رمضان کی تئیسویں رات سورت عنکبوت اور سورت روم پڑھنے کی بدعت
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ:
’’ہروہ قول وعمل جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو ،وہ بدعت ہے کیونکہ اگر ان میں کوئی خیر ہوتا توصحابہ رضی اللہ عنہم ان کو ضرور کرتے۔انہوں نے ایسا کوئی نیک کام نہیں چھوڑا ۔‘‘(تفسیر ابن کثیر، تفسیرسورت الاحقاف :11 )
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 774 ہجری لکھتے ہیں کہ:
’’ہروہ قول وعمل جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو ،وہ بدعت ہے کیونکہ اگر ان میں کوئی خیر ہوتا توصحابہ رضی اللہ عنہم ان کو ضرور کرتے۔انہوں نے ایسا کوئی نیک کام نہیں چھوڑا ۔‘‘(تفسیر ابن کثیر، تفسیرسورت الاحقاف :11 )
احمد عبداللہ السدوسی لکھتے ہیں:
’’گوتم بدھ شاہی خاندان میں کپلادستو کے مقام پر جو نیپال کے جنوب میں واقع ہے 586 قبل مسیح میںپیدا ہوئے۔اس کی زندگی میں چند واقعات پیش آئے جس کی وجہ سے شاہانہ ٹاٹ بھاٹ چھوڑ کر۔۔۔۔ نروان یعنی نجات حاصل کرنے کی عرض سے ترک ِدنیا اختیار کی ۔
نروان ، نفس کی اس حالتِ مطمئنہ کانام ہے جس میں دنیاوی افکار وآلام کا دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔۔ ۔ ۔گوتم بدھ ایک نیک انسان تھا ،اور نروان یعنی نجاتِ آخرت کا متلاشی تھا ۔‘‘ (مذاہب عالم، مطبوعہ مکی دارلکتب لاہور ،ص:80،78،،،89)
مگر اس کے باوجود انسانوں کے بنائے ہوئے ،ان کے زعم میں اچھے کاموں کو بھی اللہ نے پسند نہ فرمایا،اور ہر معاشرے میں انبیاء علیہم السلام بھیجتے رہے جو لوگوں کو اللہ کے قانون کے مطابق زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتے رہے۔جس کی مثال عیسائیوں کی رھبانیت ہے مگر اللہ کی طرف سے پر کوئی حکم نازل نہیں ہواتھا اس لئے ان کی یہ ترکِ دنیا خواہ کتنی ہی اچھے نیت سے ہو ان کو اس پر کوئی اجر ملے گا نہیں بلکہ بوجہ خودساختہ ہونے کہ اُلٹا عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔
اگر ہر کوئی نیک عمل ایجاد کرسکتا تھا تو پھر انبیاء علیہم السلام بھیجنے کی کیا ضرورت؟ ذرا اس اہم نقطے پر غیر متعصبانہ انداز میں غور کیجئے۔
بدعات و اختراعات کی دنیا کے ’’بے تاج بادشاہوں ‘‘نے علم کا لبادہ اُوڑھ کر ہر دور میں اپنی کمائی کا کوئی بھی ذریعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا ہے۔بدعات کی چونکہ مبداء و مصدراور سبب ہی معاش و رزق ہے، اس لئے عوام کی ذہنوں میں یہ بات راسخ کی گئی کہ نیکی اور ثواب کے کام میں حرج ہی کیا ہے؟
لیکن ہم نہیں، شریعت کہتا ہے کہ حرج ہے اور وہ یہ کہ:
’’اگر یہ کام ضروری ہوتا تو صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعیناس کے کرنے میں ہم پر سبقت لے جاتے۔‘‘
اس لئے بدعت شروع کرنا ۔نعوذباللہ۔بالواسطہ یہ کہنا ہے کہ شریعت سازی کا حق نبی کریم ﷺ کے وفات کے بعد بھی کسی کو ہوسکتا ہے۔ہم تو ایسا سوچنے سے بھی اللہ عزوجل کی پناہ مانگتے ہیں ۔
اس عمل کی شرعی حیثیت
نہ تو یہ عمل فرض ہے ،نہ ہی واجب ہے،نہ ہی سنت ہے اور نہ ہی مستحب۔حتی کہ کوئی اباحت (صرف جائز ہونا ) بھی ثابت نہیں کرسکتا۔لہٰذا یہ ایک مقامی بدعت اور دنیا پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں۔دیہات کے سرداروں اور خانان کی طرف سے مولوی کی آمدنی بڑھانے کیلئے شروع کیا گیا یہ بدعت آج فرض عبادات سے بھی زیادہ اہمیت دیا جانے لگا ہے۔حالانکہ اس کا مقصد صرف ’’پیٹ کی آگ‘‘ بجھانے کے سوا کچھ نہ تھا ۔اور یہ ایک طرح سے قراء تِ قرآن پر پیسے بٹورنے کا بہانہ تھا حالانکہ صرف قراء تِ قرآن پر پیسے لینا حرام ہے اور پیٹ میں خنزیر کا گوشت بھرنے کے مترادف ہے۔
عبادات پر پیسے کمانے کی قباحت اور شناعت حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ متوفی 187 ہجری کے اس قول سے بھی لگایاجاسکتاہے،فرمایا:
{لِاَن اطلب الدنیا بطبل ومزمار احب الی من ان اطلبھا بالعبادۃ}
ترجمہ: ’’یہ کہ میں دنیا عبادت کے ذریعے دنیاکمائوں ،طبل و سارنگی پر پیسے کمانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے۔‘‘(صفۃ الصفوۃ لابن جوزی،ذکر مصطفین من التابعین ومن بعدہم،ذکر فضیل بن عیاض)
رمضان کی اس بدعت کی ابتداء ہندوستان میں ہوئی ہے کیونکہ باقی دنیا اس چیز سے ناواقف ہیں،اور اس کا مقصد فقط ملّا صاحب کیلئے لوگوں سے کچھ لینا ہی تھا لیکن اس کے شروع کرنے والے مُلّائوں کو بدعت و سنت کی تمیز ہی نہیں تھی، اگر ہوتی تو ایسا نہ کرتے۔اور نہ ہی شروع کرنے والے اس وقت کے ایسے عالموں یا مولویوں کو عالم یا مولوی کہنا مناسب ہے کیونکہ جس عالم کو سنت و بدعت کی تمیز نہ ہو، وہ اس بڑے اعزاز کا لائق ہی نہیں ۔دوسری بدعات کی طرح یہ بدعت بھی نہ ہی نبی کریم ﷺ سے قولاََ،فعلاََ یا تقریراََ ثابت ہے ، اورنہ ہی یہ صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین کا عمل رہا ہے، نہ ہی انہوں نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے ،نہ ہی چاروں اماموں میں سے کسی سے یہ ثابت ہے،نہ ہی تین بہترین صدیوں میں سے کسی صدی میں یہ عمل ثابت ہے،اس لئے بلا شک وشبہہ یہ ایک بد ترین بدعت ہے اور اس کا محرک فقط دنیاوی منفعت ہے۔اور دنیاوی منفعت کو مقصدِ اولین سمجھ کر علمِ دین حاصل کرنا ناجائز ،حرام اور دین کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے ،اہلِ کتاب سے مشابہت ہے کیونکہ وہ بھی چند ٹکوں کی خاطر دینی احکام میں ردوبدل تک کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے حتی کہ حق بھی چھپاتے تھے ۔
ایک لطیف نکتہ
اگر یہ عمل:٭ عبادات میں سے ہوتا تو قرآن و سنت میں اس کا ذکر آتا جو کہ نہیں ہے ،
٭اگر یہ عبادت ہوتا تو دوسری عبادات کی طرح یہ بھی مرد و خواتین دونوں کیلئے عام ہوتا جو کہ نہیں ہے ،کیونکہ مرد حضرات تو مسجد میں اس کو سن لیتے ہیں یا اس میں حصہ لیتے ہیں لیکن خواتین کیلئے یہ کہیں مذکور نہیں کہ وہ گھروں پر انفرادی یا اجتماعی طور پر اس کا اہتمام کریں ،اس سے ثابت ہوا کہ اس کا مقصد فقط ’’دنیا‘‘ ہے۔اس کے خلافِ شرع ہونے کیلئے یہ بھی کافی ہے کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ مقدس و محترم مساجد، مسجد ِحرام اور مسجدِ نبوی۔علی صاحبہا الصلوۃ والسلام۔ کے ساتھ ساتھ دنیا کے اکثر مسلم ممالک میں اس بدعت کا نام بھی کوئی نہیں پہچانتا۔یہ صرف ہندوستانی ،پاکستانی اور افغانی مسلمانوں کا خاص عمل ہے ،فیا للعجب۔
٭نبی کریم ﷺکے دور سے لے کر تابعین ،اتباعِ تابعین اور چاروں اماموں میں سے کسی امام رحمہم اللہ سے بھی اس عمل کا استحباب (مستحب ہونا)تک ثابت نہیں ،اسے سنت یا واجب کانام دینا تو شریعت کے ساتھ سینہ زوری کے برابر ہے۔اگر یہ عبادت ہوتا تو یہ مسجد ِحرام اور مسجدِ نبویﷺ کا ایک مستقل عمل ہوتا۔ لیکن اس وقت سے لے کر آج تک تقریباََ چودہ سو سالوں میں ایک بار یہ عمل ان مقدس مساجد میں ادا نہیں کیا گیا ہے۔ہمارے اس جغرافیائی خطے کے علاوہ یہ عمل کہیں بھی نہیں ۔اور یہی اس کام کے بدعت اور خلافِ شریعت ہونے کیلئے کافی ووافی ثبوت ہے۔
لطیفہ: جس طرح ہر عبادت ایک وقتِ مقررہ پر ادا کی جاتی ہے، اس طرح اس کیلئے بھی تئیسویں رات مقرر کی گئی ہے لیکن بیک وقت ہنسنے اور رونے کی بات یہ ہے کہ ہمارے گائوں میں 2009 ء میں امامِ مسجد نے مقررہ رات پر اس کو نہیں کیا کیونکہ اسے اس کی حقیقت معلوم ہوچکی ہے،لیکن بے علم عوام نے امام صاحب سے ’’سورتوں ‘‘ کو ستائیسویں رات پڑھوایا،اس سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ عبادت نہیں، بلکہ بدعت سئیہ ہے۔کیونکہ اگر یہ عبادت ہوتا تو اس کا وقت تبدیل کرنے کا اختیار کسی کو نہ ہوتا،چہ جائیکہ گائوں کے ’’دین سے ناواقف دینی بدمعاش عوام‘‘۔
عبادات کیلئے اوقات اور کیفیات مقرر کرنا محبوب علیہ الصلوۃ و السلام کا کام ہے، کسی اور کا نہیں۔مثال کے طور پر جب {تَبَارَکَ الَّذِی}پڑھنے کی بدعت قضاہوجائے تو اسے کوئی بھی کسی دوسری رات نہیں پڑھتا۔حالانکہ اس کا پڑھنا ہر رات سنت ہے،صرف ایک رات نہیں۔ لیکن شیطان نے تو لوگوں کو جہالت میں دھنسانے،پھنسانے اور ان کے اعمال ضائع کرنے کی قسم کھائی ہے۔
اس ساری بحث سے اس 23 ویں رات سورتوں پڑھنے کا بدعت ہونا ظاہر وباہرہے ۔اور بدعت کو نبی کریم ﷺ نے بے شمار احادیث میں گمراہی کہا ہے اور گمراہی کا ٹھکانہ جہنم بتایا ہے۔اب پتہ نہیں کہ یہ’’مولوی‘‘ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں گمراہی کے بدلے جہنم کی وعید کو کیسے جنت میں بدلیں گے ؟ کیونکہ ان کے بقول نیک کام ثابت ہو یا نہ ہو، اس پر اجر ملے گا۔
عوام کے ساتھ ٹھٹھہ
بدعتی ٹولہ بدعات کو فروغ دینے کیلئے بہت سارے جھوٹ اور خرافات دلائل کا سہارالیتے ہیں ،تاکہ عوام کو دھوکہ میں رکھ کر’’ گندی دنیا‘‘ سمیٹ سکے۔ان ہی بھونڈی اور خرافات دلائل میں سے ’’ان پڑھ ملّائوں‘‘ اور ’’غیر تربیت یافتہ‘‘یعنی (untrained)امامانِ مساجد کی طرف سے وہ دلیل ہے جس سے وہ کم علم عوام کو دھوکہ میں رکھتے ہیں کہ دیکھو جی:
’’یہ روایت اگر ضعیف ہے تو فضائل اعمال میں ضعیف روایت پیش کی جاسکتی ہے اس لئے ہم یہ ’’تئیسواں‘‘ بغیر دلیل کے تو نہیں کرتے۔‘‘
ان کے اس بات کا جواب
اوّلاََ: یہ بات ذہن نشین رہے کہ فضائلِ اعمال میں محدثین نے ضعیف حدیث سے استدلال کرنے کو جائز رکھا ہے مگر وہ بھی چند شرائط کے ساتھ۔اگر ان ضعیف احادیث میں وہ شرائط موجود ہو تو ٹھیک،، ورنہ فضائلِ اعمال میں بھی ضعیف حدیث کو رَد کیا جائے گا، اور ان سے استدلال کرنا جائز نہ ہوگا۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں:
٭……٭اوَّلاََ: یہ کہ وہ روایت بہت زیادہ کمزور نہ ہو،مثلاََ اس کا کوئی راوی جھوٹا یا جھوٹ سے متہم(بدنام )نہ ہو۔
٭……٭ثانیاََ: یہ کہ وہ چیز شریعت کے کسی عام اُصول کے تحت داخل ہو۔
٭……٭ ثالثاََ: یہ کہ اس عمل کواس ضعیف حدیث کی وجہ سے سنت نہ سمجھا جائے۔ (شامی بحوالہ اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم،ص:116,115)
ایک چیلنج:
دنیائے بریلویت کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ اہلِ سنت والجماعت کے اس محدث ،فقیہ یا عالم کانام بتادے ،جس نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہو۔
یا اس کتاب کانام بتادیں جس میں اس کو ضعیف کہاگیاہو۔‘‘
قارئین یہ بات یاد رھئے کہ کسی حدیث کو ضیعف سند کی بنیاد پر کہاجاتاہے اور جس روایت کی سند نہ ہو اس کا صرف ایک ہی نام محدثین نے رکھا ہے اور وہ ہے موضوع ،من گھڑت۔
قارئین! یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ جرح ایک موجود چیز پر کیاجاتاہے، نہ کہ معدوم پر۔اور جب یہ حدیث ،احادیث کی متداول کتب میں نہیں تو محدثین،فقہاء اور علماء رحمہم اللہ جرح کس چیز پر کرتے۔
لہٰذااس تمام تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ایسے روایات پر خداناترس ،پیٹ کے پجاری اور ’’ اداکار‘‘ قسم کے مولوی صاحبان عمل کرتے ہیں ،خداترس ،حق شناس اور حق پرست علماء نہیں۔
مولانا عبدالحئی لکھنوی حنفی رحمہ اللہمتوفی 1304 ہجری فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
{واما العمل بالضعیف فی فضائل الاعمال فدعوی الاتفاق فیہ باطلۃ۔ نعم ہو مذہب الجمھور لکنہ مشروط بان لا یکون الحدیث ضعیفًاشدیدالضعف فان کان کذلک لم یُقبَل فی الفضائل}(الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعۃ، )
ترجمہ:’’ فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پربالاتفاق عمل کا دعوی باطل ہے ۔ہاں! جمہور کا مذہب یہی ہے مگر اس میں شرط یہ ہے کہ حدیث شدید ضعیف نہ ہو ،ورنہ فضائلِ اعمال میں بھی وہ مقبول نہ ہوگا۔‘‘
امام سخاوی رحمہ اللہ متوفی 902 ہجری لکھتے ہیں:
’’ جائز اور مستحب ہے کہ اعمال کے فضائل اور ترغیب وترہیب میں ضعیف حدیث پر عمل کیاجائے اس شرط کے ساتھ کہ وہ حدیث موضوع یعنی من گھڑت نہ ہو۔‘‘(القول البدیع،)
امام سرخسی حنفی رحمہ اللہ متوفی 483 ہجری حدیث کو کتاب اللہ یعنی قرآن اور سنتِ متواترہ پر پرکھنے کو بڑا علم قرار دیا ہے ،وہ لکھتے ہیں:
’’روایات کو ان دو طریقوں سے پرکھنا بہت بڑا علم ہے اور دین کی بہترین حفاظت۔کیونکہ بدعات اور خواہشات کی اصل یہیں سے ظاہر ہوئیں کہ ان افواہی(زبانی مشہور) روایات کو کتاب اللہ اور سنتِ متواترہ سے نہیں جانچا گیا۔‘‘ (المبسوط بحوالہ اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم،ص:118)
.2 حدیث پر کمزور یا ضعیف ہونے کا لیبل تب چسپاں کیا جاسکتاہے جبکہ اس حدیث کی سند موجود ہو تو سند میں کمزوری کی بناپر کسی حدیث کو ضعیف کہا جائے گا مگر جس حدیث کی سند ہی نہ ہو، اس کو ضعیف نہیں بلکہ من گھڑت اور موضوع کہاجائے گا،جس پر عمل کرنایا دلیل میں پیش کرنا تو درکنار اس کا بیان کرنا بھی علمائے اُمت نے حرام قرار دیاہے۔
امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
{تحرم روایتہ مع العلم بہ فی ای معنی کان الا مبینا}
ترجمہ:’’من گھڑت روایت کاجانتے بوجھتے بیان کرنا حرا م ہے خواہ کسی بھی معنی میں ہو ،مگر یہ کہ اس کا موضوع (جھوٹا) ہونا بیان کردیا جائے(تو اس طرح کرنا جائز ہے)۔‘‘
ضعیف حدیث اور سند کی ایک مثال بھی یوں سمجھئے
دُور ایک انسانی لاش چارپائی پر صحیح سالم بالکل سوئے ہوئے انسان کی طرح پڑی ہے، تو اس کے بارے میں دو رائیں قائم کئے جاسکتے ہیں ،یہ کہ یہ بندہ سویاہواہے، یا یہ کہ یہ بندہ مرا ہواہے۔
لیکن اگر دور سے چارپائی پر ایک سر کٹالاش پڑی ہو تو ہر انسان پہلی نظر ہی میں کہے گا کہ یہ مرا ہوا ہے، اس لئے کہ اس کا سر نہیں ہے۔
یہی حال اس بدعت کے حق میں پیش کی جانے والی من گھڑت روایت کابھی ہے،اسے ضعیف کہنا ’’بے وقوفوں‘‘ کاکام ہے، علماء کانہیں۔کیونکہ اس روایت کا سند ہی نہیں تو اسے کس بنیاد پر ضعیف کہاجائے ؟
ثالثاََ: یہ روایت عرب دنیا میں بالکل نہیں پایاجاتا اور نہ ہی وہ اس بدعت سے واقف ہیں کیونکہ یہ خالص ’’ہندوستانی ایجاد‘‘ ہے ۔اب ذیل میں اس روایت کا حال بھی سنتا جائیے:
اس بدعتِ سئیہ کے حق میں بدعتی ٹولے کا کمزور اور من گھڑت دلیل
مبتدعین اس کے حق میں ایک موضو ع ،من گھڑت اور بے سند حدیث پیش کرتے ہیں جو کہ کسی طرح قابلِ استدلال نہیں ۔حدیث سن کر ان’’ کند ذہن مّلائوں کی بے وقوفی ‘‘پر جتنا ہنس سکتے ہو ،ہنسو:
{قال رسول اللہ ﷺ : من قراء القرآن سورۃ عنکبوت و سورت روم فی لیلۃ ثلاث وعشرین من رمضان فہو من اہل الجنۃ}(انیس الواعظین مئولفہ شیخ ابوبکر واعظ سندھی،ص:60مطبوعہ سیٹھ آدم جی عبداللہ پبلشرز بمبئی والے نولکھا لاہور ،،،،،،،ارشاد الطالبین ،مئولفۃ حضرت شیخ اخون درویزہ بابا رحمہ اللہ )
ترجمہ: ’’ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ جس نے سورت عنکبوت اور سورت روم رمضان کی تئیسویں رات پڑھے ،تو وہ اہلِ جنت میں سے ہے ۔ ‘‘
اس ’’ہندوستانی نژادMade in Indian Sub Continent ‘‘من گھڑت اور موضوع روایت کے مسکت جوابات:
٭اوّلاََ: یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔اس کی کوئی سند نہیں لکھی گئی ۔اور بغیر سند روایت قبول کرنا کسی طرح جائز نہیں بلکہ حرام ہے ۔اسی لئے تو امام المحدثین حضرت عبداللہ ابن مبارک متوفی185 ہجری نے فرمایاہے کہ :
{لَولاَ الاَسْنَادْ لَقَالَ مَنْ شَائَ مَاشَائَ}(مقدمۃ صحیح مسلم،باب بیان ان الاسناد من الدین)
’’اگر اسناد نہ ہوتے تو جو کوئی جوبھی چاہتا، کہہ دیتا۔‘‘
اس لئے بغیر سند کسی بات کو قولِ رسولﷺ کہنا ناجائز اور حرام ہے۔
٭ثانیاََ: اگر یہ قولِ رسول ہوتا تو یہ کتب احادیث میں موجود ہوتا ،حالانکہ کوئی مائی کالال یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ کسی کتب حدیث میں یہ موجود ہے۔اور جن کتب میں یہ روایت موجود ہے وہ احادیث کی کتب نہیں ،اور نہ ہی اس کے مصنفین محدثین ہیں ۔
٭ثالثاََ:اگر یہ کوئی نیک عمل ہوتا تو حرمین شریفین میں ضرور کیاجاتا،حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
٭رابعاََ:محققین علماء جیسے امام بیہقی نے لکھاہے کہ:
{مَنْ جَائَ الیَوم بِالْحَدِیثْ لاَیُوجَدْ عِنْدَالْجَمِیع لاَیُقْبَل}
’’جو تم سے سے آج کوئی ایسا حدیث بیان کرے ،جو تمام محدثین کے ہاں موجود نہ ہو تو اس کو قبول نہیںکیاجاسکتا۔‘‘
٭خامساََ: جن دو کتابوں سے اس کو ثابت کیاجاتاہے،ایک تو وہ حدیث کی کتابیں نہیں ہیں ،دوسری بات یہ کہ وہ غیر معتبر اور غیر مستند کتابیں ہیں۔
علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی رحمہ اللہمتوفی 1304 ہجری ایسے غیر معتبر کتب کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ احادیثِ نبویہ اور مسائلِ فقہیہ اور تفاسیرِ قرآنیہ صرف متداول اور مشہور کتابوں سے نقل کرنا جائز ہے۔اس لئے کہ متداول اور مشہور کتابوں کے علاوہ اوروں پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا۔‘‘ (مقدمہ عمدۃ الرعایۃ،ص:11)
رہی اخون درویزہ بابا رحمہ اللہ کی کتاب ارشاد الطالبین، تو اس کے بارے میں یہ بات ذہن نشین کیجئے کہ نہ تو یہ حدیث کی کتاب ہے، اور نہ ہی حضرت شیخ رحمہ اللہ کوئی محدث تھے ۔یہ کتاب اتنی غیر معتبر اور غیر مستند ہے کہ اس میں ایک جگہ یہ فتوی بھی دیاگیاہے،پڑھئے اورخود اندازہ کیجئے :
’’چون شخصے چہار زنان داشتہ باشد ،وزن پنجم رابنکاح کردن خواہد،رواباشد یانے۔
جواب:حیلہ آنست کہ از زن اوینہ بعقد درآوردہ باشد ازان اذن خواہد،اگر اذن داد۔بعد ازیں ہر چند زنان کہ بکند ۔ لاالی نہایۃ ۔رواباشد۔‘‘
ترجمہ:’’کہ جس شخص کی چار بیویاں ہو، اور پانچویں کے ساتھ نکاح کرنا چاہتاہو،تو ایسا کرناجائز ہے یا نہیں ۔‘‘
جواب: حیلہ یہ ہے کہ پہلی بیوی جس کے ساتھ سب سے پہلے نکاح کیا ہے ،اس سے اجازت لے۔ اگر اجازت دیدی اس نے تو اب جتنی شادیاں کرتاہے، جائز ہے۔‘‘ (ارشادالطالبین ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور،ص:456)
قارئین یہ بات ذہن میں رکھئے کہ قرآن ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کے ساتھ مشروط کرتاہے،اور قاعدہ ہے کہ ـ:
{اذا فات الشرط،فات المشروط } جب شرط پورا نہ ہوتو مشروط بھی ختم ہو جاتا ہے ۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایاکہ:
’’اگر تم ڈرتے ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہ کرسکوگے تو پھر صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہو (ایک سے زیادہ قطعاً نہیں)‘‘
اسلام میں یہی شرط ہے ایک زیادہ بیوی رکھنے کا شوق پوراکرنے کیلئے ،پہلی بیوی سے اجازت لینا شرط نہیں ۔
اور اگر کسی کے چار بیویاں ہو، اور وہ چاروں زندہ ہو،شوہر کی زوجیت میں ہو تو اسلام اس کو کسی حال میں بھی چار سے زیادہ کے ساتھ شادی کی اجازت نہیں دیتا لہٰذا شیخ صاحب کا یہ فتوی حکمِ قرآنی کی سراسر خلاف اور باطل ہے اسلئے یکسر رَد کیاجائے گا۔
ایسے ہی خلاف ِشریعت اور’من پسند‘ حیلوں سے نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں منع فرمایاہے :
نبی کریم ﷺ نے یہ بھی پیشین گوئی کی ہے ، فرمایا:
ترجمہ:’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے حلال کیا جائے گا ، ٭ ان کے رکھے گئے ناموں سے شراب کو،٭حرام یعنی رشوت کو تحفے کا نام دے کر، ٭ قتل کو ڈرانے یعنی سیاست کانام دے کر،٭زنا ،نکاح کے نام سے(متعہ اوت مئوقتہ نکاح کی طرف اشارہ ہے جوکہ حرامِ محض ہے) ،٭اور سود خریدو فروخت(یعنی نفع و نقصان) کا نام دے کر۔اور حیلہ حرام ہے اور اس کا کرنے والا اپنے رب سے دھوکہ کرتا ہے۔‘‘ (الفتاوی الکبری لابن تیمیہ)
وضاحت:جس کی چار بیویاں زندہ ہو، اسلام اس کو کسی حال میں بھی چار سے زیادہ کے ساتھ شادی کی اجازت نہیں دیتا جبکہ یہ حضرت ایک معمولی غیر شرعی اور ناجائز حیلے سے بے شمار شادیوں کی اجازت مرحمت فرمارہے ہیں ۔جو کہ حکمِ قرآنی کی سراسر خلاف اور باطل ہے۔ایسے ہی خلاف ِشریعت اور ’’من پسند‘‘حیلوں سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایاہے ،حدیث اس بارے میں گزری ہے۔
لہٰذا جس طرح شیخ اخون درویزہ بابا رحمہ اللہ کی یہ بات رَد کی جائے گی خلافِ قرآن ہونے کی بناپر۔ اسی طرح اس کی کتاب میں موجود من گھڑت حدیث کو بھی بلا جھجھک رَد کیاجائے گا۔ اس لئے کہ اس کی کتاب میں کسی بات کا ہونا سند نہیں بلکہ بات کے صحیح ہونے کو اعتبار ہوگا۔
٭سادساََ: تفاسیر میں ہر سورت کی فضائل احادیث کے حوالے سے بیان کئے گئے ہیں، مگر ان دو سو ر تو ں کو اس خاص رات میں پڑھنے کی کوئی فضیلت ان تفاسیر میں نہیں آئی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اَنیس الواعظین اور ارشاد الطالبینکے مصنفین رحمہما اللہ ان لوگوں میں سے تھے جو نیک بات کی طرف رغبت دلانے کے معاملے میں نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنا جائز سمجھتے تھے،یا ان حضرات رحمہما اللہ نے دوسروں سے سن کر اپنی کتابوں میں بغیر کسی تحقیق یہ روایت نقل کیا ۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ کی احادیث کے مطابق آپﷺ پر کسی بھی حال میں جھوٹ بولنے والا یقینی جہنمی ہے ،اس کی تفصیل گزری بھی ہے اور آگے بھی قارئین ملاحظہ کرسکیں گے۔
٭سابعاََ : یا یہ بات ماننی پڑے گی کہ ان کتب کے مصنفین رحمہما اللہ سنت اور بدعت کے فرق سے آشنا نہیں تھے ، اور نیکی کے نام پر ہر بات اور ہر کام کو جائز سمجھتے تھے ،دلیل ہو یا نہ ہو۔اس لئے ان کی کتابوںمیں منقول صرف ان باتوں کا اعتبار کیاجائے گا جو صحیح سندات سے دوسری کتب احادیث سے ثابت ہو۔
اس سے پتہ چلا کہ یہ نیک لوگ ضرورتھے ہم ان کی قدر کریں گے،خود کو ان کے خاکِ پا سمجھیں گے، مگریہ بھی مسلَّم ہے کہ ان حضرات سے احادیث نقل کرنے میں سخت اور دین کو نقصان پہنچانے والی کوتاہی ہوئی ہے ،اس لئے یہ حضرات جب تک درست حوالہ نہ دے اس وقت ان کی کوئی بات شریعت میں حجت نہیں بن سکتی ۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ:
ترجمہ:’’کسی شخص کیلئے ہمارے کسی قول پر عمل(اس وقت تک ) جائز نہیں جب تک وہ اس قول کا ٭قرآنِ کریم٭سنتِ رسول اللہ ﷺ٭یا اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم٭یا قیاس سے ماخذ(Source) نہ جان لے۔‘‘
حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ متوفی1034 ہجری کا قول ہے کہ:
’’حلت(چیزوں کو حلال کرنا یا سمجھنا) اور حرمت(چیزوں کو حرام کرنا یا سمجھنا) میں صوفیاء کا کوئی عمل سند نہیںہے ،ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ ہم انہیں معذور سمجھیں اور ملامت نہ کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اس جگہ امام ابو حنیفہ ،امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول معتبر ہے ،نہ کہ ابو بکر شبلی اور ابوحسن نوری رحمہم اللہ کا عمل۔‘‘ (مکتوبا ت امام ربانی،جلد اول ،مکتوب نمبر 266)
اسی طرح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ:
’’ فعلِ مشائخ حجت نہیں۔‘‘ ( ھدایۃ الحیران لشیخنا حضرت صدرالشہید دامت برکاتہ ،ص: 53)
علمائے دیوبند کی طرف سے اس بدعت کا رد
مفتی یوسف لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’رمضان المبارک کی 23ویں شب کو مسجد میں بعد ازنمازِ تراویح، امام ِمسجدکا سورت عنکبوت اور سورت روم پڑھنا، منقول نہیں۔‘‘(آپ کے مسائل اور ان کا حل،ج:3،ص:225)
دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’شریعت نے ان دو سورتوں کی تخصیص 23ویں رمضان کے ساتھ نہیں کی ہے، لہٰذا یہ دین میں اپنی طرف سے زیادت ہے اور یہ مردود ہے۔‘‘(پشتو رسالہ ضروری مسائل،ص:91)
اشرف علی تھانوی اور علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہمااللہ لکھتے ہیں کہ :
’’ احادیث صحیحہ میں چند سورتوں کی فضیلت تو آئی ہے مگر وہ بھی محض تلاوت کی فضیلت ہے ،کوئی مہینے یا دن یا تاریخ کی قید نہیں۔اور سورت روم اور عنکبوت کی جو فضیلت قیودِ مذکورہ کے ساتھ اَنیس الواعظین سے نقل کی گئی ہے ،احادیثِ صحیحہ میں نظر سے نہیں گزری ۔اَغلب یہ ہے کہ موضوع ہے ۔پس جب تک حدیث کا صحیح ہونا معلوم نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی فضیلت کا اعتقاد جائز نہیں ،نہ اس پر عمل کرنا جائز ہے۔اورانیس الواعظین کی روایات معتبر نہیں اور اس پر عمل جائز نہیں۔‘‘(امداد الاحکام)
مفتی محمد فرید رحمہ اللہزروبئی ضلع صوابی 23ویں رمضان کو سورت روم اور عنکبوت پڑھنے کی قبیح بدعت اور اس بارے میں پیش کی جانے والی من گھڑت روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’(1)اس حدیث کی نہ سند معلوم ہے اور نہ مخرج۔یہ حدیث ،حدیثِ ثابتہ نہیں۔(2)نہ حدیث سے یہ تخصیص ثابت ہے اور نہ جزئیہ فقہاء سے ثابت ہے۔ (3)بطورِ عملیات کے پڑھنا نہ مطلوب ہے اور نہ ممنوع ہے اور بطورِ مندوبات و کثرتِ ثواب کے بدعت سئیہ ہے۔‘‘ (فتاوی فریدیہ،ج:1،ص:312)