من گھڑت اور جعلی کرامات کیسے بنتے ہیں؟

من گھڑت اور جعلی کرامات کیسے بنتے ہیں؟

مفسرِ زمان علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 755ہجری نصاری کے ایک پادری کا ایک واقعہ تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

‘‘ بیت المقدس کے نصرانی گرجے میں پوشیدہ طور پر خود قندیلیں جلا تے اور اس کو گرجے کی کرامت مشہور کرتے اورلوگوں کو اپنے دین کی طرف جھکا تے۔’’

مزید لکھتے ہیں کہ:

 ‘‘ کہ ایک نصرانی پادری نے ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک پرند کا چھوٹا بچہ جسے اُڑنے اور چلنے پھرنے کی طاقت نہیں ایک گھونسلے میں بیٹھا ہے ،جب وہ اپنی ضعیف اور پست آواز نکالتا ہے تو اور پرندے اسے سن کر اور رحم کھا کر زیتون کا پھل اس کے گھونسلے میں لالا کر رکھ جاتے ہیں ،اس نے اسی صورت کا ایک پرندہ کسی چیز کابنایا اور نیچے سے اسے کھوکھلا رکھا ،اور ایک سوراخ اس کی چونچ کی طرف رکھا جس سے ہوا اُس کے اندر گھستی تھی پھر جب نکلتی تھی تو اُسی طرح کی آواز اُس سے پیدا ہوتی تھی۔ اُسے لا کر اپنے گرجے میں ہوا کے رُخ رکھ دیا ،چھت میں ایک چھوٹا سا سوراخ کردیا تاکہ ہوا اُس سے جائے ۔ اب ہواچلتی اور اُس کی آواز نکلتی تو اُس قسم کے پرندے جمع ہوجاتے اور زیتوں کے پھل لالا کر رکھ جاتے ۔اس نے لوگوں میں شہرت دینی شروع کی کہ اس گرجے میں یہ کرامت ہے ،یہاں ایک بزرگ کا مزار ہے،اور یہ کرامت ان ہی کی ہے لوگوں نے جب اپنی آنکھوں یہ اَنہونی عجیب بات دیکھی تو معتقد ہوگئے اور اس قبر پر نذر و نیاز چڑھنے لگی اور یہ کرامت دور دراز تک مشہور ہوگئی۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر، سورت بقرہ آیت:102) خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں ،بس سارا چکر ان چیزوں کیلئے چلایاجاتاہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top