کسی کی خوشامد اور چاپلوسی کی غرض سے کسی زندہ یا وفات یافتہ شخص کے بارے میں ولی کامل، سلطان الاولیاء، قطب الاقطاب، رہبر شریعت، پیر طریقت وغیرہ کہنا یہی وہ بکواس ہے جو شرک جیسے ناقابل معافی جرم کا نقطئہ آغاز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو القابات و خطابات سنے جاتے ہیں وہ نص سے ثابت ہے، جیسے خاتم النبیین، ، ، رحمۃ للعالمین، بشیر نذیر، سراج منیر، سید الکونین، صاحب معراج، حاشر، ماحی، شافع محشر، ساقی کوثر، سید المرسلین، شفیع المذنبین،
کسی صحابی نے رسول اللہ کے بارے میں چاپلوسانہ القابات استعمال نہیں کئے بلکہ ہمیشہ اپنے استاد آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا خیال رکھتے ہوئے آپ کو مخاطب کیا۔
جو علماء اور پیران صاحبان ایسے القابات سے خوش ہوتے ہیں وہ بھی غلو، افراط اور شرعی حدود سے تجاوز کے مجرم ہیں۔ اور یہی نام نہاد رہبران شریعت دین کے رہزن اور لٹیرے ہیں۔
اور یہی نام نہاد پیران طریقت نصاری کے نقش قدم پر چلنے والے دین میں غلو کے نتیجے میں شرک جیسی عظیم گناہ پیدا کرنے اور پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔
کسی شخص کی تعریف کرنے کی حیثیت اُس کے حق میں گواہی دینے کی ہے۔ تعریف کرنے والا گویا جزم و یقین سے گواہی دیتا ہے کہ یہ خوبی فلاں شخص میں پائی جاتی ہے۔ گواہی اُس امر کی جائز ہوتی ہے جس کا انسان نے خود مشاہدہ کیا ہو، اسے یقین کامل حاصل ہو۔ کسی کو عالم باعمل کہنے والا، نیک وصالح قرار دینے والا، ولی اللہ کے خطاب سے نوازنے والا،گویا اُس کی زندگی کے ہر لمحہ سے باخبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ بات خلافِ حقیقت ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے ظاہر وباطن سے ہرگز واقف نہیں ہوسکتا، اِس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزم و یقین سے کسی کی مدح وتعریف سے منع فرمایا، ارشاد ہے: اللہ کے سامنے کسی کو پاکیزہ، اصلاح یافتہ قرار نہ دو۔
علماء، سادات، اولیاء اللہ اور بزرگوں کے حق میں ادب، مودت، محبت اور عقیدت کا اظہار و تعلق ایک قابل تعریف رویہ اور شریعت کا حکم ہے مگر اس کے ساتھ ہی قرآن و سنت کا حکم یہ بھی ہے کہ دین میں غلو اور حد سے تجاوز سے پرہیز کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
“مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے مرتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے.
میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
(بخاری:3445)
اس لئے گذارش ہے کہ اپنی خواہش نفس یا خوشامد و چاپلوسی کے لئے نہ کسی کو سرتاج الاولیاء اور قطب الاقطاب کہو اور نہ ہی کسی کو برے القاب سے یاد کرو،
بلکہ مناسب اور حق کے قریب رویہ یہی ہے کہ نیک گمان رکھا کرو، اور اچھے اور مؤدبانہ الفاظ کے ساتھ یاد کیا کرو۔
اس لئے کہ غلو، اطراء، تنطع اور تشدق کا سفر کسی کی چاپلوسی سے شروع ہو کر شخص اول کی طرف سے یا بعد میں دوسروں کی طرف سے ناجائز اور حرام عقیدت تک پہنچ جاتا ہے۔
یہی رویہ دنیا میں شرک جیسی ناقابلِ معافی جرم کا نقطئہ آغاز بنا ہے۔ یہ لیجئے دلیل:
“جو بت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں پوجے جاتے تھے بعد میں وہی عرب میں پوجے جانے لگے۔
ود دومۃ الجندل میں بنی کلب کا بت تھا۔
سواع بنی ہذیل کا۔
یغوث بنی مراد کا اور مراد کی شاخ بنی غطیف کا جو وادی اجوف میں قوم سبا کے پاس رہتے تھے۔
’’ یعوق ‘‘ بنی ہمدان کا بت تھا۔
نسر حمیر کا بت تھا جو ذوالکلاع کی آل میں سے تھے۔
یہ پانچوں نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک لوگوں کے نام تھے۔
جب ان کی موت ہو گئی تو شیطان نے ان لوگوں کے دل میں ڈالا کہ اپنی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھتے تھے ان کے بت قائم کر لیں اور ان بتوں کے نام اپنے نیک لوگوں کے نام پر رکھ لیں۔
چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت ان بتوں کی پوجا نہیں ہوتی تھی۔
لیکن جب وہ لوگ بھی مر گئے جنہوں نے بت قائم کئے تھے اور علم لوگوں میں نہ رہا تو ان کی پوجا ہونے لگی۔ (بخاری:4920)
