: حیلہ اسقاط اور دورِ قرآن یا دورانِ قرآن
من گھڑت روایات میں سے ایک حیلہ اسقاط میں دورِ قرآن کے بارے میں ہے ۔اس روایت کی تین سندات ہیں ۔
پہلی سند کی علت اور کمزوریوں کی تحقیق۔۔۔۔۔پہلی سند پر جرح
پہلی سند یوں ہے: سمرقندی ،عباس بن سفیان ،ابن علیہ ، ابن عون ،محمد،عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ
٭ سمر قندی رحمہ اللہ کی طرف جس بے بنیاد روایت کی نسبت کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اسلئے کہ سمر قندی رحمہ اللہ ابن علیہ رحمہ اللہسے عباس بن سفیانکے واسطے سے روایت کرتاہے جبکہ سمرقندی رحمہ اللہ اور ابن علیہ درمیان 190سال کا ایک طویل زمانہ ہے یعنی ان دونوں کا سماع(سننا ) ثابت نہیں ۔کتبِ رجال اس بات پر گواہ ہیں ۔ ابن علیہ کی تاریخِ پیدائش110ہجری اور تاریخِ وفات 193 ہجری ہے جبکہ اس سے نقل کرنے والا ابو لیث سمرقندی رحمہ اللہ کی تاریخِ وفات383 یا 393ہجری ہے۔
اس لئے بڑی تعجب کی بات ہے کہ سمرقندی صاحب صرف ایک واسطے یعنی عباس بن سفیان کے واسطے سے اتنے طویل زمانے کے باوجود روایت کیسے کرتے ہیں؟ جبکہ عباس بن سفیان بھی مجہول ہے یعنی اس کا آگے پیچھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ کون تھا ؟ کہاں کا رہنے والا تھا؟ اس کے اساتذہ کون تھے؟ اس کے شاگرد کون تھے؟رجال کی کتابیں ان باتوں سے خاموش ہیں۔
دوسری سند پر جرح
دوسری سند یوں ہے: محمد بن عمر واقدی، ابوالعاصم ، ابن جریج ، ابی مسلمۃ ، ابن شہاب زہری
محمد بن عمرالواقدی متوفی207 ہجری :
دوسری سند کے ساتھ یہ روایت محمد بن عمر واقدی سے مروی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ آگ دراصل اُسی کی لگائی ہوئی ہے۔
اس کے بارے میں اما م بخاری،عبد اللہ ابن مبارک ،ابن نمیراور اسماعیل بن زکریا اور ابو نعیم اصفہانی رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ:یہ متروک الحدیث ہے۔’’(کتاب الضعفاء للاصفہانی ، ،، ، ، الضعفاء الصغیر للبخاری)
یحیی بن معین رحمہ اللہمتوفی 233 ہجری کہتے ہیں کہ: ‘‘ یہ ضعیف ہے۔’’ اور یہ بھی لکھا ہے کہ: ‘‘ یہ کچھ بھی نہیں۔’’
امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہمتوفی1 24 ہجری لکھتے ہیں کہ:‘‘ یہ سخت جھوٹا ہے۔’’
اسحاق ابن راہوَیہ اورابو حاتم رحمہ اللہ متوفی 327 ہجری لکھتے ہیں کہ:‘‘یہ جعلی حدیثیں گھڑا کرتا تھا یعنی واضع الحدیث تھا ۔’’(المجروحین لابن ابی حاتم)
امام نسائی رحمہ اللہ متوفی 303ہجری کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ پر جو چار لوگ جھوٹی حدیثیں بنایا کرتے تھے ان میں واقدی مدینہ ، خراسان میں مقاتل، سعید المصلوب (حاشیہ : 1 ۔ ا س سعید المصلوب کوز ندیق ہونے کے الزام میں سولی دی گئی تھی،اور اس صاحب پر جھوٹی احادیث بناکر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے کا الزام بھی تھا۔) شام میں اور ایک اور۔ (تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی ،ترجمہ واقدی)
امام ابو داؤد کہتاہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ علی بن مدینی کہاکرتے تھے کہ یہ واقدی تیس ہزار غریب احادیث روایت کرتاہے( یعنی ان احادیث کا اس کے سوا کوئی اور روایت کرنے والا نہیں۔)
اسحاق بن الطباع کا کہناہے کہ میں نے واقدی کو مکہ جاتے ہوئے دیکھاتھا یہ تو نماز بھی بری طرح پڑھتاتھا ۔’’(میزان الاعتدال،ترجمہ محمد بن عمر الواقدی،ترجمہ نمبر:7993)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔اس سعید المصلوب کوز ندیق ہونے کے الزام میں سولی دی گئی تھی،اور اس صاحب پر جھوٹی احادیث بناکر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے کا الزام بھی تھا۔
اس سند میں ایک راوی ابن جریج کے بارے میں علامہ شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:
‘‘ثقہ ہے مگر تدلیس کرتاہے یعنی اپنے سے اُوپر راوی اس کی کمزوری کی وجہ سے چھپاتا ہے ۔ نکاحِ متعہ کو حلال جانتاہے، اور خود بھی ستَّر(70)ایسے نکاح کئے تھے۔عبداللہ بن احمد ابن حنبل کہتاہے کہ مجھے میرے والد امام احمدنے کہا کہ ابن جریج کی بعض مرسل احادیث من گھڑت اور موضوع ہیں۔’’(میزان الاعتدال،ترجمہ عبدالملک بن عبدالعزیز ابن جریج ابو خالد المکی،ترجمہ نمبر:5227)
تیسری سند پر جرح
تیسری سندیوں ہے:سعد ، ایوب ،جمیع
٭اس سند میں سعد،ایوب اور جمیع تینوں کے تینوں مجہول ہیں ،ان کا آگاپیچھا کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون تھے ؟
٭لہٰذا اتنے جھوٹے ،مجہول الحال ،مدلس ،اور ناقابل حجت اشخاص کی روایت بالکل دلیل نہیں بنتی اور ایسوں کی کسی بھی روایت کواُصولِ حدیث کی رُوسے رَد کیا جاتاہے۔
چندعقلی دلائل ،جس سے اس بدعت اور خرافات عمل کاغلط ہونا ثابت ہوتا ہے
٭……٭یہ عمل ہر علاقے میں مختلف طریقوں سے کیاجاتاہے،مثلاََ :
٭ضلع چارسدہ میں اسقاط میں گڑ،پیسے،قرآن کریم ،عمامے اور جانماز شامل ہوتے ہیں ۔
٭باجوڑایجنسی میں پیسے ، نمک ، قرآن کریم اور عمامے وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔
٭تحصیل شبقدر کے علاقے میں صرف پیسے اور قرآن کو دائرے میں پھر ایا جاتاہے جبکہ ساتھ ہی صابون اور جانماز بھی لے جانا ضروری ہے ۔
جو اس بات کاکافی دلیل ہے کہ یہ کوئی دینی امر یا حکم نہیں بلکہ ‘‘ مولویوں کی بد معاشی ہے’’ ورنہ ہر جگہ ساری دنیا میں ایک طرح انجام پاتا جس طرح دوسری عبادات ہیں۔
٭……٭برصغیر اور افغانستان کے علاوہ دنیا کے کسی اور خطے میں اس کانام ونشان نہیں ۔اگر یہ کوئی شرعی عمل ہوتا تو باقی دنیا کے لوگ بھی اس سے واقف ہوتے۔
٭……٭جس عمل کو نہ نبی کریم ﷺ نے کیا ،اور نہ ہی اس کے کرنے کی تعلیم دی ،نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا ،اور نہ ہی چاروں اماموں میں سے کسی نے اس کو نصاََ یا قیاساََ جائز قراردیا ہے تو اس کو کس جواز اور دلیل پر فرض ،نماز ،روزے سے بھی زیادہ ‘‘ اہم فرض’’ سمجھا گیا؟
بریلوی مسلک کے سرخیل احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:
‘‘امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اور اس کے سوا اور حضرات سے روایات بے سروپا عبارت اورجواس عبارت میں مذکور ہیں،سب باطل و افتراء ہیں،نہ یہ عبارت فتاوی سمرقندیہ میں ہے،اس پر(حضرت عمررضی اللہ عنہ) افتراء ہے (جھوٹ) ہے اور بے چارہ افتراء کرنے والا عربی عبارت بھی باقاعدہ نہ بنا سکا،اپنی ٹوٹی پھوٹی جاہلانہ خرافات کو صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ رحمہم اللہ کی طرف منسوب کیا۔’’ (العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ,ج:2 ،ص:561)