وہ حرامی، بد بخت اور گمراہ ہے، اور اس کا انجام بُرا ہوگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان مزارات کے نیچے مدفون  لوگوں میں بڑی اکثریت زندہ پیر جیسے جھوٹوں اور شریعت دشمن لوگوں کی ہے۔مگروہ بھی جاہل و گمراہ ہے جو شریعت کے دشمن، علمِ غیب اور مافوق الاسباب تصرف  کے جھوٹے   دعویدار  مشرک اولیاء الشیطان کو اولیاء اللہ سمجھے۔

سپاہی حضرت شاہ اگر انگریز سرکار کی پنشن پر انحصار کرکے بیٹھتا تو بھوکا مرتا، مگرآج زندہ پیر کے مزار اور دربار سے اسکی نسلیں کھا رہی ہیں۔ مگر دونوں ہاتھوں سے ادھر اُدھر پھینکنے  سے بھی مال میں کمی نہیں آئے گی۔یہ الگ بات ہے  کہ عقیدے اور پیسے دوسروں کے تباہ ہو رہے ہیں،ہر سال زندہ پیر کا عرس ہوتا ہے،مردہ ضمیروں اور مریدوں کی تعداد لاکھوں میں جمع ہوتی ہے۔ایسے ہی چرب زبان دھوکہ بازوں اور بہروپیوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ﵟأَنَّهُ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ:إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌﵞ

’’مشرق کی جانب سے دو آدمی آئے، اور انہوں نے خطاب کیا، تو لوگوں کو ان کے اسلوبِ خطاب و بیان پر تعجب ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بلاشبہ، بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘(سنن ابو داؤد، حدیث:5007)

ابن قتیبہ دینوری رحمہ اللہ متوفّٰی 276 ہجری  اس حدیث  کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’اور بلاشبہ کچھ فصاحت و بلاغت جادو کی مانند ہوتی ہے،“ یعنی دور کی چیز دور کی چیز کو قریب اور قریب کی چیز کو دور کر دیتا ہے، ( یعنی گدھے کو گھوڑا اور گھوڑے کو گدھے بنا کر پیش کرتا ہے)بدصورت کو حسین اور چھوٹی چیز کو عظیم بنا کر پیش کرتا ہے؛ گویا کہ ایسا چرب زبانی جادو ہی ہے۔ اور جو چیز جادو کی جگہ لے لے، یا اس سے مشابہت رکھے، یا اس جیسی ہو، تو اسے بھی اسی طرح ناپسند کیا جاتا ہے جس طرح جادو  حرام ہے۔‘‘ (تاویل مختلف الاحادیث)

اور فرمایا:

”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں (درندوں)کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں۔ میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔(ترمذی:2404)

اس کی شرح میں مُظہرالدین زیدانی حنفی متوفی 727 ہجری لکھتے ہیں:

’’یعنی دین کے نام پر دنیا طلب کریں گے، وہ نیک اعمال اس لئے کرتے ہوں گے تاکہ لوگ ان کو بزرگ اور اہلِ خیر وصلاح سمجھے، اور اس طرح ان کو پیسے دیتے رہیں،اور ان کی خدمت کرتے رہیں،مگر ان کی نیت خالص نہیں ہوگی۔بلکہ مال و دولت کے حصول کے خواہش مند ہوں گے۔وہ ٹاٹ کے کپڑے(آج کل کے زمانے میں سادہ لباس، سفید لباس ، لمبی چوڑی قمیص) پہنتے ہوں گے تاکہ لوگ ان کو دنیا دولت  سے بے رغبتی رکھنے والا زاہد، تارک الدنیا اور بزرگ سمجھیں۔ لوگوں کے سامنے عاجزی کرتے ہوں گے تاکہ لوگ ان کے مرید بنیں مگر ان کے دل بھیڑئے (مکار درندے)کے ہوں گے۔‘‘ (مفاتیح شرح المصابیح)

احادیث میں دل کی مثال بھیڑئے سے دینے کا سبب  خود رسول اللہ ﷺ نے بتایا:

’’تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد، حدیث: 547)

جس طرح بھیڑیا اکیلی بکری کھاجاتا ہے اسی طرح یہ ظاہردار صوفیاء لوگوں کی جہالت کا فائدہ اٹھا کر ان کی کمائی کھا جاتے ہیں۔

اس حدیث کی رُو سے  ایسے سارے پیرانِ طریقت مراد ہیں جن کے آستانے اور خانقاہیں جاہل عوام سے بزرگی کا لباس پہن کر حاصل کئے  گئے بلکہ ہتھیائے گئے ہیں۔ مگر حقیقت میں طاہر القادری اور اس جیسے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک چہروں سے معصوم اور حقیقت میں مکار ہوں گے۔ آج کل کے سارے پیر بلا استثناء بریلوی دیوبندی سب ایک ہی تھیلے کے چھٹے بھٹےاور غریبوں اور یتیموں کا مال ناجائز طریقوں اور مکاری سے حاصل کرنے والے  بھیڑئےہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ  اُمتِ محمد کو خبردار کرنے کے لئے فرماتا ہے:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗﵞ

’’ اے ایمان والو! اکثر علماء اور عابد (صوفیاء)  لوگوں کا  مال  ناحق کھا جاتے ہیں، اور اللہ کی راہ سے روک دیتے۔‘‘

اس کی تفیسر میں ابن کمال پاشا حنفی رحمہ اللہ متوفی 940 ہجری لکھتے ہیں:

’’بہت سارے علماء اور صوفیاءکی بزرگی کا عقیدہ (شریعت کی کسوٹی اور عملی تجربے کے بغیر)نہ رکھو، اور نہ ہی ان کے ظاہری شکل و صورت سے دھوکہ کھاؤ، اس لئے کہ یہ (ظاہری شکل و صورت اور شیرین بیانی)طمع و لالچ کی تکمیل اور سرداری کے حصول  کے جال ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن مبارک فرماتا ہے:

دین کو برے علماء اور مکار پیرانِ طریقت اور جابر و شاطر حکمرانوں نے اپنے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے۔‘‘(تفسیر ابن

کمال پاشا)

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 748 ہجری  لکھتے ہیں:

’’مراد اس آیت سے اُمتِ محمد کو بُرے علماء اور گمراہ  عابد وصوفیاءسے خبردار کرنا ہے۔ سفیان بن عیینہ فرماتا ہے کہ ہمارے علماء میں جو بگڑے ان میں یہود کے ساتھ مشابہت ہے، اور ہمارے صوفیاء میں جو بگڑے، ان میں نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے۔‘‘(تفسیر ابن کثیر)

 اور اسی لئے انہی لوگوں سے خبردار کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے اُمت کو خبردار کیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top