’غوث‘ کا من گھڑت منصب
بریلوی کہتے کہ غوث ہمیشہ مکہ میں رہتا ہے،اور دنیا میں جو مصیبت آتی ہے وہ ان سب اولیاء سے ہو کر غوثِ اعظم تک پہنچتی ہے، اور وہ اسے دور کرتا ہے۔
مگر آج تک دنیا سے کچھ بھی دور نہیں کیا۔ سن 2020 میں دنیا میں کرونا نے تباہی مچا دی مگر غوث تماشہ دیکھتا رہا۔اور مکہ میں البیک کا بروسٹ کرامت کے ذریعے چوری کرکے تحونستا رہا۔
سن 1991 میں امریکہ نے بالکل ظلم کی انتہا کرکے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر مکہ و عراق میں موجود غوث ستو پی کر سوتا رہا۔
اکتوبر 2023 سے آج 10 جولائی 2025 تک اسرائیل نے فلسطین غزہ میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی، مگر غوث بے بس اور خاموش۔
اکتوبر 2005 کے زلزلے میں معصوم بچے کئی ہفتے ملبے تلے دبے رہے اور جب تک گناہگار مسلماونوں نے انہیں نہیں نکالا وہ وہیں پڑے رہے مگر غوث چرس کا سوٹا پی کر مدہوش رہا۔
غزہ میں فلسطینی معصوم بچے اور بڑے ملبے تلے دبے رہے مگر غوث بے بس۔
آخر بریلویوں کا غوث کس کام کا۔ نام و مقام اتنا بڑا کہ، نعوذباللہ، اللہ کے کرنے کے سارے کام بقول بریلوی فرقہ غوث ہی کرتا ہے، مگر جب ہم کسی وباء، بلا، سیلاب، مصیبت، زلزلہ، کافروں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے وقت دیکھتے ہیں تو کافروں کی ایجاد کردہ مشینیں، آلات،ہتھیار، اور عام گناہ گار مسلمان اور کافر اِن مواقع پر خدمات اور امدادی کار روائیاں انجام دیتے نظر آتے ہیں مگر غوث صاحب کہیں پر اپنے جلوے اور کرشمے دکھاتا نظر نہیں آتا۔
مسلمان ممالک، بشمول پاکستان، عراق اور دیگر عرب ممالک، کئی صدیوں تک کفار کے زیرِ نگیں غلامی، ظلم اور ناانصافی سہتے رہے مگر غوث کی مدد کہیں نظر نہ آئی کہ ان ممالک کے مسلمانوں کی مدد کرتے اور ان کو غاصب اور ظالم کفار استعمار سے نجات دیتے۔
کیا اس نام نہاد غوث کو فلسطین میں ہونے والا ظلم نظر نہیں آتا، یا وہ بھی اسرائیل کا ایجنٹ بنا ہوا ہے۔
بہرحال جب غوث کا کام مدد کرنا ہوتا ہے تو پھر جب ان دو صاحبان نے اس غوث کی بے ادبی کی تو اسے ان کی اصلاح کرنے چاہئے تھی، ان کی بربادی کی دعا نہیں کرنی چاہئے تھی، اور بد دعا بھی ایسی کہ اس کا ایمان برباد ہوا، کیا یہ غوث ہے جو لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے کی بجائے ان کو اسلام سے نکالنے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔
رسول اللہ نے تو پتھر کھا کر بھی کسی کو بد دعا نہیں دی۔ رسول اللہ کے مقدس و معطر جسم پر تو گندگی تک ڈالی گئی، وہ بھی نماز کی حالت میں، مگر آپ نے اس وقت بھی ان کی خیر کی دعا مانگی مانگی۔
اللہ اور اس کے رسول نے تو غصہ پینے، برداشت کی قوت پیدا کرنے اور ذاتی انتقام لینے سے منع فرمایا ہے۔ اور اگر کوئی ولی اللہ بن سکتا ہے تو اللہ اور اس کے رسول کی سو فیصد تابعداری پر بن سکتا ہے، جبکہ یہ غوث صاحب تو اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری تو کجا، یہ تو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات سے بالکل اُلٹ جا رہا ہے تو یہ کہاں کا ولی اور کہاں کا غوث ہوا؟
غوث صرف اللہ ہی ہے، مخلوق میں کوئی غوث ہے ہی نہیں، ہو ہی نہیں سکتا۔ انبیاء بھی اپنے لئے اللہ ہی کے محتاج تھے، تو انبیاء کے علاوہ باقی تمام انسان بلکہ تمام مخلوق تو انبیاء کے پاؤں کے نیچے دھول اور غبار کے برابر بھی نہیں۔ یہ من گھڑٹ اصطلاحات پیٹ پالنے کے لئے تراشے گئے ہیں۔
اور اب بھی عوام کو اُلو بنا کر ان کو جھوٹی قصے، کہانیاں سنا کرپیٹ پالنے کے لئے بعض علماء ایسے خرافات بیان کرتے ہیں کہ نجم الدین کبراء نامی ولی کو جب بتایا گیا کہ منگولوں نے شہر پر حملہ کیا ہے تو اس نے اپنے سامنے رکھا پلیٹ اُلٹایا تو پورا خوارزم شہر منگولوں کی نظروں سے غائب ہوگیا۔ مگر غزہ کے مظلوموں اور بے کسوں کے لئے دنیا میں کوئی ایسا ولی نہیں جو غزہ کے مظلوم لوگوں کواسرائیلی افواج کی ظلم سے نجات دلانے کے لئے اُن کی نظروں سے غزہ کو غائب کردے، اور غزہ کو غائب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ اسرائیلی بمبار جہازوں کی بمباری کو غزہ کی بجائے اسرائیلی شہروں اور آبادیوں پر برسائے، یا گرائے گئے بم ناکارہ بنادے۔ اگر ایسا ہوجائے تو اسرائیل بم گرانا بند کردے گا۔ ایسے قصے کہانیاں بھی بنائے گئے ہیں کہ فلاں ولی کی کرامتانڈیا کے گرائے گئے بم نہیں پھٹے تھے حالانکہ اس جنگ کے دوران دونوں ممالک کا بہت جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔ لیکن اللہ بھلا کرے کافروں کا جنہوں نے کیمرہ، انٹرنیٹ، فیسبک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فام ایجاد کرکے جعلی اولیاء کے من گھڑت کرامات کا قلع و قمع کر دیا۔
ہر ولی کی طرف منسوب یہ سارے خرافات بنامِ کرامات پیٹ پانے کے لئے بعد میں گھڑے گئے ہیں۔ خود نجم الدین کبراء رحمہ اللہ منگولوں کے خلاف میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے، اس لئے کہ وہ حلوے کی پلیٹ میں جہاد کے قائل نہیں تھے میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے جہاد کیا کرتے تھے۔ایسے قصہ گو اور لوگوں کو ہنسانے کے لئے منبرِ رسول پر ہر اَول پول بکنے والے مولویوں نے ہر دور میں دین میں ایسے قصے اور کہانیاں کراماتِ اولیاء کے نام پر لکھے ہیں۔
ان جاہل قصہ گو مقررین میں بعض ایسے بے شرم جھوٹے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بابا نے مجھ پر سلام بھیجا تھا، حالانکہ عبدالرحمن بابا کو اس دنیا اور اس کے احوال کا کوئی علم نہیں۔احناف رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ :
قال العلامۃ ابن البزاز رحمہ اللہ: و علیٰ ھٰذا قَال عُلَمَائُنَا مَن قَالَ اِنَّ اَروَاحُ المَشَائِخ حَاضِرَۃ تَعلَم یُکَفَّرُ}(بزازیہ بر حاشیہ عالمگیری ص326, ج 6)
ترجمہ: ہمارے علماء (احناف)نے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ بزرگوں کی روحیں حاضر ہیں اور وہ سب کچھ جانتی ہیں توایسا شخص کافر ہے۔‘‘ (اختلافِ اُ مت اور صراطِ مستقیم صفحہ 37 تا 39)
اسی طرح فقہ حنفی کی مشور کتاب’’ بحرالرائق شرح کنز الدقائق،باب احکام المتردین‘‘ میں بھی’فتاوی بزازیہ‘ ہی کے حوالہ سے ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو کافر کہا گیا ہے ۔ مگر یہ میراوس قسم کے مقررین ایسے جھوٹ بولتے رہتے ہیں جن سے اللہ کی پناہ۔
ایک اور میراوس قسم کے مقرر نے کہا کہ آدم علیہ السلام نے مجھے قہوہ پلایا۔
ایک بار ایک پیر سے میں نے خودسنا کہ ایک بار اس کے بڑےپیر صاحب نے ہمارے گھر میں پورے تین آدمیوں کا کھانا کھایا، اور اس کے بعد قضاء حاجت کرنے گنے کی کھیت میں گئے۔ جب وہ نکلے، تو ایک شخص جس نے اسے کھانا ٹھونستے ہوئے دیکھا تھا، یہ دیکھنے کے لئے کہ پیر صاحب کی ’’پیداوار‘‘ کتنی ہوگی، اس جگہ گئے، جب وہ پاخانے کی جگہ گئے تو دیکھا کہ فضلہ نہیں اور وہاں خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ یہ سب جھوٹے قصے اور خرافات ہیں جن سے جاہل عوام کو برباد کیاگیا حالانکہ اس پیر کی ساری زندگی قرآن و سنت کی مخالفت اور دشمنی میں گزری تھی، نماز اپنے لئے فرض نہیں سمجھتا تھا جو کہ کفر ہے۔ نشہ، قوالی، آلاتِ موسیقی کا استعمال حلال سمجھتا تھا جو کہ کفر ہے، خواتین سے پردہ کرنا اپنے اوپر فرض نہیں سمجھتا تھا جو کہ کفر ہے۔بلکہ اس کے مریدوں سے میں نے خود سنا تھا کہ اس کی موت کے بعد بھی کہتے تھے کہ باباجی کرم یعنی مہربانی فرمائے گا، اور اس کے مریدوں کا یہ پکا اور مستقل عقیدہ ہے کہ ہمارا باباجی ہمارے حال سے باخبر رہتا ہے، ہمیں دیکھتا رہتا ہے اور ہر وقت ہماری مدد کرتا رہتا ہے، حالانکہ قرآن و سنت کی رُو سے ایسے گندے عقائد رکھنے والے پکے کافر اور ابوجہل سے بڑھ کر بد ترین مشرک ہیں۔ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ آخر میں فرعون اور ابلیس کو بھی اللہ بخشے گا اور وہ بھی جنت جائیں گے حالانکہ یہ بات قرآنی آیات کی انکار کی وجہ سے کفر ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے۔