جعلی حَسَنی حُسَینی ہاشمی سادات کے شجروں کا آپریشن
پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ کا شجرہ نسب
پیر مہر علی شاہ کا یہ شجر مہر منیر نامی کتاب سے لیا گیا ہے جو فیض احمد فیض جامعہ غوثیہ گولڑہ کی کتاب ہے۔ اور اس میں پیر مہر علی شاہ
کی نسب کو حسنی حسینی سیِّد ظاہر کرنے لئے ص:13 سے 16 تک من گھڑت خواب اور اَگھتے بگھتے اور اناپ شناپ بیان کیا گیا ہے۔
۱۔ مہر علی شاہ بن، ۲۔ نذردین شاہ بن، ۳۔ غلام شاہ بن ، ۴۔ روشن دین بن ، ۵۔ عبدالرحمن بن، ۶۔ عنایت اللہ شاہ بن،
۷۔ غیاث علی شاہ بن، ۸۔ فتح اللہ بن، ۹۔ اسداللہ بن، ۱۰۔ فخرالدین بن، ۱۱۔ احسان بن، ۱۲۔ درگاہی بن، ۱۳۔ جمال علی بن،
۱۴۔ محمد جمال بن، ۱۵۔ ابی محمد بن، ۱۶۔ میراں محمد کلاں بن، ۱۷۔ میراں شاہ بن، ۱۸۔ ابوالحیات بن، ۱۹۔تاج الدین بن،
۲۰۔ بہاء الدین بن، ۲۱۔ جلال الدین بن، ۲۲۔ داؤد بن، ۲۳۔ علی بن، ۲۴۔ ابو صالح ناصر بن،
۲۵۔ عبدالرزاق جیلانی، تاج الدین ابوبکر بن، ۲۶۔ عبدالقادر جیلانی بن، ۲۷۔ ابو صالح بن، ۲۸۔ عبداللہ جیلی بن،
۲۹۔ یحییٰ زاہد بن،۳۰۔ شمس الدین زکریا بن، ۳۱۔ ابو بکر داؤد بن، ۳۲۔ موسیٰ ثانی بن، ۳۳۔ عبداللہ صالح بن،
۳۴۔ موسیٰ الجون بن، ۳۵۔عبداللہ محض بن، ۳۶۔حسن مثنّٰی بن، ۳۷۔سیدناحسن بن، ۳۸۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہم۔
دوسرا شجرہ: والدہ کی نسبت سے
۱۔ معصومہ موصوفہ بنتِ۲۔ بہادر شاہ بن۳۔ شیر شاہ بن۴۔ چراغ شاہ بن۵۔ امیر شاہ بن۶۔ عبداللہ شاہ بن
۷۔ مبارک شاہ بن۸۔ حسین شاہ بن۹۔ امیر شاہ بن۱۰۔ محمد مقیم شاہ بن ۱۱۔عبدالمعالی بن۱۲۔ نور شاہ بن
۱۳۔ لعل بہاء الدین عرف بہاول شیر قادری سکنہ حجرہ شام مقیم بن۱۴۔ محمود بن ۱۵۔ علاء الدین بن
۱۶۔ مسیح الدین بن ۱۷۔ صدرالدین بن۱۸۔ ظہیرالدین بن۱۹۔ شمس العارفین قادری بن ۲۰۔ مومن بن
۲۱۔ مشتاق بن۲۲۔ علی بن ۲۳۔ابو صالح نصر بن۲۴۔ تاج الدین عبدالرزاق بن۲۵۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ۔
ان شجروں میں جعلسازی اور غلطیاں
۱۔ پہلے شجرے میں پہلی غلطی: 22ویں، 23ویں اور 24 ویں پشت میں، اور دوسری غلطی: 31 ویں اور 31 ویں پشت میں ہیں:
۲۔ اس شجرہ میں شیخ عبدالقادرر جیلانی کے پوتے کا نام ابو صالح نصر، اور پڑ پوتے کا نام علی ہے،اور علی کے بیٹے کا نام داؤد دکھایا گیا ہے۔ مگر ابو صالح نصر کے گھر علی نام کا پیٹا پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ سر الاسرار و مظہر الانوار فیما یحتاج اِلیہ الابرار کا مصنف لکھتا ہے:
ذکر اولاد ابوصالح نصر بن عبدالرزاق بن رحمہم اللہ
آپ کی اولاد میں ایک بیٹا ابو موسیٰ یحییٰ بن نصر بن عبدالرزاق اور دوسرا ابو نصر محمد بن نصر بن عبدالرزاق ہیں۔
اور ابو نصر محمد بن نصر کے تین بیٹے تھے:
شیخ عبدالقادر ثانی بن محمد بن نصر، ۲۔ عبداللہ بن محمد بن نصر، اور ۳۔ شیخ احمد بن محمد بن نصر، ابو سعود ظہیرالدین۔
ظہیرالدین ابو سعود احمد کا جانشین شیخ سیف الدین یحییٰ بن احمد بن محمد بن نصر بن عبدالرزاق بن عبدالقادر جیلانی
ر حمہم اللہ ہے۔ (سر الأسرار و مظهر الأنوار فيما يحتاج إليه الأبرار،ج:1،ص:257،255)
مذکورہ بالا عبارت کے مطابق نصر بن عبدالرزاق کے صرف دو ہی بیٹے تھے: ابو موسیٰ یحییٰ ،اور ۲۔ ابو نصر محمد۔
نزھۃ الخواطر ، عبدالحئی لکھنوی متوفی 1341 ہجری اور سبط ابن جوزی متوفی 654 ہجری کے مطابق :
ابو صالح نصربن عبدالرزاق بن عبدالقادر جیلانی حمہم اللہ کے تین بیٹے تھے:
۱۔ محمد بن نصر، ۲۔ یحییٰ بن نصر، ۳۔ احمد بن نصر۔ (طبقات الحنابلہ لابن رجب حنبلی ۔۔۔بتحقیق محمد بن عثیمین)
برزالی رحمہ اللہ متوفی 739 ہجری اور نجم الدین محمد بن محمد الغزی متوفی 1061 کے مطابق :
محمد بن نصر کے دو بیٹے تھے:۱۔ عبد اللہ بن محمد بن نصر، ۲۔ احمد بن محمد بن نصر۔
(الکواکب السائرۃ باعیان المئۃ العاشرۃ، ج: 2، ص:138۔۔۔ تاریخِ برزالی،ج: 3،ص:383)
لہذا نہ ہی ابو صالح نصر کے بیٹوں میں علی نام کا کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے پوتوں میں داؤد نام کا کوئی پوتا ہے۔
اسی طرح والدہ والی شجرہ میں ابو صالح نصر کے پوتےکانام مشتاق دکھایا گیا ہے مگر جب ابو صالح نصر کا علی نام کا بیٹا ہی نہیں تھا
تو اس کے بیٹے مشتاق کی وجود کہاں سے ثابت ہوسکتی ہے۔
مشتاق عجمی نام ہے ، عرب میں مشتاق نام رکھنے کا رواج ہی نہیں۔ ان حضرات کے ناموں کے ساتھ یا ان ناموں کے
بغیر پورا مکتبۃ الشاملۃ اور انٹرنیٹ پر پورا گوگل سرج کیجئے ، ان حضرات کی اولاد و اَحفاد میں مشتاق نام کا بندہ
نہیں ملے گا۔اس لئے یہ شجرہ جعلی اور من گھڑت ہے۔
۳۔ تیسری بات یہ کہ داؤد بن موسیٰ ثانی کی اولاد میں شمس الدین زکریا نام کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔
۴۔ چوتھی بات یہ کہ 26ویں پشت پر پیر مہر علی شاہ اپنا نسب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تک پہنچاتا ہے۔
اس لئے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا معتبر کتب طبقات و رجال میں شیخ جیلانی رحمہ اللہ کا شجرہ ،پیر مہر علی شاہ کے شجرے
کے ساتھ ہم آہنگ ہے یا نہیں؟
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ جیلانی رحمہ اللہ کے شجرہ میں جو يحيى زاهد بن محمد بن داؤد ہے، وہی پیر مہر علی کے شجرہ میں
یحییٰ زاھد بن شمس الدین زکریا بن ابو بکر داؤد ہے جو کہ غلط اور مستند کتب اَنساب و رجال کے خلاف ہے۔
لہذاپیر مہر علی شاہ کے اَجداد نے ہندوستان سے ہجرت کرکے دوسرے صوفیاء کی طرح جعلسازی کرکے خود کو حَسَنی
ہاشمی سیِّد ثابت کیا ہے جوکہ ایک لعنتی فعل ہے۔
نیچے ہم امام حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہم سے محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی تک کی اولاد کی پوی تفصیل دیں گے
تاکہ واضح ہوسکے کہ داؤد بن موسیٰ ثانی کا زکریا نام کا بیٹا تھا ہی نہیں۔
امام حسن بن سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کی اولاد
مصعب زبیری رحمہ اللہ متوفی 236 ہجری کے مطابق امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے 11 بیٹے تھے:
۱۔ حسن مثنیٰ ، ۲۔ زید ، ۳۔ عمرو، ۴۔ قاسم، ۵۔ ابوبکر، ۶۔ عبدالرحمن، ۷۔ حسین اثرم ، ۸۔ طلحہ، ۹۔حسین اکبر،
۱۰۔ محمد ابو جعفر، ۱۱۔ عبیداللہ۔ (نسب قریش)
ابن سعد رحمہ اللہ کے مطابق حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کی اولاد
ابن سعد متوفی 230 ہجری کے مطابق حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے چودہ بیٹے تھے:
۱۔ محمد اصغر، ۲۔ جعفر، ۳۔ حمزہ، ۴۔ محمد اکبر، ۵۔ زید، ۶۔ اسماعیل، ۷۔ یعقوب، ۸۔ قاسم، ۹۔ ابوبکر،
۱۰۔ عبداللہ، ۱۱۔ حسین اثرم،۱۲۔ عبدالرحمن ، ۱۳۔عمر، ۱۴۔طلحہ۔اسی طرح عمر اور طلحہ کی اولاد بھی نہیں رہی۔
ان میں قاسم ، ابوبکر اور عبداللہ کربلا میں شہید ہوئے اس لئے ان کی اولاد نہیں رہی۔ (طبقات الکبریٰ)
بحرالانساب و مشجرالکشَّاف کے مطابق حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کی اولاد
’’کہا جاتا ہے کہ حسن بن علی کے پندرہ بیٹے تھے:
۱۔حسن (مثنّٰی)، ۲۔ زید، ۳۔ عمر، ۴۔ حسین، ۵۔ عبداللہ، ۶۔ عبدالرحمن، ۷۔عبداللہ،۸۔ اسماعیل، ۹۔ محمد،
۱۰۔ یعقوب، ۱۱۔ جعفر، ۱۲۔ طلحہ، ۱۳۔حمزہ، ۱۴۔ ابوبکر، ۱۵۔ قاسم۔اور اب تک اس کی اولاد زید اور حسن مثنیٰ سے ہے،
جبکہ عمر، قاسم اور عبداللہ اپنے چچا حسین بن علی کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔ (بحرالانساب ومشجر الکشَّاف،ص:241)
حسن مثنیٰ بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم کی اولاد
حسن مثنیٰ کی اولاد،مصعب زبیری متوفی 236 ہجری کے مطابق :
۱۔ محمد، ۲۔ عبداللہ (محض)، ۳۔ حسن، ۴۔ ابراہیم، ۵۔ جعفر، ۶۔ داؤد
عبداللہ محض بن حسن مثنیٰ رحمہم اللہ کی اولاد
موسوعۃ ا القبائل العربیہ کے مطابق امام حسن بن علی کے پوتے اور حسن مثنیٰ کے بیٹے عبداللہ المحض کے چھ بیٹے تھے:
۱۔محمد نفس زکیہ،۲۔یحیی ،۳۔ ابراہیم،۴۔ سلیمان،۵۔ ادریس، ۶۔موسیٰ الجون۔
موسیٰ الجون کی اولاد
موسیٰ الجون کے تین بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں میں محمد ( درج، لا ولد)، ابراہیم اور عبداللہ ہیں۔
ابراہیم اور عبداللہ سے اس کی نسل پھیلی۔ عبداللہ ،خلیفہ متوکل کی عہد خلافت میں 247 ہجری میں فوت ہوئے۔‘‘
(موسوعۃ القبائل العربیہ۔۔۔عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:102)
عبداللہ صالح یا عبدالشیخ صالح بن موسیٰ الجون کی اولاد
’’عبداللہ (مُلَقَّب عبدالشیخ صالح) بن موسیٰ الجون بن عبداللہ المحض کے بائیس بیٹے تھے:
۱۔ عبدالحمید، ۲۔ عبدالکریم، ۳۔ عبدالحکم، ۴۔ عبداللہ، ۵۔ موسیٰ (ثانی)، ۶۔ عیسیٰ، ۷۔ محمد، ۸۔ یحییٰ،
۹۔ اسماعیل، ۱۰۔ احمد، ۱۱۔ علی، ۱۲۔ حسن، ۱۳۔ حسین، ۱۴۔ حمزہ، ۱۵۔نعمۃ، ۱۶۔ رحمۃ، ۱۷۔ زیادۃ، ۱۸۔ محمود،
۱۹۔ موھوب، ۲۰۔ ردینی، ۲۱۔ ابو الطیب، ۲۲۔ ابوالقاسم، ۲۳۔ عریقۃ۔‘‘ (جَمہرۃ انسابِ العرب، ص:47)
مگر ابن عنبۃ کے مطابق عبداللہ صالح کی نسل اس کے پانچ بیٹوں سے چلی:
’’۱۔ موسیٰ ثانی، ۲۔ سلیمان، ۳۔ احمد مسور، ۴۔یحییٰ سویقی، اور ۵۔ صالح۔‘‘ (عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:105)
موسیٰ ثانی (متوفی 288 ہجری ) بن عبداللہ محض بن موسیٰ الجون کی اولاد
شیعہ عالم ابن عنبۃ متوفی 828 ہجری لکھتے ہیں:
’’ابو عمر موسیٰ ثانی بن عبداللہ بن موسیٰ الجون۔۔۔۔۔اس کے اٹھارہ بیٹے پیدا ہوئے:
۱۔ عیسیٰ، ۲۔ ابراہیم، ۳۔ حسین اکبر، ۴۔ سلیمان، ۵۔ اسحاق، ۶۔ عبداللہ ، ۷۔ احمد، ۸۔ حمزہ، ۹۔ ادریس،
۱۰۔ یوسف، ۱۱۔ محمد اصغر، ۱۲۔ یحییٰ، ۱۳۔ صالح، ۱۴۔ حسین اصغر، ۱۵۔ حسن، ۱۶۔ علی ، ۱۷۔ داؤد، ۱۸۔ محمد اکبر،
۱۸۔ محمد اکبر۔۔۔۔عیسیٰ کی اولاد نہیں تھی۔اور حسین اکبر کی اولاد کو کوئی ذکر نہیں ملتا۔
ابراہیم، سلیمان، اسحاق، عبداللہ ،احمد، حمزہ، محمد اصغر(عربی) اور حسین اصغر کی اولاد ختم(معدوم) ہوئی۔۔۔۔
اور موسیٰ ثانی کی نسل اس کے سات بیٹوں سے پھیلی:
۱۔ ادریس، ۲۔ یحییٰ، ۳۔ صالح،۴۔ حسن، ۵۔ علی،۶۔ داؤد، اور ۷۔ محمد اکبر۔۔۔۔
(عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:114 تا 116)
ابن فندق رحمہ اللہ متوفی 565 ہجری لکھتے ہیں:
ﵟحمزة وعبد الله وإبراهيم وسليمان بنو موسى الثاني، لا عقب لهم. إبراهيم بن موسى بن عبد الله بن موسى، انقرض عقبه .الحسن بن موسى الثاني، لا عقب له. سليمان بن موسى الثاني، درج ولم يكن له عقبﵞ
’’(موسیٰ ثانی کے ) بیٹوں حمزہ، ابراہیم، عبداللہ اور سلیمان کی اولاد نہیں تھی۔ابراہیم کی اولاد ہوئی تھی جو بعد میں ختم ہوئی۔حسن بن موسیٰ ثانی کی بھی اولاد نہیں تھی۔سلیمان بن موسیٰ ثانی بے اولاد مرے تھے۔‘‘ (لباب الانساب والالقاب والاعقاب، ص:39)
داؤد (متوفی 321 ہجری )بن موسیٰ ثانی کی اولاد
داؤد بن موسیٰ ثانی کی اولاد اس کے دو بیٹوں: ۱۔ محمد، اور ۲۔حسن سے پھیلی۔۔۔۔اس کا ایک تیسرا بیٹا موسیٰ بھی تھا جس کی اولاد ہوئی ، مگر معدوم ہوئی۔‘‘
(عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:114 تا 116۔۔۔۔ الفخری فی انساب الطالبین، ج:1،ص:91)
لہذا داؤد بن موسیٰ ثانی بن عبداللہ صالح بن موسیٰ الجون کا شمس الدین زکریا نام کا بیٹا نہیں تھا بلکہ اس کے صرف تین ہی بیٹے تھے جن میں دو سے اس کی نسل چلی ، اور تیسرے کی نسل ختم ہوئی۔
محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی کی اولاد
شیعہ ماہرِ انساب ابن عنبۃ متوفی 828 ہجری کے مطابق محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی کے پانچ بیٹے ہوئے:
۱۔ علی، ۲۔ عبداللہ صلصیل، ۳۔ احمد، ۴۔ ابو اللیل حسن، اور ۵۔ یحییٰ۔ (عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:117)
یحییٰ بن محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی کی اولاد
شیعہ ماخذ کے مطابق یحییٰ بن محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی کے تین بیٹے ہوئے:
۱۔ محمد، ۲۔ احمد، اور ۳۔ علی۔ (عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:117)
محمد بن یحییٰ بن محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی کی اولاد
محمد بن یحییٰ بن محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی کے دو بیٹے ہوئے:
۱۔ یحییٰ، ۲۔ عبداللہ۔ (عمدۃ الطالب فی نسب آل ابی طالب،ص:117)
اور لگتا یہی ہے کہ شیخ صاحب کے شجرے میں یحییٰ کا بیٹا محمد بن یحییٰ ہے جس کی کنیت ابو عبداللہ ہے، اور نام (محمد) کی بجائے اس کو ابوعبداللہ بن یحییٰ مشہور ہوگیا ہے ۔ اور اسی لئے تاریخ ابن وردی متوفی 749 ہجری کے شجرے میں ابو عبداللہ بن یحییٰ بن محمد بن داؤد بن موسیٰ لکھا گیا ہے۔
نسب تبدیل کرنے پر وراد شدہ وعیدیں
عجمی طریقت و تصوف کے جعلی اور من گھڑت دنیا کے کارنامے تو بے شمار ہیں مگر اس کے ساتھ اس کام میں بھی یہ لوگ کبھی پیچھے نہیں رہے جس کام کے بارے میں رسول اللہ سے صریح الفاظ میں لعنت کی وعید سنائی گئی ہے۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے سنا ، آپ ﷺنے فرمایا:
ﵟمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌﵞ
جس نے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کو اپنا باپ بنانے کا دعوی کیا اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہے۔‘‘(بخاری:6385)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ﵟلَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌﵞ
’’ اپنے ماں باپ سے مت پھرو۔ جس نے اپنے باپ سے اپنا نسبی تعلق کاٹا وہ کافر ہے۔ (بخاری:6386)
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
ﵟلَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ -وَهْوَ يَعْلَمُهُ- إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِﵞ
’’جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا۔اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی(نسبی) تعلق نہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ (بخاری:3508)
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ متوفی852ہجری فرماتے ہیں:
’’اس حدیث میں جانتے بوجھتے کسی معروف نسب سے تعلق کا دعوی کرکے اغراض و مقاصد حاصل کرنا حرام ہے۔‘‘
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ﵟمَنِ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَﵞ
’’جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور نسب سے خود کو ظاہر کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘ (ابن ماجہ:2609)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ﵟمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِﵞ
’’ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ اپنا نسب جوڑا تو اس پر قیامت تک کے لئے مسلسل اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔‘‘ (ابو داؤد:5115)
عبداللہ ابن عمر و رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
ﵟمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ ريح الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِئَةِ عَامٍﵞ
’’جس نے خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی غیر سے منسوب کیا تو اس پر جنت کی بُو بھی حرام ہے حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سوسال کی دوری سے محسوس ہوتی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ:2611)
اسلام میں نسب تبدیل کرنے سے سختی سے منع فرمایاگیا ہے اور ایسے لوگوں پر مذکورہ تین احادیث میں لعنت بھیجی گئی ہے۔ مگر شروع سے آج تک جعلی اور خودساختہ سادات جعلی شجرے بنا بناکر سادات کا روپ دھار چکے ہیں۔ جن کی تعداد اصلی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔
میرے گاؤ ں میں بھی ایسے لوگو موجود ہیں جن کے ساتھ میرا ذاتی نسب کا رشتہ ہے، مگر وہ پیر کے کہنے پر نام کے ساتھ ’’شاہ‘‘ کا لاحقہ لگا کر سید بنے ہیں۔
اگر میں’سیِّد‘ نہیں ہوں تو میرا کوئی عزیز ،رشتہ دار کیسے سیِّدبن سکتا ہے؟ اگر کسی کا نہ باپ سیِّدہے اور نہ ہی ماں، اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ زاہد علی خان کے نام سے گزارے ، اور پھر اچانک وہ اپنے پیر کے کہنے پر نام کے ساتھ’شاہ‘لگاکر’’زاہد علی شاہ‘‘ بن جائے تو ایسا شخص دنیاوی اغراض کے لئے نسب تبدیل کرنے کا شرعی مجرم اور لعنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔پھر یہ بہروپئے اور ڈرامہ باز اپنا علاقہ چھوڑ کر کسی دوسرے دور دراز علاقے بالخصوص پنجاب اور سندھ منتقل ہوجاتے ہیں اور وہاں لوگوں کو اپنے جعلی باپ دادا کے جعلی اور من گھڑت قصے سناکر اُن سے زمینیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ اسلام کے پہلی صدی ہجری میں شروع ہوا تھا اور آج 2026 سے ساٹھ ستر سال تک خوب دھڑلے سے جاری تھا، مگر اب بہت کم ہوچکاہے، اور اب وہ لوگ ایسا کرتے ہیں جو سب سے زیادہ بے حیاء اور بے شرم ہو۔پختون قبیلوں سے تعلق رکھنے والے کئی پیروں نے پنجاب وغیرہ میں جاکر خود کو سیِّد مشہور کرایا اور نام کے ساتھ ’شاہ‘ لگاکراب اُن کی اولاد دمزے کر رہے ہیں ، جاگیریں ملی جس کو خودساختہ نام ’’سیرئی‘‘دیا۔ آستانے ملے، نقدی مل رہی ہے، بغیر محنت نوابوں والی زندگی گزارتے ہیں۔ پنجاب میں نام کےساتھ ’سیِّد‘ اور’شاہ ‘کو ایک الگ پروٹوکول ملتا ہے۔
قارئین!اگر مریدخالی ہاتھ آستانوں پر جانا شروع کرے، بلکہ آستانے سے ایک کپ چائے پینا بھی ’بطورِ تبرک‘ضروری سمجھے تو ایک ماہ کے اندر آستانے کا گدی نشین ڈنڈا ہاتھ میں لئے آستانے کے دروازے سے ہی آنے والوں کو مار مار کر بھگاناشروع کر دے گا۔
ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار خطبہ دیا اور فرمایا:
ﵟخَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ(قَالَ:وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ) فَقَدْ كَذَبَ» فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا: قَالَ النَّبِيّﷺ…..وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًاﵞ
’’جس نے یہ گمان کیا ہم(اہلِ بیت) کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی کتاب ہے جسے ہم(دوسروں کے علاوہ) پڑھتے ہیں، ماسوائے اس صحیفہ کے تو اس نے جھوٹ بولا۔(اور وہ صحیفہ آپ کے تلوار کے میان میں رکھی ہوئی تھی)، جس میں اونٹوں کے دانتوںاور زخموں کے دیت کے مسائل تھے۔
اور اس میں یہ بھی تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے کسی دوسرے کی طرف باپ ہونے کا دعوی کیا،یا ایسے مالک کا غلام ہونے کا دعوی کیا جس کا وہ مملوک نہیں تھا، تو ایسے شخص پر اللہ تعالیِ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور ا اس کا کوئی (فرض و غیر فرض)عمل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دربار میں قبول نہیں کی جائے گی۔ (صحیح مسلم:467)
اس حدیث سے اہلِ بیت کے پاس کسی خاص علم کی بھی نفی ہوئی جس میں جاہل صوفیاء ملوث ہیں، اور جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تصوف و طریقت کے نام پر یاسا فرقہ پیدا ہوا جو شریعت اور طریقت کی جدائی کے قائل ہوئے اور کفرِ بواح میں خود بھی گرے اور سادہ لوح مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت ان کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بن گیا۔
مسلم شریف کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ﵟ… وَأَمَّا قَوْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( فِيمَنْ اِدَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَم أَنَّهُ غَيْر أَبِيهِ كَفَرَ ﵞ
فَقِيلَ : فِيهِ تَأْوِيلَانِ :أَحَدُهُمَا أَنَّهُ فِي حَقّ الْمُسْتَحِلِّ وَالثَّانِي : أَنَّهُ كُفْر النِّعْمَة وَالْإِحْسَان وَحَقّ اللَّه تَعَالَى وَحَقّ أَبِيهِ وَلَيْسَ الْمُرَاد الْكُفْر الَّذِي يُخْرِجهُ مِنْ مِلَّة الْإِسْلَامﵞ
’’جو کسی دوسرے کی طرف دعوی کرے باپ ہونے کا، جو اس کا باپ نہ ہو تو اس نے کفر کیا ۔ نبی کریمﷺ کے اس قول کے دو معانی ہوسکتے ہیں:
۱۔ اگر اس نے ایسا حلال جانتے ہوئے کیا، تو کفر لازم آئے گا کہ ایسا کرنا چاہناحرام ہے۔ اور کسی حرام کو بطور حلال چاہنا کرنا کفر ہے ۔
۲۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر حلال جان کر نہ کیا (بلکہ نفس پرستی، ہوا ہوس کی وجہ سے کیا) تو بھی برا ہے اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت و احسان کی نا شکری (کفر) ہے۔ مگر اس درجہ کا برا نہ ہوگا جس کفر سے بندہ ملت اسلام سے خارج ہوجائے۔
ﵟهَذَا صَرِيح فِي غِلَظ تَحْرِيم اِنْتِمَاء الْإِنْسَان إِلَى غَيْر أَبِيهِ أَوْ اِنْتِمَاء الْعَتِيق إِلَى وَلَاء غَيْر مَوَالِيه لِمَا فِيهِ مِنْ كُفْر النِّعْمَة وَتَضْيِيع حُقُوق الْإِرْث وَالْوَلَاء وَالْعَقْل وَغَيْر ذَلِكَ مَعَ مَا فِيهِ مِنْ قَطِيعَة الرَّحِم وَالْعُقُوق …ﵞ
یہ بات نہایت واضح ہے کہ کہ کسی انسان کا اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا انتہائی حرام ہے۔ غلام کو غیر مالک کی طرف منسوب کرنا نعمت کا کفر ہے۔ حقوق وراثت و ولاء و عقل کو ضائع کرنا ہے، یہی تو قطع رحم ہے اور سخت نافرمانی ہے۔‘‘ (شرح النووی علی صحیح مسلم)