*جعلی مزارات پہچاننے کا  طریقہ*

پاکستان میں جعلی مزارات پہچاننے  کے لئے  مندرجہ ذیل نکات سمجھنا بہت ضروری ہے:

۱۔جس مزار   اور صاحبِ  مزار  کا*شجرہ نسب، *تاریخ اور جغرافیہ  مشائخ کے تذکروں اور اس زمانے میں لکھی گئی  کتابوں میں منقول نہ ہو، ایسے تمام مزارات اور قبور جعلی اور فرضی ہوں گے جو قبر فروشی کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ضلع چارسدہ تحصیل تنگی، پڑانگ غار کے قریب  یوسف بابا کا مزار بھی اسی نوعیت کا جعلی مزار ہے۔

۲۔ پاکستان میں پیغمبروں کے نام سے منسوب  تمام قبور اور مزارات جعلی ہیں جو مشرک پیر   شمس الدین،آستانہ  بڑیلہ گجرات نے 1891 عیسوی  اور خواجہ پیر گوہرالدین، آستانہ  جیندڑ نے 1932 عیسوی میں  شیطانی کشف اور ابلیسی مراقبہ کے زریعے  دریافت کئے تھے۔ یہ دونوں بریلویوں کے سلطان الاولیاء ہیں مگر حقیقت مشرک ہیں،اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ لمبے چوڑے القابات کے ساتھ  اولیاء اللہ  کے نام سے  مشہور اور کتابوں میں مذکور،بڑے بڑے گنبدوں کے نیچے ان جیسے اولیاء الشیطان اور کافر بھی دفن ہیں۔

ان زندیقوں نے قنبیط ابن آدم، طانوخ ابن داؤد، صمصام ابن داؤد، منجوش ابن موسیٰ وغیرہم جیسے فرضی ناموں کے ساتھ انبیاء کے قبور دریافت کرنے کا دعوی کیا تھا، حالانکہ یہ سارے جعلی قبور ہیں اور تاریخی حقائق ان کی نفی کرتی ہے۔ان کی دیکھا دیکھی  دیگر قبر پرست مشرکوں نے طرطوش، مرطوش، قمشون ابن یوسف، موسیٰ حجازی کے نام سے انبیاء کی جعلی قبریں بناکر ان پر مزارات بنائے۔(اس  موضوع پر میری کتاب تکمیل کے آخری مراحل  میں ہے)۔

۳۔غیر معمولی لمبائی والے سارے مزارات جعلی ہیں۔پاکستان میں ان مزارات کے مشہور نام یہ ہیں:

۱۔ چہل گزی بابا، ۲۔ نو گزی بابا، ۳۔ 70 گزی بابا، ۴۔ شل گزی بابا، ۵۔ جمع جرگہ۔

جبکہ 6 فٹ سے زیادہ لمبے تمام مزارات جعلی ہیں۔اس لئے کہ دنیا کا سب سے قدیم انسانی ڈھانچہ مختلف تحقیقات کے مطابق مختلف مقامات سے دریافت ہوا ہے ۔ اب تک کے مستند سائنسی شواہد  اور مصر کے عجائب گھر میں پڑی فرعون رعمسیس ثانی کی حنوط شدہ لاش کا قد 5 فٹ 7 انچ (170 سینٹی میٹر) تھا، لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وفات کے وقت اس کا قد تقریباً 6 فٹ 2 انچ (188 سینٹی میٹر) تھا، کیونکہ ممی بننے کے دوران جسم سکڑ جاتا ہے۔دیگر فرعونوں کے قد مختلف تھے، لیکن زیادہ تر اوسطاً 5 فٹ 6 انچ سے 6 فٹ کے درمیان تھے۔

 رئیس المؤرخین علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

’’عمالقہ ،عاد ،ثمود اور عوج بن عنق کے طویل قامت کے بارے میں غلط خبریں قصہ گو حضرات نے پھیلائی ہیں۔دیکھ لیجئے قصہ گو لوگوں نے عادیوں ، ثمودیوں اور عمالقہ کے قصوں میں کیسے کیسے بے بنیاد واقعات گھڑ لئے ہیں جو عوام میں مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز قصہ عوج بن عنق کاہے ، لوگوں کا گمان ہے کہ وہ اتنا طویل القامت تھا کہ سمندر سے مچھلی پکڑتاتھا اور اس کو سورج پر بھون لیاکرتاتھا،اس سے معلوم ہوتاہے کہ قصہ گو حضرات نہ صرف حالاتِ بشر سے، بلکہ سیاروں کے حالات سے بھی، محض جاہل تھے۔

مزید لکھتے ہیں:

’’اور اس زمانے میں اسرائیلیوں کے قدوقامت قریب قریب ہم جیسے تھے ۔جس کی گواہی بیت المقدس کے دروازے دیتے ہیں۔کیونکہ بیت المقدس کی عمارت اگرچہ باربار خراب ہوئی اور اُجڑی، اور جدید عمارت بنی لیکن دروازوں کی شکل وہیئت بدستور جوں کی توں رہی۔پھر بھلا وہ اور اس کے ہم عصروں

میں اتنا عظیم تفاوت کیسے ہوسکتاہے۔‘‘

مزید لکھتے ہیں:

’’ہم قدیم اقوام کے گھر دیکھتے ہیں،اور ان کی رہائش گاہوں کے دروازے دیکھتے ہیں، اور ان کے راستے دیکھتے ہیں ،اسی طرح ان کی بنائی ہوئی عمارتوں کے ، مسجدوں کے، گھروں کے اور کمروں کے دروازے وغیرہ دیکھتے ہیں جیسے ثمودیوں کے گھر جن کو وہ چٹانیں تراش کر بنایا کرتے تھے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گھر ہیں جن کے دروازے تنگ ہیں اور حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ یہی ان کے گھر ہیں۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون،مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی، ص:301,300)

میں (مؤلفِ کتاب ، اکبر علی)نے بذاتِ خود 25 جون 2007 کو   سعودی عرب میں مدائن صالح کی سیر کی ہے۔ میرے ساتھ  بٹگرام(شبقدر) کے واحد جان اور اس کا دوست اللہ یار(چورا خیل بٹگرام) بھی تھے۔مدینہ منورہ سے براستہ تبوک تقریباً چار سو کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے،اس کو ﴿مدائن صالح﴾ کہا جاتاہے ، ﴿اَلْعُلاَء﴾ نامی شہر سے تقریباً پندرہ کلو میٹر۔

 ﴿اَلْعُلاَء﴾ میں موجود عجائب گھر کے انچارج سے تحریری اجازت نامہ لینے کے بعد وہاں جانے کی اجازت ہے۔ اور شام ہوتے ہی واپسی کرنا پڑے گا،شام کے بعد ٹھہرنا ممنوع ہے۔

ہم ہفتہ وار چھٹی کے دن گئے تھے، اجازت نہیں ملی، مایوس ہوئے ، اتنے میں دارالخلافہ  ریاض سے ڈائرکٹر جنرل وزٹ پر آیا تھا، ہم باہر پریشان کھڑے تھے، اس نے علیک سلیک کے بعد وجہ پوچھی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا، اور آنے کا سبب بتایا۔ اس نے عجائب گھر کے مہتمم سے ہمیں خصوصی اجازت اور سرکاری گاڑی دلائی اور ہمیں سیر کرایا۔ اجازت پاکر  ہم وہاں پہنچے۔پہاڑوں میں تراشے گئے چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں، جس طرح قرآن میں ان کے بارے میں آیاہے کہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے۔کمروں میں داخل ہونے کیلئے دروازوں پر  خوب نقش ونگار  کی گئی ہے جو اس زمانے کے لحاظ سے حیرت انگیزہے ۔ کمروں کے اندر جا کر معلوم ہوتاہے کہ باہر سے اُونچی نظر آنے والے یہ کمرے بہت پست ہیں ،بلکہ فرش سے چھت تک اُونچائی سات فٹ سے بھی کم ہے۔ان کی قربان گاہ جہاں وہ بتوں کے نام پر ذبح کیاکرتے تھے اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ اس زمانے کے لوگ بھی ہم جتنی قد وقامر والے تھے۔

پاکستان  کے پانچوں صوبوں میں ایسے مزارات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ورسک روڈ ضلع پشاور میں چہل گزی بابا کا مشہور قبرستان ہے۔ اسی طرح منزیزائی، کتوزائی، مٹہ مغل خیل اور دیگر مقامات پر لمبی قبریں اور مزارات دو طرح سے جعلی اور فرضی ہیں:

غیر معمولی لمبائی کی وجہ سے،،،، اور نام، شجرہ نسب،  اور کم از کم تاریخِ وفات  وغیرہ۔

۴۔ کسی علاقے کے معروف قبرستان سے باہر،کسی ویران جگہ، پرانے درخت کے نیچے یا جنگل میں اگر کوئی قبر یا قبر نما موجود ہو تو قبر پرست مشرکین ، صاحب قبر کو خواب میں آنے کا من گھڑت قصہ بناتے ہیں اور  کسی فرضی نام کے ساتھ ولی کا  مزار بنا کر مجاور بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر  بانجھ پن، نارینہ اولاد، پھوڑے پھنسی، یرقان اور سحر و جادو سے شفاء ملنے کے لئے ان جعلی مزارات کو  مشہور  کرتے ہیں۔ایسے مزارات کے جعلی ہونے میں شک نہیں۔ اس لئے ان  کو بلا خوف، بلا جھجھک جعلی قرار دے کر ان سے لوگوں کو آگاہ کیا  جانا چاہئے۔

۵۔ سچے اولیاء اللہ اور ہر زمانے میں اس زمانے کے مشہور و معروف علماء، صلحاء کی تاریخ اس زمانے میں لکھی گئی تاریخ و رجال کی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس لئے اگر کہیں ایسا مزار ہے جس میں دفن شخصیت کا تاریخ و جغرافیہ اس کے زمانے میں لکھی ہوئی  کتابوں میں نہ پایا جائے تو وہ بلا شک جعلی مزار ہے خواہ کتنا ہی قدیم کیوں نہ ہو۔ پھر ہر علاقے میں ایسے فرضی اولیاء کے کچھ مخصوص نام اور نسبت  ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں مشہور نسبت ’’محمود

غزنوی کے جہاد کے شہداء ‘‘ اور مخصوص نام  یہ ملیں گے:

۱۔ زندہ پیر، ۲۔ سخی سرور، ۳۔ غازی بابا،  ۴۔ شہید بابا، ۵۔ صادق  بابا، ۶۔ سائیں سرکار، ۷۔ علی شاہ، ۸بخاری شاہ، ۸۔ باچا سرکار، ۹۔ جمع جرگہ، وغیرہ۔

اس لئے جب تک صاحبِ قبر کا  تاریخِ پیدائش، تاریخِ وفات اور پورا شجرہ نسب معلوم نہ ہو، اور نام اس طرح ہو تو بلا شک سمجھو کہ فرضی قبر اور جعلی مزار ہے۔

۶۔ اگر مزار کی حدود میں چرس، بھنگ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا کھلم کھلا استعمال ہو رہا ہو، تو یہ واضح علامت ہے کہ یہ کسی اللہ والے کا آستانہ نہیں بلکہ چرسی، غنڈوں، لفنگوں، مفت خوروں، سمگلروں اور معاشرتی بھگوڑوں کا مرکزہے۔

بعض افراد *نشہ،* سستی اور کاہلی،*لاپرواہی،*فطری بے غیرتی ،*احساسِ ذمہ داری  کی فقدان،*مردہ  ضمیری اور* مفت خوری کی بُری عادت کی وجہ سے بیوی بچے پالنے اور زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنے  سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے  مزارات، اصلی ہو یا جعلی، بہترین پناہ گاہ ثابت ہوتے ہیں۔

اس لئے آپ دیکھیں گے کہ ایسے جعلی مزارات، جو فرضی قبروں پر بنائے گئے ہو،… یا قبر میں دفن شخص کوئی  پاگل، بے حال،چرسی، نشئی، بے نمازی، دھمال اور موسیقی سننے والا ہو تو ایسے مزارات پر بیٹھنے والے مجاور اور خدمتگار چرسی، نشئی اور بچوں کو نہ پال سکنے والے معاشرتی بھگوڑے اور غیر شادی شدہ معاشرے، والدین  کے لئے بیکار افراد ملیں گے۔

۷۔اُونچے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر موجود وہ تمام مزارات، جن کا تاریخ و جغرافیہ معلوم نہیں، جعلی ہیں، اور ایسے تمام جعلی مزارات میں بعض ایسے بھی ہیں جن کو   ہندوؤں کے  مندروں پر قبضہ کرکے قبر پرستوں نے کسی ’’فرضی بابا‘‘ کا نام دے کر مزارات  بنائے ہیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد ایسے مزارات زیادہ تعداد میں وجود میں آئے ہیں اس لئے کہ ہندوؤں کے جانے کے بعد ایسے مندر غیرآباد رہ گئے تھے، جو بریلوی قبر پرستوں نے موقع کو غنیمت جان کر کمائی کا ذریعہ بنایا۔

اُونچے ٹیلوں پر ہندو مندروں کی تعمیر کے لئے ہندو فنِ تعمیر کے ان نکات سے  واقفیت ضروری ہے:

*ہندو فنِ تعمیر میں اُونچی جگہوں پر مندر بنانے کی علت و اہمیت*

واستو شاستر Vastu Shastraواستو  کا معنی ہے :رہنے کہ جگہ، اور شاسترا کا معنی: علم۔ آسان لفظوں میں ہندو فنِ تعمیر کو واستو شاسترا کہاجاتا ہے۔

*مثبت توانائی کا بہاؤ۔۔۔ پَران*

*واستو شاسترا *کے مطابق  کائنات میں مسلسل توانائی (مقناطیسی اور شمسی توانائی(Positive Energy) بہہ رہی ہے۔ اگر گھر کی بناوٹ درست ہو تو مثبت توانائی (پَران) گھر کے اندر آتی ہے اور منفی توانائی باہر نکل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، گھر کا مرکزی دروازہ شمال یا مشرق کی طرف ہونا بہت شبھ (مبارک) مانا جاتا ہے کیونکہ وہاں سے سورج کی پہلی کرنیں اور تازہ ہوا داخل ہوتی ہے۔

واستو شاسترا کا بنیادی  مقصد گھروں، مندروں اور عمارتوں کو اس طرح ڈیزائن کرنا ہے کہ وہاں رہنے والے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی، امن، صحت اور کامیابی آئے۔واستو شاستر کے چند اہم اور بنیادی نکات درج ذیل ہیں:

*سمتوں کی اہمیت (دیشا)*

واستو شاسترا  میں چاروں سمتوں (شمال، جنوب، مشرق، مغرب) اور ان کے کونوں کو مخصوص دیوتاؤں اور عناصر سے جوڑا گیا ہے:

*شمال/مشرق(Ishanya)*: اسے سب سے مقدس کونا مانا جاتا ہے۔ یہ پانی کا کونا ہے اور یہاں پوجا کا کمرہ (مندر) یا دھیان لگانے کی جگہ ہونی

چاہیے۔

*واستو پوروش Vastu Purush :*

ہندو روایات کے مطابق، ہر زمین یا عمارت کے اندر ایک کائناتی توانائی موجود ہوتی ہے جسے واستو پوروش(تعمیرات کا دیوتا) کہا جاتا ہے۔

 وہ زمین پر اُوندھے منہ لیٹے ہوتے ہیں، جن کا سر شمال/مشرق میں اور پیر جنوب/مغرب میں ہوتے ہیں۔ عمارت کا نقشہ بناتے وقت واستو پوروش کے مختلف حصوں کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ توانائی کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔

ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ واستو شاسترا کے طرز پر جو عمارت تعمیر نہ کی گئی ہو، اس میں رہنا ، مال دولت میں کمی، جسمانی بیماری اور بسا اوقات موت کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ واستو شاسترا کے اُصول پر بنائے گئے عمارت ماورائے فطرت طاقت کی مدد  حاصل کرنے اور مثبت اندازِ فکر اور تعمیری کاموں میں مدد فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے۔

یہی وجہ ہے  کہ ہندو مندروں میں ایسے بھی مندر ملتے ہیں جنہیں مصنوعی  ٹیلوں پر بنائے گئے ہیں، مثال کے  طور پر:

جگتی:وہ  چبوترہ  یا ٹیلہ ہے جس پر ہندو مندر کھڑا ہوتا ہے، جو اس مقدس مقام کے گرد عمارتی  بنیاد اور زائرین کو  طواف  کرنے کے لئے مخصوص جگہ فراہم کرتی ہے۔مدھیا پردیش کے* کھجوراہو مندر،  کنداریہ کا *مہا دیو مندر،کرناٹک کے *مندر،سومناتھ پور کا *کیشور مندر،اُڑیسہ کے *بھونیشور اور* کونارک مندر۔

گپتا دور (Gupta Period) سے ہی مندروں کو اُونچے چبوتروں پر بنانے کا رواج شروع ہوا تھا۔

۸۔ ایسے تماما مزارات اور قبریں جعلی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ  یہ صاحب محمود غزنوی کی جہاد میں شہید ہوا، اور سر بغل میں دبائے دوڑ رہا تھا، کسی نے دیکھا تو سر کو وہیں پھینکا، اور دھڑ نے دوڑنا  جاری رکھا ، اور پھر وہ بھی کہیں ٹھہر گیا۔ اس طرح اس کے تین قبریں بنیں: ۱۔ خون کا قبر، ۲۔ سر کا قبر، ۳۔ تنے کا  قبر۔

مندیزائی (شبقدر) میں موجود ایک ہی شہید کے نام سے تین مزارات ہیں۔من گھڑت قصہ یہ مشہور کیا گیا ہے کہ محمود غزنوی کے زمانے میں یہ شہید ہوا اور اس کے تین مزارات بنے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ اس کا خون ، جسم اور سر الگ الگ قبروں میں دفن ہے، اور یہ تینوں قبریں ایک دوسرے  سے تقریباً 300، 300 گز کے فاصلے پر واقع ہے۔

پہلی قبر  کوٹک جلہر روڈ پر برلبِ سڑک،،، دوسری  قبرجمع جرگہ قبرستان والی راستے میں مسجد ابراہیم کے عین سامنے، اور تیسری قبر میرے(مؤلف کے)  گھر کے مشرق میں عادل نواز بن یار محمد بن ماصل خان کے گھر کے پیچھے واقع ہے۔

یہ  بکواس بھی مشہور ہے کہ یہ شہید بابا اپنا سر بغل میں پکڑ کر دوڑ رہا تھا، ایک عورت نے اسے دیکھا تو کہا کہ  دیکھو یہ کیا ہے۔ تو بابا  نے سر وہیں گرایا، اور دوڑنا جاری رکھا، اسی طرح اس کا خون ایک قبر میں ، دھڑ دوسری قبر میں اور سر تیسری قبر میں دفن ہے۔یہ سب بکواسات ہیں، اور یہ قبریں جعلی ہے۔

یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ اس بابا کے بارے میں اتنی معلومات تو لوگوں کو معلوم ہیں مگر ان کا نام ، یا اس کی شہادت کا واقعہ اور تاریخ کسی کو معلوم نہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ  1001 عیسوی میں محمود غزنوی نے پشاور  پر حملہ کیا تھا  اور اس  وقت لاہور کے راجہ جے پال اس کے مقابلے پر آیا تھا مگر فتح محمود غزنوی کو ملی تھی۔ مگر اس مقام پر ، یا کتوزائی کے مقام پر جنگ کا کوئی ثبوت نہیں۔

اگر ان قبروں کا فرانزک کیا گیا تو یہ بات یقینی ہے کہ ان میں کسی انسان کی لاش کے دفن کا کوئی ثبوت نہیں ملے گا۔

قارئین! میرا عقیدہ ہے کہ حقیقی اولیاءاللہ رحمہم اللہ ، لائقِ احترام  اور لائقِ پیروی ہے، اور جو بد بخت اصل اولیاء  اللہ کا احترام نہیں کرتے ،  اور ان پر زبانِ طعن دراز کرتے  ہیں، ایسے لوگ  شقی،بد بخت اور اللہ کے عذاب کے مستحق ہیں۔

الحمد للہ! ہم نہ تو حقیقی  اولیاء  اللہ اور شہداء کے منکر ہیں اور نہ   ہی اُن کےگستاخ۔ مگر ساتھ ہی ظاہر ی شکل و صورت سے دھوکہ کھا کر ہرنیلے، پیلے، گلابی ، بلی والے سرکار، کتے والے سرکار،بندروں والے سرکار ،خرکار، بدکار، اداکار ، مکار اور فنکار‘ کو  اللہ کا ولی  بھی نہیں مانتے بلکہ تحریر و تقریر کے ذریعے  ایسے بہروپیوں کا تعاقب کرتے رہیں  گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ہم ہر پیر، فقیر، ملنگ، درویش کی طریقت  اور  اس کے عقائد و اعمال  کو شریعتِ محمدی کی عدالت  پر پیش کرتے ہیں، شریعت پر پورا اُترنے کی صورت میں اُن کا احترام اپنے اُوپر لازم سمجھتے ہیں ۔اور اگر کسی کی طریقت اور عقائد و اعمال شریعت کے خلاف ہو تو ایسے شخص کو بہروپیہ ، ڈرامہ باز ،ابلیس اور ’ولی الشیطان ‘ کہنے میں دیر  اور دریغ نہیں کرتے۔

آخر میں قبر پرستوں کو شرک اور شرک کے نتیجے میں نکاح ٹوٹنے، اور نکاح ٹوٹنے کی صورت میں ساری عمر زنا میں ملوث پہونے سے بچنے کے لئے:

علامہ آلوسی بغدادی حنفی رحمہ اللہ متوفی1270 ہجری قبر پرستانہ عقائد کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’۔۔۔۔اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مقبور و مدفون اولیاء اپنی قبروں سے نکلتے اور مختلف شکلیں اختیار کرتے ہیں، اور ان (جہلاء) کے علماء کہتے ہیں کہ ان اولیاء کی ارواح مختلف شکلیں اختیار کرکے ظاہر ہوتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں آجا سکتے ہیں، اور شیر اور ہرن وغیرہ کی شکلیں اختیارکرلیتے ہیں،(علامہ آلوسی لکھتاہے کہ) یہ سارے عقائد باطل ہیں،قرآن وسنّت میں اور سلف صالحین ہاں ان کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ، اور ایسے ہی جاہلوں نے لوگوں کا دین خراب کرکے یہودیت اور نصرانیت جیسے منسوخ اَدیان اور دہری عقائد والوں کیلئے نشانِ تضحیک بنے ہوئے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ( ایسے گندے عقائد سے بچاؤکی) دعااور عفو طلب کرتے ہیں۔‘‘ (تفسیر روح المعانی ،تفسیر سورت حج،آیت:77 )

ہمارے گاؤں مندیزائی میں ان جعلی مزارات کے بارے میں قبر پرستوں کا عقیدہ ہے کہ اولیاء کے مزارات میں پانی کے بوتل رکھا کرو ،اس لئے کہ اولیاء رات کو قبروں سے نکلتے اور اس پانی کو دَم کرتے ہیں۔

 فقہاء احناف کا فتوی ہے :

قَالَ عُلَمَاؤُنَا مَنْ قَالَ أَرْوَاحُ الْمَشَايِخِ حَاضِرَةٌ تَعْلَمُ يَكْفُرُ

’’ہمارے علماء(احناف) نے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ بزرگوں کی روحیں حاضر ہیں اور وہ سب کچھ جانتی ہیں ایسا شخص کافر ہے۔‘‘(بحرالرائق شرح کنزالدقائق، باب احکام المرتدین)

تحریر و تحقیق: اکبر علی خان۔۔ میرا ویب سائٹ دیکھئےwww.tauheedosunnat.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top