نِعمَۃ الکُبرٰی نامی جعلی کتاب۔۔۔ تحریر و تحقیق اکبر علی خان

نِعمَۃ الکُبرٰی نامی جعلی کتاب

ابن حجرہَیْثَمی کی کتاب النعمۃ الکبری سے میلاد کے فضائل میں روایات اور ان کی حقیقت

ابن حجر ہیثمی کی کتاب میں بعض اس قسم کے روایات ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ:

’’جس نے میلاد پر ایک درہم خرچ کیا تو اس کیلئے  اتنا اتنا اجر ہے ۔۔یا اس کیلئے اتنے اتنے حج کا ثواب ملے گا ۔۔یا اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوئی۔‘‘

٭اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ابن حجر ہیثمی  کی کتاب النعمۃ الکبریٰ میں جتنے بھی اس قسم کی روایات ہیں وہ سب من گھڑت، موضوع اور جھوٹے ہیں۔اس لئے کہ ہَیْثَمی کی تاریخِ وفات 974 ہجری ہے۔اس لئے اُصولِ حدیث کے مسلمہ اُصول کی رُو سے ابن حجر اور نبی کریم ﷺ کے درمیان کم ازکم سترہ ،اٹھارہ دوسرے راوی ہونے چاہئے جنہوں نے سلسلہ بسلسلہ ایک دوسرے سے سن کراس روایت کو نقل کیاہو،…اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام راوی حافظ ،ضابط اور ثقہ بھی ہو۔تب اس کی وہ روایت سنی جائے گی ،صرف اس کے نام سے کوئی روایت درست نہیں بنتی۔

٭دوسرا جواب یہ ہے کہ اسلام اَکابر پرستی ،پیر پرستی، شخصیات پرستی اور اُستاد پرستی کانام نہیں بلکہ جیساکہ اسلام کے نام سے ظاہر ہے ،اسلام’’ اللہ پرستی‘‘ کانام ہے، اسلام کی روح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی غیر مشروط اطاعت ہے، نہ کہ کسی عالم ،صوفی یا پیر فقیر کی بے سند اور من گھڑت باتوں کی۔

 ٭تیسرا جواب یہ ہے کہ خود بریلوی علماء بھی یہ بات مانتے ہیں کہ ابن حجر ہیثمی  کی کتاب النعمۃ الکبری میں بلاسند میلا کے فضائل والے روایات من گھڑت، جعلی اور موضوع ہیں۔ (دیکھئے عبدالحکیم شرف قادری بریلوی کی: جشنِ عیدمیلاد اور چند اصلا طلب پہلو)

٭چوتھا جواب یہ ہے کہ اگر واقعی ایسی کوئی روایت رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوتی تو معتبر کتابوں میں اس کو جگہ ملتی، جو کہ کسی معتبر کتاب میں بلکہ چھٹی صدی ہجری تک دنیا میں جتنے احادیث کی کتابیں لکھی گئیں اور جو اب بھی موجودہیں ان میں سے کسی کتاب  میں بھی یہ روایت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی ایجاد ہے جو فضائل کے پرچار کرنے میں نبی کریم ﷺپر جھوٹ بولنا جائز سمجھتے تھے، اور یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن جوزی متوفی 597 ہجری جیسے عظیم المرتبت مفسر، محدث ، سیرت نگار اور ناقدِ روایات کو یہ کہناپڑا:  {اِذاوَقَعَ فِی الاسْنَاد ْ صُوفِی فَاغْسِلْ یَدَیکَ مِنْہُ}

’’جب کسی روایت کی سند میں کوئی صوفی آئے تو اس روایت سے ہاتھ دھونا۔ یعنی اس کی ٹھیک ہونے کی اُمید نہ رکھنا۔‘‘(العرف الشذی للکشمیر ی، ص:50بذیل حدیث رقم:17)

اس لئے ابن حجر صوفی مزاج ہونے کے ناطے خود بھی اس کمی کا شکار ہوا کہ جو ہاتھ آیا اسے بلا تحقیق و تدقیق نقل کیا۔

اس کے علاوہ دو ممکنات اور بھی ہیں:

یا تو ابن حجر نے خود رسول اللہ کی حدیث کی رُو سے جہنمی بننا قبول کرکے اپنی میلادی ذوق کے لئے یہ روایات گھڑ کر کتاب لکھی۔

یا کسی جاہل میلادی نے کتاب لکھی اور ابن حجر کی شہرت اور نام کی وجہ سے اس کی طرف منسوب کی، تاکہ ان کے ہاتھ ایک دلیل آجائے، اس لئے کہ پاکستانی بریلوی اب بھی نبی کریم پر جھوٹی احادیث بناتے ہیں جیسا کہ میں نے خود ایک سے زیادہ بریلوی سیفی زندیقوں کو کہتے سنا کہ یہ حدیث ترمذی میں ہے مگر جب ہم نے پوری تحقیق کی، تو پتہ چلا کہ وہ اس ملحد کی اپنی گھڑنت تھی تاکہ لوگ اس سے بیعت ہو، اور اس کی آمدنی میں اضافہ ہو۔اسی طرح ایک اسی فرقے کی زندیق نے کہا کہ رسول اللہ نر فرمایا کہ جب فقرے بننے لگے تو اپنے باپ دادا کے طریقوں کو لازم پکرو، جبکہ ان الفاظ کے ساتھ کہیں بھی رسول اللہ کی ایسی حدیث نقل نہیں۔ میرا ان زندیقوں کو کھلا چیلنج ہے۔

 مگر ابن حجر ہو یا ابن جبل، ان کی نقل  کرنےسے کوئی جعلی رایت صحیح نہیں بن سکتی،اس لئے کہ محدثین نے صحیح اور من گھڑت روایت کی پہچان کے جو اُصول بنائے ہیں انہی مسلمہ اُصولوں کی رُو سے ابن حجر کی کتاب میں بلاسند روایات من گھڑت ہی ہیں۔اور جب سند ہی نہ تو اس کی صحت و ضعف پر بحث کرنا ہی بیکار ہے اس لئے کہ سند کی غیر موجودگی میں کسی روایت کا صرف ایک ہی نام ہوتاہے اور وہ ہے موضوع اور من گھڑت۔

موضوع اور من گھڑت حدیث یا روایت کسے کہتے ہیں ؟

 اور کیا ایسی روایت کو دلیل میں پیش کرنا جائز ہے ؟اس کی مختصر وضاحت : موضوع اور من گھڑت حدیث یا روایت کسے کہتے ہیں ؟

موضوع اور من گھڑت حدیث کس قسم کی حدیث کو کہتے ہیں؟

ضعیف حدیث کی ایک بد ترین قسم موضوع کہلاتا ہے۔ وہ بناوٹی اور جھوٹی حدیث جس کا شمار حدیث کے سلسلہ میں کرنا ایک قبیح امر ہے کیونکہ موضوع اس روایت کو کہتے ہیں جسے راوی نے اپنے دل سے گھڑ کر حضورسرورِ کائناتﷺ کی جانب جھوٹ موٹ منسوب کر دیا ہو۔ اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ فلاں روایت موضوع ہے،توایسی روایت یا حدیث کا بیان کرنا حرام ہے،بجز اس کے کہ بیان کرنے سے اس کا رَد مقصود ہو ، خواہ وہ روایت کسی مضمون سے تعلق رکھتی ہو۔

امام نووی رحمہ اللہ نے متوفی 671ہجری موضوع روایت کی تعریف یوں کی ہے:

{ اَلمَوضُوع:  ہُوَ المُختَلِقَ المَصنُوع وَ شَرُّ الضَّعِیف}(تدریب الراوی،النوع الحادی والعشرون: الموضوع)

’موضوع، من گھڑت اور بناوٹی روایت کا نام ہے اور یہ ضعیف کی بد ترین شکل ہے۔‘

جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ متوفی911؁ ہجری اس کی تعریف یوں کرتے ہیں:

 ’ وہ روایت جس کے راوی سے روایتِ حدیث میں جھوٹ بولنا ثابت ہو جائے خواہ ایک ہی بات جھوٹ ثابت ہو مگر اس کی ساری مرویات موضوع کہی جائیں گی،اس کی روایت محدثین کے نزدیک قابلِ اعتبار نہ ہوگی۔‘ (تدریب الراوی،النوع الحادی والعشرون: الموضوع)

موضوع احادیث کے بارے میں علمائے اُمت کا فیصلہ

کسی حدیث یا روایت کا من گھڑت ثابت ہونے کے بعد اس کا بیان کرنا حرام ہے چہ جائیکہ اس کو دلیل میں پیش کیاجائے۔امام نووی رحمہ اللہ  متوفی671؁ ہجری صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں:

{یَحْرُمُ روایۃ الحدیث الموضوع علی من عرف کونَہُ موضوعاً او غلب علی ظنہ وضْعُہُ فمن روَی حدیثاً عَلِمَ او ظنَّ وضعَہُ وَلم یُبَیِّن حالَ روایتِہٖ وضعَہُ فھو داخل فی ھذا الوعید}(شرح النووی علی مسلم، باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہ ﷺ)

’’جس کو کسی روایت کا موضوع ہونا معلوم ہو،یا اس کے ظنِّ غالب میں وہ موضوع ہو تو اس کیلئے ہرگز جائز نہیں کہ اس حدیث کو بیان کرے ،اور جو یہ علم رکھنے کے باوجود کہ فلاں روایت موضوع ہے ، اس کو بیان کرتا پھرے ،اور اس کا موضوع ہونا بیان نہ کرے ،تو وہ اس شدید وعید میں داخل اور ان لوگوں میں شامل ہے جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ اور افتراء کرتے ہیں۔‘‘

کسی بات کو اچھا سمجھ کر اسے بزعمِ خود نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا بہر صورت حرام ہے ، اور اس میں مقصد کی اچھائی یا خودساختہ نیت کو نہیں دیکھاجائے گا۔امام نووی رحمہ اللہ متوفی671؁ ہجری اس بارے میں لکھتے ہیں :

’’رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ و افتراء کرنا بہر صورت حرام ہے ،(خواہ اس جھوٹ سے جھوٹ بولنے والے کا مقصد جو بھی ہو)،خواہ احکام سے متعلق ہو، یا ترغیب وترھیب اور وعظ و نصیحت سے متعلق ہو ۔بہر صورت آپﷺ پر جھوٹ بولنا حرام ہے، کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑی گناہ ، اور بد ترین کام ہے ،اور اس بات پر تمام ان مسلمانوں کا اجماع ہے جن کی اجماع پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔ ‘ (شرح النووی علی مسلم، باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہ ﷺ)

اس کی شرح میں امام جلال الدین سیوطی  رحمہ اللہ متوفی911؁ ہجری لکھتے ہیں:

{[تُحْرَمُ روایتہ مع العلم بہ ای بوضعہ فی اَیِّ مَعْنًی کان سواء الاحکام، والقصص، والترغیب وغیرھا، اِلَّا مُبَیِّنًا ای مقروناً ببیان وضعہ(تدریب الراوی ، النوع الحادی والعشرون: الموضوع)

’کسی روایت کے من گھڑت ہونے کا علم ہوجانے کے باوجود اس کا دانستہ بیان کرنا حرا م ہے خواہ کسی بھی معنی میں ہو،خواہ وہ روایت احکام سے متعلق ہو، یا قصص اور ترغیب وغیرہا سے متعلق ہومگر یہ کہ اس کا من گھڑت ہونا بیان کردیا جائے۔

حافظ ذہبی متوفی 748ہجری ،حافظ ابن حجر852 ہجری اور حافظ سخاوی902ہجری نے امام بخاری رحمہم اللہ اجمعین متوفی256ہجری کے حوالہ سے لکھاہے: ’’جو شخص موضوع حدیث بیان کرتاپھرے تو اسے سخت سزا دینی چاہئے اور اسے عرصہ دراز تک جیل میں ڈال دینا چاہئے۔‘‘

خطیب بغدادی  رحمہ اللہ متوفی  463ہجری اس بارے میں لکھتے ہیں:

’’ محدث پر لازم ہے کہ موضوع اور باطل اخبار واحادیث اور روایات کو قطعاً بیان نہ کرے ۔ اگر کوئی ایسا کام کر ڈالے گا تو وہ بہت بڑا گناہ گار اور کذابین کی جماعت میں داخل ہوگا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ  نے اس کی خبر دی ہے۔‘‘ 

امام ابن صلاح رحمہ اللہ متوفی 643ہجری اس بار ے میں لکھتے ہیں:

’’جس کوکسی روایت کا موضوع ہونا معلوم ہوجائے تو اس کیلئے جائز نہیں کہ وہ اسے موضوع کہے بغیر بیان کرے۔‘‘

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top