پانچ مقاصدِ شریعت، اسلام میں حلال اور حرام کی بنیاد،ایمان کی آزمائش کی بنیاد

 مقاصدِ شریعت کیا ہے؟

شریعت کے تمام احکام پانچ مقاصد پر مبنی ہیں۔ بعض حضرات نے چھ نقل کئے ہیں:

۱.حفاظتِ دین، ۲.حفاظتِ جان، ۳. حفاظتِ عقل، ۴. حفاظتِ نسب، ۵. عزت ، ۶۔ حفاظتِ مال

ان پانچ مقاصد کے ذیل میں جو بھی چیز آئے گی وہ مصلحت کہلائے گی۔ اور ان مقاصد میں کسی بھی مقصد کا ضیاع، خرابی اور فساد کا باعث ہوگا، اور اس خرابی کو دور کرنا مصلحت ہے۔

چونکہ چھ  مقاصدِ شرعیہ میں ہمارے موضوع سے متعلق بنیادی طور پر مقصد نمبر:3 یعنی حفاظتِ عقل ہے اور ضمنی طور پر مقصد نمبر:5 یعنی حفاظتِ مال ہے اس لئے ہم ان دو  پر بات کریں گے، اس لئے کہ نشہ عقل کے لئے مضر ہے اور اس سے عقل منفی طور پر متاثر ہوکر زندگی کی معمولات میں تعطل اور بگاڑ پیدا کرکے معمولی باتوں پر باہمی جھگڑوں کا سبب بنتا ہے۔

عقل کی حفاظت

عقل اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ اور نعمت ہے۔اور عقل ہی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری تمام  مخلوقات پر شرف و فوقیت عطا فرمائی ہے۔ یہ ایک معلوم امرہے کہ حصولِ علم کے تین ذرائع ہیں:   ۱. حواسِ خمسہ، ۲. عقل اور ۳. وحی۔

ان میں حواسِ خمسہ کا دائرہ کار محدود ہے، جبکہ عقل کا دائرہ کار کچھ وسیع ہے جبکہ ان دونوں سے بڑا ذریعہ وحی ہے۔  تاہم اللہ تعالیٰ کے جتنے بھی احکامات ہیں، وہ ماورائے عقل تو ہو سکتے ہیں لیکن خلافِ عقل کوئی بھی نہیں ہے۔ قرآن میں جا بجا ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ لوگ عقل سے کیوں کام نہیں لیتے۔

پانچ مقاصدِ شرعیہ میں،حفاظتِ جان کے بعد،عقل کا تیسرا درجہ ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دین پر اس وقت صحیح طریقے سے عمل ہوسکتا ہے جب  انسان کی جان امن سے ہو۔ انسان مکلف(شریعت کا پابند) اس وقت بنتا ہے جب وہ خطابِ شرعی کو سمجھ سکتا ہو، اس لئے عقل کی حفاظت لازم قرار دی دی گئی اور اسی وجہ سے شراب اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا گیا۔ رسول اللہﷺنےفرمایا:

کُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَ کُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ 

’’ہرنشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘( مسلم:2003)

جو لوگ کہتے ہیں کہ صرف انگور سے بنی شراب خمر ہے اور وہ حرام ہے باقی نہیں ان کے لئے رسول اللہﷺنے قرآنی اصطلاح خمر کی وضاحت ہر نشہ آور چیز سے کرکے ان کی اعتراض کا جواب چودہ سو سال پہلے دیا ہے۔اس لئے چرس، افیون، بھنگ، کیمیاوی نشہ آور اشیاء، ہیروئن، الکوحل، کوکین، مارفین اور مختلف پھلوں اور اناج سے بنے تمام خشک اور مائع نشہ آور اشیاء حرام ہیں۔ جب نبی کریمﷺ کی مذکورہ حدیث کی رُو سے ہر

نشہ آور چیز خمر (شراب)ہے تو یہ بھی نبی کریمﷺنے فرمایا:

مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوہُ

’’جو شخص نشہ آور اشیاء استعمال کرے اسے کوڑے لگاؤ‘‘(ابوداؤد، کتاب الحدود)

مال کی حفاظت

انسانی زندگی کی بقا کے کے لئے مال کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس کے بغیر انسان کو خوراک، لباس اور مکان کے سلسلے میں کوئی چارہ نہیں۔اس لئے قرآن و سنت میں جائز طریقوں سے حلال مال کمانے پر زور دیا گیا ہے، اور ناجائز طریقوں سے حرام مال کمانے سے منع فرمایا گیا ہے۔..اس کے لئے چوری کرنے والے مرد و عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا۔..اسی طرح سود سے سخت ترین الفاظ میں منع فرمایا گیا۔ ..رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی کہا گیا۔..اسراف و تبذیر، شیطانی طریقوں اور لہو و لعب میں مال خرچ کرنے سے منع فرمایا گیا۔..ناحق ایک دوسرےکا مال کھانا حرام قرار دیا گیا۔

ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانے کے مفہو م میں ہر وہ طریقہ شامل ہے جو شریعت اور عرف عام میں ناجائز ہو، چاہے وہ عیاں ہو یا خفیہ ۔

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

مَنِ ‌اشْتَرَى ‌سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا ‌سَرِقَةٌ  فَقَدْ شَرَكَ فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا

’’جس نے چوری کا مال خریدا، یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا ما ل ہے، وہ اس کے برائی اور گناہ دونوں میں شریک ہوا۔‘‘ (مستدرک حاکم، کتاب البیوع)

 اس لئے سود، جوا،  ناپ تول میں کمی بیشی، ذخیرہ اندوزی اور وہ تمام طریقے حرام قرار دئے گئے ہیں جن سےکسی فرد کو مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔شریعت کے یہی وہ پانچ مصالح ہیں جنھیں’مصالحِ ضروریہ‘ سے تعبیر کیاگیا ہے۔ (ہم نے صرف دو چُن لئے ہیں یعنی عقل اور مال)ان کی حفاظت کو شریعت نے لازم قرار دیاہے اور ان کو پامال کرنے والےکے خلاف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

حلال و حرام کی بنیاد

آج کل بعض لوگ کہتے ہیں کہ شراب کے لیے حرام کا لفظ قرآن میں کہاں ہے؟

جواب یہ ہے کہ جھوٹ بولنے کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا،حتیٰ کہ

 عملِ قومِ لوط علیہ السلام (مرد کا مرد سے بدفعلی کرنے)کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا، توپھر ان کی حُرمت کا بھی انکار کروگے؟

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حُرمت و حلّت کے جو احکام کھانے

 پینے کی چیزوں کے بارے میں دئے ہیں ان کی بنیاد طِبی نہیں ہے۔ اگر طبی بنیاد ہو تو اُس صورت میں جتنی چیزیں انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، ان سب کی حُرمت کے احکام قرآن و حدیث میں آتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جن چیزوں کو جاننے کے ذرائع اس نے انسان کو عطا کر دئے ہیں ان کے بارے میں وہ براہِ راست ہدایت نہیں دیتا۔ ان کے بارے میں انسان کا کام ہے کہ خود تحقیقات

 کرے اور خود معلومات حاصل کرے۔

اللہ تعالیٰ اُن چیزوں کے متعلق ہدایت دیتا ہے جن کے جاننے کے ذرائع انسان کے پاس نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کے بارے میں اگر ہدایت نہ دی جائے تو انسان غلطی کر بیٹھے گا۔ اگر حُرمت و حلّت کی بنیاد صحت کے لیے نقصان دہ ہونا ہوتا تو میرے خیال میں ان چار چیزوں(شراب، جوا، بتوں کے استہان اور فال کے تیر) سے پہلے سنکھیا (زہر کی ایک قسم)اور دیگر مہلک زہروں کا ذکر کیا جاتا۔

شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء میں انسان کو فائدہ نظر تو آتا ہے مگر اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی، جسمانی، اخلاقی، اور سماجی نقصانات نظر نہیں آ سکتے تھے اس لئے حکیم و خبیر اللہ جل مجدہ نے ان کی حرمت کا حکم نازل فرما کر اس کی حرمت کی علت و سبب بھی بتا دی کہ ان کے ذریعے شیطان تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ پیدا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد سے بھی روکتا ہے۔اس لئےحُرمت کا اصل سبب وہ نقصانات ہیں جو آدمی کے اخلاق اور اس کی روح کو پہنچتے ہیں۔ وہ نقصانات نہیں ہیں جو آدمی کے جسم کو پہنچتے ہیں، اگرچہ یہ آدمی کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

ایمان کی آزمائش کی بنیاد

اس کے ساتھ اس میں انسان کے ایمان کی آزمائش ہے۔ اگر ایک آدمی ایمان رکھتا ہے

 تو اس کے رب جل مجدہ نے جس چیز سے منع کردیا وہ رُک جائے گا قطع نظر اس کے کہ ممانعت کی وجہ اسے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اگر وہ ممانعت کے جواب میں پلٹ کر یہ کہتا ہے کہ جناب اس کی حکمت مجھے بتایئے، اگر اس کی حکمت مجھے سمجھ میں آئے گی تو میں آپ کا حکم مانوں گا اور نہ آئے گی تو نہیں مانوں گا۔ تو وہ دراصل اپنی سمجھ کی اطاعت کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کر رہا۔ مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ حکم کی دلیل مانگے۔ مومن کا کام یہ ہے کہ اس کا رب جب اسے حکم دے تو سر جھکا دے، اس کی وجہ سمجھ آئے یا نہ آئے۔

وہی حکیم ہے، جو حکم بھی دے رہا ہے دانائی کی بنا پر دے رہا ہے، اور وہ رب ہے

اس کو حق پہنچتا ہے کہ جس چیز سے چاہے اپنے بندوں کو منع کردے۔ کیونکہ دنیا کی

 تمام چیزیں اس کی ملکیت ہیں، بندوں کی ملکیت نہیں ۔

مثال کے طور پر آپ اپنے گھر کے مالک ہو اور کوئی دوسرا شخص باہر سے آئے۔ آپ  کو حق پہنچتا ہے کہ آپ اس کو یہ کہیں کہ میری فلاں فلاں چیزیں تو آپ استعمال کرسکتے ہیں اور فلاں فلاں چیزیں آپ استعمال نہیں کرسکتے۔ اس کو یہ مطالبہ کرنے کا حق نہیں پہنچتا کہ آپ مجھے فلاں فلاں چیزوں کے استعمال کی بھی اجازت دیجیے اور آپ مجھے اجازت کیوں نہیں دیتے؟اس لیے کہ مال آپ کا ہے، اس کا نہیں۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top