پیرانِ باطل کی مکاری اور عوام کے کمزور یقین اور جہالت کا استحصال
قارئین! مزے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مرید بیمار ہو تو اسے مزار پر بلا کر تعویذ سے علاج کرتا ہے اور نذرانے لیتا ہے۔مرض سے شفاء بابا کے مزار پر جانے اور سر کا صدقہ سیاہ بکرے کی شکل میں اُتارنے کی ترغیب دیتے ہیں۔بابا کا قمیص پہنا کر صحتیاب ہونے کے کی ڈرامہ بازی کی جاتی ہے۔
مرض سے شفاء بابا کے گندے کٹورے میں پانی پلایا جاتا ہے۔ بابا کے گندے منہ کا گندا تھوک بطورِ شفاء نگلوایا جاتا ہے۔
مرض سے شفاء ملنے کے لئےکسی قریبی مزار پر ، اپنے پیر مرشد ، دادا مرشد یا کسی بھی قریبی جعلی ، نقلی مزار پر رات گزارنے کا کہا جاتا ہے۔
لیکن یہی سارے مشرک، جہنم کے کتے ، حرامی ور خنازیر جب خود بیمار ہوجاتے ہیں تو سیدھا ہسپتال کا رُخ کرتے ہیں۔
چارپائی ہوا مییں اُڑنے کے دعوے کرنے والے پھر اپنی بیمار کرسی (سٹریچر) کو مریدوں اور اولاد سے دھکے لگواتا ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹ ، اِیکو، ای سی جی اور ایکسرے سے علاج کرواتے ہیں۔ پھر علمِ غیب کے دعویدار اِن مشرکوں کو اپنی مرض کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔
ڈاکٹر سے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صا حب! پیسوں کی فکر نہ کرو(کیونکہ جاہل مرید اُن کے لئے کماتے ہیں) بس مرض کی تشخیص اور علاج میں کوئی کمی نہ آئے۔
تشخیص کس بات ؟ کہاں گیا تمہارا علمِ غیب؟ کہاں گیا تمہارا جعلی شیطانی کشف؟ کہاں گیا تمہارا خودساختہ گھڑا ہو ااِلہام۔کہاں گیا تمہا را دعویٰ: حَدَّثنِی قَلبِی۔
یہی بہروپئے، یا اُن کے جاہل مرید اور اولادپھر ڈاکٹر کو کہتے ہیں کہ اگر یہاں علاج ممکن نہ ہو تو ہم’’ دنیا پر بوجھ ، اور ایمانوں کے سوداگر،اس گندی وجود‘‘ کو امریکہ برطانیہ سے علاج کرواسکتے ہیں۔
پھر پاکستان میں بیٹھ کر روزانہ بیت اللہ شریف میں نماز کے دعوے کرنے والے یہی حرامی کئی ہفتے پہلے اچھی سے اچھی ائرلائنز میں جہاز کا ٹکٹ بُک کرواتے ہیں۔ اس وقت ان حرامیوں کے وہ پَر نہیں ہوتے جن پَروں سے مریدوں کو اُڑ کر دور دراز مقامات پر پلک جھپکتے میں پہنچنے کے جھوٹے دعوے کئے جاتے تھے ۔ اور مریدوں کا بتایا جاتا کہ تم جب بیوی کے ساتھ ہمبستر ہوتے ، اس وقت بھی تم میری نظروں سے دور نہیں، دوسرے پڑی چارپائی پر میں تمہاری ’’مردانہ بہادری‘‘ کے حرکات و سکنات کی گنتی کروں گا۔
مگر جاہل مرید ان تمام مراحل پر بھی ان سے منہ نہیں موڑتے، اس لئے کہ ان کو اپنے اور اللہ کے درمیان ایک درمیانی واسطہ چاہئے ، خواہ کسی کافر کا ہی کیوں نہ ہو۔اس لئے عوام کی جہالت قیامت تک برقرار رہے گی، دنیا سے شرک ختم نہیں ہوگا، اوران ڈرامہ باز مکاروں کی اولاد ارب پتی سے کھرب پتی بنتے جائیں گے مگر اپنی اور اپنے جاہل مریدوں کی ایمانوں کی قیمت پر۔ایسے ہی بہروپیوں، ڈرامہ باز مشرکوں اور مکاروں نے ہر دور میں اسلام کا اصل مقصد داغدار، ملاوٹ زدہ اور لوگوں سے چھپا کر اسلام کو بس دَم، جھاڑ پھونک، فضائل اور چند اصلی(مسنون) اور نقلی (خودساختہ)مشرکانہ وظفوں کا نام رکھا ہے۔ یہ پورا اسلام نہیں بلکہ ادھورا اسلام ہے۔ پورا اسلام ایمان اور عقیدے کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے ، فضائل و وظائف سے نہیں۔