مسلمانوں کی ذہنی اور فکری جمود۔۔۔ من گھڑت کراماتی قصے کہانیاں
عقیدہ توحید کی روح سے محروم ،مسلمانوں کی غالب اکثریت آج کل پیرانِ جاہل کی جال میں پھنسے ہوئے ہیں جو اُن کو نقلاً اور عقلاً ناممکن، قرآن و سنت کی تعلیمات کی صریح خلاف، جعلی اور من گھڑت کرامات بنا بنا اور سنا سنا کر جاہل پیرانِ باطل اور صوفیائے جاہل نے اُمتِ مسلمہ کو ذہنی اور فکری جمود کا بدترین تحفہ دیا۔ لیجئے بطورِ مثال:
*فلاں بزرگ ساری رات نماز پڑھتے تھے،* کیا اس بزرگ نے قرآن و سنت سے اپنی اس عمل پر کوئی رہنمائی حاصل کی تھی؟
جب بابا جی ساری رات نماز پڑھتے تھے تو لازماً دن کو آرام کرتے ہوں گے، تو حصولِ علم، بیوی بچوں کے حقوق، والدین کے حقوق، تلاشِ رزق کب کرتے؟
کیا اللہ تعالیٰ نےاتنی عبادت کا حکم دیا ہے جس سے انسان کے دیگر ناگزیر ضروریات بری طرح متاثر اور جمود کا شکار ہو؟
رسول اللہ ﷺ ایسے تین صحابہ کرام پر ناراض ہوئے تھے جنہوں نے اپنی گمان کے مطابق ساری* رات عبادت کرنے ، *ساری عمر روزہ رکھنے اور *ساری عمر شادی نہ کرنے کا اِرادہ کیا تھا تاکہ عبادت میں مشغولیت میں رکاوٹ نہ ہو۔ (دیکھئے بخاری، حدیث نمبر:4776)
*فلاں بزرگ ہوا میں اُڑتے تھے،*مگر امریکیوں کو جب پتہ چلا کہ یہ ’’بد نیت اور حاسد بابا‘‘ اکیلے اُڑان کے مزے لیتا ہے تو دو امریکی بھائیوں نے مسلمانوں کو حج و عمرہ پر جانے کی سہولت مہیا کرنے کے لئے جہاز بنائی۔اور پوری انسانیت کو ، عقیدہ و مذہب اور رنگ و نسل کی تمیز کئے بغیر یہ سہولت فراہم کردی۔ اگر چہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابابیل کے قصے میں مسلمانوں کو اس طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دی گئی تھی۔ (سور ت الفیل)
*فلاں بزرگ کنویں میں اُلٹا لٹک کر نماز پڑھتے تھے ، مگر انگریز نے کیمرہ ایجاد کرکے اس باباجی کو چمگادڑ سے انسان بناکر اسے صحیح معنوں میں اشرف المخلوق ہونے کا احساس دلویایا۔
*فلاں بزرگ 12 سال اُبلتے تیل کے کڑاہی میں رہے، مگر کیمرے کی ایجاد سے بابا جی کا سارا ڈرامہ فلاپ ہوا۔ قصداً آگ سے خود کو جلانا، یا کسی اور کو جلانا حرام ہے۔(دیکھئے: سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: 2673)
اور آگ میں کودنا چونکہ نظربظاہرسو فیصد یقینی ہلاکت ہے اس لئے یہ خود کشی کے مترادف ہے اور خود کشی اسلام میں حرام ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کی حدیث کی رُو سے خودکشی کرنے والے کو قیامت تک یہی سزا ملتی رہے گی۔ (دیکھئے:ٍصحیح مسلم، حدیث نمبر: 175)
*فلاں بزرگ نے فرشتوں سے روحوں کا تھیلا چھین لیا۔ مگر جب اس کی اپنی جان پر آگئی تو بے چارہ اسی فرشتۂ موت کے سامنے بے چارگی اور مجبوری کا نمونہ بن کر اُ ف تک نہ کر سکے۔
*فلاں بزرگ قبر سے ہاتھ نکال کر مصافہ کرتے تھے ۔ مگر جب کیمرہ ایجاد ہوا تو حرامی مجاروں نے ہاتھ والی جگہ پر کھڑکی نما شیشہ لگوایا اور اب لوگوں کو صرف یہی کہتے ہیں کہ اس جگہ سے ہاتھ نکالتا تھا، پھر انگریز کے کیمرے نے اُسے سیدھا انسان بنایا۔ اس لنک پر یہ جھوٹ دیکھئے: https://www.facebook.com/watch/?v=1411424607599996
بابا جی کو مخلوق سے بھیک مانگنی کی لَت پڑ گئی تھی، جس کو مرنے کے بعد بھی برقرار رکھا۔
*فلاں بزرگ نے کشف کیا، میلوں دور کی خبر مریدوں کو بتا دی،مگر بابا جی کی اس جھوٹ کا جب امریکی سائنسدان گراہم بیل کو پتہ چلا تو اس نے مسلمانوں کے عقیدوں کی درستگی اور اس بابا کا جھوٹ کا پول کھولنے کے لئے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ ایجاد کرکے مسلمانوں کو بتایا کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجو، اور یہ لیجئے کم بختو! ایک وقت میں پوری دینا کی خبر لیجئے۔
*فلاں بزرگ پانی پر چلتے تھے، اس لئے کافروں نے سول انجنئرگ کو اتنی ترقی دی کہ اس دو سال کا بچہ بھی پاؤں بھگوئے بغیر دریا عبور کرسکتا ہے۔
انجنئرنگ نے اتنی ترقی کی کہ جہاں بابا اکیلا دریا پار کرتا تھا اور جوتے گیلے نہیں ہوتے تھے ، وہاں اب جانور اور دو سال کے بچے بھی پاؤں گیلے کئے بغیر،پُل کراس کر لیتے ہیں۔ اس لنک پر جائیں: https://www.facebook.com/share/v/1D2KCcNrKp/
ویڈیو میں دکھائی دینے والے با ریش مشرک کہتا ہے کہ سائیں لیاقت دریائے نیلم پر چل کر اس پار جاتا تھا، اور میں بھی اس کے ساتھ اس پار جاتا تھا۔مگر جب
چند لوگوں کے ہتھے چڑھا تو بھاگ گیا۔
یہی جاہل پیرانِ باطل مسلمانوں کی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں حائل وہ سپیڈ بریکرز ہیں جو لوگوں کو جھوٹے قصے، کہانہاں سنا سنا کر ان کی ذہنی اور فکری نشونما روکتے رہے ہیں۔جبکہ اللہ فرماتا ہے کہ: ’’ غور فکر کرو،تحقیق کرو۔‘‘سورۃ الجاثیہ 45:13
“کیا وہ غور سے نہیں دیکھتے، اُونٹ کو، کہ کس طرح بنایا؟ اور آسمان کو کس طرح اٹھا گیا؟ اور پہاڑ کو کہ کس طرح زمین گاڑ کر لگا دیا؟ اور زمین کو کس ، کہ کس طرح بچھایا گیا؟ (سورت الغاشیۃ، آیات: 17 تا 19)