اماں حواءاورآدم علیہما السلام کی شادی میں مہر کیا تھی؟۔۔ تحریر اکبرعلی خان

حضرت حوا علیہا السلام کا مہر کیاتھا؟
نبی کریم ﷺ پر دَرودشریف پڑھنے کی جوفضیلت صحیح احادیث میں آئی ہے،ہرمسلمان ان فضائل کو مانتا ہے اور اس سے کسی مسلمان کو انکار کی ججال بھی نہیں۔ مگر کوئی بھی اپنی طرف سے دَرود شریف کی فضائل نہ گھٹا سکتا ہے اور نہ ہی بڑھا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دَرود شریف پڑھناعبادت ہے اور ہر نیک عمل اور عبادت پر اللہ کی طرف سے اجر وثواب ملنے کا وعدہ ہے۔اور بعض اعمال کی اجر وثواب کی مقدار بھی صحیح احادیث میں بتائی گئی ہے۔
مثال کے طور پرچند ایک احادیث یہ ہیں:
حدیث نمبر1:صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:”جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے،اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرمائے گا۔“(مسلم،کتاب الصلوۃ،باب الصلوۃ علی النبی بعدالتشھد)
حدیث نمبر2: حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے نماز پڑھی،نماز کے بعد دعا کی: (اَللّٰہُمَّ اغفِرلِی وَارحَمنِی)رسول اللہﷺ نے فرمایا:”اے نماز پڑھنے والے تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھے۔فارغ ہوکر بیٹھ جا: پھراللہ کی ایسی تعریف کر جو اس کی شان کی شایان ہے، پھر مجھ پر درود پڑھ، پھر اللہ سے دعاکر۔

پھر ایک اور شخص آیا، اس نے نماز پڑھی،پھر اللہ کی حمد کی اور نبی ﷺ پر درود پڑھا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا:”اے نماز پڑھنے والے!(اُدعُ تُجِب)دعا مانگ تیری دعا قبول کی جائے گی۔“ (ترمذی،،کتاب الدعوات عن رسول اللہ ﷺباب ما جاء فی الدعوات عن النبی ﷺ۔۔۔۔۔نسائی، کتاب السھو،باب تمجید والصلوۃ علی النبی ﷺ۔۔۔۔۔۔مشکاۃ،باب الصلوۃ علی النبی ﷺ))
حدیث نمبر3: حضرت عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے نماز پڑھی،نبی کریم ﷺ تشریف رکھتے تھے اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ بیٹھے تھے۔جب میں نماز سے فارغ ہوکر بیٹھ گیا تو پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثناکی،پھر نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا، پھر اپنے لئے دعا مانگی،تو نبی ﷺ نے فرمایا:(سل تُعطَہ‘ سل تُعطَہ‘) مانگو،دئے جاؤ گے،سوال کرو،عطا کئے جاؤگے۔“ (ترمذی،،باب ماذکر فی الثناء علی اللہ و الصلوۃ علی النبی ﷺ قبل الدعاء۔۔۔۔۔۔مشکاۃ،باب الصلوۃ علی النبی ﷺ))
حدیث نمبر4: حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:”جب تک نبی کریم ﷺ پر درود نہیں پڑھا جائے گا، دعا قبول نہیں ہوگی، زمین و آسمان کے درمیان معلق رہے گی۔“ (ترمذی،باب ماجا فی فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ۔۔۔۔۔۔مشکاۃ،باب الصلوۃ علی النبی ﷺ)
حدیث نمبر5: اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ”ہر دعا رُکی رہتی ہے،یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا جائے۔“ (المعجم الاوسط للطبرانی، باب من اسمہ احمد)
اس باب میں احادیث بہت ہیں، اس لئے تو امام نووی رحمہ اللہ متوفی 776 ہجری نے علماء کا اجماع اس بات پر نقل کیا ہے کہ دعا کے شروع اور دعا کے اختتام پر اللہ عزوجل کی حمدوثناء اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھنا مستحب عمل ہے اور اس باب میں منقول آثار بہت زیادہ اور معروف ہیں۔“(الاذکار للنووی)
لہٰذا درود شریف کے فضائل،فوائد اور اجر ثواب کی مقدار ان صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ہمیں یا کسی بھی انسان کو اپنی طرف سے درود شریف کے فضائل اپنی طرف سے بڑھانے کا اختیار نہیں اور جو ایسا کرے گا تو وہ شریعت کا مجرم ٹھہرے گا، شریعت کا محسن نہیں۔
چونکہ اجر وثواب کی مقدار یا عبادات کے فضیلتیں ایک توقیفی امر ہے جس کیلئے وحی کا ثبوت چاہئے۔یوں سمجھو کہ کسی عمل کی کم یا زیادہ ثواب ہمیں بتانا صرف نبی عربی حضرت محمد ﷺ کاکام ہے، کسی اور کا نہیں۔
آدم علیہ السلام اور حواعلیہا السلام کی شادی میں مہر کیاتھا؟
قارئین یہ بات بھی نوٹ کیجئے کہ آدم علیہ السلام اور حواعلیہا السلام کی شادی میں مہر کیاتھا؟ ایسی باتوں کی کُرید اور معلومات کوئی فائدے کی بات نہیں۔ بالفرض اگر اس میں ہمارا کوئی دینی منفعت ہوتا تو ہمارے پیارے نبی اور محسنِ انسانیتﷺ ہمیں اس بارے میں ضرور بتاتے۔اس لئے یہ ایمانیات کا مسئلہ بالکل نہیں۔جیسے اس بات کی کُرید اور معلومات کہ:
٭آدم اور حوا علیہما السلام نے کونسا پھل یا کس درخت سے کھایاتھا؟ گندم یا انجیر؟
٭بنی اسرائیل کے اس شخص کو گائے کے کس حصے کا گوشت لگایاگیاکہ وہ زندہ ہوا اور اپنے قاتل کی خبر دی؟
٭ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر کونسے پرندے ذبح کئے تھے؟
٭اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح کئے گئے بھیڑ کا گوشت کس نے کھایا؟
ان تمام باتوں کی کرید مسلمان کیلئے ضروری نہیں۔اگر ضروری ہوتا تو ہمیں اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے واضح طور پر بتایاجاتا۔(تفصیل کیلئے دیکھئے تفسیر ابن کثیرکا مقدمہ)
آدم علیہ السلام اور حضرت حواعلیہا السلام کی شادی میں مہر کیاتھا؟
علامہ صفوری شافعی لکھتاہے کہ:
’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ:کسائی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیاتو اس کے بائیں پسلی سے حضرت حواء علیہا السلام کو پیدا کیا،اس وقت وہ جنت میں تھے۔اور حوا علیہا السلام کو ستَّر حوروں جتنا حسن وجمال عطافرمایا،تو حوا علیہا السلام حوروں کے درمیان ایسی لگتی تھی جیسے تاروں میں چاند۔اس وقت آدم علیہ السلام سوئے ہوئے تھے۔جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو حضرت حوا علیہا السلام کی طرف ہاتھ بڑھاناچاہا تو اس کو حکم دیاگیا کہ اس کا مَہر مقرر کرنے سے پہلے اسے ہاتھ نہیں لگاؤ گے۔ آپ نے پوچھا کہ وہ کیاہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ وہ مہر یہ ہے کہ آپ حضرت محمدﷺ پر تین بار دَرود پڑھو۔اور ایک روایت میں دس بار درود پڑھنے کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کا مہر یہ ہے کہ آپ اس کو دین کے احکام سکھا دو۔“ (نزھۃ المجالس و منتخب النفائس،فصل فی تزویج آدم بحواعلیہما الصلوۃ والسلام)
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس روایت کی بنیاد کیاہے؟
٭……٭یہ روایت احادیث کی کسی معتبر کتاب میں نہیں۔
٭……٭امام مالک کے مؤطا سے لے کر پانچویں صدی ہجری تک لکھی جانے والی احادیث کی کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں۔
٭……٭بعد میں احادیث کے جتنے مجموعے لکھے گئے،جن میں خطیب تبریزی کی مشکوۃ المصابیح، امام نووی کی ریاض الصالحین، علامہ ہیثمی کی مجمع الزوائد، علامہ جلال الدین سیوطی کی جامع الصغیر وغیرہ مشہور ہیں،ان میں کسی مجموعہ احادیث میں اس روایت کا نام ونشان تک نہیں۔
حدیث میں سند ”ریڑھ کی ہڈی“ یا یوں سمجھو کہ جسم میں روح کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے کہ امام المحدثین حضرت عبداللہ ابن مبارک متوفی181ہجری نے فرمایاہے کہ:لَولاَ الاَسنَاد لَقَالَ مَن شَاءَ مَاشَاءَ) (مقدمۃ صحیح مسلم،باب بیان ان الاسناد من الدین))
اگر اسناد نہ ہوتے تو جو کوئی جوبھی چاہتا کہہ دیتا۔‘‘“
اور یہی وجہ ہے کہ امام بیہقی نے فرمایاتھاکہ:
(مَن جَاءَ الیَوم بِالحَدِیث لاَیُوجَد عِندَالجَمِیع لاَیُقبَل)
جو شخص آج ایک حدیث پیش کرے جو تمام محدثین کے ہاں مقبول نہ ہو (اور انہوں نے ذکر نہ کیا ہو) تو اس حدیث کو رَد کیاجائے گا۔“ (مقدمہ ابن صلاح، بحوالہ راہِ سنت،ص:467)
اس روایت کا بھی یہی حال ہے کہ:
٭ کسی محدث نے اس کو اپنی کتاب میں روایت نہیں کیا۔
٭اور جس نے اس کو نقل کیاہے، اس صاحب نے اس کی کوئی سند بیان نہیں کی۔
وجہ کیاہے کہ کسی محدث کی کتاب میں اس روایت کاکوئی وجود نہیں؟
بھئی جب تک بچہ پیدا نہیں ہوتا،اس وقت تک اس کانام نہیں رکھاجاتا، اگر کوئی لڑکی کانام رکھ لے اور لڑکا پیداہوا تو۔۔۔
یہی حال اس روایت کا بھی ہے۔یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہی نہیں تھا اس لئے کسی محدث نے اس کو نقل بھی نہیں کیا۔یعنی یہ حدیث بعد میں ان لوگوں نے اپنے دل سے بنایا جو لوگوں کو کسی عمل کی طرف راغب کرنے کیلئے نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے کو جائز سمجھتے تھے، وہ بے چارے اتنے علم کے کورے، احمق اور کم عقل تھے کہ ان کو نبی کریم ﷺکے اس صریح فرمان کا بھی علم نہیں تھا: مَن کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلیَتَبَوَّا مَقعَدُہُ مِنَ النَّار
’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تلاش کرنا چاہئے۔‘‘
((بخاری شریف، باب اثم من کذب علی النبیﷺ
ایک اور مقام پر فرمایاکہ:(مَن حَدَّثَ عَنِّی بِحَدِیثٍ وَہُوَ ےَرَی اَنَّہُ کَذِب فَہُوَ اَحَدُ الکَذَّابِین) (مسلم شریف، باب تغلیظ الکذب علی النبیﷺ)
”’’جس نے مجھ سے حدیث بیان کی اور اس حدیث کے جھوٹے ہونے کا اسے پتہ بھی ہو تو وہ جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔
پھر یہ روایت کہاں سے نکل آیا؟
یہ روایت علامہ صفوری شافعی نے اپنی کتاب نزھۃ المجالس و منتخب النفائس میں کسائی وغیرہم سے نقل کیاہے۔
علامہ صفوری شافعی جس کا پورانام عبدالرحمن بن عبدالسلام بن عبدالرحمن بن عثمان ہے۔یہ بہت غرائب پسند تھے۔
اس کی تاریخِ وفات 899 ہجری کے بعد ہے اس لئے کہ یہ خود اپنی کتاب حوادث الزمان میں ایک واقعے کی تاریخ 899 ہجری بتاتے ہیں۔
علامہ صفوری،،،، اور اس کی عجائب و غرائب پسندی
واقعہ یہ ہے کہ اس نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اس نے امام شافعی رحمہ اللہ کی شادی ایسے عورت سے بتایاتھاجس کے دو چہرے اور چار ہاتھ تھے۔یہ ایک عجیب الخلقت عورت تھی۔ایسے انسان بے شک پیدا ہوسکتے ہیں مگر قارئین کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ:
٭ یہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور تخلیق کے کرشمے دکھانے کیلئے کرتاہے،
٭ ایسے عجیب الخلقت لوگ لمبی عمر نہیں پاتے،
٭ اور اکثر دیکھاگیاہے کہ ایسے عجیب الخلقت لوگ بچپن ہی میں وفات پاتے ہیں،
اور بالفرض اگر ایسی کوئی عورت عمرِ بلوغ کو بھی پہنچ جائے تو کوئی بھی اسے اپنی بیوی بنانا قبول نہیں کرے گا،
مگر اس صاحب نے امام شافعی جیسے جلیل القدر امام و مجتہد کی شادی دو چہروں اور چار ہاتھوں والی عجیب الخلقت عورت سے بتایاتھا، اس لئے شہاب حمصی نے اس کو جامعہ اُمویہ دمشق سے اپنا بوریا بستر اٹھانے کاحکم دیا تھا، (یعنی اسے وعظ و نصیحت کے محفل کے نام پر قصہ گوئی کرکے خرافات پھیلانے سے منع کیا تھا)۔
اس کے بے شمار جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ اسی نزھۃ المجالس میں یہ بھی ہے کہ اس نے عبداللہ ابن عمرکے غلام مھجع رضی اللہ عنہم کو(اَوَّل قَتِیل فِی الاِسلَام) یعنی اسلام کے سب سے پہلے قتل (شہید)ہونے والا کہاہے۔(دیکھئے:نزھۃ المجالس،باب فی ذم الغیبۃ والنمیمۃ)
حالانکہ اسلام میں سب سے پہلے شہیدہ حضرت یاسر کی بیوی اور حضرت عمَّار کی والدہ ماجدہ حضرت سُمَیہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہے۔
حضرت سُمَیَّہ کی شرمگاہ میں ابو جہل ملعون نے نیزہ ماراتھا جس سے وہ شہید ہوگئی تھی۔(الرحیق المختوم،ص:129)
اس سے پتہ چلتاہے کہ یہ صاحب کتنے بے احتیاط تھے بلکہ ہر کسی کی زبان سے سنی گئی ہر رطب و یابس پر یقین کرتے تھے۔
مفسرین اور محدثین کی اصطلاح میں ایسے شخص کو (حَاطِبُ اللَّیل)یعنی جنگل میں رات کو لکڑیاں جمع کرنے والا کہاجاتاہے۔اس لئے کہ رات کے وقت جنگل میں لکڑیا ں اکھٹا کرتے وقت لکڑی کی جگہ سانپ کو بھی اُٹھائے جانے کا یقینی امکان ہوتاہے۔
اس روایت کی سندی حیثیت
علامہ صفوری صاحب نے صرف اتنا لکھاہے کہ(قال الکسائی) یعنی کسائی کہتاہے۔
جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس صاحب کی وفات 899 ہجری کے بعد ہوئی ہے۔تو نبی کریم ﷺ سے نو سوسال کا طویل زمانہ اور دُوری کے باجود بھی یہ صاحب اس روایت کی پوری سند نہیں لکھتا بلکہ (قال الکسائی) کسائی کہتاہے، پربات ختم کرتاہے۔
اب یہ کسائی صاحب کون ہے،اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی شارح بخاری متوفی 852ہجری نے لسان المیزان میں اور حافظ شمس الدین ذہبی رحمہما اللہ متوفی748ہجری نے میزان الاعتدال میں الکسائی نامی جن حضرات کا ذکر کیاہے،ہم اس کو قارئین کی نذر کرتے ہیں:
ابراہیم بن بِشرالکسائی: جو بدر بن الہیثم کا اُستاد ہے، اس کا کچھ حال احوال معلوم نہیں،مجہول ہے،ایک روایت میں اس کانام آیاہے وہ بھی منکر ہے۔‘‘
حسن بن صابر الکسائی: وکیع سے روایت کرتاہے۔ ابن حبان کہتاہے کہ منکرالحدیث ہے پھر اس کی ایک منکر روایت وکیع سے، ہشام سے عن ابیہ عن عائشہ بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ: جب اللہ نے جنت پیدا کی تو جنت نے کہا کہ مجھے زینت دیجئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری زینت حسن اور حسین ہیں۔‘‘ اور یہ روایت جھوٹی ہے۔
زکریا بن یحییٰ الکسائی الکوفی:عبداللہ بن احمد کہتاہے کہ میں نے یحییٰ ابن معین سے اس کے بارے میں پوچھا تو کہا کہ بُرا آدمی ہے اور بُرے احادیث بیان کرتاہے۔ اور یہ بھی کہا کہ وہ تو اس لائق ہے کہ ایک کنواں کھودا جائے اور اس کو اس میں گرایاجائے۔ ایک بار لکھا کہ یہ ”واہ“ یعنی بہت زیادہ کمزورہے، اور حد سے گزرنے والا شیعہ ہے۔ امام نسائی اور دارِ قطنی لکھتے ہیں کہ یہ متروک ہے یعنی اس کی دروغ گوئی میں شہرت کی وجہ سے محدثین نے اس سے حدیث لینا چھوڑ دیا تھا۔ یہ شیعہ تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں احادیث گھڑتا تھا۔
محمد بن ابراہیم سمرقندی الکسائی:ابو عمرو بن سماک کا اُستاد ہے،یہ اپنے استاد سے نبی کریمﷺ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جھوٹی وصیت کا نقل کرنے والاہے۔“ (میزان الاعتدال للذھبی،،،،،لسان المیزان لابن حجر)
اب علامہ صفوری کس کسائی کانام لیتے ہیں؟ کیونکہ اکثر اس نام کے لوگ مجروح، ناقابلِ اعتبار یا شیعہ ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اگر کسائی اس صفوری سے بہت پہلے گزرے ہو تو پھر ان کے درمیان والے راوی کہاں ہیں؟
فرضی کیجئے کہ کسائی تیسری صدی ہجری میں گزراہو،تو پھر بھی علامہ صفوری سے تقریباً اس کا زمانہ چھ سو سال پہلے ہے۔اب ان چھ سو سال کی مدت میں علامہ صفوری اور کسائی کے درمیان اُصولِ حدیث کی رُو سے کم ازکم دس، بارہ دیگر راوی ہونے چاہئے۔وہ لوگ کہاں گئے؟ وہ کون تھے؟ کس قسم کے لوگ تھے؟ مجروح تھے یا ثقہ۔
جب تک یہ تمام باتیں معلوم نہ ہو تو علامہ صفوری کی یہ ”ہوائی فائرنگ“ کہ مجھے کسائی سے یہ بات پہنچی ہے، یہ ایک پیسے کی نہیں۔ اگر کسائی اور علامہ صفوری کے درمیان تمام راوی موجود بھی ہو تب بھی کسائی سے لے کر نبی کریم ﷺ تک راوی درکار ہوں گے جنہوں نے یہ بات ایک دوسرے سے سن کر سند نبی کریم ﷺتک پہنچائی ہو۔اس لئے ہم بجاطور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ روایت جھوٹ کا پلندہ ہے،اس کا بیان کرنا بھی حرام ہے۔
الغرض جس بھی زاوئے سے اس روایت کو جانچوگے، تو وہی بات صادق آئے گی اس روایت پر اور س کے راویو ں پر کہ:
”اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کَل سیدھی۔“
علامہ صفوری کی کتاب،،،، علماء کی نظر میں
ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ کی کتاب موضوعاتِ کبیرکے شروع میں محققِ کتاب ابوھاجر محمد السعید بن بسیونی زغلول لکھتے ہیں:
من گھڑت روایات اور اسرائیلی خرافات سے بھرپور کتابوں میں سے علامہ صفوری کی کتاب ”نزھۃ المجالس ومنتخب النفائس“ بھی ہے۔
مؤلف رحمہ اللہ نے اس کتاب کو بے شمارمن گھڑت روایات سے بھر دیاہے، اور اس کتاب میں ایسی حکایات شامل کئے ہیں جن کی کوئی اصل ہی نہیں۔“(مقدمہ موضوعاتِ کبیر،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی،ص:7)
حاجی خلیفہ رحمہ اللہ اپنی کتاب کشف الظنون میں اس کی تاریخِ وفات 894 ہجری لکھی ہے۔
مگر اس کی تاریخِ وفات 899 ہجری کے بعد ہے اس لئے کہ یہ خود اپنی کتاب حوادث الزمان میں ایک واقعے کی تاریخ 899 ہجری بتاتے ہیں۔
روایات میں سند ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،اس لئے جس روایت کی کوئی سند نہ ہو اس کا من گھڑت ہونا اظہر من الشمس ہوتا ہے، اور علامہ موصوف نے بے سند من گھڑت روایات کی بھر مار کی ہے اپنی اس کتاب میں۔یہی حال اس ”حواء علیہ السلام کی مَہر والی روایت“ کا بھی ہے،اسے حدیثِ رسول ﷺ کہنا رسول اللہ ﷺ کی شان میں بہت بڑی گستاخی ہے،اللہ ہمیں اس گستاخی سے مامون رکھے،آمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top