جعلی مزارات
ساری دنیا میں بالعموم اور برصغیر میں بالخصوص مزارات، جعلی ہو، یا اصلی، بغیر سرمایہ کاری ایک منافق کاروبار ہے جس میں نقصان کا امکان صفر فیصد ہے۔اس لئے ایک فراڈی نے دوسرے فراڈی کی دن دگنی رات چگنی ترقی دیکھ کرکسی نہ کسی طرح اپنے لئے مزار کا بندوبست کر ہی لیا ہے۔یا تو جعلی مزار بنا کر ، اور یا کسی مشہور بزرگ کی قبر پر قبضہ کرکے۔
پاکستان میں جتنے بااثر سیاسی خاندان ہیں ، اُن سب کی اَرب پتی ہونے کا راز اور بنیاد ہی مزارات ہیں، اس لئے کہ بعض مزارات کی روزمرہ چندہ بکس سے لاکھوں روپیہ برآمد ہوتے ہیں۔
میں نے پنجاب میں جعلی اور فرضی اولیاء کے قبروں کے پاس گاڑیوں میں گزرتے لوگوں کو دیکھا ہے ، جب قبر کے پاس سے گزرتے ہیں تو رونی صورت بنا کر چہرے پر محتاجی لاکر سلام کرتے ہیں جیسے منت ترلا ک رہا ہو کہ بابا میرا مراد پوری ہوجائے، اگر یہ کفر نہیں تو پھر دنیا میں کفر کہاں؟
بعض لوگ راہ چلتے بھی گاڑی روک کر مزار کے اُوپر یا وہاں پڑے صندوق میں پیسے ڈالتے ہیں۔
خالی اور جعلی مزارات کیسے بنتے ہیں؟
مجھے ضلع چارسدہ کے ایک ثقہ، سنجیدہ اور معروف سکول ٹیچر نے بالمشافہ بتایا کہ اس کے گاؤں کے ایک نام نہاد مفتی نے ایک بار مشہور کیا ہے کہ فلاں مقام پر ایک بابا کا قبر ہے، جو اب تک کسی وک معلوم نہیں تھا،اور بابا نے میرے خواب میں آکر مجھے جگہ بتایا۔
اس کے بعد اس مخطی نے ایک بھیڑ اور چند شاگردوں کو ساتھ لے کر وہاں بھیڑ ذبح کیا، اور اس طرح قبر پرست مسلمانوں کے لئے ایک اور’’ بُت ‘‘ بنام یوسف بابا تنگی کا چرچا ہونے لگا۔اسی طریقہ کار سے دنیا میں ہزاروں اولیاء اور اُن کے خالی مزارات وجود میں آئے ہیں۔
جعلی قبروں اور مزارات کا پس منظر
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ برصغیر پر انگریز نے سو سال سے زائد حکومت کی۔ وہ یہاں سے خزانے لوٹ کر یورپ لے گئے۔ لیکن بہت سا مال و اسباب ایسا بھی تھا جسے وہ اپنے ساتھ نہ لے جا سکے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایسی جگہیں بنائیں جو عام انسان کے نزدیک محترم ہوں اور کوئی انہیں نقصان نہ پہنچائے۔ چنانچہ مختلف جگہوں پر قبریں یا مقبرے تعمیر کر کے اوپر کسی “بزرگ” کا نام رکھ دیا جاتا تاکہ مقامی لوگ ان کو مقدس جان کر ہاتھ بھی نہ لگائیں۔ اس طرح یہ جعلی مزارات “امانت خانہ” بن گئے۔
خویشگی نوشہرہ کا پوخلے بابا
……٭اسی طرح کا قصہ مجھے میرے رفقائے کار(Colleagues) نے اپنے علاقہ خویشگی ضلع نوشہرہ کے ایک پرانے مزار کابتایا۔ اس مزار کانام’’پوخلے بابا‘‘ تھا ۔(پوخلے پشتو زبان میں نمونیا کو کہتے ہیں)۔وہ کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے کچھ لوگوں نے اپنے سفارت خانے کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے اجازت لے کراس مزار کی کھدائی کی اجازت چاہی ۔ضلع بھر کی پولیس کی نگرانی میں قبر کی کھدائی کی گئی تو اس میں سونے کے بڑے بڑے بت برآمد ہوئے ،جو اُن انگریزوں کے آباؤاجداد نے پاکستان آزاد ہونے کے بعد اس جگہ دفن کئے تھے اور اپنی روایتی چالاکی سے اس کو مزار مشہور کرایاتھا۔‘‘
اسی طرح مفاد پرست مقامی لوگ بھی اپنی “دکان چمکانے” کے لیے قبریں بنا دیتے یا کسی عام سی جگہ کو مقدس بنا کر چڑھاوے اکٹھے کرنے لگ جاتے۔ یوں لوگوں کی سادہ لوحی کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔
میں 1989 سے لاہور آتا جاتا رہاہوں ، مینارِ پاکستان کے مشرقی طرف کسی ولی کا قبر نہیں تھا ، مگر جب 2007 میں لاہور گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک مزین قبر ہے ، مجاور ہے، ہم اس وقت رات کے تین بجے گاڑی سے اترے تھے، میرا کزن ارشد علی بھی میرے ساتھ تھا، ایک مزدور شخص جو کام پر جانے کے لئے گھر سے سا وقت نکلا تھا، مزار پر آیا، قبر پر سجدہ کیا، وہاں ہر چیز ہپر ہاتھ پھیر اپنے بدن پر پھیرا، میرا کزن کہنے لگا، لالا یہ کیا ہے، میں نے کہا یہ ان کی بد بختی ہے۔
عجمی، خرافاتی تصوف کے ٹھیکیدارغافل صوفیاء اور پیرانِ جاہل کا انبیاء سے منسوب قبور و مزارات کے دعوے
ضلع گجرات میں واقع مزار جو قنبیط بن آدم علیہ السلام سے منسوب ہے۔گجرات شہر سے 40 کلومیٹر سرحدی علاقے چھمب روڑ گاٶں بڑیلہ شریف میں واقع یہ مزار 1891 میں حافظ شمس الدین آف گلیانہ نے قنبیط نبی کی قبراور حضرت حام بن نوح علیہ السلام کی قبروں کو مراقبہ کر کے دریافت کیا۔ییہ کار وعیار اور بے غیرت و بے ضمیر صوفیاء جعلی مراقبوں، شیطانی کشوف اور من گھڑت خوابوں کے ذریعے اپنی اولاد کے ئے مستقل کاروبار کے لئے ایسی حرامزدگی کرتے آ رہے ہیں۔
قنبیط ابن آدم علیہ السلام کے علاوہ گجرات میں موجود دو قبروں سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ بھی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی قبریں ہیں۔
ان بے غیرت، بے شرم جاہل پیرانِ باطل نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش ہونے کے لئے اپنے لئے ذلت اور رسوائی کی قیمت پر اپنی اولاد کے لئے ارب پتی بننے کا مستقل بندوبست کیا ہوا ہے۔
مکار حافظ شمس الدین اپنے مریدین کے ساتھ اس علاقے سے گزرے تو ایک جھنڈ کے میں سے بہت پیاری خوشبو آئی آپ نے مریدین سے کہا یہاں ضرور کسی نیک ہستی کی قبر ہے اور آپ نے کھدائی شروع کروائی تو نیچے سے ایک قبر نکلی جس کی لمبائی 210 فٹ 72 گز ہے ، مکار و عیار حضرت صاحب کی آنکھوں سے آنسو آگے اور فرمایا یہ قبر تب دریافت ہوئی،جب میرا وقت بہت قریب ہے اور اس کے کچھ ہی عرصہ میں حضرت شمس الدین انتقال فرما گئے۔
اس کے علاوہ پنڈ دادن خان میں جو حضرت حام بن نوح علیہ السلام کی قبر ہے وہ بھی حضرت صاحب نے دریافت کی۔ اس مزار کی لمبائی 78فٹ(26 گز) ہے ۔
قارئین! یہ نیک لوگ نہیں تھے، یہ بہت اونچے درجے کے ڈرامہ باز ، مکار اور کاسیر لوگ تھے جن کو سادہ لوح لوگوں کو چونا لگا کر مفت کی ورزی کمانے کا فن خوب آتا تھا۔
مجھے ضلع چارسدہ کے ایک ثقہ، سنجیدہ اور معروف سکول ٹیچر نے بالمشافہ بتایا کہ اس کے گاؤں کے ایک نام نہاد مفتی نے ایک بار مشہور کیا ہے کہ فلاں مقام پر ایک بابا کا قبر ہے، جو اب تک کسی وک معلوم نہیں تھا،اور بابا نے میرے خواب میں آکر مجھے جگہ بتایا۔
اس کے بعد اس مخطی نے ایک بھیڑ اور چند شاگردوں کو ساتھ لے کر بھیڑ وہاں ذبح کیا، اور اس طرح قبر پرست مسلمانوں کے لئے ایک اور’’ بُت ‘‘ بنام یوسف بابا کا چرچا ہونے لگا۔
اسی طریقہ کار سے دنیا میں ہزاروں اولیاء وجود میں آئے ہیں۔
لاہورسمیت ملک کے کئی شہروںمیں9گزطویل قبریں ہیں جنھیں نوگزے پیرکہاجاتا ہے۔
قلعہ دراوڑ ضلع بہاولپورکے قریب صحابہ کرام کے جعلی قبور
مشرکینِ پاکستان نے مشہور کیا ہوا ہے کہ ’’چولستان کے وسیع صحرا میں چار جلیل القدر اصحابِ رسول ﷺ کی قبور موجود ہیں۔ انہی میں سے ایک حضرت جوار رضی اللہ عنہ کی قبر ہے، جو حضور اکرم ﷺکے وفادار خادم اور عاشق رسول تھے۔ آپ نے پوری 21 برس تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔‘‘
قارئین! نبی کریم ﷺ کے ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام اور خادموں میں جوار نامی صحابی ہے ہی نہیں۔
بزرگوں کی جعلی قبریں
بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں بزرگوں کی قبریں بتائی جاتی ہیں، حالانکہ وہاں ان کی قبریں نہیں ہیں۔
مثلاً شام کے شہر دمشق میں مشرقی پھاٹک کے باہر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قبر بتائی جاتی ہے، حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ جملہ اہلِ علم متفق ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دمشق میں نہیں بلکہ مدینہ میں فوت ہوئے ہیں۔ اللہ ہی جانے کہ وہ قبر کس کی ہے؟
بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قبر نہیں ہے۔
اسی طرح جامع مسجد دمشق کی ایک دیوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت ہود علیہ السلام کی قبر ہے حالانکہ کسی اہلِ علم نے یہ بیان نہیں کیاکہ پیغمبر ہود علیہ السلام کا دمشق میں انتقال ہوا تھا۔ ہاں یہ کہا گیا ہے کہ وہ یمن میں فوت ہوئے تھے۔
بعض کا خیال ہے کہ وہ مکہ میں دفن ہیں جہاں وہ اپنی قوم کی ہلاکت کے بعد ہجرت کرکے آئے تھے لیکن ملک شام کا ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ تھا، رہائش کا نہ ہجرت کا۔
اسی طرح دمشق کے مغربی پھاٹک کے باہر ایک قبرکو اویس قرنی رحمہ اللہ کی قبر قرار دیاجاتا ہے، حالانکہ یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ کسی نے بھی نہیں کہا کہ اویس قرنی رحمہ اللہ کی وفات دمشق میں ہوئی۔ دمشق تو دور کی بات ہے سرے سے ملک شام میں ان کا آنا بھی کسی نے بیان نہیں کیا۔
وہ یمن سے آئے اور عراق چلے گئے تھے۔
بعض نے کہا ہے کہ جنگ صفین میں قتل ہوگئے۔ بعض نے ان کی وفات، اطراف ایران میں لکھی ہے۔ اور بھی اقوال ہیں مگر شام میں ان کا آنا کسی نے بیان نہیں کیا۔
اسی طرح ایک قبر کو اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی قبر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ وہ کبھی شام میں نہیں آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انھوں نے کوئی بھی سفر نہیں کیا، بلکہ مدینہ ہی میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئیں۔
کلر کہار میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے پوتوں کی قبریں
کلر کہار میں شیخ عبدالقادر جیلانی کے سگے پوتوں، شیخ عبدالرزاق کے دو بیٹوں، شیخ یعقوب اور شیخ اسحاق رحمہم اللہ کے جعلی مزارات ہیں۔
آئیں اس ڈرامہ بازانہ دریافتوں کا پول کھول دیتے ہیں
شیخ عبدالرازق جیلانی بن شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہما اللہ کے بیٹوں میں یعقوب اور اسحاق نامی بیٹے پیدا ہی نہیں ہوئے ۔
مگر جعلی عجمی خرافاتی تصوف کے کرتوت ملاحظہ کیجئے کہ کہاں کہاں سے من گھڑت ناموں کے ساتھ انبیاء اور اولیاء کی قبریں، کہیں جعلی مراقبوں سے اور کہیں جعلی، جھوٹی ،شیطانی کشوفات سے، دریافت کرتے رہتے ہیں۔لیجئے شیخ عبدالرزاق بن شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہما اللہ کی اولاد کے نام مستند کتابوں سے۔ابن رجب حنبلی متوفی 795 ہجری اور شمس الدین ذہبی متوفی 748 ہجری کے مطابق شیخ عبدالرزاق جیلانی رحمہم اللہ ٖ کے پانچ بیٹے تھے:
۱۔ فضل الله بن عبد الرزاق بن عبد القادر جیلانی، ۲۔ ابو المحاسن، نصر بن عبد الرزاق بن عبد القادر جیلانی(متوفی 633 ہجری)
۳۔ عبد الرحيم بن عبد الرَّزَّاق بن عبد القادر جیلانی ، ۴۔ عبد الرحمن بن عبد الرزاق بن عبد القادر جیلانی (متوفی 614 ہجری)
۵۔ اسماعیل بن عبد الرَّزَّاق بن عبد القادر جیلانی ۔‘‘ (ذیل علی طبقات الحنابلہ۔۔۔ تارخ الاسلام للذھبی)
عجمی، خرافاتی تصوف کا پیغمبرحضرت قنبیط اور حام بن نوح علیہ السلام سے منسوب مزار
یہ مزار ضلع گجرات میں واقعہ ہے جو حضرت قنبیط بن آدم علیہ السلام سے منسوب ہے۔گجرات شہر سے 40 کلومیٹر سرحدی علاقے چھمب روڑ گاٶں بڑیلہ شریف میں واقع یہ مزار 1891 میں حافظ شمس الدین آف گلیانہ نے قنبیط نبی کی قبراور حضرت حام بن نوح علیہ السلام کی قبروں کو مراقبہ کر کے دریافت کیا۔
قارئین!ان بے غیرت، بے شرم جاہل پیرانِ باطل نے اپنی اولاد کے لئے جھوٹ بول بول کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش ہونے کے لئے اپنے لئے ذلت اور رسوائی کی قیمت پر اپنی اولاد کی تا قیامت پشتوں کے لئے ارب پتی بننے کی بغیر سرمایہ کاری کاروبار ایجاد کیا ہے۔
مکار حافظ شمس الدین اپنے مریدین کے ساتھ اس علاقے سے گزرے تو ایک جھنڈ کے میں سے بہت پیاری خوشبو آئی آپ نے مریدین سے کہا یہاں ضرور کسی نیک ہستی کی قبر ہے اور آپ نے کھدائی شروع کروائی تو نیچے سے ایک قبر نکلی جس کی لمبائی 210 فٹ 72 گز ہے ، مکار و عیار حضرت صاحب کی آنکھوں سے آنسو آگے اور فرمایا یہ قبر تب دریافت ہوئی،جب میرا وقت بہت قریب ہے اور اس کے کچھ ہی عرصہ میں حضرت شمس الدین انتقال فرما گئے۔
اس کے علاوہ پنڈ دادن خان میں جو حضرت حام بن نوح علیہ السلام کی قبر ہے وہ بھی حضرت صاحب نے دریافت کی۔ اس مزار کی لمبائی 78فٹ(26 گز) ہے ۔
قارئین! یہ نیک لوگ نہیں تھے، یہ بہت اونچے درجے کے ڈرامہ باز ، مکار اور کاسیر لوگ تھے جن کو سادہ لوح لوگوں کو چونا لگا کر مفت کی ورزی کمانے کا فن خوب آتا تھا۔
لاہورسمیت ملک کے کئی شہروںمیں9گزطویل قبریں ہیں جنھیں نوگزے پیرکہاجاتا ہے۔
قنبیط کے علاوہ گجرات میں موجود دو قبروں سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ بھی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی قبریں ہیں۔
سنان بن سلَمَہ بن محبق، ابو عبدالرحمن، ہذلی
سنان بن سلمہ صحابی نہیں تھے بلکہ رسول اللہ کی حیات میں بقول ابن حبان غزوہ حنین کے دوران اور ابن اثیر کے مطابق فتح مکہ کے دن پیدا ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم ، المراسیل، میں لکھتا ہے کہ امام ابو زُرعۃ سے پوچھا گیا کہ کیا سنان بن سلمہ صحابی ہے؟ ابو زرعہ نے کہا: نہیں بلکہ آپ نبی کریم ﷺ کے زمانہ حیات میں پیدا ہوئے۔ جب عبداللہ بن سوار شہید ہوئے تو معاویہ بن ابو سفیان نے زیاد کو لکھا کہ ہندوستان کے محاذ کے لئے مناسب بندہ تلاش کیجئے۔تو زیاد نے سنان بن سلمہ کو مقرر کرکے روانہ کیا۔اور خلیفہ بن خیاط کہتا ہے کہ 50 ہجری میں راشد بن عمرو جریری کی شہادت کے بعد زیاد نے سنان بن سلمہ کوہنودستان کے لئے امیر مقررکیا۔(الوافی بالوفیات)
اور یہ وہی صاحب ہے جس کا مزار پشاور چغر مٹی اصحاب بابا میں موجود ہے، اور وہ ثقہ تابعی اور ایک بہادر جرنیل تھے۔
سہیل بن عدی کا قبر
سہیل بن عدی رضی اللہ عنہ کے نام سے بھی ایک قبر پاکستان میں موجود ہے جو مشرکینِ پاکستان کے لئے مشکل کشائی اور مشرک مجاورین کے لئے آسان کمائی کا ذریعہ ہے۔
قارئیں سہیل بن عدی ازدی رضی اللہ عنہ قبیلہ ازد شنوءۃ سے تعلق رکھتا تھا۔ جنگِ یمامہ کے دن شہید ہوئے تھے اور وہیں یمامہ میں دفن ہوئے تھے۔‘‘ (اُسُد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ۔۔۔۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔۔۔۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ)