۔۔۔۔سیفی بریلوی گمراہ فرقہ اور عید میلدالنبیﷺ کے من گھڑت دلائل۔۔۔دوسری اور تیسری دلیل

دلیل نمبر2:  ایک اور آیت سے بے جا استدلال

بدعتی حضرات قرآن کی اس آیت کو زبردستی عیدمیلاد کی دلیل میں پیش کرتے ہیں جس میں عیسیٰ علیہ السلام کی قوم نے آسمان سے ایک خوان نازل ہونے کی فرمائش کی تھی تاکہ وہ ان کیلئے باعثِ سرور و اطمینان ہوجائے:

{قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْ عَلَینَا مَائِدَۃً مِنَ السَّمَائِِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِاَوَّلِنَا وَ آخِرِنَا وَ آیَۃً مِنْکَ}(سورت مائدۃ،آیت:114)

’’اور عیسی علیہ السلام نے دعامانگی: اے میرے اللہ! ہم پرآسمان سے ایک خوان نازل فرماجو ہمارے اگلے پچھلوں کیلئے باعثِ فرحت و سرور ہوجائے۔‘‘

علامہ آلوسی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

{والمعنی: یکون نزولھا لناعیدًا }  (روح المعانی)

’’یعنی اس خوان کا نازل ہونا ہمارے لئے باعثِ فرحت و سرور ہوجائے۔‘‘

اس آیت میں عید کے متعارف معنی مراد نہیں بلکہ عید سے مطلق خوشی و سرور مراد ہے ،مطلب یہ کہ وہ مائدہ یعنی خوان ہمارے پچھلوں کیلئے سرمایہء سرور بن جائے کہ اس نعمت پر ہمیشہ شاداں و فرحاں اور شاکر رہیں۔

لطیفہ:

متعہ (جسے permittedزناکاری کہنا زیادہ مناسب ہے) کے شوقین لوگوں کو قرآن میں جہاں ( م۔ت۔ع )نظر آتاہے وہاں اس سے اپنی ناجائز اور حرام فعل کو ثابت کرتے ہیں ۔ اسی طرح بریلوی اور دیگر میلادی جاہل فرقے بھی اس آیت میں( ع۔ی۔د) دیکھتے ہیں تو اس سے عید میلاد کا استدلال کرتے ہیں ۔ اللہ ان سب کو صحیح قرآن فہمی کی توفیق نصیب فرمائے،آمین۔

قارئین! اگر سوچاجائے تو ان عقل کے اندھوں اور علم کے یتیموں کی کمزوری آپﷺ پر عیاں ہو جائے گی ۔وہ اس طرح کہ یہی لفظ اور یہی دلیل نبی کریم ﷺ کے سامنے بھی موجود تھی بلکہ نازل ہی آپﷺ پر ہوئی تھی۔یہی لفظ اور یہی دلیل صحابہ کرام کے سامنے بھی موجود تھی بلکہ نازل ہی ان کی موجودگی میں ہوئی تھی، اور یہی جلیل القدر لوگ اس کے سب سے پہلے سننے والے تھے مگر انہوں نے کبھی بھی اس کا یہ مطلب نہ لیا۔وجہ کیاہے ؟

…وجہ یہ ہے کہ وہ جلیل القدر لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پیروی کرنے والے تھے جبکہ آجکل کا بدعتی بریلوی ،سیفی نقیبی فرقے ابولہب کافر، خواہشاتِ نفس اور شیطان کی پیروی کرنے والے ہیں۔

دلیل نمبر3:  بدعتی ٹولہ قرآن کریم کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:

{وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہ} (سورت ابراہیم ،آیت:5)

’’ اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلائو۔‘‘

ہمیشہ کی طرح یہاں بھی بریلوی ،سیفی دھوکہ اور تلبیس نمایاں ہے اور وہ یہ کہ اپنے مطلب کیلئے یہ الفاظ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں عید میلاد منانے کی دلیل ہے مگر یہ}فراڈ جعلی حضرات{اگر پوری آیت سنادیتے تو پھر قارئین میں بھی ان کی دجل وتلبیس سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے ،پوری آیت یہ ہے:

{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوسٰی بِآیِاتِنَا اَنْ اَخْرِجْ قَومَکَ مِنَ الظُلُمٰتِ اِلَی النُّورِ وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ} (سورت ابراہیم ،آیت:5)

’’ یاد کر جب کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ تو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی میں نکال، اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا۔اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے کیلئے۔‘‘

اس بے محل استدلال کے مُسکِت جوابات

…اس بریلوی، سیفی دلیل کا پہلا جواب بھی یہی ہے کہ ان]قرآن دشمن[مُلَّائوں اور پیرانِ باطل سے ذرا پوچھاجائے کہ : کیا یہ آیت… تجھ پر،… یا تیرے پیر مرشد پر نازل ہوا ہے؟

اگر ان سوالات کا جواب}نہیں{ ہے تو پھریہ بتائوکہ یہ آیت کس پر نازل ہواہے؟

… اس کاواحد جواب یہ ہے کہ یہ آیت نبی کریم حضرت محمدﷺ پر نازل ہواہے۔مگر باوجود اس کے کہ یہ آیت محمد مصطفیٰ ﷺ پرنازل ہوئی ،آپﷺ نے اس آیت کا وہ مطلب نہیں لیا جو تم بدعتی آج پیٹ چرانے کیلئے لے رہے ہو۔اس لئے اس آیت سے تمہارا استدلال بے جا ہوا ۔

اس موقع پر تم کو یہ کہوں گاکہ تم یاتمہاراپیر کس کھیت کے مولی ہو کہ شریعت سازی کرنے لگے؟

…دوسرا جواب یہ ہے کہ اس پوری آیت کو اگر دیکھاجائے تو بات واضح اور غیر مبہم ہے کہ اس آیت میں]اَیَّامِ اللّٰہ [سے مراد:

 ’’ بنی اسرائیل پر کئے گئے احسانات اور اقوامِ رفتہ پر مسلط کئے گئے عذاب ہیں ۔‘‘

مزید وضاحت یہ ہے کہ اس کی تفسیرمیں تین اقوال ہیں:

.1 ]اَیَّامِ اللّٰہ [سے مراد بقو ل عبداللہ ابن عباس اور اُبئی ابن کعب رضی اللہ عنہما اور مجاہد،قتادہ اور ابن قتیبہ رحمہم اللہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔

.2 ]اَیَّامِ اللّٰہ [سے مراد اقوامِ رفتہ کے حالات ہیں،یہ ابن زید،ابن سائب اور مقاتل کا قول ہے۔

.3 ]اَیَّامِ اللّٰہ [ سے مراد گذشتہ اقوام پر اللہ کی نعمتیں ہیں، اور ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا جیسے قومِ نوح،قومِ عاد اور قومِ ثمود وغیرہ،ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا آنا مراد ہے۔ (تفسیر زادالمسیر ، ،، تفسیر بغوی)

بقول مفسر ابن جریر طبری رحمہ اللہ متوفی310؁ ہجری اس مرادیہ ہے کہ اے موسیٰ! ان بنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاد دلائو جو ان پر کی گئی تھیں اور وہ یہ ہیں:

…قومِ فرعون سے نجات،…دریاکا ان کو محفوظ راستہ دینا،… ان پر بادلوں کا سائبان ہونا ، … اور ان کو کھانے کیلئے من وسلوی بھیجنا۔(تفسیر طبری،سورت ابراہیم،آیت:5)

بقول علامہ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ متوفی774؁ ہجری اس سے مراد یہ ہے کہ :

…ان بنی اسرائیل کو اللہ کی وہ مدد اور نعمتیں یاد دلائیے جو ان پر کی گئی تھی جیسے… فرعون کی قید ، اس کی قہر اور اس کی ظلم سے سے ان کو نجات دلانا،…اور ان کو ان کی دشمنوں سے خلاصی دینا، … ان کیلئے دریا کا پھٹ جانا،… ان پر بادلوں کا سایہ کرنا،…اور ان کیلئے من وسلوی آسمان سے اُتارنا اور اس …طرح کی دیگر نعمتیں۔(تفسیر ابن کثیر،سورت ابراہیم،آیت:5)

 …خلاصہ کلام یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کو کہاگیا کہ بنی اسرائیل کوان پر کی گئی نعمتیں یاد دلائیے اور ان کو اس عذاب سے ڈرائیے جو ان سے پیشتر اقوام پر مسلط کئے گئے تھے تاکہ یہ لوگ راہِ راست پا جائے ۔ اسی طرح اس آیت کا خلاصہ بقول ابن کثیر:

’’جس طرح اے محمدﷺ،ہم نے تمہیں رسول بناکر بھیجا اور تم پر وحی نازل فرمائی تاکہ تم لوگوں کو کفروشرک کے اندھیروں سے ایمان اور توحید کی روشنی کی طرف نکالو، اسی طرح تم سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور اسے کھلے معجزے (اسی مقصد) کیلئے دئے تھے،اور اسے حکم دیاتھا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ،جس گمراہی اور جہالت میں وہ پہلے مبتلا تھے ، اس سے نکال، اور یہ کہ ان پر کی گئی نعمتیں انہیں یادلائو اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو اقوامِ رفتہ پر آنے والے عذابوں سے بھی ڈرائو ، اس لئے کہ اقوامِ رفتہ پر عذابوں کے قصوں سے یہ سب واقف تھے ۔‘‘(تفصیل کیلئے دیکھئے : تفسیر طبری،،،تفسیر ابن کثیر،،،تفسیر روح المعانی ،،،تفسیر بغوی،،،تفسیر زادالمسیر،،،تسفیر بغوی،،،تفسیر ابن عباس)

…اب قیامت کی صبح تک ان} تمام میلادی فرقوں{ کوچیلنج ہے کہ :

مشہور ،معتبر،مستند اور متداول تفاسیر سے اس آیت کی تفسیر میں کسی:

 ایک… صحابی ، …تابعی، …تبع تابعی،… امام مجتہد ، … فقیہ ، … مفسر یا…محدث کا قول پیش کرے جس میں ان حضرات سے ان الفاظ میں یہ بات منقول ہو:

’’ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی پیدائش کا دن 12ربیع الاوّل یا ماہِ ربیع الاوّل میں کسی بھی دن بطورِ عید یا بطورِ جشن منانے کی دلیل ہے۔‘‘  قیامت کی صبح تک مہلت ، اگر ثابت نہ کرسکے تو قارئین سمجھو کہ] میلادی مولوی[ نبی کریم ﷺ کا مبارک نام استعمال کرکے سادہ لوح لوگوں کو اپنی دامِ تزویر میں پھنسا کر اپنی ]ناجائزآمدنی[کے ذرائع بڑھانے کیلئے اس قسم کی غیر شرعی تقریبات اور} راتوں{ وغیرہ کا اضافہ دین میں اپنی کوتاہ عقل اور شیطان کی شاگردی کی وجہ سے کرتے رہتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top