زبانِ زدعام روایت: کیا لقمانِ حکیم علاج معالجے والا حکیم تھا ؟
عوام میں جو مشہور ہے ، بلکہ روایت پرست خواص بھی اس سے بچے نہیں ،کہ لقمان حکیم ،طبیب تھا اور جڑی بوٹیاں اس سے ہم کلام ہوتے تھے اور اس کو بتاتے کہ ہم میں اس مرض کی شفا ء ہے۔اور اس طرح اس کی مرضِ وفات کا واقعہ کہ اس کو اسہال ہوا تھا ،کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہورہی تھی، تو اس نے اپنے بیٹے کو کو ایک پُڑی دی اور کہا کہ اس کو چکی کے نالے میں ڈالو،جب ڈال دیا تو پانی اُوپر کی طرف بہنے لگا۔پھر بیٹے کو بتادیا کہ بیٹے میرے پاس اس قسم کا علاج ہے مگر اب مجھے اس دنیا سے رُخصت ہونا اللہ کو منظور ہوا ہے اس لئے کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہوگی۔
اس کے بارے میں جتنے قصے مشہور ہیں وہ ‘‘اداکار قسم کے کاریگروں’’ کی ذہنی اختراعات ہیں ،ان میں کوئی حقیقت نہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک دانا اور عقلمند انسان تھا ،اس کی حکمت بھری باتیں اللہ کو اتنے پسند آئے کہ اللہ نے ان کو قرآن میں بیان فرمایا:
﴿وَاِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِاِبْنِہِ وَ ھُوَ یَعِظُہُ یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بَاللّٰہِ اِنَّ الْشِّرْکَ لَظُلْم’ُ عَظِیم﴾(سورت لقمان، آیت:13)
ترجمہ:‘‘اور یاد کر جب لقمان نے کہا اپنے بیٹے سے ،اور وہ اس کو نصیحت کر رہاتھا کہ اے بیٹے اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا اس لئے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔’’
لقمان کا پیشہ کیا تھا؟آئیے مفسرین سے پوچھتے ہیں:
علامہ آلوسی حنفی متوفی1270 ء ہجری اس بارے میں صحابہ اور تابعین کے مختلف اقوال نقل کرکے لکھتے ہیں:
‘‘لقمان عجمی نام ہے ،عربی نہیں۔کہاجاتاہے کہ وہ بلعم ابن باعوراء کا بیٹاتھا۔
وھب رحمہ اللہ کہتاہے کہ لقمان ،ایوبعلیہ السلام کا بھانجاتھا۔
اور مقاتل کہتاہے کہ اس کاخالہ زاد بھائی تھا۔
یہ بھی کہاجاتاہے کہ یہ آزرکی اولاد میں سے تھا ،ایک ہزار سال کی عمرپائی،داؤد علیہ السلام کا زمانہ پایا،اور اس سے علم حاصل کی ،مفتی تھا،فتوے دیاکرتاتھا ،جب اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو نبی بناکر بھیجا تو اس نے فتوے دینا چھوڑ دئے۔
یہ بھی کہاجاتاہے کہ:
بنی اسرائیل کاقاضی تھا۔
عکرمہ اور شعبی کا قول ہے کہ نبی تھا۔مگر جمہور یہی کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام کے زمانے میں گزراہے اور نبی نہیں تھا۔
اس کے پیشے کے بارے میں اختلاف ہے ،خالد بن ربیع کا کہناہے کہ نجار یعنی بڑھئی تھا،اور ابن منذر سعید بن مسیب سے نقل کرتاہے کہ درزی تھا،عبداللہ ابن عباس کا قول ہے کہ راعی یعنی چرواہاتھا۔
یہ بھی کہاجاتاہے کہ غلام تھا اور اپنے مالک کیلئے جنگل سے لکڑیاں لایاکرتاتھا۔’’
قارئین نے دیکھ لیاکہ حکیم یا طبیب اپنے پیشے کے کاموں سے فرصت نہیں پاتاتو وہ قضا کاکام کیسے انجام دے گا۔یا وہ بھیڑ بکریاں کس وقت چرائے گا؟اس لئے وہ علاج معالجے والا حکیم نہیں تھا بلکہ ایک عقلمند،زیرک ،ذہین اور صاحبِ بصیرت انسان تھا۔اس کے نام کے ساتھ حکیم کا لفظ دیکھ کر ‘‘ اداکار قسم ’’ کے فنکاروں نے قصے گھڑنے شروع کئے۔
اب حکیم سے کیامراد ہے ،آئیے اقوالِ مفسرین کی روشنی میں دیکھتے ہیں:
اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ:
﴿وَ آتَینَا لَقْمَانَ الْحِکْمَۃَ﴾(سورت لقمان،آیت:12)
اور ہم نے لقمان کو حکمت عطاکی تھی۔’’
اس آیت میں لفظ حکمت دیکھ کر لوگوں کو مغالطہ ہواکہ یہ کوئی علاج معالجے والا حکیم اور طبیب تھا ،حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہاں حکمت سے مرا دکیاہے؟
‘‘حکمت سے مراد بقول عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فہم اور فطانت ہے۔
اور مجاہد کا قول ہے کہ حکمت سے مرادعقل،بصیرت اور بات کی درستگی ہے۔
امام راغب کا کہناہے کہ حکمت سے مراد موجودات کی معرفت اورنیک اعمال کا کرنا ہے، اور حکمت علم پرعمل کرنے سے عبارت ہے۔’’
لقمانِ حکیم کی حکمت بھری باتیں:
‘‘ابن جریر خالد ربعی سے نقل کرتے ہیں کہ اس کے مالک نے ایک بار اس سے کہا کہ یہ بکری ذبح کر دو، پھر کہا کہ اس میں سے بہترین حصہ نکال کر دو۔اس نے زبان اور دل کاٹ کر دی۔کچھ عرصہ بعد اس کو پھر کہا کہ یہ بکری ذبح کر دو اور اس سے بدترین حصے نکال کر دو،اس نے پھر زبان اور دل کاٹ کر دئے۔مالک نے کہا کہ جب بہترین حصے نکالنے کیلئے کہاتھا تب یہ حصے دئے تھے اور جب بد ترین حصے نکالنے کیلئے کہا تب بھی یہ دئے۔ لقمان نے کہا کہ اگر یہ دونوں ٹھیک ہو تو ان سے بہترین کوئی چیز نہیں اور اگر دونوں خراب ہو جائیں تو ان سے بدترین کوئی چیز
نہیں۔’’
(تفسیر روح المعانی،،،،،تفسیر قرطبی،،،،تفسیر ابن جریر،،،،، تفسیر بغوی،،،،تفسیر ابن کثیر وغیرہم من التفاسیر ،سورت لقمان،آیت: 12)
ایسی ہی حکمت بھری باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو قرآن میں حکمت کے نعمت سے نوازے جانے والا کہا۔ا س کی علاج معالجے والی حکمت کے جو داستانیں مشہور ہیں وہ محض داستانیں ہی ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں۔