نفسانی خواہشات اور ذاتی پسند و ناپسند کی مثالیں
نفسانی خواہشات کی اتباع کی وجہ سے دین میں اپنی طرف سے کوئی چیز اچھاسمجھ کر شروع کرنے کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ محدث دہلوی متوفی 1176 ہجری فرماتے ہیں:
‘‘حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ قرآن لوگوں کے سامنے کھولا جائے گا۔ اس کو عورت،بچہ آدمی سب پڑھیں گے۔ تب وہ آدمی کہے گا۔میں نے قرآن پڑھا لیکن کسی نے میری پیروی نہیں کی ۔واللہ! میں لوگوں میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھوں گا ۔وہ لوگوں میں رہ کر اور کھڑے ہو کر بھی قرآن پڑھے گا۔تب بھی کوئی اس کی پیروی نہ کرے گا، اور وہ یہی کہے گا کہ آدمیوں میں بھی قرآن کو پڑھا اب بھی کسی نے پیروی نہ کی۔اب میں مسجد میں ایک حجرہ بناؤں گا،شاید کوئی میری پیروی کرے۔وہ ایسا ہی کرے گا، اور یہی کہے گا کہ میں نے خود بھی قرآن پڑھا۔ لوگوں میں قیام کرکے بھی پڑھا،مسجد میں حجرہ بنا کر بھی پڑھا،لیکن کوئی پیرو نہ ہوا ۔اب کوئی ایسی بات لوگوں سے کہوں جو کلام الٰہی میں ان کو نہ ملے اور نہ پیغمبر ِخدا سے انہوں نے اس کو سنا ہو ۔اس سے شاید کوئی میری اتباع کرے۔ پس اے لوگوں! تم ایسی باتوں سے بچو جن کو یہ شخص بیان کرے،یہ چیزیں جن کو وہ بیان کرے گا۔سر تاپا گمراہ ہوں گے۔’’ (حجۃ اﷲ البالغہ،اردو ترجمہ،مطبوعہ دارالاشاعت کراچی، ص:195)
حضرت شاہ ولی اللہرحمہ اللہ نے دین میں ایسے کام کرنے کو دین میں تحریف و تبدیل کے اسباب میں شمار کیا ہے ،اللہ ہم سب کو دین کے نام پردین میں تحریف و تبدیل کرنے اور بدعات ایجاد کرنے کے جرم سے بچائے،آمین ۔
جس عالم، پیر کی وجہ سے کوئی گمراہ ہوا، اس کا اپنا توبہ بھی قبول نہیں کیاجاتا
تفسیر میں ابن ابی حاتم رحمہ اللہ متوفی 277 ہجری میں لکھا ہے کہ:
‘‘نصاری میں دینِ خدا کا پابند ایک شخص تھا۔ایک زمانہ بعد شیطان نے اسے بہکایا کہ جواگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اسمیں کیا رکھا ہے۔اسکی وجہ سے نہ تو عام لوگوں میں تمھاری قدر ہوگی، نہ شہرت۔تمہیں چاہئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو ،اسے لوگوں میں پھیلاو، پھر دیکھو کیسی شہرت ہوتی ہے اور کس طرح جابجاتمہارا ذکر ہونے لگتا ہے؟ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اور اسکی وہ بدعتیں لوگوں میں پھیل گئی اور ایک زمانہ اسکی تقلید کرنے لگا یہ دیکھ کر اسے بڑی ندامت ہوئی اور ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں خدا کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔لیکن خدا کی طرف سے اسے جواب ملا کہ صرف میری ہی خطا کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تم نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کرکے غلط راہ پر لگادیا جس پر چلتے چلتے وہ مر بھی گئے، ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ہٹے گا ؟میں تو تیری توبہ قبول ہی نہیں فرماؤں گا ۔’’ (تفسیر ابن ابی حاتم، سورت مائدہ ، آیت: 77 )
سورت بقرہ ،پارہ :2کی آیت:160میں حق چھپانے والوں کیلئے لعنت کی وعید ذکرکرنے کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ جو لوگ اس عمل سے توبہ کرتے ہیں اللہ عزوجل ان کو معاف فرمائے گا :
﴿ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والہدی من بعد ما بینہ للناس فی الکتاب اولئک یلعنہم اللہ و یلعنہم اللعنون٭الا الذین تابوا و اصلحوا و بینو ا فاولئک اتوب علیہم وانالتواب الرحیم ﴾ (سورت بقرہ،آیت:160)
‘‘بے شک جو لو گ ہما رے نازل کردہ احکامات اور طریقے اس کے بعد کہ ہم نے ان کو کتاب (قرآن)میں لوگوں کیلئے بیان کیا ہے، چھپاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے،،مگر ان (پر لعنت نہیں)جو توبہ کرے ،اور اپنے اعمال درست کرے اور وضاحت کرے(ان باتوں کی جن کو چھپایا تھا ) تو ایسے لوگوں کا توبہ قبول کرتا ہوں اوربے شک میں سب سے بڑھ کرتوبہ قبول فرمانے والا ہوں۔’’
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین حق چھپانے والے عالم اور مقتدا سمجھے جانے والوں کے توبے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
﴿تابوا و اصلحوا﴾ یعنی توبہ کرے، اور اپنے اعمال درست کرے یعنی آئندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا عزمِ صمیم کرے،یہ عام لوگوں کا توبہ ہے ۔
عالم اور مقتدا ، دینی پیشوایان اور پیری مریدی والے لوگوں کے توبے کا حال بھی دیکھئے ،وہ تومسجد کے منبر پراور اپنے ضانقاہ ، آستانے میں اپنے مقتدیوں اور مریدوں کے سامنے باقاعدہ اعلان کرے گا کہ آج تک فلاں فلاں باتیں میں نے تم لوگوں سے چھپائے تھے ،یا فلاں کام میں ہم شریعت سے ہٹے ہوئے تھے، یا کسی ڈر،خوف ، لالچ ،دنیاوی مفادات یا کسی تعصب کی وجہ سے ان کو بیان نہیں کیا تھا،میں آج میں ان سے توبہ کرتاہوں ،اور سب مسائل کو ایک ایک کرکے بتائے گا، اوریہی بات ان تمام مفسرین نے بھی لکھی ہے کہ عالم، چھپائی ہوئی باتیں ، عقائد اور احکام قوم کو بتائے گا کہ میں نے یہ باتیں چھپائے تھے آج میں کتمانِ حق سے توبہ کرتا ہو:
……امام ِ بغوی متوفی 516ہجری ،…… علامہ جلال الدین سیوطی متوفی 911ہجری، ……امام بیضاوی متوفی685 ہجری……، ابن کثیر متوفی 774ہجری،……امام خازن متوفی741ہجری ، ……عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی صاحبِ مدارک متوفی 710 ہجری،…… امام فخرالدین رازی متوفی606ہجری اور ……علامہ آلوسی حنفی متوفی 1290 رحمہم اللہ نے لکھی ہے:
﴿ و بینو ا ﴾ ما کتموا :یعنی جن چیزوں کو چھپایاتھا اسے بیان کردے۔’’
﴿و بینو ا ﴾للناس ماکانواکتموہجن باتوں کو چھپاتاتھا، لوگوں کے سامنے بیان کرے ۔ ’’
﴿ و بینو ا ﴾ ما بینہ اللہ فی کتابہم لتتم توبتہم:‘‘توبہ مکمل کرنے کیلئے شرط یہ ہے کہ جن باتوں کواللہ نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں،اور اس نے لوگوں سے چھپائے تھے ان سب کو واضح کرے ۔’’
﴿ و بینو ا ﴾ واظہروا ماکتموا:‘‘جن چیزوں کو چھپایاتھا ان کو ظاہر کردے۔’’
﴿ و بینو ا ﴾ یعنی ماکتموا من العلم:جتنے شرعی مسائل چھپائے تھے ان کو بیان کردے۔’’
﴿ و بینو ا ﴾فدلت ہذہ الآیۃ علی ان التوبۃ لاتحصل الا بترک کل مالاینبغی و بفعل کل ماینبغی:‘‘یہ آیت دلیل ہے اس بات پر کہ توبہ کیلئے ضروری ہے کہ جو کام ناجائز ہیں ان کو چھوڑا جائے اور جو جائز ہیں ان پر عمل کیا جائے۔’’
﴿وبینو ا ﴾ای اظہروا مابینہ اللہ تعالی للناس معاینۃ و بہذین الامرین تتم التوبۃ:‘‘یہ کہ لوگوں کے سامنے ان چیزوں کو ظاہر کرے جنہیں اللہ عزوجل نے نازل فرمائے ہیں اور ان دو چیزوں (چھوڑنے اور بیان کرنے)سے ہی توبہ کی تکمیل ہوگی۔’’(ان کے بغیر نہیں)
اور یہ سب اس لئے کہ عالم یا پیر اکیلا نہیں ڈوبتا بلکہ حق چھپاکر وہ ایک کثیر تعداد لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ڈبو دیتا ہے، اسی لئے تو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 774 ہجری سورت بقرہ کی آیت:44 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
‘‘مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اَن پڑھ لوگوں سے اتنا درگزر کرے گا جتنا جاننے والوں (یعنی عالموں)سے نہیں کرے گا۔بعض آثار میں یہ بھی واردہے کہ عالم کو ایک دفعہ بخشاجائے تو عام آدمی کو ستر دفعہ بخشاجاتاہے، (کیونکہ )عالم اور جاہل یکساں نہیں ہوسکتے۔’’ (تفسیر ابن کثیر،سورت بقرہ آیت:44)