میلاد النبی ﷺ اور سیفی بریلوی بدعتی گمراہ فرقوں کے بے سروپا دلائل
دلیل نمبر1: سورت یونس کی آیت:58 سے بے جا استدلال
جاہل، گمراہ اور بے دین میلادی فرقے سورت یونس کی اس آیت:58 {قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ و َبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ھُوَ خَیر‘ُ مِمَّا یَجْمَعُون َ}سے عید میلاد منانے پر دلیل پکڑتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’اے نبی کہہ دیجئے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہوجائو۔‘‘
بریلوی سیفی گمراہ فرقہ کے اس دلیل کے مسکِت جوابات
…اس کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ اے بدعتی میلادیو! یہ بتائو کہ یہ آیت:… تجھ پرنازل ہواہے ، … یا …تیرے پیر مرشد(1) پر نازل ہوا ہے ؟
اگر ان تمام سوالات کا جواب]نہیں[ہے اور ’’نہیں‘ ‘ کے سوا ہوبھی نہیں سکتاہے تو جب یہ آیت نہ تجھ پر نازل ہواہے اور نہ تیرے پیر پرتو پھریہ بتائوکہ یہ کس پر نازل ہواہے؟
… اس کا جواب بھی اس کے سوا کوئی اور ہوہی نہیں سکتاکہ یہ آیت کائنات کے اس عظیم ہستی اور معلمِ انسانیت پر نازل ہواہے جس کی عید میلاد منانے کے بہانے] میلادی فرقے [سادہ لوح عوام کے خون پسینے کی کمائی کھاکھاکر] فربے [ہورہے ہو۔
باوجود اس کے کہ یہ آیت محمد مصطفیٰ ﷺ پرنازل ہوئی ،اس عظیم ہستی اور معلمِ انسانیت نے اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.1 یہ لوگ مرشد نہیں بلکہ مضِلّ یعنی گمراہی پھیلانے کے ٹھیکیدارہیں اس لئے کہ یہ لوگ سادہ لوح مسلمانوں کو راہِ حق سے دور لے جاکر اپنی خودساختہ شریعتوں پر عمل پیرا بناتے ہیں ۔جبکہ مرشد کا معنی ہے رہنمائی کرنے والا اور رہنمائی کا مطلب ہے صحیح راستے پر چلانے والا نہ کہ گراہی کی طرف لے جانے والا۔
آیت کے نازل ہونے بعدنہ ہی… خود عید میلا د منایا،…نہ ہی آپﷺ کے اہلِ بیت نے منایا ، …اور نہ ہی آپﷺ کے جان نثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے منایا۔
تو اے گمراہی پھیلانے کے ٹھیکیدارمیلادیو! تم یا تمہارے جاہل پیر ومرشد کس کھیت کی مولی ہو کہ شریعت سازی کرنے لگے ہو؟تم سے تو اللہ اپنی شریعت کی تابعداری چاہتاہے ،شریعت سازی نہیں،اس لئے کہ شریعت سازی اللہ کاکام ہے کسی اور کانہیں۔
…دوسرا جواب اس کایہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ کرام سے لے کر تابعین اور اتباعِ تابعین تک کسی مفسر نے عیدمیلاد منانے کا جوازنہیں لکھا ، حالانکہ مفسرین ہر آیت کی تفسیر میں اس آیت سے متعلق نبی کریمﷺ سے وارد احادیث اور اقوالِ صحابہ،تابعین وغیرہ نقل کرتے ہیں۔
اگر اس بارے میں کوئی ضعیف روایت بھی مفسرین اور محدثین کو مل جاتی تو بلاشک مفسرین اس کو نقل کرتے ، اور پھر کسی کی کیا مجال کہ اس عمل کو اتنی شدومد سے ]بدعت [کہہ کر منع کرتے۔مگر جب کوئی روایت موجود نہ ہو تو مفسرین اور محدثین بیچارے کیانقل کرتے،کہاں سے نقل کرتے ۔
اسی لئے کوئی ماں کا لعل قیامت تک ایسی مستند تفسیر نہیں دکھاسکتاجس میں اس کے نیچے مروجہ …عید میلاد ،…یا جشنِ میلاد کا جواز لکھاہو،قیامت تک چیلنج ہے، دکھائیے۔
اگر آج سے سو سال پہلے کوئی ہندوستانی عالم تفسیر لکھنے بیٹھ جائے اور وہ اس آیت کی تفسیر میں متقدمین مفسرین کا حوالہ دئے بغیر] من پسند تفسیر[کرکے جشنِ میلاد کا ثبوت اس آیت کو بنا لے تو اس کی وہ خود ساختہ تفسیر اس بطن پرور مفسرکو مبارک،اُمت کو اس تفسیر کی ضرورت نہیں۔
میلادیوں کا ایک دھوکہ بازانہ مغالطہ اور اس کی وضاحت
میلادی فرقہ لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے کہتے ہیں کہ جو لوگ عید میلاد النبیﷺ نہیں مانتے ، نہیں مناتے ، وہ نبی کریم ﷺ کی پیدائش پر خوش نہیں۔
…اس کا جواب یہ ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کی پیدائش پر خوش نہیں ، وہ اسلام اور نبی کریم ﷺ کا دشمن ہی ہوسکتاہے۔اسے مسلمان کو ن مانتاہے؟ ہم تو ایسے شخژ کو جو نبی کریم ﷺ کی پیدائش پر خوش نہ ہو، کافر مانتے ہیں۔
قارئین!نبی کریم ﷺ کی پیدائش پر خوش ہوناہر مسلمان کی ایمان کا ایسا جزء ہے جس کے بغیر کسی مسلمان کی ایمان مکمل ہی نہیں ہوسکتی ۔اور مسلمان ساری عمر نبی کریم کی پیدائش ،آپﷺ کی پیدائش سے پہلے دنیا کی حالت اور آپﷺ کی بعثت کے بعد دنیاکی حالت ،آپﷺ کو دعوت وتبلیغ کی راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور مصائب کے تذکرے کرتے رہیں گے مگر ان تذکروں کیلئے خاص ربیع الاوّل کامہینہ اور بارہ تاریخ مقرر کرنا محتاجِ دلیل ہے جو کہ قیامت تک کوئی ماں کالعل پیش نہیں کر سکتا ۔
مگر آج کا یہ خرافات سے بھرپورعید میلاد …جس میں نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کا عقیدہ رکھا جاتا ہے جو کہ کفر اور شرکِ جلی ہے، ایساعقیدہ رکھنے سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے ، … آج کے عیدمیلاد میںجلوس نکالاجاتاہے،…خاص دن اور مہینہ مقرر کیاجاتاہے، یہ ہر گز جائز نہیں بلکہ بد ترین بدعت اور گناہ کاکام ہے ۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو یہ حکم آیاتھاکہ :
{یَااَیُّھَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیکَ وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَہ‘} (سورتمائدہ، آیت: 67)
ترجمہ:’’اے نبیﷺ! جو آپ ﷺ کی طرف نازل کیا جاتاہے اسے دوسروں تک پہنچائو،اگر بالفرض آپﷺ نے ایسا نہیں کیا تو آپﷺ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔‘‘
ْاب میں عید میلاد النبی ﷺ کو عبادت سمجھ کرمنانے والوں سے پوچھتاہوں کہ:
…ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ آپﷺ نے اللہ کا پیغام پورے کا پورا پہنچایا،اور اس میں کمی نہیں کی۔ جبکہ تم لوگوں کا ایمان یہ ہے کہ آپ ﷺنے اللہ کا پیغام پہنچانے میں ۔نعوذباللہ۔ کمی کی ہے ، اور وہ کمی اب تم پوری کر رہے ہو ، ایسے گمراہ کن عقیدے سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
…یایہ کہ آپﷺ نے دین پہنچانے میں۔نعوذباللہ۔ خیانت کی ہے کہ اس عید میلاد کی خبر ہمیں نہیں دی ہے، یہ بھی گمراہوں کا عقیدہ ہوسکتاہے مسلمان کا نہیں۔
ابلاغ کا مطلب ہے اپنا ما فی الضمیر دوسروں تک اس انداز میں پہنچاناجس سے وہ تمہارا پیغام سمجھ جائے ،اور اس پیغام کو ذہن نشین کرجائے۔ابلاغ کے اس عمل میں تین عناصر کارِ فرما ہوتے ہیں : .1 پیغام پہنچانے والا ،، .2 پیغام ،، .3 پیغام وصول کرنے والا۔
یہاں بھی: .1 پیغام پہنچانے والا : نبی عربی ﷺ،…،.2 پیغام: اللہ کا قرآن،…،.3 پیغام وصول کرنے اور سننے والے: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،،،
…ہم پوچھتے ہیں کہ کیا نبی کریم ﷺ نے اُن کو اللہ کا کلام پورے کا پورا پہنچایاتھا؟
…ہم پوچھتے ہیںکہ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعینآپﷺکا پیغام پورے کا پورا سمجھ چکے تھے؟
ان دو سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ کے سوا اور کوئی ہوسکتاہے؟ ہر گز نہیں۔جب ان سوالات کا جواب ’’ہاں ‘‘ ہی ہے، اور یہ کہ تمام مسلمان اس حقیقت کو مانتے ہیں تو پھر ہم پوچھیں گے کہ :
…کیا نبی عربی ﷺ نے مذکورہ آیت کا معنی و مفہوم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پہنچایااور سمجھایاتھا؟
…کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معنی و مفہوم کو سمجھ چکے تھے؟
ان سوالات کا جواب بھی ’’ہاں‘‘ کے علاوہ کچھ اور نہیں۔
تو جب نبی عربی ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اِبلاغ کا مئوثر عمل انجام پاچکاتھا تو پھر ہم پوچھیں گے کہ:
…کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کی ہر، ہر آیت پر عمل کرکے دکھایاتھا ؟
اس سوال کا جواب بھی ’’ہاں ‘‘ کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔ تو پھر ہم پوچھتے ہیں کہ:
… اے بریلویو ! اے میلاد منانے والے پورے دنیا کے گمراہو!
اس آیت کا جومفہوم تم لوگ مراد لیتے ہو،اس پر تمہارے پاس کسی:
… صحابی رضی اللہ عنہ کا دلیل موجود نہیں،…کسی تابعی کا دلیل موجود نہیں ، …چاروں اماموں میں سے کسی امام کا دلیل موجود نہیں ، تو پھر تم کس کے اُمتی ٹھہرے؟ پھر تم نے کس کو اپنا مقتدا و پیشوا بنایا ہے ؟ پھر تم کس کے مقلد ٹھہرے؟کس کے پیروکار ٹھہرے؟
اگر صحابہ کرام نے قرآن کا ہر حکم بسروچشم مان کر اس پر عمل کیاتھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس آیت پر عمل کر کے انہوں نے آپﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی میں ماہِ ربیع الاوّل میں عیدمیلاد نہیں منایا ؟ ذرا ایمانداری کے ساتھ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس بات کا صحیح اور قرآن و سنّت کے احکام پر عمل پیراہوتے ہوئے درست جواب دیجئے۔
اے بریلویو!کیا تم ایک بے دین ،بد دین ،گستاخِ ائمہ اربعہ اور دنیادار بادشاہ مظفرالدین کے مقلد اور متبع بن گئے؟
…کیا تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اس دنیادار بادشاہ مظفرالدین کی پیروی کا حکم تھا ؟یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کا؟
ان سوالات کے جوابات خود کو دیجئے۔ اور اپنا قبلہ اگر درست کرنے کی تجھے فکر نہ ہو تونہ سہی مگر حلوے مانڈے اور کھیر ملیدے کیلئے دوسروں کا دین برباد مت کرو۔
بلکہ کسی ماہر جیب تراش سے اگر جیب تراشی کا فن سیکھ جائوگے اور جیبیں کاٹنا شروع کروگے تو اگر چہ وہ بھی گناہِ کبیرہ ہے مگر بدعت کی دلدل میں پھنسنے کی گناہ سے شدت میں تھوڑا ساکم ہے، اس لئے کہ بدعات سے تم دوسروں کے عقائد خراب کرکے ان کے اعمال کواللہ کے دربار میں ھَبَائً مَنْثُورَا بنارہے ہو۔
اگر کہتے ہو کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس آیت کا مفہوم سمجھے تھے مگر اس پر عمل نہیں کیا تو:
اے بریلویوں سنو! پھر بھی گمراہ بنوگے،اس لئے کہ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ متوفی310 ہجری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
{قال ابو جعفر: قل یا محمدﷺ لھئولاء المکذِّبین بک و بما انزل ایلک من عند ربک (بفضل اللہ) ایھاالناس الذی تفضل بہ علیکم وھوالاسلام، فبیَّنَہ‘ لکم و دعاکم الیہ ، (وبرحمتہٖ) التی رحمکم بھافانزلھا الیکم، فعلمکم مالم تکونوا تعلمون من کتابہ و بصَّرکم بھامعالم دینکم و ذلک القرآن، (فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ھُوَ خَیر‘ُ مِمَّا یَجْمَعُونَ) ، یقول: فان الاسلام الذی دعاھم الیہ ، والقرآن الذی انزلہ علیھم خیر‘ُ ما یجمعون من حُطام الدنیا و اموالھا و کنوزھا}
’’ابو جعفر کہتاہے کہ( اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوتاہے کہ)اے محمدﷺ ان لوگوں کو جو آپﷺ کی نبوت اور قرآن کو جھٹلاتے ہیں ،کہہ دیجئے کہ اللہ کا فضل جو تم پر کیا گیا ہے ،وہ اسلام ہے ،جسے تم لوگوں کیلئے واضح بیان کیاگیا،اور تمہیں اس کی دعوت دی۔ اور اس کی رحمت جو اس نے تم لوگوں پر فرمایا،یہ ہے کہ تمہیں وہ کتاب سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے ، اور اس میں تمہیں احکامِ دین کھول کر بیان فرمائے،اور وہ اللہ کی کتاب قرآن ہے ۔ پس تم اللہ کی ان نعمتوں پر خوش ہو جائو،اس لئے کہ یہ تمہارے لئے تمہارے جمع کردہ مالِ دنیا اور اس کے خزانوں سے کہیں بہتر ہے۔‘‘(تفسیر طبری ، سورت یونس،آیت:58)
اس بنیادی وضاحت کے بعد امام ابن جریر طبری نے بے شمار اقوالِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اقوالِ تابعین نقل کئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ :
’’اس آیت میں اللہ کے فضل سے مراد قرآنِ مقدس اور اس کی رحمت سے مراد اسلام ہے ،اور چونکہ اللہ نے ہمارے لئے تمام احکامِ شرعیہ اس میں ذکرکئے ہیں اس لئے اللہ کی اس عظیم نعمت پر خوش ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔
…اور اگر اس آیت کے مخاطبین مشرکین کو لیاجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اے مشرکینِ مکہ!
تم جہالت کے دلدل میں پھنس چکے تھے، ہر قسم کی ظلم و بربریت کے شکار تھے ، کسی کھاتے میں نہیں تھے، دنیا کی نظروں میں بھی گرے ہوئے تھے ،خود بھی کئی قسم کے خرابیوں میں مبتلاتھے۔ اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم تم پر ہوا،اور تمہاری جنس اور قبیلے میں سے ایک ایسے انسان کو ،جس کی ذاتی خوبیوں اور کمالات کے تم خود بھی معترف تھے ، اس کو تمہاری رہنمائی کیلئے پسند فرمایا ،اسے نبوت سے سرفراز فرمایا ، اسے عظیم الشان کتاب عطافرمائی، جس میں تمہارے لئے تمام احکام واضح فرمادئے ،اور تمہیں اس عظیم معلمِ انسانیت کے ذریعے جہالت کی دلدل سے نکلنے اور اسلام کی روشنی میں آنے کی دعوت دی ۔ پس تمہیں اس نعمتِ عظمیٰ پر خوش ہوکر اس کی بات ماننی چاہئے تاکہ تم جہنم کی زندگی کی بجائے جنت کے حقدار بن سکو، اسلئے کہ کامیاب وہی ہے جس نے اس نبی عربی ﷺ کی دعوت قبول کی۔(تفصیل کیلئے دیکھئے : تفسیر طبری،،، تفسیر روح المعانی،،، ابن عباس،،، تفسیر زادالمسیر،،، ابن ابی حاتم،،، تفسیر قرطبی ،،، تفسیر کبیر ،،، تفسیر درِّ منثور،،، جلالین،،،تفسیر بیضاوی،،، مدارک،،، تفسیر بغوی، سورت یونس ، آیت:58 )
خاتم المفسرین علامہ آلوسی حنفی متوفی1270 ہجری کے مطابق اس آیت کی تفسیر:
’’اس میں رسول اللہﷺ کو مخاطب کرکے حکم دیاگیاہے کہ اے نبیﷺ تمام لوگوں کو کہہ دیجئے کہ اس قرآن کے اندر جو اللہ کا فضل اور رحمت ہے ،اس پر خوش ہوجائو۔۔۔۔یہ تمہارے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہویعنی مال ،کھیتی،مویشی اور دنیاکے تمام دوسری چیزیں ۔‘‘ (تفسیرروح المعانی)
علامہ آلوسی آگے لکھتے ہیں:
{والمراد بالفضل والرحمۃ اما الجنس و ید خل فیہ ما فی مجیء القرآن من الفضل والرحمۃ دخولاً اولیًا و اِمَّا ما مجیئِہٖ من ذلک و یویدہ‘ ما رُوِیَ عن مجاہد اَنَّ المراد بالفضل والرحمۃ القرآن۔و اخرج ابو الشیخ و ابن مردوَیہ عن انس: قال: قال رسول اللہ ﷺ:فضل اللہ: القرآن و رحمتہٖ: انْ جعلکم من اھلہٖ۔ و رُوِیَ ذلک عن البراء و ابی سعید الخدری رضی اللہ عنھما موقوفاً۔و جاء عن جمع جم ان الفضل القرآن والرحمۃ الاسلام، و ھو فی معنی الحدیث المذکور۔و اخرج ابو لشیخ عن ابن عباس ان الفضل: علم، والرحمۃ: محمدﷺ۔ و اخرج الخطیب وابن عساکر عنہ تفسیر الفضل بالنبیﷺ و الرحمہ بعلی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ‘ }
’’اور فضل و رحمت سے مراد یا تو جنس ہے یعنی نفسِ فضل،اور اس میںنزولِ قرآن کو سب سے پہلے داخل سمجھاجائے،اور یا اس سے مراد قرآن کے تعلیمات ہیں ،اور اس آخری بات کی تائید مجاہد تابعی متوفی104 ہجری کے قول سے بھی ہوتاہے کہ فضل اور رحمت سے مراد قرآن ہے۔اور ابو شیخ اور ابن مردَوَیہ نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کا یہ قول نقل کیاہے کہ یہاں اللہ کے فضلسے مراد قرآن ہے، اوراس کی رحمت یہ ہے کہ اس نے تمہیں اس کا اہل بنایا یعنی تمہیں اس پر عمل کرنے والا مخاطبین بنایا ،اور یہی روایت البراء اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفا مروی ہے۔اور ایک جمِ عفیر سے یہ مروی ہے کہ اس آیت میں فضل سے مراد قرآن اور رحمت سے مراد اسلام ہے، اور یہی اس حدیث مذکور میں بھی ہے۔اور ابو شیخ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیاہے کہ فضل سے مراد علم اور رحمت سے مراد محمدﷺ ہے۔اور خطیب بغدادی اور ابن عساکررحمہما اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فضل کی تفسیر نبی اکرمﷺ اور رحمت کی تفسیر علی رضی اللہ عنہ نقل کی ہے۔‘‘
…اور میں(مئولف) کہتاہوںکہ یہ آخری کلام شیعہ تفسیر بالرائے کی بد ترین مثال ہے۔
ان تمام روایات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جمہور کا فیصلہ یہ ہے کہ :
’’فضل سے مراد قرآن اور رحمت سے مراد اسلام ہے۔ اسی طرح رحمت سے مراد سنّت بھی لی گئی ہے۔(دیکھئے تفسیر زادالمسیر)
اس صورت میں معنی یہ ہواکہ:
’’ اے مسلمانوں قرآن و سنّت جو تمہارے لئے ہدایت حاصل کرنے کا سبب اور اس نسبت سے نعمتِ عظمیٰ ہے، اس پر خوش ہوجائو۔ ‘‘
اگر اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس بھی لیاجائے تو پھر بھی بریلویوں کیلئے اس میں عید میلاد ، یا جشنِ میلاد یا محفلِ میلادمنانے کی کوئی دلیل نہیں، اس لئے کہ:
… نہ تو اس آیت کے نزول کے بعد، اور نہ ہی اس کے نزول سے پہلے آقا علیہ السلام نے کبھی اس کا حکم دیا، حالانکہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے پابند تھے کہ دین کی ہر ہر بات اُمت کو پہنچادے۔
…اسی طرح نہ ہی آپﷺ پر جان نچھاور کرنے والے جلیل القدرصحابہ رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کی حیاتِ طیبہ میں، یا آپﷺ کی وفات کے بعد یہ ایجاد کردہ اور گمراہ کن بدعت کی ہے۔
… اسی طرح نہ ہی آپﷺ کے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہنَّ نے ،اور نہ ہی اہلِ بیت مطہرین رضی اللہ عنہمنے اس طرح کی کوئی جشن یا عید منائی ہے ۔
اگر اس آیت سے عید میلاد منانے کا جواز ماناجائے تو پھر یہ بھی مانناپڑے گا،کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے دین اور ثواب کی ایک بات چھپائی۔نعوذباللہ۔ جبکہ ایسا سوچنے کے بعد کوئی مسلمان ، مسلمان نہیں رہے گا بلکہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
…ساتھ ہی یہ بھی مانناپڑے گا کہ تمام صحابہ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے تھے ۔نعوذباللہ۔
…اس طرح پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اگر وہ کسی آیت کا مطلب نہیں سمجھے تھے تو پھر قیامت تک اُمت اس آیت کی سمجھ سے محروم رہے گی،حالانکہ ایسا نہیں بلکہ صحابہ قرآن کے صحیح سمجھنے والے تھے ،اور ان کے استاد نبی عربی ﷺنے ان کو دین پورا پوراپہنچایاتھا اور وہ ثواب وعذاب کے ہر، ہر فعل سے خوب واقف تھے اس لئے انہوں نے قرآن و سنّت سے ہٹ کر کوئی اور متوازی شریعت نہیں بنایا بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے شریعت پر پورے کے پورے عمل کرنے والے بن گئے ،شیطان کی شاگردی سے انکار کیا، اور دین میں ایجادات و اختراعات سے باز رہے ،بلکہ اپنی زندگی میں ہر خلافِ شرع کام کی مذمت اور اس سے منع کرتے رہے۔
اگر اس آیت سے آپﷺ کی ولادت پر اس طرح بارہ ربیع الاول کے دن یا رات میں ،یا اس مہینے میں کسی بھی دن کوئی خوشی کا محفل یا عید مناناکارِ ثواب ہوتا تو وہ جلیل القدر لوگ اس میں ذرا بھر تامل اور سستی نہ کرتے۔ اس لئے کہ بقول علامہ ابن کثیررحمہ اللہ متوفی774 ہجری :
’’ہروہ قول وعمل جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو ،وہ بدعت ہے کیونکہ اگر ان میں کوئی خیر ہوتا توصحابہ رضی اللہ عنہم اس کو ضرور کرتے۔انہوں نے ایسا کوئی نیک کام نہیں چھوڑا ۔‘‘(تفسیر ابن کثیر، سورت الاحقاف :11 )
…تیسری بات یہ ہے کہ اس آیت میں{ مِمَّا یَجْمَعُونَ} کا صیغہ کافروں کیلئے ہے کہ یہ کافر جو دنیاکی معمولی چیزیں جمع کرتے رہتے ہیں ،یہ قرآن ان کے ان تمام جمع کردہ چیزوں سے بہتر ہے۔
قارئینِ کرام! دنیاکاہر باطل اور گمراہ طبقہ اپنے باطل اور خلافِ قرآن عقائد کو قرآن ہی سے ثابت کرتے آرہے ہیں ،اس انداز سے کہ اپنے باطل عقائدکیلئے قرآن میں تحریفِ معنوی کے مرتکب ہوئے ، قرآن کو بدل ڈالا مگر خود نہ بدلے ،بزبانِ شاعر:
؎ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
قدریہ نے تقدیر کا انکار کیا اور کہا کہ تقدیر کچھ نہیں۔سب سے پہلے مَعْبَد جُہَنی نامی شخص نے یہ کہنا شروع کیا کہ حقِ تعالیٰ کوہونے والے واقعات کا پہلے سے علم نہیں ۔جب واقعہ ہوتاہے اُسی وقت حقِ تعالیٰ کو علم ہوتاہے۔
جبریہ کا مذہب یہ ہے کہ بندہ میں کسی درجہ کا کوئی اختیار نہیں ۔بندہ اپنے افعال کا نہ کاسب ہے اور نہ خالق۔اس کے افعال محض حقِ تعالیٰ کی قدرت سے صادر ہورہے ہیں،بندہ مجبورِ محض ہے ۔
ان دونوں گمراہ فرقوں نے اپنی باطل گمان میں قرآن سے یہ سب خرافات ثابت کیاتھا۔
ایسے ہی گمراہ فرقوں کا مغالطہ دور کرنے کیلئے عمر ثانی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے تقدیر کے بارے میں پوچھنے والے شخص کو لکھاتھا:
{لقد قرئوا منہ ما قرائتم و علموا من تاویلہ ما جھلتم۔ و قالوا بعد ذلک کُلِّہٖ بکتابٍ و بقدرٍ }(ابو دائود،کتاب السنۃ،باب لزوم السنۃ)
’’یقیناًانہوں نے( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے) بھی قرآن کی انہی آیتوں کو پڑھا تھا،جو تم پڑھتے ہو(اورجن سے تم تقدیر کا انکار ثابت کرتے ہو)مگرفرق یہ ہے کہ وہ جلیل القدر ہستیاں رضی اللہ عنہم ان کے صحیح مفہوم سمجھ چکے تھے ،اور تم سمجھ نہ سکے، مگر ان آیتوں کے پڑھنے کے باوجود وہ(صحابہ کرام) تقدیر کا اقرار کرتے تھے۔‘‘
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اے منکرینِ تقدیر! جن آیات سے تم اپنا مئوقف ثابت کرتے ہو وہی آیات تم سے بہت زیادہ عالم اور فقیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے بھی پڑھے تھے مگر وہ ان کا صحیح مفہوم سمجھے تھے جبکہ تم نے شیطان کی شاگردی کی وجہ سے ان کا صحیح مفہوم پسِ پشت ڈالا اور من گھڑت باطل تاویل کرنے لگے اور گمراہ ہوئے۔
قارئین! دنیا کا ہر] باطل فرقہ [یہی کھیل کھیل رہاہے کہ پہلے کوئی عقیدہ گھڑ لیتاہے اور پھر اس کو سچ ثابت کرنے کیلئے قرآنی آیات کی من پسند تاویل کرتے ہیں۔
قارئین! دینِ اسلام میں سائنس کی طرح مفروضے نہیں چلتے بلکہ جو حقائق اللہ اور اس کی رسول کی طرف سے ہماری رہنمائی کیلئے بھیجے جاچکے ہیں ان پر پہلے ایمان لانا اور اس کے بعد عمل کرنا ضروری ہے۔یہی حال بریلویوں کا بھی ہے ۔اگر آج یہ اپنے خرافات ثابت کرنے کیلئے قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کہ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے یہ آیات قرآن میں دیکھے اور پڑھے نہیں تھے؟