کستیر گل ،شیخ رحمکارعرف کاکا صاحب رحمہ اللہ کا شجرہ نسب  (پیدائش 983 ہجری۔۔۔ وفات 1063 ہجری)۔۔۔۔ تحریر و تحقیق اکبر علی خان

کستیر گل ،شیخ رحمکارعرف کاکا صاحب رحمہ اللہ کا شجرہ نسب  (پیدائش 983 ہجری۔۔۔ وفات 1063 ہجری)

کستیر گل عرف کاکا صاحب جو شیخ رحمکار کے نام سے بھی مشہور ہے۔والد کا نام بہادر بابا اور دادا کا نام نادر عرف مست بابا تھا۔

 خیبر پختونخواہ کے ضلع نوشہرہ کے علاقے کاکا صاحب میں دفن ہے۔ اس کی اولاد کاکا خیل(کاکا صیب کی اولاد) کہلاتے ہیں۔

اس کی اولاد کا دعوی ہے کہ وہ حسینی سید تھے، اور یہی بات اس کی اولاد نے اپنی کتابوں میں بطورہِ شجرہ نسب لکھا ہے ۔

*حیرت کی بات یہ ہے کہ  کاکا صاحب کے چار شجرہ ہائے نسب  ہیں ، جو ان شجروں پر اعتراض کرنے اور  جعلی قرار دینے کے لئے کافی  ثبوت ہے۔

*چھٹے  پشت پر   تین شجروں میں یٰسین کے والد کا نام محبت ہے، مگر ایک شجرے میں یٰسین کے والد کا نام  علی ہے۔

اس سے  ثابت ہوتا ہے کہ آلِ بیتِ رسول ﷺ سادات کی طرف منسوب،  اور  ہاشمی ، قریشی، فاروقی، صدیقی، نقوی، بخاری اور

رضوی  نسبت رکھنے والےبہت سارے مشہور و معروف  خاندانو ں اور  صوفیاء کی طرح کاکا صاحب رحمہ اللہ کا  حُسَینی سیِّد  ہونے

 کا شجرہ نسب بھی  مُختلَق  اور جعلی   ہے ،  اور  کسی طرح بھی آپ رحمہ اللہ  آلِ رسولﷺ اور  سید نہیں تھے ۔

یہ سارے شجرے کاکا صاحب کی اولاد و اَحفاد کی کتابوں اور کاکاخیل ویب سائٹس پر موجود ہیں۔اس لئے کوئی   یہ نہیں کہہ سکتا کہ

 فلاں شجرہ درست ہے، اور فلاں  درست  نہیں، اس لئے کہ   دوسری، تیسری اور چوتھی صدی ہجری اور اس کے بعد  اَدوار میں اہلِ سنت

 اور شیعہ مصنفین  اور مورخین کی طرف سے  انسابِ قریش اور سادات و بنی ہاشم  کے  نسب پر لکھے گئےمستند اورمعتبر کتابوں سے کی گئی

تحقیق کے مطابق  یہ سارے شجرے من گھڑت جعلی ہیں۔ذیل میں ان شجروں کی ساری تفصیل پیشِ خدمت ہے:

پہلا شجرہ نسب( اور اس کی تصویر) اور جدول کی شکل میں وضاحت

یہ  شجرہ  کاکا صاحب کے بیٹے عبدالحلیم کتاب (مقاماتِ قطبیہ ) سے لیا گیا  ہے، اور  Tazkia.Org پر بھی دستیاب ہے:

۱۔ کستیر گل عرف کاکا صاحب بن ۲۔سید بہادرعرف  ابک صاحب بن ۳۔نادر عرف مست صاحب بابا  بن ۴۔ سخی سرور عرف غالب بابا و غائب بابا بن

۵۔ آدم بن ۶۔سید یاسین صاحب بن ۷۔سید محبت صاحب (عرف سید حسین )بن۸۔ سید باقر صاحب  بن۹۔ سید محمود صاحب(عرف یونس صاحب) بن ۱۰۔  سید احمد صاحب (عرف انوس صاحب) بن ۱۱۔ سیف الدین صاحب(عرف  ابر  کویت  صاحب) بن۱۲۔ سعید الدین صاحب (عرف تورے بابا) بن

۱۳۔  سید علی اکبر (عرف  تورمان) بن۱۴۔ سید گل(عرف لقمان بابا ) بن ۱۵۔ سید شیخ الرجال (عرف ککے بابا) بن۱۶۔ سید  قاف (عرف سید خان بابا) بن۱۷۔سید فاتح عرف سید الرجال بن  ۱۸۔ سیدخاتم عرف سید کاظم صاحب بن  ۱۹۔  سید اسماعیل صاحب بن ۲۰۔ جعفر   صادق بن ۲۱۔  محمد باقربن۲۲۔    علی  زین العابدین بن۲۳۔   سیدنا  حسین بن۲۴۔  سیدنا علی  بن ابو طالب رضی اللہ عنہ۔شجرے کی تصویر یہ ہے:

پشتپہلا شجرہ ( مقاماتِ قطبیہعلاقہ جہاں دفن ہیں
1 کستیر گل عرف  کاکا صاحبموضع زیارت کاکا صاحب
2بہادر عرف ابک صاحب  بننزد قریہ (گاؤں)کنڑہ خیل تحصیل نوشہرہ ضلع پشاور
3 نادر عرف مست بابا بننزد قریبۂ شیخے تحصیل نوشہرہ ضلع پشاور
4سخی سرور عرف غالب / غائب بابا  بننزد قریبۂ  مروبہ تحصیل نوشہرہ
5آدم بابا بندر کربوغہ بہ سرحد خٹک و بنگش ریاست ٹیرے ضلع کوہاٹ قسمت *پشاور
6یٰسین صاحب بندر خوست علاقہ غیر تابع افغانستان
7محبت عرف سید حسین  بنمابین املاک خوست و   دوڑ
8باقر بندر ملک کجنگڑھی بہ سر کوہ ولایت افغانستان
9محمد (عرف یونس) بندر ملک پشین
10احمد(عرف انوس ) بندر ملک پشین
11سیف الدین(عرف ابر کویت )بندر ملک پشین
12سعدالدین(عرف تورے بابا) بندر ملک پشین
13علی اکبر(عرف  تورمان بابا)بندر ملک پشین
14سید گل( عرف لقمان بابا)  بندر بخارا
15سید شیخ الرجال (عرف ککے بابا) بندر بخارا
16سید  قاف (عرف سید خان بابا) بندر بخارا
17سید فاتح عرف سید الرجالدر مشہد ایران
18سیدخاتم عرف سید کاظم صاحبدر مشہد ایران
19سید اسماعیل بندر جنت البقیع مدینہ منورہ ملک حجازِ عرب
20امام جعفر صادقدر جنت البقیع مدینہ منورہ  حجازِ عرب در مشہد شام
21سید امام  محمدباقر بندر جنت البقیع مدینہ منورہ  حجازِ عرب ملک شام
22امام زین العابدین بندر جنت البقیع مدینہ منورہ  حجازِ عرب در موصل علاقہ عراق
23 سید الشہداء حسین بندر کربلائے مُعلیٰ ولایت عراق ملک عرب
24 امیر المؤمنین علی  رضی اللہ عنہ 

*قسمت فارسی زبان میں انتظامی تقسیم ڈویژن کو کہتے ہیں۔

دوسرا شجرہ نسب  اور اس کی تصویر

یہ شجرہ  مفتی سیاح الدین کاکا خیل کی کتاب  تذکرہ شیخ رحمکار ، ص:5سے لیا گیا ہے:

۱۔رحمکار  کاکا صاحب  بن۲۔بہادر( ابک صاحب) بن۳۔نادر( مست بابا)بن  ۴۔ غالب  بن۵۔ آدم بن۶۔ یٰسین بن ۷۔محبت بن ۸۔باقر بن

 ۹۔ محمود بن ۱۰۔ احمد بن۱۱۔سیف الدین بن۱۲۔سعدالدین بن۱۳۔علی اکبربن۱۴۔  لقمان بن۱۵۔رجال  بن۱۶۔قاف بابا( سید جان) بن۱۷۔فاتح بن۱۸۔خاتم بن۱۹۔اسماعیل  بن۲۰۔جعفر صادق بن۲۱۔محمد باقر بن۲۲۔علی زین العابدین بن۲۳۔سیدنا حسین  بن۲۴۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ۔

تیسرا شجرہ نسب اور اس کی تصویر

یہ بھی کاکا خیل ویب سائٹس پر موجود ہے۔

۱۔  کاکا صاحب  بن۲۔بہادر بابا بن۳۔ مست بابابن  ۴۔ غالب بابا  بن۵۔ آدم بن۶۔ یٰسین بن ۷۔محبت بن ۸۔باقر بن ۹۔ محمود بن ۱۰۔ احمد بن

۱۱۔سیف اللہ بن۱۲۔سعیدالدین بن۱۳۔علی اکبربن۱۴۔  لقمان بن۱۵۔رجال  بن۱۶۔ سید جان بن۱۷۔فاتح بن۱۸۔خاتم  عرف علی

بن۱۹۔اسماعیل  بن۲۰۔جعفر صادق بن۲۱۔محمد باقر بن۲۲۔علی زین العابدین بن۲۳۔سیدنا حسین  بن۲۴۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ۔

تینوں شجروں  کا آپریشن

۱۔ پہلے  شجرے میں اسماعیل بن جعفر کا بیٹا سید خاتم (عرف کاظم)،  اور خاتم کا بیٹا فاتح(عرف سید رجال) دکھایا گیا ہے۔

 ۲۔  دوسرے شجرہ میں بغیر عرف کے یہی   نام خاتم اور فاتح  دکھائے گئے ہیں ۔

۳۔  تیسرے شجرے میں اسماعیل کا بیٹا خاتم (عرف علی)، اور خاتم کا بیٹا فاتح دکھایا گیا ہے۔

جبکہ حقیقت میں انسابِ قریش و سادات بنی ہاشم کے نسب میں معتبر اور مستند کتابوں کے مطابق اسماعیل بن جعفر صادق کے گھر اس کی پشت اور نطفے سے  خاتم نام کا کوئی بیٹا پیدا ہی نہیں ہواتھا۔تفصیل پیشِ خدمت ہے:

سیدناجعفر صادق  کی اولاد و اَحفاد کی تفصیل

اہلِ سنت اور اہلِ تشیع  کے مختلف ماخذوں سے سیدنا جعفر صادق کی اولاد کا اعداد وشمار  اکٹھا کرکے جعفر صادق کے ہاں کل  8 بیٹے پیدا ہوئے:

۱۔ اسماعیل الاعرج، ۲۔ عبداللہ، ۳۔ موسیٰ کاظم، ۴۔اسحاق، ۵۔ محمد، ۶۔ عباس، ۷۔ یحیی،  ۸۔ علی۔‘‘ (نسبِ قریش، ص:63۔۔۔۔۔ المنتخب من الذیل المذیل للطبری)

  یحییٰ کے علاوہ   جعفر صادق کے باقی تمام بیٹوں کے    ناموں پر  اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں متفق ہیں۔

ان  آٹھ بیٹوں میں نسبِ قریش کے مطابق( عباس: لا بقیۃ لہ )یعنی اس کی اولاد نہیں تھی  اور جَمہرۃ انسابِ العرب  کے مطابق( عبداللہ: لم یعقب)یعنی اس نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔  باقی سب کی اولاد ہوئی اور نسل چلی۔

اسماعیل  بن جعفر صادق کی اولاد

اسماعیل بن جعفر صادق،  امام جعفر صادق کا بڑا بیٹا تھا، اس کی کنیت ابو بکر تھی۔اپنے والد کی زندگی میں انتقال کر چکے تھے۔

شیعہ اسماعیلی آغا خانی  فرقہ اس کی طرف منسوب ہے۔

اہلِ سنت کے علامہ ابن حزم متوفی 456 ہجری اور مصعب زبیری  متوفی 236 ہجری   رحمہم اللہ لکھتے ہیں:

اسماعیل بن جعفر صادق کے صرف دو ہی بیٹے تھے:

۱۔ محمد بن اسماعیل، اور ۲۔ علی بن اسماعیل۔‘‘ (جُمہرۃ انسابِ العرب، ص:60  ۔۔۔نسب قریش، ص:63)

فخر الدین رازی رحمہ اللہ ، متوفی 606 ہجری لکھتے ہیں:

’’اسماعیل بن جعفر کے  دو بیٹے تھے: ۱۔ محمد بن اسماعیل اور۲۔  علی بن اسماعیل  تھے، اور آپ کی نسل ان دو فرزندوں سے چلی ہے۔

شیعہ عالم سید حسین زرباطی لکھتا ہے :   ’’علی بن اسماعیل کی نسل تین بیٹوں سے چلی:

۱۔ محمد بن اسماعیل،  ۲۔ احمد بن اسماعیل،  اور  ۳۔ علی بن اسماعیل۔‘‘(بُغیۃ الحائرفی  احوال الاولاد الامام الباقر،ص:92)

 یہ صرف خیالی  اور خوابوں کی دنیا میں  پیدا ہوئے، اور پھر شجرے کی شکل میں کاغذ پر جگہ پائی ۔

چوتھا شجرہ نسب

یہ  شجرہ بھی کاکا خیل ویب سائٹس پر موجود ہے:

۱۔  کاکا صاحب  بن۲۔بہادر بابا بن۳۔ مست بابابن  ۴۔ غالب بابا  بن۵۔ آدم بن۶۔ یٰسین بن ۷۔حسین بن ۸۔باقر بن ۹۔ محمود اَتا بن ۱۰۔ احمد  اَتا بن۱۱۔سیف الدین بن۱۲۔سعدالدین بن۱۳۔ اکبر تورمان بن۱۴۔  لقمان بن۱۵۔ علی  بن۱۶۔ حسین بن۱۷۔حسن بن۱۷۔ علی بن۱۸۔اسماعیل  بن ۱۹۔جعفر صادق بن۲۰۔محمد باقر بن۲۱۔علی زین العابدین بن۲۲۔سیدنا حسین  بن۲۳۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ۔

اس شجرے میں میں  علی بن  اسماعیل کا بیٹا حسن دکھایا گیا ہے آئیے دیکھتے  کہ علی بن اسماعیل کا حسن نام کا کوئی بیٹا تھا بھی یا  نہیں۔

علی بن اسماعیل بن جعفر صادق کی اولاد

شیعہ ماہرِ انساب ابو نصر سہل بن عبداللہ بخاری رحمہ اللہ  متوفی 341ہجری لکھتا ہے:

ﵟوولد علي بن إسماعيل بن جعفر: محمد بن علي بن اسماعیل ، وو لد محمد بن علی، علی بن محمد بن علی بن اسماعیل بن جعفرﵞ

’’علی بن اسماعیل بن جعفر صادق کے ہاں  محمدبن علی بن اسماعیل   پیدا ہوئے۔۔۔ اور محمد بن علی بن اسماعیل کے ہاں علی بن محمد بن علی بن اسماعیل

بن جعفر صادق پیدا ہوئے۔۔۔۔‘‘ (السر السلسلۃ العَلَوِیَۃ،ص:36)

ابو الفرج اصفہانی رحمہ اللہ متوفی 356 ہجری مقاتل الطالبین میں علی بن اسماعیل کے بیٹے محمد کا ذکر ملتا ہے:

ﵟوالحسين بن علي بن محمد بن علي بن إسماعيل بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن ابی طالب قُتِلَ بتفليس من بلاد أرمينية، قتله قوم يقال لهم «الصفارية»ﵞ

مقتدر باللہ کے دور، حکومت میں  حسین بن علی بن محمد بن علی بن اسماعیل بن جعفر صادق آرمینیا کے علاقے تفلیس میں صفاریہ قبیلے کے ہاتھوں قتل

ہوئے تھے۔‘‘(مقاتل الطالبیین،ص:555)

اہلِ سنت کا سبط ابن جوزی رحمہ اللہ متوفی 654 ہجری، سن400 ہجری کے واقعات کے ذیل میں  لکھتا ہے کہ اس سال حسن بن عباس بن حسن

بن حسین ابوالجن بن علی بن اسماعیل بن جعفر صادق وفات ہوئے، اور اسی سال اس کا بیٹا حمزہ بن حسن پیدا ہوئے، جسے بدرالجمَّالی نے 434 ہجری میں قتل کیا۔‘‘ ( مرآۃ الزمان،ج:18،ص:184)

ابوالفتح یونینی متوفی 726 ہجری کے   ہاں 660 ہجری میں وفات پانے والوں کے   تذکرے میں حسین بن علی بن اسماعیل کا ذکر ملتا ہے:

ﵟعلي بن محمد بن إبراهيم بن إسماعيل بن العباس بن الحسن بن العباس ابن الحسن بن الحسين بن علي بن إسماعيل بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسن بن علي بن أبي طالب۔۔۔۔مولده ليلة الثامن عشر من شعبان سنة تسع وسبعين وخمسمائة بدمشق۔۔۔۔۔ وتوفي بدمشق في ليلة الثاني والعشرين من شهر رجب ودفن بهاﵞ

’’ اسی سال(660 ہجری میں): علی بن محمد بن ابراہیم بن اسماعیل بن عباس بن حسن بن عباس بن  حسن بن حسین بن علی بن اسماعیل بن جعفر صادق انتقال کرچکے۔۔۔آپ 579 ہجری کو پیدا ہوئے تھے اور 18 شعبان 660 ہجری کو   دمشق میں انتقال کرچکے۔ اور وہی دفن ہوئے‘‘ (ذیل مرآۃ الزمان،ج:2،ص:177)

اس سے ثابت ہوا کہ اُوپر، تمام ماخذوں،  سبط ابن جوزی، ابو نصر بخاری، ابوالفرج اصفہانی اور ابوالفتح یونینی ،کے مطابق :

 علی بن اسماعیل بن جعفر صادق کے دو بیٹے تھے:

۱۔ محمد بن علی بن اسماعیل،          ۲۔ حسین بن علی بن اسماعیل۔

لہذا یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ علی بن اسماعیل بن جعفر صادق  کا حسن نام کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔

ممکنہ اعتراض

اگر کوئی کہے کہ(نیچے آنے والے) شجرے  میں علی بن حسین بن حسن بن علی بن اسماعیل بن جعفر صادق ہے۔ یعنی علی بن اسماعیل کا بیٹا حسن،، حسن کا بیٹا حسین،، اور حسین کا بیٹا علی،  اس لئے شجرہ لکھنے والوں سے ناموں میں اُلٹ پلٹ ہو ئی ہے۔ ممکن ہے کہ حسین کی جگہ حسن لکھا  ہو۔

اس اعتراض کا جواب

ہم کہیں گے کہ  معترض کا اعتراض بجا  ہے مگر  اس جعلی  شجرے میں آگے:

۱۔  حسن کا بیٹا   حسین۔۔،، ۲۔  حسین کا بیٹا علی۔۔،،  ۳۔علی کا بیٹا  لقمان۔۔،،  اور ۴۔لقمان کا بیٹا اکبر تورمان ہے۔

جبکہ سبط ابن جوزی متوفی 654 ہجری کی اُوپر والی عبارت میں  آگے  کسی  لقمان، تورمان ،  کا نام ونشان تک نہیں ۔

بلکہ  میرا چیلنج ہے کہ یہ آگے والی اولاد بھی انساب کی  کُتب سے ثابت کیجئے، قیامت کی صبح تک مہلت ہے۔

پورا مکتبۃ الشاملۃ سرچ کیجئے، پورا گوگل سرچ کیجئے ، میرا چیلنج ہے آپ کو جعفر صادق کی اولاد و احفاد میں لقمان نام نہیں ملے گا۔

اہلِ سنت کی کتابوں میں بھی نہیں ملے گا، اور شیعہ کتب میں بھی نہیں ملے گا، اس لئے کہ جعلسازی جعلسازی ہوتی ہے۔

اس لئے اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی کے مصداق ان شجروں کے کل پُرزے  قیامت تک سیدھے نہیں ہوسکتے۔

میرا موقف

میرا موقف ہے کہ اولیاء اللہ  کے یہ شجرے ان بزرگ ہستیوں نے خود نہیں بنائے ہوں گے، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کام کو لعنتی فعل کہا ہے۔

بلکہ  ان بزرگ ہستیوں کے گزرجانے کے  بعد ان کی قسمت آزما اور اور معاش کے ہاتھوں تنگ اولاد نے معاشرتی سیاد ت اور مفت کی کمائی کے لئے بنائے ہوں

گے۔لیکن بشرطِ صحت، اگر  ان بظاہر بزرگ ہستیوں نے معاشرتی سیادت اور مفت روزی کمانے کی چکر میں ایسی غلطی کی ہو تو شریعت کی نظر میں

 رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وارد وعید کے مطابق  وہ بھی لعنتی تھے۔

اسلئے بندہ ناچیز (اکبر علی)* کسی کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر، *ضمیر کی صفائی کے ساتھ،* حقیقی اولیاء اللہ کے ساتھ  نیک گمان رکھتے ہوئے ،*  دل میں ان کے  پُرخلوص عقیدت و محبت کے ساتھ،یہ کہنے کی  بھی جائز جسارت  کرتا ہوں  کہ اگر یہ شجرے ان نامی گرامی اولیاء اللہ  نے بنائے ہو تو پھر:

*رسول اللہﷺ کی طرف سے لعنت کا مستحق شخص ولی  اللہ نہیں ہوسکتا،* کوئی جھوٹا ، کوئی  بہروپیہ ، کوئی فاسق، کوئی حرام خوراللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔

اللہ تعالیٰ نے ان جعلی شجرے گھڑنے والوں کی جعلسازی ظاہر کرنے اور جعلی سادات لوگوں کو دکھانے کے لئے ان جعلساز وں شجرہ نویسوں سے شجروں میں کسی نہ کسی مقام پر ناقابلِ حل غلطیاں کرائے ،تاکہ اس طرح رسولِ کریم ﷺ کے نسبِ پاک میں* جعلساز، *کمی ،*کمہار،* میراثی، *پٹھان،* ملک،* راجپوت،* نائی، *چوہدری، *گگیانیﵟوغیرہم من  الاراذل والاسافلﵞ شامل ہوکر نسبِ پاک کو داغدار نہ کرے۔

٭اس لئے ایسے تمام شجرات جو  خاتم بن اسماعیل بن جعفر صادق  کی نسبت سے  ہو، یا حسن بن علی بن اسماعیل  بن جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی نسبت سے، سب من گھڑت اور جعلی ہوں گے۔

اس لئے کہ پہلے دونوں شجروں میں( خاتم)  اسماعیل بن جعفر کا بیٹا نہیں، جبکہ تیسرے شجرے میں (حسن) علی بن اسماعیل  کا بیٹا نہیں۔

شروع ہی سے’’جعلی سادات سازی‘‘ جیسے لعنتی کام کے ذریعے  معاشرے میں لوگوں سے زمینیں، جاگیریں ہتھیانے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچایا جاتا رہا ہے، اور رچایا جاتا رہے گا۔

ان چالاک، دھوکہ باز، جعلساز، عیَّار مکار اور شاطر  لوگوں نے جعلی سادات بن کر  اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی کی ، وہاں سادہ لوح اور جاہل لوگوں کو اپنے آباؤاجداد کے جعلی اور من گھڑت قصے، فضائل اور  کرامات سنائے اور اسی طرح وہاں کے سادہ لوح بلکہ احمق لوگوں نے ان کو جاگیریں عطا کئے۔

اب ان احمق لوگوں کی اکثریت  کی اولاد بھیک مانگتے پھرتے ہیں اور ان  شاطر ،مکار اور جعلی سادات  کی اولا اَرب پتی  اور بعض کھرب پتی بن گئے ہیں۔

 اگر  ہ یہ اور اور ان کی آئندہ دس پشتوں کی اولاد ہاتھ پر ہاتھ  کر کوئی کام کاج نہ کرے، تب بھی ان کا مال و دوولت  دس پشتوں سے آگے تک بھی ختم نہیں ہوگی۔

چاروں شجروں کا ثبوت

پہلا شجرہ: کتاب ’’مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ اس کا مصنف عبدالحلیم  ہے،  کاکا صاحب کے بیٹا ہے، اور حلیم گل بابا جی

کے نام سے بھی مشہور ہے۔

دوسرا شجرہ: مفتی سیاح الدین کاکا خیل کی کتاب ’’تذکرۃ شیخ رحمکار‘‘ کے ص: 5 پر موجود ہے، یہ کتاب پہلی بار 1964 میں شائع ہوئی تھی۔ کتاب کا

مصنف مفتی سیاح الدین کاکا خیل،  1951 میں  اسلامی نظریاتی کونسل   پاکستان کا رُکن رہ چکاہے۔

تیسرا  شجرہ:Tazkia.Org    نامی کاکاخیل کی آفشیل ویب سائٹ پر موجود ہے ۔

چوتھا  شجرہ: بھی Tazkia.Org  نامی کاکاخیل کی آفشیل ویب سائٹ پر موجود ہے، مگر ان میں واضح فرق ہے۔

کاکا خیل کے آفیشل  ویب سائٹ  Tazkia.Org   کے مطابق کاکا صاحب کے پانچ بیٹوں کے نام یہ ہیں:

۱۔نجم الدین، ۲۔  حلیم گل،  ۳۔ ضیاء الدین، ۴۔  خلیل گل، ۵۔ محمد گل۔

جبکہ علماء و مشائخِ سرحد نامی کتاب کے مطابق  کاکا صاحب کے پانچ بیٹوں کے نام یہ ہیں:

۱۔ آزاد گل،۲۔  محمد گل، ۳۔ حلیم گل، ۴۔ عبدالحلیم، ۵۔ نجم الدین۔ عبدالحلیم اور حلیم گل ایک ہی شخص ہے۔

چاروں  شجروں کا آپریشن

پہلے شجرے (اوپر گزری ہے) اور ودسرے شجرےمیں اسماعیل بن جعفر کا بیٹا سید خاتم ، اور خاتم کا بیٹا فاتح دکھایا گیا ہے ۔جبکہ تیسرے شجرے میں اسماعیل کا بیٹا علی  دکھایا گیا ہے ۔اور علی کا بیٹا فاتح دکھایاگیا ہے ۔

حالانکہ انساب کی بعض کتابوں میں اسماعیل بن علی کا ذکر تو ہے ، مگر علی کے بیٹے فاتح کا کوئی ذکر نہیں بلکہ  انساب کی معتبر کتابوں میں علی کا بیٹا حسین ہے۔

باقی تین شجروں کی تفصیل جدول کی شکل میں

پشتدوسرا شجرہ (تذکرہ رحمکارتیسراشجرہچوتھاشجرہ
1 رحمکار  کاکا صاحب  بنکستیر گل    کاکا صاحب  بن  کاکا صاحب  بن
2بہادرعرف ابک صاحب بنبہادربابا بنبہادر بابابن
3نادرعرف مست بابابن مست بابابن مست بابابن
4غالب  بنغالب  بابابنغالب بابابن
5آدم بنآدم بنآدم بن 
6یٰسین بنیٰسین بنیسین بن
7محبت بنمحبت بنحسین بن۔( باپ کے نام میں اختلاف)
8باقر بنباقر بنباقربن
9محمود بنمحمود بنمحمود اتا بن
10احمد بناحمد بناحمد اتا بن
11سیف الدین بنسیف اللہ بنسیف الدین بن
12سعدالدین بنسعیدالدین بنسعدالدین  بن
13علی اکبربنعلی اکبربنسید اکبرتورمان بن
14 لقمان بن لقمان بنلقمان بن
15رجال  بنرجال  بنعلی بن
16قاف باباعرف سید جان بنسید جان بنحسین بن
17فاتح بنفاتح بنحسن بن
18خاتم بنخاتم المعروف علیعلی بن
19اسماعیل  بناسماعیل  بناسماعیل بن
20جعفر صادق بنجعفر صادق بنجعفر صادق بن
21محمد باقر بنمحمد باقر بنمحمد باقر بن
22علی زین العابدین بنعلی زین العابدین بنعلی زین العابدین بن
23سیدنا حسین  بنسیدنا حسین  بنسیدنا حسین  بن
24سیدنا علی رضی اللہ عنہسیدنا علی رضی اللہ عنہسیدنا علی رضی اللہ عنہ

شجروں میں باپ کے نام میں واضح اختلافات

کسی کے دو باپ ، یا دو  دادا کیسے ہوسکتے ہیں؟  تین شجروں میں لقمان کے والد کا نام رجال اور ایک میں علی ہے۔

دو  شجروں میں یٰسین کے والد کا نام محبت، ایک میں محبت عفر سید حسین ، اور ایک میں صرف  حسین ہے۔

اگر کوئی کہے کہ محبت اور حسین ایک ہی ہے، محبت عرف حسین، تو ہم کہیں گے کہ نہیں بھائی، ہمیشہ عرف ذکر کرنے سے پہلے یا بعد نام ضرور لکھا جاتا ہے، اسلئے کہ  اصل نام ہے، عرف نہیں۔مزید تفصیل نیچے آرہی ہے۔

شجروں میں جعلسازی اور نالائقی کی  تفصیل

۱۔  قریب کے لئےنزد قریبۂ   مثلاً  نزد قریبۂ شیخے تحصیل نوشہرہ۔۔۔ یعنی  شجرہ لکھنے والے کو  یہ نہیں پتہ کہ نزد اور قریب میں کیا فرق ہے۔

۲۔امام  جعفر صادق کے دفن کی جگہ کے بارے میں لکھتا ہے:

*در جنت البقیع مدینہ منورہ ملکِ حجاز عرب در مشہد ایران

’’حجازِ عرب میں مدینہ منورہ میں واقع جنت البقیع میں،  ایران کے مشہد شہر میں۔‘‘

۳۔امام باقر کے دفن کی جگہ بارے میں لکھتا ہے:

*در جنت البقیع مدینہ منورہ  حجازِ عرب ،       ملک شام

’’حجازِ عرب میں مدینہ منورہ میں واقع جنت البقیع میں، ملکِ شام میں ۔‘‘

۴۔ امام زین العابدین کے دفن کی جگہ کے بارے میں لکھتا ہے:

*در جنت البقیع مدینہ منورہ  حجازِ عرب در موصل علاقہ عراق

’’حجازِ عرب میں مدینہ منورہ میں واقع جنت البقیع میں ،عراق کے شہر موصل میں۔‘‘

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ  ایک شخص عراق کے شہر موصل میں،ایران کے شہر مشہدمیں ،ملکِ شام میں بھی  دفن ہے اور جنت البقیع مدینہ منورہ  میں بھی۔

مذکورہ بالا  تضادات اور فروقِ فاحشہ کے علاوہ دیگر تضادات اور فروقِ فاحشہ بھی ملاحظہ کیجئے:

۱۔ ایک شجرے میں  پشت نمبر 8 پر باقر   کے والد کا نام محمد لکھا گیا ہے، جبکہ باقی شجروں میں محمود   یا  محمود اَتا لکھاہے۔

۲۔  تین  شجروں میں  میں یٰسین کے والد  کا نام محبت ، اور  ایک شجرہ میں   حسین ہے۔

۳۔   تین شجروں  میں لقمان  کے والدکا نام رجال ،  اور ایک شجرہ میں  علی ہے۔

۴۔تین  شجروں میں رجال کے والد کا نام  قاف بابا ، اور  ایک شجرہ میں     حسین ہے۔

۵۔ایک   شجرے میں قاف بابا کے والد کا نام فاتح عرف سید رجال ،   دو شجروں میں فاتح ، اور تیسرے  میں حسن ہے۔

۶۔ ایک شجرے  میں اسماعیل   کے بیٹے کا نام خاتم  عرف  کاظم ، ایک میں    خاتم، ایک میں    خاتم عرف علی،  اور ایک میں صرف  علی ہے۔ جو قابلِ اعتراض ہے، اس لئے کہ علی نام ہے اور نام اصل اور  عرف سے مضبوط ہوتا ہے۔اس لئے کنیت/عرف سے پہلے یا بعد میں اصل نام لکھنا لازم ہے۔

مطلب یہ کہ شجرے لکھنے والے ایک دوسرے کے ساتھ ایک پیج پر نہیں تھے ، اس لئے جھوٹ موٹ خود کو سید ظاہر کرنے اور مفت ، بلاخسارہ کمائی کا انتظام

کرتے رہے۔ مذکورہ بالا یہ سارے تضادات ایسے ہیں جن کو رفع کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں۔

۷۔پہلے چھ صدیوں میں سادات کے  انساب پر لکھی گئی  کتابوں میں* سید اکبر ، یا *سیدالاکبر بن لقمان ، یا *اکبر بن لقمان نام  کا کو ئی فرد پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔

٭مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ مصعب زبیری  متوفی 236 ہجری کے  نسبِ قریش اور  ابن حزم اندلسی متوفی 456 ہجری  کے جَمہرۃ انسابِ العرب  کے مطابق  اسماعیل کی اولاد میں خاتم نام کا کوئی بیٹا نہیں۔

٭ایک شجرہ آج سے تقریباً 100 سال پہلے لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں پشاور ڈویژن(قسمت) اور تحصیل نوشہرہ لکھا ہواہے۔

اس لئے کسی بھی* سید، *کسی بھی  مشہور صاحبِ مزار، *اور معروف و غیر معروف شخصیات  میں  خاتم بن اسماعیل بن جعفر صادق  اور  فاتح  بن اسماعیل بن جعفر صادق  کے نام سے جو بھی  شجرے ہوں گے ،وہ  جعلی اور من گھڑت ہوں گے۔

اسی طرح  لقمان بن علی بن حسین بن حسن بن علی بن اسماعیل بن جعفر صادق کے نام سے جو بھی  شجرے ہوں گے ،وہ  بھی سب جعلی اور من گھڑت ہوں گے۔

میرا چیلنج ہے کوئی اسے ثابت کرے، لیکن برصغیر  میں لکھے گئے کتابوں سے نہیں۔بلکہ مستند اور معتبر کتب سے۔

اگر  برصغیر میں لکھے گئے کتابوں میں متقدمین کی کتابوں سے حوالہ جات کے ساتھ کوئی بات نقل کی گئی  ہو تو بسر و چشم۔۔۔لیکن کسی برصغیری شیعہ،، صوفی، ، کذاب،،گدی نشین، ، مجاور،، قبر پجاری،، مزارات کی کمائی پر پلنے والے حرام خور پیرانِ باطل،، کی جعلی بلا حوالہ کتاب کی کوئی حیثیت نہیں کہ وہ واقعہ تو ہزار سال پہلے والا نقل کرے اور حوالہ کچھ بھی نہ ہو، ایسے ہوائی تیر وں سے شجرے جیسے اہم چیز ثابت نہیں ہوتے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top