اولیاء اللہ کی نذر ماننا شرک ہے جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے

نذر، نیاز، منَّت  اور پشتو میں منحتہ عبادت ہے

 اللہ عز وجل کے رضا کیلئے کئے گئے افعال یا اعمال عبادت ہے۔اس لئے نذر بھی عبادت ہے ،جو اللہ عز وجل کے ماسوا یعنی مخلوق میں سے کسی کیلئے،حتی کہ انبیاء علیہم السلام کے نام پر بھی نہیں مانی جاسکتی ،اس لئے کہ غیراللہ کا نذر یا منت ماننا شرک ہے ۔

 شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ :

‘‘شرک کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے اپنی حاجتوں میں مدد طلب کریں جیسے امراض کیلئے شفاء، یا محتاج کیلئے مالداری ۔اور اس کی نذر و منت مانیں اور اُمید رکھیں کہ ہماری نذر سے مرادیں پوری ہوں گی،یاان (غیراللہ) کے ناموں کا وظیفہ بنالیں (جیسے یا عبدالقادر شیئاً للہ۔مؤلف)۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نماز میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِین پڑھنے کا حکم دیا۔’’(حجۃ اللہ البالغۃ،فصل اقسامِ شرک)

 قاسم بن قطلوبغا حنفی رحمہ اللہ متوفی879؁ ہجری شرح دررالبحار میں لکھتے ہیں :

﴿وَالنَّذر لِلْمَخلُوق لَا ےَجُوز لِاَ نَّہ’ عِبَادَۃ وَالعِبَادَۃ لَا تَکُون لِمَخلُوق﴾

‘‘مخلوق کیلئے نذر ماننا جائز نہیں کیونکہ یہ عبادت ہے اور عبادت مخلوق کیلئے جائز نہیں۔’’

مولانا سید نورالحسن شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:

‘‘نذر عبادت ہے لہٰذا یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے ، اور غیراللہ کیلئے نذر و منت جائز نہیں ،حرام ہے ، شرک ہے ۔’ ’

 آگے طاہر بن احمد حنفی رحمہ اللہ متوفی 542؁ہجری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

﴿اَلنَّذر لِغَیرِاللّہِ حَرَام‘’ لِاَ نَّہ’ مِن اَنوَاعِ الکُفرِ،اِنَّ ھٰذَا عِبَادَۃ وَالعِبَادَۃ لِغَیرِاللّہِ کُفر﴾

‘‘غیر اللہ کی نذر حرام ہے ،کیونکہ یہ کفر کی ایک قسم ہے ۔ اس لئے کہ یہ عبادت ہے اور غیراللہ کی عبادت کفر ہے۔’’ (توحید اور شرک کی حقیقت ،ص: 337)

خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1253؁ ہجری اور علامہ ابن نجیم حنفیرحمہما اللہ متوفی 970؁ ہجری اس ضمن میں یوں رقمطراز ہے:

﴿وَالنَّذر لِلْمَخلُوق لَا ےَجُوز لِاَ نَّہ’ عِبَادَۃ وَالعِبَادَۃ لَا تَکُون لِمَخلُوق﴾

‘‘مخلوق کیلئے نذر ماننا جائز نہیں کیونکہ یہ عبادت ہے اور عبادت مخلوق کیلئے جائز نہیں۔’’( ردالمحتار ،کتاب الصوم،مطلب فی النذور۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بحرالرائق باب ما یوجبہ العبد)

نذر ومنت کے صحیح ہونے کے شرائط

مرادیں پوری ہونے کیلئے نذر کا ماننا ضروری نہیں مگر جائز ہے جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہوا مگر ایک با ر ماننے کے بعد اس کا پورا ہونا واجب ہوجاتا ہے مراد پوری ہونے کے بعد۔اور یہ بھی کہ اس کے حدود و قیود کو اپنی طرف سے متعین نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے بارے میں شریعت کے حدود و قیود پر عمل کرنا لازم ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ نذر کن چیزوں کی مانی جا سکتی ہے ۔ان کو نذر یا منت کی شرائط کہہ سکتے ہیں ۔فتاوی عالمگیری میں اس کیلئے چار شرائط کا ذکرکیا گیا ہے :

﴿الاصل ان النذر لا یصح الا بشروط احدہا: ان یکون الواجب من جنسہ شرعا فلذلک لم یصح النذر بعیادۃ المریض۔والثانی: ان یکون مقصودًا لا وسیلۃً فلم یصح النذر بالوضوء و سجدۃ التلاوۃ۔والثالث: ان لا یکون واجبًا فی الحال و فی ثانی الحال فلم یصح بصلاۃ الظہر وغیرہا من المفروضات و ہکذا فی النہایۃ۔والرابع : ان لا یکون المنذور معصیۃً باعتبار نفسہ ہکذا فی البحر الرائق﴾

ترجمہ:‘‘نذر شروط کے بغیر صحیح نہیں:

پہلی :یہ کہ جس چیز کی نذر مانی جائے ،اس کی اصل شریعت میں واجب ہو، اس لئے مریض کی بیمارپرسی کا نذر صحیح نہیں ۔(اس  لئے کہ مریض کی عیادت شرعا واجب نہیں)۔

دوسری : یہ کہ وہ چیز  مقصود  بالذات ہو ،مقصود کیلئے وسیلہ نہ ہو جیسے وضوء یا سجدہ تلاوت(جوکہ خود مقصود نہیں بلکہ مقصود کے وسائل ہیں )۔

تیسری: یہ کہ جس چیز کی نذر مانے ، وہ فی الحال یا کسی اور میں واجب نہ ہو۔پس اگر کوئی ظہر کی نماز یا کسی اور نماز کی نذر مانے تو صحیح نہیں ہوگی، اور اسی طرح(النہایۃ) نامی کتاب میں بھی ہے۔

چوتھی: یہ کہ جس چیز کی نذر مانے وہ اپنی ذات میں گناہ کا کام نہ ہو ۔اسی طرح (بحرالرائق شرح کنزالدقا)میں بھی ہے ۔ ‘‘ (فتاوی عالمگیری ،باب السادس فی النذور)

……مثلاً دونوں عید کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے اس وجہ سے ان دنوں میں روزہ رکھنا گناہ ہے اس لئے کوئی عید کے دن روزہ رکھنے کی نذر نہ مانے۔لیکن اگر کوئی اس دن روزہ رکھنے کی نذر مانے اور اس دن روزہ رکھ بھی لے تو اگرچہ نذر ادا ہوئی مگر گ اس کے ساتھ گناہ گار ہوا ۔(دیکھئے ردالمحتار، کتاب الایمان)

……اسی طرح ایسی چیز کی نظر بھی نہ ہوجس کاہونا ناممکن ہومثلا ً کوئی کہے کہ اگر میرافلاں کام ہو جا ئے تو گزری  کل کا روزہ رکھوں گا، تو ایسی نذر صحیح نہیں اس لئے کہ گزری  کل کا روزہ رکھنا ممکن نہیں۔(فتاوی عالمگیری ،باب السادس فی النذور)

مولانا رفعت قاسمی صاحب مدرس دارالعلوم دیوبند (آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد3 ، ص: 425,419 ) کے حوالہ سے لکھتے ہیں:

مسئلہ: شرعاً منت مانناجائز ہے مگر منت ماننے کی چند شرطیں ہیں:

 .1 اول یہ کہ منت اللہ تعالیٰ کے نام کی مانی جائے ،غیراللہ کے نام کی منت جائز نہیں بلکہ گناہ ہے۔ .2 یہ کہ منت صرف عبادت کے کام کی صحیح ہے ،جو کام عبادت نہیں اس کی منت بھی صحیح نہیں۔

.3 سوم یہ کہ عبادت بھی ایسی ہو کہ اس طرح کی عبادت کبھی فرض یا واجب ہوتی ہے ،جیسے نماز، روزہ،حج اور قربانی وغیرہ ۔ایسی عبادت کہ اس کی جنس کبھی فرض یا واجب نہیں ، اس کی منت بھی صحیح نہیں۔’’( بحوالہ مکمل و مدلل مسائل شرک و بدعت، ص: 93)

مثلاًاگر کوئی یوں کہے کہ:……اگر میرا بیٹا بیماری سے ٹھیک ہوگیا، یا میرے بیٹے کو نوکری مل گئی،یا میرا بچھڑا بیٹا واپس آگیا ، تو میں فلاں ولی رحمہ اللہ کے مزار پر غلاف چڑھاؤں گا، یا اس کے قبر پر جھاڑوں دوں گا ۔ (ان کاموں کی تفصیل آگے آرہی ہے) تو یہ سب کام چونکہ عبادت کے جنس میں سے نہیں ہے اس لئے ایسی نذر کا ماننا صحیح نہیں اور جب نذر صحیح نہ ہوئی تو اس کاپورا کرنا بھی لازم نہیں ۔اگر پورا کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔…… یاکوئی یوں کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے تو:…… خواجہ رحمہ اللہ کے مزار پر ناچ کروں گی تو ایسے گناہ کے نذر کا پورا کرنا بھی لازم نہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔

مسئلہ:صرف کسی بات کا دل میں خیال آنے سے منت نہیں ہوتی ، بلکہ زبان سے ادا کرنے کے ساتھ ہوتی ہے۔’’ ( بحوالہ مکمل و مدلل مسائل شرک و بدعت، ص: 93)

غیراللہ کی نذر ماننا حرام ہے ،خواہ نذر نبیﷺ کے نام پرکیوں نہ ہو

غیراللہ کی نذر کا حرام ہونا قرآن سے ثابت ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿حُرِّمَتْ عَلَیکُمُ المَیتَۃَوَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیرَ وَمَا اُہِلَّ لِغَیرَاللّٰہِ بِہ ﴾ ( المائدہ:3)

ترجمہ:‘‘تم پر مردار حرام کیا گیا ، اور خون اور خنزیر کا گوشت،اور جو خدا کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا گیا ہو ۔’’

اسی طرح سورت بقرہ آیت:173میں بھی اس کی حرمت ان الفاظ میں آئی ہے:

﴿اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیکُمُ المَیتَۃَوَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیرَ وَمَا اُہِلَّ بہٖ لِغَیرَاللّٰہِ﴾ ( البقرۃ:173)

‘‘تم پر مردار حرام کیا گیا ……مردار اور ……خون اور ……خنزیر کا گوشت،اور ……جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا گیا ہو ۔’’

اس آیت کی تفسیر میں علامہ شوکانی متوفی1250ہجری لکھتے ہیں:

﴿والمراد ھنا:ما ذکر علیہ اسم غیر اللہ کاللات والعزّی اذا کان الذابح وثنیاً،والنار اذاکان الذابح مجوسیاً، ولا خلاف فی تحریم ھذا۔و مثلہ مایقع من المعتقدین للاموات من الذبح علی قبورہم فانہ مما اُہِلَّ بہٖ لِغَیرَاللّٰہِ و لا فرق بینہ و بین الذبح للوثن﴾ (فتح القدیر،سورت بقرۃ،آیت:173)

‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس جانور پر غیراللہ کانام لیاجائے اگر ذابح بت پرست ہو، یا اسے آگ کے نام ذبح کیاجائے اگر ذابح مجوسی یعنی آتش پرست ہو،اور اس کے حرام ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔اور اس کی مثال وہ ذبیحے بھی ہیں جو بزرگوں کے معتقدین ان کی قبروں پر ذبح کرتے ہیں اسلئے کہ وہ بھی اُہِلَّ بہٖ لِغَیرَاللّٰہِمیں داخل ہیں،اور ان میں اور بت پرستوں کا بت کے نام ذبح کرنے میں کوئی فرق نہیں۔’’

امام فخرالدین رازی متوفی606؁ ہجری تفسیر کبیر میں اور اما م ا براہیم بن اسماعیل متوفی303؁ ہجری رحمہم اللہ تفسیر نیشاپوری میں لکھتے ہیں:

﴿قَالَ العُلَمَاء لَو اَنَّ مُسلِماََ ذَبَحَ ذَبِیحَۃ وَ قَصَدَ بِہَا التَّقَرُب اِلٰی غَیرِاللّہِ صَارَ مُرتَدًاوَ ذَبِیحَتُہ’ ذَبِیحَۃ مُرتَد﴾ (تفسیر کبیر۔۔۔۔۔۔تفسیر نیشاپوری،سورت بقرہ:173)

‘‘علماء نے کہا ہے کہ اگر مسلمان نے کسی ذبیحہ کو ذبح کیا اور اس ذبح سے غیراللہ (ولی ، شہید ، بزرگ )کے تقرب کا ارادہ کیا ،وہ مرتد ہوگیا اور اس کا ذبیحہ ایک مرتد کا ذبیحہ ہے۔’’ (اور مرتد کا ذبیحہ کھانا حرام ہے )۔

اس آیت کی تفسیر میں شاہ ولی اللہ کے فرزند شاہ عبدالعزیز دہلوی متوفی1239ہجری رحمہما اللہ کی تفسیر اور مزید وضاحت ص:100پر بھی آرہی ہے۔

……ابو طفیل علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

﴿لَعَنَ اللّٰہُ مَن ذَبَحَ لِغَیرِ اللّٰہِ ﴾ (مسلم،کتاب الاضاحی ،باب تحریم الذبح لغیراللہ تعالیٰ و لعن فاعلہ)

‘‘جو شخص غیراللہ کیلئے جانور ذبح کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔’’

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top