تذکرۃ الاولیاء نامی کمزور کتاب میں جھوٹے واقعات کے چند نمونے
جھوٹ نمبر:01
فریدالدین عطار رحمہ اللہ متوفی 627 ہجری تذکرۃ الاولیاء میں سفیان ثوری رحمہ اللہ متوفی 161 ہجری کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
’’ایک مرتبہ حالتِ نماز میں خلیفۂ وقت نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر لیا تو آپ نے فرمایا کہ ایسی نماز قطعی بے حقیقت ہے، اور قیامت میں تیری نماز گیند کی طرح منہ پر مار دی جائے گی۔ خلیفہ نے جھڑک کر کہا کہ خاموش رہو۔ آپ نے فرمایا:حق گوئی میں خاموشی کیسی؟ یہ سنتے ہی خلیفہ نے غضبناک ہوکر حکم دے دیا کہ اس کو پھانسی دے دو۔۔۔۔۔ سفیان ثوری نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے اللہ! خلیفہ مجھے بے قصور سزا دینا چاہتا ہے، اس لئے اس کو بدلہ ملنا چاہئے، اس دعا کے ساتھ ہی ایک دھماکہ کے ساتھ زمین پھٹ گئی اور خلیفہ وزراء سمیت اس میں دھنستا چلا گیا۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء، باب:16،حضرت سفیان ثوری کے حالات و مناقب،ممتاز اکیڈیمی اُردو بازار لاہور، ص:172،173)
…اس کا جواب یہ ہے کہ داڑھی پر ایک بار ہاتھ پھیرنے یا لگانے سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
اب کیا کرے فریدالدین صوفی کا، جو کسی بڑائی بیان کرنے کے لئے جھوٹ بولنا بالکل ماں کی دودھ کی طرح حلال سمجھتےب ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اگر خلیہ کا یہ عملِ کثیر اور نماز کے فاسد ہونے کا سبب بھی ہوتا، تو بھی سمجھانے سے پہلے ایسے سخت الفاظ، اور وہ بھی خلیفہ کے منہ پر، سفیانِ ثوری جیسے مجتہد، فقیہ، عالم اور جلیل القدر تابعی سے بعید از قیاس ہے۔ایک ہاتھ پھیرنے سے نماز خراب نہیں ہوتی۔یہ تو فریدالدین عطار نے ایک جھوٹا اور من گھڑت واقعہ نقل کیا ہے، کیونکہ صوفیاء کی
عادت اولیاء کی شان بیان کرنے میں حد سے زیادہ مبالغہ آمیزی، تَعَلِّی اور شیخی بھگارنے کی ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے:
خلیفہ منصور سفیان ثوری رحمہ اللہ سے اس کی حق گوئی کی وجہ سے سخت ناراض ہوئے تھے اور اس کی پھانسی کا حکم دیا تھا۔ ابن عماد حنبلی رحمہ اللہ نے میں صرف اتنا لکھا ہے کہ:
وكان سفيان كثير الحط على المنصور لظلمه فَهَمَّ به و أراد قتله فما أمهله الله
’’امام سفیان خلیفہ منصور کے ظلم وتشدد کی وجہ سے اس پر بہت سخت تنقید کیا کرتے تھے، اس لیے وہ ان سے ناراض ہو گیا اور ان کے قتل کا ارادہ کر لیا، مگر اللہ تعالیٰ نے خلیفہ کو اس کا موقع نہ دیا۔‘‘ (شذرات الذھب، ج:1، ص:250، شاملۃ)
ابن سعد کا بیان ہے کہ 158ہجری میں منصور نے مکہ کے امیر کولکھا کہ سفیان کو گرفتار کر کے دربارِ خلافت بھیج دیا جائے۔
خطیب بغدادی رحمہ اللہ متوفی 463ہجری کا بیان ہے کہ خلیفہ منصور جس وقت بغداد سے روانہ ہوا، اسی وقت یہ حکم دیا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ جہاں ملیں ان کوگرفتار کرکے پھانسی دی جائے۔۔۔۔۔چنانچہ سفیان ثوری کعبہ پہنچے اور کعبہ کا پردہ پکڑ کراللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ اے اللہ! منصور کعبہ میں داخل نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کرلی اور وہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی بیرمیمون پہنچ کرانتقال کرگیا، جب امام سفیان کولوگوں نے یہ خبر پہنچائی تووہ کچھ نہیں بولے۔‘‘
جھوٹ نمبر:02
ایک اور سفید جھوٹ۔۔حبیب عجمی رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
’’امام شافعی اور امام احمد ابن حنبل کسی جگہ تشریف فرما تھے کہ حضرت حبیب عجمی بھی اتفاقاً وہاں پہنچے، امام احمد نے کہا کہ میں اس سے ایک سوال کروں گا، امام شافعی نے منع کیا۔۔۔الیٰ ان۔۔۔ کہ جس شخص کی پانچ نمازوں میں سے ایک نماز قضاء ہو گئی اور وہ یہ بھول گیا ہوتو اسے کیا کرنا چاہئے۔حبیب عجمی نے فرمایا کہ سب نمازوں کی قضا کرے۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء، باب:6، حضرت حبیب عجمی کے حالات و مناقب، ص:48)
پہی بات یہ کہ کیا امام احمد ابن حنبل ایسا بچکانہ سوال پوچھ سکتا ہے؟
دوسری بات یہ کہ یہاں فریدالدین عطار نے ابن جوزی اور امام الرجال یحیٰی بن سعید القطان کی بات درست ثابت کی کہ صوفیاء کتنے جھوٹے ہیں، اور وہ اس طرح کہ حبیب عجمی 119 ہجری میں وفات پاچکے تھے۔ جبکہ امام شافعی کی اس کی وفات کے 31 سال بعد 150 ہجری میں پیدا ہوئے اور 204 ہجری میں فوت ہوئے تھے۔ اسی طرح امام احمد ابن حنبل اس کی وفات کے 45 سال بعد 164 ہجری میں پیدا ہوئے اور 241 ہجری میں فوت ہوئے تھے۔
جھوٹ نمبر:03
حسن بصری رحمہ اللہ متوفی 110ہجری کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں:
’’بچپن میں ایک دن حضورِ اکرمﷺکے پیالہ سے پانی پیا۔۔۔۔۔۔ایک دن حضورِ اکرم سلمہ رضی اللہ عنہا (اصل میں اُمِّ سَلَمَہ ہے) کے گھر تشریف لائے۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء، باب:3، حسن بصری کے حالات و مناقب، ص:17)
اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ 11سن ہجری ربیع الاوَّل کے مہینے میں انتقال فرما چکے تھے، جبکہ حسن بصری رحمہ اللہ کی پیدائش نبی کریمﷺ کی وفات کے پورے گیارہ سال 21 ہجری کو ہوئی، اس لئے یہ مصنف کا جھوٹ اور غلو پسندی ہیں۔ اور امام بخاری تاریخِ الاوسط میں لکھتے ہیں کہ حسن بصری امام ابن سیرین سے سو دن پہلے 110 ہجری میں انتقال کر چکے تھے۔(تاریخ الاوسط)
جھوٹ نمبر:04
مزید لکھتے ہیں کہ:
’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب واردِ بصرہ ہوئے، تو تما م واعظین کووعظ سے منع کیا ۔۔الیٰ۔۔
۔۔ جب حسن بصری کو معلوم ہوا کہ وہ حضرت علی تھے۔۔۔‘‘ (تذکرۃالاولیاء،ص:21)
تمام ائمہ حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ حسن بصری کی سماع سے ثابت نہیں۔ اگر فریدالدین عطار اس سے بے خبر ہے تو سمجھنا چاہئے کہ فریدالدین عالم ہی نہیں تھے بلکہ ایک شاعر اور ذہین انسان تھے اور شعراء فنِ داستان گوئی اور غیر موجود چیز کو موجود مان کر اس کے بارے میں کچھ کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کہ جھوٹ اور حقیقت سے دور ہو سکتا ہے۔
علامہ ذھبی لکھتے ہیں کہ:
’’حسن بصری، علی اور اُمِ سلمۃ رضی اللہ عنہما سے مرسلاً روایت کرتا ہے مگر اس نے دونوں سے حدیث نہیں سنی۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ترجمہ، الحسن بن البصری)
جھوٹ نمبر:05
فریدالدین عطار حسن بصری کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں کہ:
’’جب بِشر حافی رحمہ اللہ کو یہ علم ہوا کہ حسن بصری سفرِ حج کا ارادہ کر رہے ہیں تو اُنہوں نے تحریر کیا کہ میری تمنا ہے کہ آپ کے ہمراہ حج کروں۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء، باب:3، حسن بصری کے حالات و مناقب، ص:23)
یہ بھی جھوٹا واقعہ ہے اس لئے کہ بِشر حافی رحمہ اللہ حسن بصری کی وفات کے 42 سال بعد 152ہجری میں پیدا ہوئے، اور 227ہجری میں 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
جھوٹ نمبر:06
فریدالدین عطار، رابعہ بصریہ رحمہا اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں کہ:
’’ایک مرتبہ آپ حضرت حسن بصرین رحمہما اللہ کے مکان پر پہنچیں، تو اس وقت مکان کی چھت پر اس درجہ مصروفِ گریہ تھے، کہ اشکوں کا پرنالہ بہہ پڑا۔۔۔۔ایک اور واقعہ لکھا ہے کہ ایک روز جب رابعہ بصری ساحلِ فرات پر موجود تھیں تو اچانک حسن بصری بھی وہاں پہنچ گئے اور پانی پر مصلیٰ بچھا کر فرمایا کہ آئیے ہم دوونوں نماز ادا کریں۔۔‘‘(تذکرۃالاولیاء،ص:61)
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو حسن بصری اور رابعہ بصریہ رحمہما اللہ کی ملاقات سرے سے ممکن ہی نہیں، اور یہ فریدالدین عطار کی جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ حاجی خلیفہ کے سلم الاصول الیٰ ارشاد الفحول کے مطابق حسن بصری کی تاریخِ وفات 110 ہجری ہے۔اور رابعہ بصریہ کی تاریخِ پیدائش علامہ ذہبی کی سیر اعلام النبلاء کے مطابق 100 ہجری ہے، اس لئے علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ نے اسی سال عمر پائی ، اور 180 ہجری میں انتقال کر گئیں۔‘‘
جھوٹ نمبر:07
اور فریدالدین صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
’’ایک روایت یہ ہے کہ ابتداء میں آپ گاتی بجاتی تھیں بعد میں تائب ہوہر جنگل میں گوشہ نشین بن گئیں۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء،ص:57)
اس لئے دونوں کا ملاقات ممکن ہی نہیں ، اور یہ فریدالدین کا جھوٹ ہے ، جس کے لئے صوفیاء معروف ہیں۔اس لئے کہ رابعہ بصریہ رحمہما اللہ کی پیدائش 99 ہجری میں ہوئی اور جب رابعہ ابھی بچی تھی، تو حسن بصر 110 ہجری میں وفات پاچکے تھے۔
جھوٹ نمبر:08
ایک جگہ پر صالح العامری کے حوالہ سے لکھتے ہیں مگر بقول محدثین اور مؤرخین صالح بن عبداللہ بن صالح العامری رُرواۃِ حدیث کے طبقہ تاسعہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس طبقہ کے لوگ 250 اور 350 ہجری کے درمیان وفات پاچکے ہیں۔ یعنی صالح عامری رابعہ بصریہ کے وفات کے لمبے عرصے بعد پیدا ہوا ہے۔(تذکرۃ، ص:65)
جھوٹ نمبر:09
مالک بن دینار کے حوالہ سے بھی فریدالدین نے بات کی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مالک بن دینار رابعہ بصریہ کی پیدائش 99 ہجری سے دو سال پہلے 97 ہجری میں وفات پاچکے تھے۔(تذکرۃ، ص:69)
جھوٹ نمبر:10
فریدالدین عطار، حمدون قصار رحمہ اللہ کے حالات و مناقب میں لکھتے ہیں کہ:
’’آپ خود حضرت سفیان ثوری اور عبداللہ ابن مبارک رحمہما اللہ جیسے بزرگوں کے مرشد تھے۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء، باب:39، حضرت حمدون کے حالات و مناقب، ص:272)
یہ بھی سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ سفیان ثوری کی پیدائش 96ہجری اور وفات 161 ہجری ہے جبکہ حمدون کی وفات 271 میں ہوئی۔ اسی طرح عبداللہ ابن مبارک کی پیدائش 118ہجری اور وفات 181ہجری ہے۔ ثابت ہوا کہ سفیان ثوری کی وفات سے 113
سال بعد اور ابن مبارک کی وفات سے 90سال بعد حمدون وفات پا چکے ہیں۔ اس لئے عقلاً
اور نقلاً ان کا ملنا کہاں سے ثابت ہو سکتا ہے۔
اس لئے یہ کرامات نامے 96 فیصد جھوٹے واقعات اور من گھڑت روایات کے زور پر 99.99 فیصد من گھڑت کَرامات پر مشتمل ہیں۔ علمی پسِ منظر نہ رکھنے والے عوام الناس کو اس قسم کی کتابوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور ان جعلی کرامت ناموں کی جگہ احادیث کے کتب معارف الحدیث، ریاض الصالحین وغیرہ یا علماء کے مشورے سے دیگر مفیدِ عوام الناس کتبِ فقہ، احادیث اور تفاسیر جیسے تفسیر ابن کثیر اور تفسیر معارف القرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے۔