…چیونٹی اور قرآن…
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص قسم کی جبلت اور شعور عطا فرمایاہے۔جدید سائنسی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چیونٹیوں کا طررِ زندگی انسانی طرِ زندگی سے کافی حدتک مشابہت رکھتی ہے۔
… وہ بھی انسانوں کی طرح اپنے مردہ کو دفن کرتے ہیں،…انتہائی نظم وضبط کے ساتھ آپس میں تقسیمِ کار کرتے ہیں،…وہ کام کرتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں بھی کرتے ہیں۔جس کی مثال یہ ہے کہ قطاروں میں چلتے ہیں ہوئے ایک چیونٹی دوسرے سے منہ ملاتا ہے اور پھر دونوں اپنی اپنی راہ لگ جاتے ہیں،…موسمِ سرماکیلئے چیونٹی خوراک بھی ذخیرہ کرتی ہیں۔
٭…٭قارئین کو ایک اور زبردست بات بھی بتادیتے ہیںکہ اگرگندم وغیرہ کادانہ ذخیرہ کیا جائے تو نمی لگتے ہی یہ دانہ اُگے گی،اور جب یہ اُگ جائے تو پھر چیونٹی کیلئے خوراک کا فائدہ نہیں دیتی ۔ اس لئے چیونٹی اس دانے کودوحصوں میں توڑ تی ہے تاکہ یہ اُگنے کے قابل نہ رہے۔
علامہ ابن جوزی متوفی597 ہجری نے اپنی مایہ ناز تفسیر زاد المسیر میںلکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے چیونٹیوں کو ان کے بہت زیادہ کام سمجھائے ہیں جس کی وجہ سے یہ دوسرے حیوانات سے ممتاز ہے :
…ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ چیونٹی ہر ذخیرہ کرنے والے دانے کو دو حصوں میں کاٹتی ہے تاکہ یہ اُگ نہ سکے،…مگر دھنیا کا دانہ چار حصوں میں توڑتی ہے اس لئے کہ اگر دھنیا کے دانے کے دو حصے کئے جائیں تو یہ اُگتی ہے،(جبکہ چار حصوں میں توڑے جانے کے بعد بالکل نہیں اُگتی ) ۔ پاک وہ ذات جس نے چیونٹی کو یہ شعور عطافرمائی۔‘‘
(تفسیر زادالمسیر،سورت نمل:18)
…اگر ذخیرہ کئے ہوئے خوراک میں کوئی دانہ اُگنے لگے تو چیونٹی فوراً اس کی جڑ کاٹ دیتی ہے، کہ پودا بن کر بے سود نہ ہوجائے ، آخر کس نے اس ننھی جان کو یہ بڑی بات بتادی؟
…ذخیرہ کئے ہوئے خوراگ اگر نم ہونے لگے توچیونٹی اس کو نکال کر دھوپ میں سکھاتے ہیں اور سوکھنے کے بعد پھر اندر لے جاتاہے،آخر کس نے اس ننھی جان کو اتنی بڑی بات بتادی؟
…اس طرح سلیمان علیہ السلام کے قصے میں چیونٹی کا ذکر آتاہے۔سلیمان علیہ السلام کا لشکر گزرتے ہوئے ایک چیونٹی نے دوسرے چیونٹیوں سے کہا کہ اپنے اپنے بلوں میں جا گھسو، ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام اور اس کے لشکر کے پائوں تلے روندے جائو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُھ۫ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَھُمْ یُوْزَعُوْنَﭠ حثج اِذَآ اَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِﺫ قَالَتْ نَمْلَةٌ یآَیُّھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْﺆ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُھ۫ﺫ وَھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَﭡ(سورت النمل،آیت:18,17)
’’سلیمان علیہ السلام کے سامنے اس کے تمام لشکر،جنات،انسان اور پرندوں کے، حاضر کئے گئے۔ جب وہ چیونٹیوں کے میدان پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیوں!اپنے اپنے گھروں میں گُھس جائو ، ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں سلیمان علیہ السلام اور اس کالشکر تمھیں روند ڈالے۔‘‘
قرآن نے اس بات کا انکشاف چودہ سوسال پہلے کیاہے کہ چھوٹے چھوٹے جاندار بھی اتنا شعور رکھتے ہیں جس سے وہ اپنے اور اپنے ہم جنسوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔اس بات کی سائنسی تصدیق بھی ہوئی ہے کہ چیونٹیوں کے پیٹھ پر ایک باریک ساAntinaقسم کی چیز ہوتی ہے جسے حاسہ Feeler کہتے ہیں جس کی مدد سے ان کا آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ قائم رہتا ہے ۔
دوسرے حشرات پر بھی اس قسم کےs Antinaلگے ہوتے ہیں ،جس کو انگریزی میں Feeler اور اُردو میںحاسہ کہتے ہیں ۔یہ حشرات اس آلے کی مدد سے خطرے کا اِدراک کرکے اپنے ہم جنسوں کو بھی اس خطرے سے مطلع کر دیتے ہیں۔
قارئین نے دیکھا کہ ایک چیونٹی نے اپنی قوم کا بھلا چاہا ،اور ان کیلئے آنے والے خطرے سے ان کو آگاہ کیا تو اس ننھی سی چیونٹی کی یہ مخلصانہ ادا ربِّ کائنات جلَّ شانُہ‘ کو اتنا بھایا کہ اس کا ذکر قرآنِ مقدس میں فرمایا ۔ اگر ہم نے ایک دوسرے کی بھلائی چاہنے لگے اور حسد و کینہ سے اپنے دلوں کو پاک و صاف رکھا تو ہماری روحانی ترقی کا کیا حال ہوگا؟ ایک اور بات یہ کہ اس میں ہمارے حکمران طبقے کیلئے بھی ایک درسِ عبرت پنہاں ہے:
…اقتدار میں اقتدار کیلئے نہیں بلکہ لوگوں کی بھلائی کیلئے اقتدار میں آنے کا بنیادی سوچ ہونا چاہئے ۔جب سوچ اور روئے غلط ہوں گے تو غلط فیصلوں کے سوا کچھ نہ ملے گا ،اور ان غلط فیصلوں کا اثر پوری قوم پر پڑے گا۔
خالقِ تعالیٰ کی کوئی بھی تخلیق عبث نہیں ،خواہ کتا ہی کیوں نہ ہو
اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی اشیاء تخلیق کئے ہیں ،وہ تمام کے تمام، اللہ تعالیٰ کی ان حکمتوں کے مطابق، جو اللہ کے سواء کسی کو نہیں معلوم ،عبث اور بے فائدہ نہیں۔مگر پھر بھی ظاہراً ہم دیکھتے ہیں کہ:
٭کتا بسا اوقات انسان کی زندگی اَجیرن کردیتاہے۔
٭سانپ دہشت اور خوف کی علامت بن جاتی ہے۔
بلکہ اگر دیکھاجائے تو لفظ ’’کتا ‘‘ حقارت کے معنوں میں استعمال کیاجاتاہے۔مگر ہماراتمہارا ربِّ ذوالجلال جب اعلان فرماتاہے کہ :
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَا۬ئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا بَاطِلًاﺚ(سورت،ص:27)
’’اور ہم نے آسمان اور زمین، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں، بے فائدہ پیدا نہیں کئے۔‘‘
اللہ کے اس فرمان کے نتیجے میں غوروفکر کیاجائے تو کائنات کا کوئی چیز عبث نہیں بلکہ ہر چیز کے ساتھ انسان کیلئے فوائد وابستہ ہیں۔
…کتے کو لیجئے، کتنا وفادار ہے۔ اس کی وفا داری ضرب المثل ہے۔…اکثر ایسے قصے سنے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یعنی مالک کا قتل ہوا،یا اچانک طبعی موت مرا، اور کتا گھر آتا ہے اور گھر والوں سے لپٹ لپٹ کر زبانِ حال سے ان کو سمجھا رہاہوتاہے کہ… میرے ساتھ چلو ۔ اورجب وہ اس کے ساتھ ہوکر چلتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ مالک مرچکاہے، اور گھر والے اپنے مردے کو اُٹھاکر لے آتے ہیں۔
…اس طرح یہ بھی سناہے کہ کوئی اس کے مالک پر لاٹھی یااسلحے سے حملہ آور ہوا،اور اس کا کتااپنے مالک کی دفاع میں اس حملہ آور کے ساتھ حتی الامکان لڑتا رہا اور اپنے مالک کو بچاتارہا،یا بچانے کی کوشش کرتارہا۔
…ایک وقت تھا کہ لوگوں کے دلوں میں کتوں کی محبت رچ بس گئی تھیں تو نبی کریم ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم صادر فرمایا ،…پھر جب وہ محبت نہ رہی ، لوگوں کے دلوں میں کتوں کی محبت حکمِ نبویﷺ کی وجہ سے کم ہوگئی تو آپﷺ نے کالے کتوں کے قتل کا حکم دیا ، …اورجب محبت بالکل ختم ہوگئی، تو رحمتِ کائنات سردارِ دو جہاںﷺ نے فرمایا:
’’ کہ ہمیں کتوں سے کیا کام۔ پھر شکاری کتوں اور چرواہوں کیلئے اور باغ ومکان کی حفاظت کیلئے ایک خاص قسم کے کتے پالنے کا حکم صادر فرمایا۔‘‘(تفصیل:ابن ماجہ،کتاب الصید،باب قتل کلاب الا کلب الصید او زرع۔۔۔شرح معانی الآثار،کتاب البیوع ،باب ثمن الکلب۔۔۔سنن دارمی ،کتاب الصید،باب اقتناء کلب الصید اوالماشیۃ)
لہٰذا یہ بھی انسان کے کام آتے ہیں اور ان میں بھی انسان کیلئے فائدے ہیں۔
…سانپ کو دیکھئے ،…کتنا خوفناک اور زہریلا، مگر بعض تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ کائنات میں ایک زہریلی گیس ہے جو … سانپ نگلتاہے،اگر سانپ نہ ہوتا تو پھر وہ زہریلا گیس انسانوں کیلئے باعثِ مضرت بن جاتا۔
انسان اللہ کے حکم کا پابند ہے جب اللہ فرماتاہے کہ میں نے کسی چیز کو بے فائدہ پیدا نہیں فرمایا تو انسان کو اس بات پر کامل یقین رکھنا چاہیے کہ واقعتاً کائنات کا ذرہ ذرہ عبث نہیں بلکہ ان میں فوائد کے سمندر پنہاں ہیں مگر ہمارا تمہارا علم اس مقام پر نہیں پہنچا جو ان چیزوں میں پنہاں فوائد کا اِدراک کر سکے ۔
…کتے کی وفا ضرب المثل کیوں بن گئی ہے؟…
شروع میں ہم قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر گنبدیں بنانے کی شرعی حیثیت واضح کریں گے۔ اس کے بعد کتے کی وفا ضرب المثل کیوں بن گئی ؟ پر علامہ دمیری رحمہ اللہ کے کتاب کے حوالہ سے لکھیں گے ، مگر اس سے پہلے قبروں کی پختگی کی حرمت واضح کرنا چاہتے ہیں اس لئے کہ اسی قصے میں ایک بادشاہ نے کتے کو اس کی وفاداری کی وجہ سے باقاعدہ دفناکر اس پر گنبد تعمیر کرایا تھا جس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب کتے کی قبر پر گنبد بن سکتی ہے تو کسی ولی کے قبر پر کیوں نہیں۔
اس لئے قارئین کو یہ بات ذہن نشین کرنا چاہئے کہ ایسے قیاسات شیطانی قیاسات ہوتے ہیں اس لئے پہلے شرعاً اس ممنوع کام کا ذکر کرتے ہیں پھر اس کتے کا قصہ بیان کریں گے اور اس میں پوشیدہ عبرت کو بھی۔
نبی کریم ﷺکی احادیث کی روشنی میںقبروں کوپختہ کرنا اور ان پر گنبدیں وغیرہ بنانے کی ممانعت
…جابر،ابو سعید خدری اور اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہم اجمعینسے روایت ہے کہ :
نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُ وَ اَنْ یَقْعُدَ عَلَیْھِ وَ اَنْ یُبْنٰی عَلَیْھِ۔
نبی کریم ﷺ نے قبر کو چونے سے پختہ بنانے اور اس پر قبہ (گنبد)وغیرہ بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘(مسلم شریف ،کتاب الجنائز، با ب النھی عن تجصیص القبر والبناء علیہ،، ابو دائود ،، ترمذی،، نسائی،، ابن ماجہ،، مسند احمد،،مصنف ابی شیبہ ،، مستدرک حاکم)
…حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
بَعَثَھٗ النَّبِیُّ ﷺ اِلَی الْمَدِیْنَةِ فَاَمْرُھٗ اَنْ یُسَوَّیَ الْقُبُوْرُ۔ (مسند احمد)
’’نبی کریم ﷺ نے مجھے مدینہ کی طرف بھیجا اور قبروں کے برابر کرنے کا حکم دیا ۔‘ ‘
…ابی الہیاج اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اَلَا اَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِیْ عَلَیْھِ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَنْ لَا تَدْعَ تِمْثَالًا اِلَّا طَمَسْتَھٗ وَلَا قَبْرًا مُشَرَّفًا اِلَّا سَوَّیْتَھ۔
(مسلم ،کتاب الجنائز ،باب الامر بتسویۃ القبر،،، نسائی ،،، ابو دائود ،،، ترمذی ،،،، مسند احمد)
’’کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا،وہ یہ کہ تم کوئی تصویر و مجسمہ نہ چھوڑو مگر اسے مٹادو،اور جو بھی قبر زیادہ اُونچی ہو اسے برابر کردو ( شرعی حد کے مطابق)۔‘‘
قبر کی شرعی حد
قبرزمین سے ایک بالشت برابر اُونچی ہو،مگر بالشت قبر کے کوہان سے لی جائے گی۔
…امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے:
وَ رُفِعَ قَبْرِہِ مِنَ الْاَرْضِ نَحوا مِنْ سِبْرًا کَذَا وَجَدْتَھٗ۔
’’اور نبی کریم ﷺ کی قبرِ اقدس زمین سے ایک بالشت برابر اونچی تھی اسی طرح اس کو پایا ہے ۔‘‘ (سنن الکبری للبیہقی ،باب لایزاد فی القبر علی اکثر من ترابہ لئلا یرتفع جداََ)
لہٰذا ’’قبروں کو برابر کرنے‘‘ کا یہی مطلب صحیح ہے کہ ان کو شرعی حد سے زیادہ نہ چھوڑا جائے یعنی ایک بالشت سے زیادہ اُونچی نہ ہو۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بعض مفاد پرست قبر پرست لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوبلادِ کفار کی طرف بھیجاگیا تھا ،مسلمانوں کے علاقوں کی طرف نہیں اس لئے یہاں مراد مشرکین کی قبریں ہیں نہ کہ مسلمانوں کی قبور۔
…یہ اعتراض بے جا یا تجاہلِ عارفانہ ہے، یا مفاد پرستی پر مبنی عوام کو دھوکہ، یا علم کے نام پر علم کے ساتھ کھیل، یا احادیثِ نبی ﷺ سے لا علمی اور جہالت۔
…کیونکہ مسند احمد کی مذکورہ حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے واضح الفاظ میں مروی ہے کہ اسے مدینہ کی طرف بھیجا گیا تھا اور مدینہ منورہ میںقبروں کو برابرکرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اگر صرف کفار کی قبریں مراد ہوتی تو محدثین رحمہم اللہ اس بات کی وضاحت ضرورفرماتے۔
مصنَّف عبدالرزاق کی حدیث میں مسلمانوں کی قبریں برابر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ بھی اپنے دورِ خلافت میں قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں عبداللہ بن شرحبیل بن حسنہ سے روایت ہے :
اِنَّ عُثْمانَ خَرَجَ فَامَرَ بِتَسْوِیَةِ الْقُبُوْرِ فَسُوِّیَتْ اِلّا قُبْرُ اُمِّ عَمْرٍو وَ اَبِیْھِ عُثَمانَ فَقَالَ مَا ھٰذَا الْقَبْرُ فَقَالُوْا قَبْر اُمِّ عَمْرٍو فَاَمَرَ بِھٖ فَسُوِّیَ۔
’’ عثمان رضی اللہ عنہ نکلے اور قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا پس قبریں برابر کردی گئیں اور اُمِ عَمْروکی قبر چھوڑی گئی جو عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی تو اس نے پوچھا کہ یہ قبر کس کی ہے بتا گیا کہ اُمِ عمرو کی ، تو عثمان رضی اللہ عنہنے اس کے برابر کرنے کا حکم دیا ، وہ بھی برابر کی گئی۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ،باب فی تسویۃ القبر وماجاء فیہ)
لہٰذا فضول اعتراض کرنے والوں کیلئے یہ ایک حدیث بھی کافی ہے جس میں ایک جلیل القدر صحابی نے قبور المسلمین کو برابر کرنے کا حکم دیا تھا نہ کہ کفار کی قبروں کا۔
فقہاء احناف سے قبورپر گنبد اور ان کو پختہ بنانے کی ممانعت
امام اعظم ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں:
’’قبر سے جو مٹی نکلی ہے اس سے زیادہ مٹی قبر پر ڈالناہم جائز نہیں سمجھتے ،اور قبر کوچونا گچ کرنا، یا مٹی کے گارے سے لپائی کرنا، یا قبر کر کے قریب مسجد بناناہم مکروہ سمجھتے ہیں،اور پختہ اینٹوں سے قبر بنانا ، یا قبر کے اندر پختہ اینٹ داخل کرنامکروہ ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے ۔‘‘(کتاب الآثار‘ لامام محمد رحمہ اللہ،،باب تطین القبور و تجصیصھا)
فتاوی قاضی خان میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’قبر کو چونا گچ کرنا ،اس کی لپائی کرنا اور اس کے اُوپر تعمیر کرنا ممنوع ہے ۔‘‘
( قاضیخان، ج1ص93)
فتاوی عالمگیری میں لکھتاہے:
و یُسَنَّمُ الْقَبْرُ قَدْرَ الشِّبْرِ وَلَا یُرَبَّعُ وَلَا یُجَصَّصُ وَلَا بَاْسَ بِرَشِّ الْمَاءِ عَلَیْھِ وَ یُکْرَھٗ اَنْ یُّبْنٰی عَلَی الْقَبْرِ اَوْ یَقْعُدُ یَنَامُ عَلَیْھِ۔
’’قبر کو اُونٹ کی کوہان کی طرح بنایاجائے اور وہ بھی ایک بالشت کی مقدار، اور نہ اسے مربع شکل بنایا جائے اور نہ پختہ کیا جائے اور اس پر پانی چھڑکنے میں کوئی حرج نہیں اور قبر پر عمارت بنانا اورقبر پر بیٹھنا مکروہ ہے۔‘‘ (فتاوی عالمگیری،فصل سادس فی القبر)
آگے لکھتا ہے:
وَ یُکْرَہُ اَنْ یُبْنٰی عَلَی الْقَبْرِ مَسْجِدٌ اَو غَیْرھٗ کَذَا فِی السِّرَاجِ الْوَھَّاجِ، وَ یُکْرَھٗ عِنْدَ الْقَبْرِ مَالَمْ یَعْھَدْ مِنَ السُّنَةِ وَالْمَعْھُوْدِ مِنْھَا لَیْسَ اِلَّا زِیَارَتَھٗ وَالدُّعَاءُ عِنْدَھٗ قَائِمًا کَذَا فِی الْبَحْرِا الرَّائِقِ۔
’’اور قبر پر مسجد بنانا مکروہ ہے اور یہی بات سراج الوہاج میں بھی لکھا ہے۔اور قبر کے پاس وہ سب کچھ مکروہ ہے جو سنتِ نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو، اور سنت سے ثابت صرف مقبرے جانا اور قبر کے پاس کھڑے کھڑے دعا کرنا ہے ،یہی بات بحرالرائق میں بھی لکھی ہے۔‘‘ (فتاوی عالمگیری،فصل سادس فی القبر)
اگر کسی نے قبر پر گنبد یا عمارت وغیرہ بنانے کی وصیت کی تو ایسی وصیت فقہاء باطل بتاتے ہیں اور اس پر عمل کرنا ممنوع ہے۔فقہ حنفی کی معتبر کتاب شامی میں لکھا ہے :
’’اگر کسی نے قبر پر قبہ یعنی گنبد بنانے یا قبر پر قاری کو اُجرت دے کر تلاوت کرنے کی وصیت کی تو ایسی وصیت باطل ہے۔‘‘(شامی،باب الوصیۃ للاقارب)
…کتے کی وفاداری کے چند قصے…
٭…٭اب جبکہ قارئین کے ذہن میں گنبدوں کی تعمیر کے بارے میں شرعی حکم واضح ہوگئی تو اب بادشاہ اور اس کے کتے کا قصہ بھی سنتاجائیے:
علامہ دمیری متوفی808 ہجری ہجری ابن جو زی رحمہما اللہ متوفی 597 ء ہجری کے کتابوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
’’ایک آدمی سفر پر نکلا اور ایک شاندار گنبد کے قریب سے گزرا،جس پر لکھا تھا :
جو اس گنبد کے بنانے کی وجہ جانناچاہے، وہ اس گائوں جاکراس کے مکینوں سے سببِ تعمیر پوچھے اس بندے نے گائوں میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھا مگر کسی سے پتہ نہیں چلا۔ بالآخر ایک سو سالہ معمرشخص کا پتہ اس کو بتایاگیا ،یہ اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا۔اس نے بتایا کہ اس علاقے کاایک بادشاہ تھا ،اس نے ایک کتاپالاتھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا، اور اس کو سفر وحضر اور نیند وبیداری میں اپنے ساتھ رکھتاتھا۔اور اس کی ایک گونگی لونڈی بھی تھی ۔ ایک دن وہ اپنے باغوں کی سیر پر نکلا،اور کتے کو باندھنے کا حکم دیا اور اپنے باورچی کو من پسند دودھ سے بنی ہوئی چیز تیار کرنے کیلئے کہا ،باورچی کھاناتیار کرکے لایا اور لونڈی اور کتے کے قریب رکھ دیا، اور اس کو نہ ڈھانپا، اور باورچی چلا گیا تو ایک سانپ آیا اور اس سے کھا کر چلا گیا ۔جب بادشاہ اپنے باغ سے واپس لوٹا ،تو کھانے لگا ۔ لونڈی نے ہاتھ بجاکر اس کو منع کرناچاہامگر وہ کچھ نہ سمجھ سکاکہ لونڈی کیاکہنا چاہتی ہے۔بادشاہ جب لقمہ اُٹھانے لگا تو کتا بھونکااور زنجیروں کو توڑنے کی کوشش میں گویا اپنی جان کی بازی لگاتارہا۔بادشاہ کو اس پر سخت تعجب ہوا اور کتے کو زنجیروں سے کھولنے کا حکم دیا،کتا بادشاہ کی طرف دوڑا ،بادشاہ لقمہ اٹھانے والاہی تھا کہ کتا لقمے پر حملہ آور ہوا اور لقمہ بادشاہ کے ہاتھ سے چھینا۔بادشاہ کو غصہ آگیا اور قریب پڑے خنجرسے اس کو مارناچاہاکہ اتنے میں کتے نے سر برتن میں ڈالااور اس کھانے کو کھانے لگا ، کتا زہر کی وجہ سے مرگیا،بادشاہ کو تعجب ہوا،لونڈی سے پوچھا اس نے اشارہ سے سانپ کے اس برتن میں سے کھانے کے بارے میں بتادیا۔پس بادشاہ سمجھ گیا ، اس کھانے کو گرانے کا حکم دیا،باورچی کو کھانا کھلا رہنے دینے پر سرزنش کیا،اور کتے کو دفن کرنے اور اس پر ایک گنبد بنانے کا حکم دیا ۔‘‘(حیوۃ الحیون ،باب الکاف)
…علامہ دمیری رحمہ اللہ نے چند اور قصے بھی ذکر کئے ہیں۔ان میں سے ایک کا خلاصہ یہ ہے :
’’ ایک شخص کی کسی قبیلے کے ساتھ دشمنی تھی، ایک دن موقع پاکر انہوں نے اس دشمن کو پکڑ کر گھر لے گیا ،اور قتل کرکے ایک کنویں میں ڈال دیا اور کنواں بند کردیا۔کتا مالک کے گھر آگیا اور شور کرنے لگا مگر کسی نے توجہ نہ کی ،آخر مقتول کے والدہ کو جب بیٹے کے غائب ہونے اور قتل ہونے کا گمان ہوا تو انہوں نے اسے مردہ سمجھ کر واویلا کیا ۔ چند دن بعد اس کے مالک کے قاتلوں میں سے کوئی اس طرف آیا ،کتے نے اس کو پکڑا اور شور مچایا، جنگی حارس نے سمجھا کہ اس کتے کا اس شخص کے ساتھ ضرور کوئی قصہ ہے۔اس شور پر مقتول کی ماں نکلی دیکھا کہ کتا اس کے بیٹے کے پرانے دشمنوں میں سے ایک دشمن کو چمٹا ہوا ہے ۔اس عورت نے بات امیرالمؤمنین راضی باللہ کے دربار تک پہنچائی ، اس نے مشکوک شخص کو قید کرایا ،اور اس سے تفتیش ہوئی مگراس نے جرم سے انکار کیا، کتا اس کے قیدخانے کے سامنے لیٹا تھا،اور چند دن بعد بادشاہ نے اسے رہاہونے کا حکم دیا تو کتا اس شخص کے ساتھ دوبارہ چمٹ گیا ،س پر لوگ تعجب میں پڑ گئے ،بادشاہ تک بات پہنچائی گئی ،اس شخص کے پیچھے جاسوس لگائے گئے ،مگر انہوں نے بھی اس گھر میں قتل کی کوئی نشانی نہیں دیکھی۔ بالآخر کتے نے کنویں کی جگہ کھودنا شروع کیا تو وہ سمجھ گئے۔جب جگہ کھودی گئی تو مقتول کی لاش نکلی ۔ خلیفہ نے اس ایک شخص سے اقبالِ جرم کرایا ،اس نے اقبالِ جرم کیا اسے قصاص میں قتل کیاگیا ، اور دوسروں کے پکڑنے کا پروانہ جاری کیا گیا مگر وہ وہاں سے بھاگ نکلے۔‘‘ (حیوۃ الحیون ،باب الکاف)
علامہ دمیری رحمہ اللہ نے ایک اور قصہ بھی ان الفاظ میں ذکر کیاہے:
’’امام غزالی نے احیاء العلوم میں بعض صوفیہ سے نقل کیاہے کہ ہم طرسوس میں تھے۔ ہم اکٹھے ہوکر باب الجہاد کی طرف گئے ،اس علاقے کاایک کتا ہمارے پیچھے آتا رہا۔ہم باب الجہاد پہنچے اور مردار جانور کو دیکھا ،ہم ایک اُونچی جگہ چڑھ کر بیٹھ گئے ۔جب اس کتے کی نظر مردار پر پڑی تو گائوں واپس چلاگیا اور تقریباً 20اور کتوں کو ساتھ لایا۔اس مردار کے پاس آیا اور خودایک طرف بیٹھ گیا ۔ دوسرے کتے مردار سے کھانے لگے یہاں تک کہ خوب سَیر ہوگئے۔اور یہ پہلے والا کتا ان کو دیکھتا رہا ،جب سب فارغ ہوئے اور صرف ہڈیاں رہ گئیں تو سب کتے گائوں واپس چلے گئے تب یہ کتا ان ہڈیوں پر سے باقی گوشت کھانے لگا ۔‘‘(حیوۃ الحیون ،باب الکاف)
علامہ دمیری نے یہ بھی لکھاہے کہ روم کے باشندے مردے کو کتے سے سونگھوانے کے بعد دفن کیا کرتے تھے تاکہ پتہ چلے کہ …موت واقع ہوئی ، یا …بیہوشی ہے۔
(حٰیوۃ الحیون ،باب الکاف)
آج کل بھی کھوجی کتے سونگھنے کی حس کے ذریعے قدموں کے نشان سے مجرم کا پتہ لگانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں ،فوج کے ساتھ اس قسم کے کتے بالخصوص موجود ہوتے ہیں۔
…قارئین نے تو اصحابِ کہف کے کتے کا قصہ پڑھا ہی ہے ،قرآن کی سورت کہف،آیت :18 میں اس طرح ذکر کیاگیاہے:
’’ان اصحابِ کہف کا کتا اس غار کے دہانے پر ،جس میں اس کے مالک داخل ہوئے تھے، پر ہاتھ پھیلا ئے بیٹھا ہے۔‘‘
…اور آیت22:میں اصحابِ کہف کی تعداد کے ضمن میں ان کے کتے کو بھی شمار کیا گیا ہے۔
٭کتا وفادار بنا تو اللہ نے اس کی وفا داری کی قدردانی فرمائی،اور اس کا ذکر اس کے مالکوں کے ساتھ ، جو اس وقت کے اولیاء اللہ تھے، کیا۔
…اے انسان! اگر تو اپنے خالق،مالک،رازق،متصرف اورمدبّر بادشاہ کے وفادار بنے تو تیرا ربّ، جو بادشاہوں کا باشاہ اور شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے ،وہ تیری وفاداری کی کتنی قدر افزائی فرمائے گا ؟ جنت تو دے گاہی ساتھ ہی تجھے اپنا دیدا ربھی بخشے گا۔
…اے انسان! غفلت کی نیند سے بیدار ہوجا۔معصیت اور گناہوں کی زندگی چھوڑ ، اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کر کہ اس کے ساتھ ہی تیری کامیابی مشروط ہے۔
…اے انسان! اطاعت گزار اور مطیع بنو،اللہ تیری اطاعت گزاری کا محتاج نہیں بلکہ تو اللہ کی اطاعت کا محتاج ہے ،اس لئے کہ اگر تو اطاعت گزار نہ بنے اور نافرمانی کرتارہے تو:
وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِﺚ اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْۭ بَعْدِکُمْ مَّا یَشَا۬ئُ کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَﯔﺚ(سورت انعام، آیت:133)
’’ اور تمہارا رب غنی اور بے نیاز ہے(کسی کا محتاج نہیں بلکہ سب اس کے دَر کے محتاج ہیں،مگر اس کے ساتھ وہ)رحمت والا (بھی)ہے،اگر وہ چاہے تو تم سب کو اُٹھالے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کردے،جیسااُس نے تم کو ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیاہے۔‘‘
…اے انسان! اگر تو اپنے شہنشاہ اور مالک کا وفادار نہ بن سکا ،تو تُویہ بات یقین اور جزم کے ساتھ سمجھو کہ تم نے زندگی کا مطلب ہی نہیں سمجھاہے ،تم نے اس دنیا میں اپنے آنے کا مقصد ہی نہیں سمجھا ہے۔پھر تو تُو اس شترِ بے مہار کی طرح ہے جسے اپنے منزل کا پتہ نہیں ،اپنے انجام کا پتہ نہیں۔
…اے انسان! تم تو وفادار بننے کیلئے پیدا کئے گئے تھے ،باغی بننے کیلئے نہیں، تم کیوں نہیں سوچتے :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِﮇ (سورت ذاریات،آیت:56)
’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے ۔ ‘‘
اور عبادت تذلّل اور عاجزی سے عبارت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ہر ہر حکم ماننے کا معنی پوشیدہ ہے۔
…اے انسان! تم اللہ کے محتاج اور اللہ کے دَر کے فقیر ہو، اللہ تمہارا محتاج نہیں۔
تم خود کو حاجتمند سمجھ کر صرف اسی کے سامنے گڑگڑانا سیکھو پھر دیکھو ،کس طرح تمہاری سوچ سے بھی بڑھ کر تیری مدد فرماتاہے:
وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّھ۫ مَخْرَجًاﭑﺫ وَّیَرْزُقْھُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُﺚ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَ حَسْبُھ۫ﺚ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِھ۪ﺚ (سورت طلاق ،آیات:3,2)
’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتاہے تو اللہ اس کیلئے مصیبت سے نکلنے کیلئے نجات کا راستہ نکال دیتاہے ، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق دیتاہے جس کااسے گمان بھی نہ ہو۔اور جو اللہ پر بھروسہ کرے گا،تو اللہ اس کیلئے کافی ہوگا،اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ۔‘‘
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
’’جسے کوئی حاجت ہو اور وہ یہ حاجت لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور وہ کام مشکل ہوجائے،اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتاہے،یا تو جلدی اسی دنیا میںہی، یا دیر یعنی موت کے بعد۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر،سورت طلاق،آیت:2)