یوسف اور زلیخا کے نکاح کا من گھڑت روایت

: یوسف علیہ السلام اور زلیخا کی شادی کی من گھڑت روایت

‘‘کہاجاتاہے کہ سیِّدِنا یوسف علیہ السلام نے زلیخا کے پہلے شوہر کے انتقال کے بعد زلیخا سے نکاح کیا تھا ،اور اس سے اس کے دو بیٹے افرائیم اور میشا پیدا ہوئے۔مگر یہ روایت من گھڑت اور موضو ع ہے ،کئی وجوہ سے، جسے ہم ذیل میں درج کریں گے۔

یہ روایت مفسر ابن جریر طبری متوفی310 ؁ ہجری نے اس سند کے ساتھ روایت کی ہے:

(طبری کہتاہے کہ)حدیث بیان کیاہمیں ابن حمید نے ، اسے سلمۃ نے،اور اسے ابن اسحاق نے روایت بیان کی کہ:

﴿قَالَ فَذَکَرَ لِی وَاللّٰہُ اَعلَم اَنَّ المَلِک الرےَّان زوَّجَ یوسف اِمراَۃ اِطفِیر رَاعِیل،وَاَنَّھَا حِینَ دَخَلَت عَلَیہِ قَالَ: اَلَیسَ ھَذَا خَیرًامِّمََّا کَنتِ تُرِیدِین ؟قَالَ: فَےَزْعَمُونَ اَنَّھَا قَالت:اَیُّھَاالصِّدِّیق ! لَا تَلُمنِی ،فَاِنِّی کُنتُ اِمراَۃ کَمَا تَرَی حَسَنًا وَ جَمَالًا ،نَاعِمَۃََ فِی مِلک وَ دُنیَا ،وَکَانَ صَاحِبِی لَا یَاتِی النِسَاء ، وَ کُنتَ کَمَا جَعَلَکَ اللّٰہُ فِی حُسنِکَ وَ ھَیئِتِکَ ،فَغَلَبَتنِی نَفسِی عَلَی مَا رَاَیتَ ،فَےَزعَمُون اَنَّہُ وَجَدَھَا عَزرَاءَ ،فَاَصَابَھَا ، فَوَلَدَت لَہُُ رَجُلَین : اَفرَائِیم بن یوسف وَ مِیشَا بن یوسف﴾(تفیسر طبری ، سورت یوسف،آیت:56)

ترجمہ:‘‘ مجھے یہ بھی بیان کیا گیاکہ اطفیر ان دنوں وفات ہوا اور بادشاہ ریَّان بن ولید نے اس کی بیوی راعیل کو یوسف علیہ السلام کی نکاح میں دے دیا ۔اور جب وہ اس سے ملے تو فرمایا: ‘‘کیا یہ اُس چیز سے بہتر نہیں جو تم چاہتے تھے ۔’’

 لوگوں کا خیال ہے کہ اس پر وہ کہنے لگی کہ اے صدیق! مجھے ملامت نہ کیجئے ،اس لئے کہ آپ میرے حسن وجمال سے واقف ہے، اور میرا شوہر عورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا (نامردتھا ) جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی حسن وجمال سے مالامال کیاہے ،اس وجہ سے مجھ سے وہ غلطی سرزد ہو گئی جو آپ نے دیکھی ہے۔ لوگوں کا خیال ہیکہ سیِّدنا یوسف علیہ السلام نے اسے خوبصورت اور جوان(باکرہ) پایا،اُس کے پاس گئے اور اُ س سے اُن کے دو بیٹے افرائیم اور میشا پیدا ہوئے۔’’ (انبیائے عظَّام اور صحابہ کرام پر اعتراضات کا علمی جائزہ،مطبوعہ دارالقرآن والسنۃ، مردان، ص :21تا 25)

 اس روایت کی سند میں کئی ایک خرابیاں ہیں:

 محمد ابن حمید الرازی

اس کا پہلا راوی محمد ابن حمید الرازی ہے اس کی تاریخِ وفات 248 ؁ ہجری ہے جس کے متعلق:

 امام جوزجانی فرماتے ہیں: بدمذہب اور غیر ثقہ ہے جس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔

امام بخاری کہتے ہیں اس میں نظر ہے۔

امام ابو زُرعۃ نے اس پر جھوٹ کاالزام لگایاہے۔

فضلک الرازی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس محمد بن حمید کے پچاس ہزار احادیث ہیں مگر ہم ان میں سے ایک حرف بھی بیان نہیں کرتے۔

فضلک الرازی کایہ بھی بیان ہے کہ میں ایک بار اس کے پاس گیا ،یہ مصنوعی روایات کی مصنوعی سندات تیار کر رہاتھا۔

علی بن مہران کہتاہے کہ میں اس کے جھوٹا ہونے کی گواہی دیتاہوں۔

صالح جزرۃ کہتاہے کہ یہ لوگوں کی روایات میں ہیر پھیر کیاکرتاتھا۔

ابن خراش کا کہناہے کہ یہ محمد بن حمید ہم سے احادیث بیان کرتاتھا مگر میں اللہ کی ذات پر قسم کھاکر کہتا ہوں کہ یہ سخت جھوٹاہے۔

بہت سے لوگوں سے یہ بات پہنچی ہے ہم تک، کہ یہ ابن حمید لوگوں کی احادیث چرایاکرتا تھا۔

امام نسائی رحمہ اللہ متوفی 303؁ہجری کہتاہے کہ یہ ثقہ نہیں۔

صالح جزرۃ نے کہاکہ میں ابن حمید اور ابن الشاذ الکونی سے جھوٹ بولنے میں زیادہ مہارت رکھنے والے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا۔’’(میزان الاعتدال،ترجمہ محمد بن حمید الرازی، ترجمہ نمبر:7453)

ابن جریر کی پیدائش 224 ؁ ہجری ہے، وہ صرف 24سال کے تھے کہ اس محمد بن حمید الرازی کی وفات ہوئی ۔

سلمۃ الابرش

اس کا ایک راوی سلمۃ الابرش ہے۔یہ 191؁ ہجری میں انتقال کر گئے ہیں۔

اس کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔اسحاق بن راہویہ نے اسے ضعیف کہاہے۔

امام بخاری کہتے ہیں کہ اس کی احادیث میں بعض منکر باتیں ہیں۔

امام نسائی رحمہ اللہ متوفی 303؁ہجری نے اسے ضعیف کہاہے۔

ابن مدینی کاکہناہے کہ ہم نے رَے(ایک جگہ کانام) نکلنے سے پہلے اس کی احادیث پھینکے ۔

ابو حاتم کہتے ہیں اس کی حدیث حجت نہیں۔

عباس الدوری ابن معین سے راویت کرتے ہیں کہ اس میں تشیع ہے،یعنی شیعہ ہے۔ (میزان الاعتدال،ترجمہ سلمۃ بن الفضل الابرش،ترجمہ نمبر:3410)

محمد بن اسحاق بن یسار

اس کا ایک راوی محمد ابن اسحاق ہے ،جو سچا تو تھا مگر مدلس تھا ،شیعہ تھا ،اور تقدیر کا منکر بھی تھا۔

آئیے ذرا اس کے بارے میں حافظ ذہبی کے میزان الاعتدال سے ائمہ رجال کی آراء ملاحظہ کیجئے:

‘‘اسے بعض نے ثقہ کہا ہے اور بعض نے ‘‘واہ ’’ یعنی شدید کمزورکہاہے جیسے دارِ قطنی نے۔

اس کی حدیث اچھی ہے مگر سیرت میں بعض منکر ،منقطع اقوال اور جھوٹے اشعار جمع کئے ہیں۔

امام احمد نے بھی اس کی حدیث کو حسن کہاہے۔

یحییٰ بن معین کہتاہے وہ حسن الحدیث ہے مگر حجت نہیں(یعنی اس کی حدیث حجت نہیں مانی جائے)۔

امام نسائی رحمہ اللہ متوفی 303؁ہجری نے کہاہے کہ یہ قوی نہیں۔

ابن المدینی متوفی234؁ ہجری کاکہناہے کہ اس کی دو منکر احادیث کے سوااس کی حدیث اچھی ہے ۔

امام ابو داؤد کاکہناہے کہ یہ تقدیر کامنکر اور معتزلی تھا (یعنی عقل کی بنیاد پر انبیاء کے معجزات اوراولیاء کے کرامات اور تقدیرمنکر تھا )۔

سلیمان تیمی نے اسے کذاب یعنی سخت جھوٹاکہاہے۔

وہیب کاکہناہے کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سناہے ،وہ اس کو کذاب کہاکرتے تھے۔

اور وہیب ہی کاکہنا ہے کہ امام مالک اس کومُتَّہَم (یعنی حدیث میں جھوٹا)سمجھتے تھے۔

عبدالرحمان بن مہدی کاکہناہے کہ یحییٰ بن الانصاری اور امام مالک اس کو مجروح گردانتے تھے۔امام مالک نے اسے ایک بار دجالوں میں سے ایک دجال کہا۔

سفیان بن عیینہ کہتاہے کہ میں نے اسے مسجد ِخیف میں دیکھا ،اور میں اس بات سے عار محسوس کرتاتھا کہ کوئی مجھے اس کے ساتھ دیکھ لے کیونکہ اس پر منکرِ تقدیر کا الزام تھا۔

یحییٰ کاکہناہے کہ یہ اہلِ کتاب کی روایات بیان کرتاتھا۔

ابن ابی فُدَیک کہتاہے کہ یہ اہلِ کتاب کی ایک آدمی سے روایت لکھا کرتاتھا۔

امام احمد کہتاہے کہ یہ ابن اسحاق سخت تدلیس کرتاہے ،(یعنی اپنے سے اوپر کمزور یا جھوٹے راوی کانام چھپاتاہے)۔امام احمد کو کہاگیا کہ:

‘‘ اگر وہ یوں کہے کہ مجھ سے فلاں نے حدیث بیان کی (یعنی حَدَّثَنی کے الفاظ کہے ) ،یا مجھے فلاں نے خبر دی(یعنی اَخْبِرنی کے الفاظ کہے )۔’’ تو پھر؟

امام احمد نے کہا کہ وہ کہتایہی ہے مگر ہوتاوہ نہیں جو وہ کہتاہے۔

ابن عدی کاکہناہے کہ یہ مرغیاں لڑایاکرتاتھا۔

 ابو قلابہ رقاشی ابو داؤد سلیمان بن داؤد سے اور وہ یحییٰ بن سعید سے نقل کرتے ہیں کہامامِ رجال یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ متوفی198؁ ہجری نے کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ یہ ابن اسحاق کذاب یعنی سخت جھوٹاہے۔

ابو بکر شیبانی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ یہ محمد ابن اسحاق شعراء کے پاس احادیث لے جاتا ، اور ان کو کہتاکہ اس کے مطابق شعر بنا دیجئے۔

ابو داؤد طیالسی کہتاہے کہ مجھے بعض اساتذہ نے بتایاکہ یہ ابن اسحق کہتاتھا کہ مجھے ایک ثقہ نے حدیث بیان کی۔اس سے پوچھاگیا کہ وہ ثقہ کون ہے تو اس نے کہا کہ یعقوب یہودی۔

سعید بن داؤدالزبیری کہتاہے کہ مجھے دراوردی نے بیان کیا کہ ہم محمد ابن اسحاق کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اس پر نیند کا غلبہ ہوا ،اور کہا کہ میں نے ابھی خواب میں دیکھا کہ کوئی مسجد آیا اور اس کے ہاتھ میں رسِّی تھی ،اس کو گدھے کے گلے میں ڈالا اور باہر لے گیا۔ہم تھوڑی دیر بیٹھے ہی تھے کہ ایک آدمی آیا ،اس کے گلے میں رسی ڈال کر مسجد دے باہر سلطان کے پاس لے گیا اور سلطان نے قدری ہونے کے الزام میں اسے کوڑے لگوائے۔

مکی بن ابراہیم کہتاہے کہ یہ سیاہ حضاب لگاتاتھا۔اس سے پوچھا گیا کہ کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھاتھا تو اس نے کہاں ہاں!اور اللہ سونے کے تحت پر بیٹھا تھا اور اللہ کا عرش چار فرشتے اٹھائے ہوئے تھے، ایک فرشتے کی شکل انسان کی ،ایک شیر کی ،ایک بیل کی اور ایک فرشتے کی شکل باز جیسی تھی۔’’(میزان الاعتدال، ترجمہ محمد ابن اسحاق بن یسار،ترجمہ نمبر:7197)

یہ ہے اس روایت کے راویوں کا حال۔

انصاف کیجئے ایسے بد ترین اور مجروح راویوں کی روایت کی وجہ سے یوسف علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کیلئے زلیخا جیسے شوہر کی موجودگی میں مائل بہ شہوت عورت ،بیوی بنانا کہاں کا انصاف ہے۔یہ سارے شیعہ راویوں کے کارنامے ہیں۔

مصباح اللغات میں لکھتاہے کہ:

﴿زَعَمَ زَعْماََ﴾ سچ یا جھوٹ کہنا۔اور اکثر مشکوک یا ایسی چیزوں میں، جس کے جھوٹ ہونے کا یقین ہو، استعمال کیاجاتاہے۔’’(مصباح اللغات،مطبوعہ مکتبہ فارقلیط لاہور،ص:338)

ابو منصور محمد بن احمد ازہری متوفی370 ؁ ہجری لکھتے ہیں کہ:

عربی میں جب ﴿ذَکَرَ فُلَان‘’ ﴾(یعنی مجھ سے فلاں نے یہ بات بیان کی)بولتے ہیں تو اس سے مراد کوئی یقینی بات ہوتی ہے اور جب ﴿زَعَمَ ﴾بولتے ہیں تو اس کا استعمال بیشتر اُس شے کیلئے ہوتاہے جو باطل ہو، متحقق نہ ہواور اس میں شک و شبہ ہو۔’’(تہذیب اللغۃ، ج:2،ص:93)

 متوفی ابن فارس متوفی395 ؁ ہجری لکھتے ہیں کہ:

﴿اَلْزَعْمُ : القول فی غیر صحۃٍ﴾یعنی غیر صحیح بات کے بارے میں زَعَمَ بولا جاتا ہے ۔’’ (مجمل اللغۃ،ص: 329)

مججدالدین فیروزآبای متوفی817؁ ہجری لکھتے ہیں کہ:

﴿اَلْزَعْمُ : القول الحق والباطل ﴾یعنی زَعَمَ غلط اور صحیح دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔’’ (القاموس المحیط،ج:2،ص:147) اس روایت میں بھی یہی حال ہے،دو بار اس میں راوی نے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے۔ لہٰذا ان خبیث لوگوں کے خیالات بالکل غلط ہیں،جنہوں نے یہ قصہ دل سے بناکر مشہور کیا ہوا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top