باطنی فرقے کا قرآن کی آیتوں کا من گھڑت مطالب
جب قرآن و حدیث کے بواطن و ظواہر کے اس فلسفہ کو لوگوں نے قبول کیاتو انہوں نے…نبی …وحی… ملائکہ…آخرت…نماز…روزہ…اور دیگر عبادات اور اصطلاحاتِ شرعیہ کی من مانی تشریح کرنی شروع کردی۔جس کے نادرنمونے یہ ہیں:
۱۔ باطنی فرقہ کے صوفیاءکہتے ہیں کہ صلاۃ (نماز)سے مراد امامِ وقت یعنی اپنے پیر مرشد کی طرف لوگوں کو دعوت دینا ہے یعنی پیر کے لئے مرید تلاش کرنااُن کی نماز ہے۔ہمارے گاؤں کے ایک لرخے نے مجھے بتایا کہ میں ایک پیرط صاحب سے بیعت ہوا تو چند روز بعد اس کے سینئر مرید نے مجھے کہا کہ اتنے پیسوں دو، یہ آستانے کا خرچہ ہے۔اب وہ لڑکا پشاور منتقل ہوچکاہے، پولیس ملازم تھا۔
جبکہ قرآن و حدیث میں نماز نام ہے پانچ مقررہ اوقات میں، خاص فرائض و واجبات کے ساتھ ، مخصوص تعداد میں قیام، رکوع اور سجدوں کی صورت میں بندگی کے مراسم بجالانا۔
نماز کے بارے میں یہی رویہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آستانے پر موجود ہزاروں لوگ قوالی سننے بیٹھے ہوتے ہیں مگر نماز کی پرواہ نہ بڑے پیر کو اور نہ ہی اس کے چیلوں کو۔ ساری رات شیطانی قوالی میں گزار تے ہیں مگر نماز پڑھنے کی توفیق نہیں اس لئے کہ نماز اُن کے نزدیک شریعت والی نماز ہے ہی نہیں۔
باطنی مفہوم کی شیطانی تعلیم کی کی چکر میں آنی آیات کا مذاق
۲۔ ایک بار اس فرقے کے ایک مریدِ خاص، جس کا نام و نسب مجھے معلوم ہے، نے ایک جگہ لگی پوسٹر
پر یہ آیت کریمہ دیکھی:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَﵞ اے مؤمنو! اللہ سے ڈرو۔‘
تو اس نے کہا کہ اللہ کوئی ببر شیر تو نہیں کہ اس سے ڈرایا جائے۔مطلب یہ کہ تقوی کا بھی ان لوگوں کا کوئی من مانی مطلب لیاہے۔جبکہ قرآن وسنت میں اللہ کی ناراضگی سے ڈرنے، شرک اور ہر قسم کی گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے اور اعمال و عقائد میں حد درجہ احتیاط کا نام تقوی ہے۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی علیہ السلام اور آپﷺ کے ذریعے قیامت تک ہر مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ: ﵟوَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأۡتِيَكَ ٱلۡيَقِينُﵞ
’’اے نبیﷺ! اللہ کی عبادت میں اس وقت تک مشغول رہنا جب تک تمہیں وہ یقینی چیز یعنی موت نہیں آجاتی۔‘(سورت حجر، آیت:99)
اور سورت مدثر،آیت:47 اور بخاری کی (حدیث نمبر: 2687) میں واضح اور صریح لفظ یقین کا معنی ’موت‘ ہی کیا گیا ہے مگر باطنی طریقت والے کہتے ہیں کہ:
’’صرف اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرو جب تک تمہیں یقین (یعنی معرفت) حاصل نہ ہوجائے۔‘‘
اور جب یقین یا معرفت حاصل ہوجائے اورانسان عارف باللہ ہوجائے تو پھر اس کے لئے نماز، روزہ، حج، زکوۃ، تلاوت وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ پھر صاحبِ معرفت بڑی سے بڑی گناہ کرے، نماز، روزہ نہ رکھے۔ حج کا مذاق اُڑائے۔ زنا کرے، تو کوئی پرواہ نہیں۔قیامت کے دن اس سے کسی بھی گناہ کا کوئی حساب کتاب نہیں لیا جائے گا۔اس کے لئے حلال اور حرام کی پابندی ختم ہوجاتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ان زندیق صوفیاء کی معیار پر نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقامِ ییقن و معرفت پر پہنچےتھے، اور نہ ہی رسول اللہﷺ، اس لئے کہ نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اور نہ ہی کبھی کسی صحابی نے شریعت کی پابندی سے آزاد ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔
۴۔ اللہ تعالیٰ اپنی ہی عبادت کے بارے میں اپنے بندوں کو خبردار کرکے فرماتا ہے:
ﵟوَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ ﵞ
’’تیرے ربّ نے فیصلہ کردیا کہ تم لوگ اللہ کے سوا کسی کی بھی عبادت نہ کرو۔‘‘ (سورت بنی اسرائیل: آیت:23 )
یہ پورے دنیا کےعلماء اسلام کا ترجمہ ہے،جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ذریعے ہمیں پہنچا ہے۔ اور جاہل اہلِ طریقت کا ترجمہ یہ ہے:
’’تم عبادت نہ کرو گے مگر وہ اسی(اللہ) کی ہوگی جس چيز کی بھی تم عبادت کرو گے۔‘‘
اس سے ان کافر صوفیاء کا مطلب یہ ہے کہ تم خواہ کسی انسان کو سجدہ کرو، یا قبر کو، کسی مجسمے کو سجدہ کرو یا کسی بت کو، وہ درحقیقت اللہ ہی کی عبادت شمار ہوگی۔
اگر یہ صوفیاء اس طرح بکواس کرنے سے کافر نہیں تو پھر وقتِ آدم علیہ السلام سےلے کر قیامت تک دنیا میں کوئی کافر و مشرک ہوا ہی نہیں۔
پھر انبیاء کی آزمائشیں، جہاد، تکالیف، ہجرت، مشرکین کا قتل ، مسلمانوں کی شہادت ، سارے کے سارے ، نعوذ باللہ، ۔۔۔فضول، ۔۔۔ ظلم ہوا۔
۵۔ کہتے ہیں کہ معاد (آخرت)سے مراد ہر چیز کا اپنی حقیقت کی طرف واپس لوٹناہے۔
جبکہ قرآن میں معاد اس دنیا میں انسان کے کئے گئے نیک و بد اعمال کا حساب کتاب کرنے کے بعد نیک اور متقی لوگوں کا جنت اور فاجر و بدکار لوگوں کادوزخ میں بھیجے جانے کافیصلہ کن دن ہے۔توحید پر زندگی گزارنے والے مسلمان اپنی کمی کوتاہیوں کے برابر سزا کاٹ کر بالآخر جنت جائے گا، مگر شرک پر مرنے والے اور ایسے زندیق صوفیاء ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں سڑتے رہیں گے۔
معاد یعنی آخرت پر عقیدہ رکھنا معاشرے کی اصلاح، عدل وانصاف کے اجراء، زندگی کی سختیوں سے نااُمید نہ ہونا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
۶۔ یہ غلیظ فرقہ کہتے ہیں کہ جنابت سے مراد پیر مرشد یا شیخ کا راز ظاہر کرنا ہے، اور جنابت کے بعد غسل سے مراد تجدیدِ عہد ہے۔
جبکہ قرآن میں بیوی کے ساتھ جماع کرنے کی حالت کو جنابت کہتے ہیں جس سے پاکی غسل کرنے
سے حاصل ہوتی ہے۔
۷۔ کہتے ہیں کہ زنا سے مراد اپنے پیر بھائی لوگوں کے علاوہ دوسروں کو پیریا شیخ کا راز ظاہر کرنا ہے۔ جبکہ شریعت میں بغیر نکاح، نامحرم عورت کی شرمگاہ میں اپنا عضو داخل کرنے کو زنا کہتے ہیں۔
۸۔ کہتے ہیں کہ تیمم سے مراد ماذون (اجازت یافتہ، شیخ، پیر) سے علم حاصل کرناہے۔
جبکہ قرآن میں تیمم نام ہے جنابت کی حالت میں پانی نہ ملنے کی صورت میں طہارت حاصل کرنے کی نیت سے پاک مٹی پر دو مرتبہ ہاتھ مارنا اور اسے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرنا۔ ضرورت کے وقت یہ وضو کا قائم مقام ہے۔
۹۔ کہتے ہیں کہ پیسے دینا زکوۃ نہیں بلکہ زکوۃ سے مراد اہلِ استعداد و صفا میں علم کی اشاعت ہے۔
جبکہ شریعت میں ایک خاص نصاب کی صورت میں نقدی،چاندی، سونا،مالِ تجارت اور فصل کی پیداوار سے خاص مقدار نقدیا جنس کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے حکم پرمستحق افراد میں تقسیم کرنا زکوۃ کہلاتا ہے۔
۱۰۔ یہ کہتے ہیں کہ حج سے مراد اس علم کی طلب جو عقل کا قبلہ اور منزلِ مقصود ہے، اسی طرح حج سے مراد پیر مرشد کی زیارت اور طواف سے مراد پیر مرشد کے آستانے کا چکر لگانا ہے۔
اس طرح زندہ پیر کی زیارت اور مردہ پیر کی قبر کی زیارت کو بھی حج کے برابر سمجھتے ہیں۔چونکہ باطنی صوفیاء کا حج وہ نہیں جو شریعت میں ہے، اس لئے صوفی ابو سعید کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے مریدوں کو حج سے منع کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ بیت اللہ تو محض پتھر کاایک گھر ہے۔‘‘ (وحدت الوجود۔ایک غیراسلامی نظریہ، ص:129)
جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورت آلِ عمران،آیت: 97میں ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر عمر بھر میں ایک بار حج فرض فرمایا ہے،جو اسلامی قمری سال کے بارہویں مہینے ذی الحج کے 8 ویں دن سے 12ویں دن تک بیت اللہ ،منی ، عرفات اور مزدلفہ میں مقررہ مناسک بجا لانے کا نام حج ہے۔حج کا منکر ، یا اسے ضروری نہ سمجھنے والا، یا اس کا مذاق اُڑانے والاقطعی کافر ہے۔
۱۱۔ یہ غلیظ فرقہ جنت کو علمِ باطن اور جہنم کو علمِ ظاہر کہتے ہیں یعنی قرآنی آیات کا باطنی مفہوم جاننا جنت یعنی عیش و آرام اور شرعی پابندیوں سے آزاد زندگی گزارنا ہے۔
جبکہ قرآنی آیات کا صرف ظاہری مفہوم جانناجہنم یعنی شرعی پابندیوں ،نماز، روزہ، حج، زکوۃ، جہاد اور دیگر شرعی تکالیف کی بے مزہ اور پُر مشقت زندگی گزارنا ہے۔
جبکہ قرآن میں نیکی اور تقوی کی زندگی گزارنے والوں کے لئے بنائی گئی محلات اور باغات جنت ہے، جن کی درجات یا دروازوں کی تعداد آٹھ ہے اور جن کی صفات قرآن و حدیث میں بالتفصیل مذکور ہے۔اور اسی طرح جہنم اور اس کے دَرَکات کی وتفصیل بھی قرآن و سنت میں بالتفصیل موجود ہے۔ اور اس کے اند جانے والے افراد کون ہوں گے ؟ اس کی بھی تفصیل قرآن و سنت میں موجود ہے۔
۱۲۔ ان کے باطنی مفہوم کے مطابق قرآن میں کعبہ سے مراد خود نبی کی ذات ہے۔
جبکہ قرآن کہتا ہے کہ کعبہ ،مکہ مکرمہ میں مسجدِ حرام کے ایک خاص عمارت کا نام ہے جس کا حج و عمرہ کے موقع پر طواف کیا جاتا ہے۔
۱۳۔ باطنی صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ بابِ کعبہ سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات ہے۔ یہ بھی ان کی من گھڑت اور غلو پر مبنی بات ہے۔اور نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات کے بارے میں بھی اُمت کو غلو یعنی حد سے گزرنے سے منع فرمایاہے۔
۱۴۔ باطنی صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ قرآن میں طوفانِ نوح سے مراد علم کا طوفان ہے جس میں اہلِ ظاہرغرق کر دئے گئے۔
جبکہ قرآن میں طوفانِ نوح ،نوح علیہ السلام کی نافرمان قوم کا پانی کے عذاب سے غرق کرنا ہے جس
میں نوح علیہ السلا م اور اس کے مؤمنین ساتھی اللہ کے حکم سے بنائے گئے کشتی کے ذریعے بچالئے
گئے تھے ۔
۱۵۔یہ کہتے ہیں کہ نمرود کی آگ سے مراد نمرود کا غصہ ہے نہ کہ حقیقی آگ۔
جبکہ قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ٹھنڈا ہوجا۔ تو یہ حقیقی آگ ہی تھی۔
۱۶۔ یہ کہتے ہیں کہ ذبح جس کا حکم ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا ، سے مراد بیٹے سے عہد لینا مراد ہے نہ کہ حقیقتاً چھری سے گلا کاٹ کر ذبح کرنا ۔
جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر بیٹے کو اس کی رضامندی سے ذبح کرنے کی نیت سے، چھری ہاتھ میں لئے، نیچے لٹا دیا کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانی قبول کرکے جنت سے بھیڑ بھیج کر اس کی جگہ ذبح ہوئی۔
۱۷۔یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ذکر شدہ یاجوج ماجوج سے مراد قرآن کے ظاہر پر عمل کرنے والے اہلِ ظاہرہیں۔
جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ فسادی انسانوں کا ایک قبیلہ تھا جس کے سامنے ذوالقرنین نے مضبوط دیوار
بناکر لوگوں کو ان کی ظلم و فساد سے بچایا تھا ، اور قربِ قیامت یہ نکل آئیں گے اور زمیں میں فساد
پھیلائیں گے ۔
۱۸۔یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی سے ان کی دلیل و حجت ہے، حقیقی لاٹھی مراد نہیں۔
جبکہ قرآن میں اس لاٹھی سے مراد لکڑی کی بنی حقیقی لاٹھی تھی جس کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اللہ کے حکم سے معجزہ دکھا کر اپنی رسالت کی حقانیت دکھانا تھا، اور اسی لئے تو اللہ کے پوچھنے پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لاٹھی ہے میری، اس سے جانوروں کے لئے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں، اور جب تھک جاؤں تو اس سے ٹیک لگاتا ہوں۔‘‘(سورت ، آیت: )
اور اسی طرح شریعت کی عبادات کو باطل ٹھہرانے اور قرآن میں مذکور صریح حقائق کو اپنے
من مانی تاویلات کا جامہ پہنا کر قرآن میں تحریف کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔
ربِّ کعبہ کی قسم! مذکورہ بالا باتوں میں سے کئی باتیں میں نے اپنے گاؤں میں اس فرقے کے پیر سے براہِ راست سنے ہیں۔
قرآن میں بیان کردہ لفظ ’’یقین‘‘ بمعنی موت کی تحریف
ایک اور تحریف یقین بمعنی اللہ کی معرفت جس کے بعد شرعی پابندی ختم حالانکہ قرآن و حدیث میں میں یقین بمعنی ’موت‘ ہے
قارئین ! قرآن میں یقین کا معنی ’موت‘ کیا گیا ہے ، مگر باطنی فرقہ کے پیرانِ جاہل کہتے ہیں اس یقین سے مراد اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے اور جب یقین یعنی اللہ کی معرفت کسی انسان کو حاصل ہوجائے تو اس کو پھر عبادات کی ضرورت نہیں ، اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ یقین یعنی میری معرفت حاصل ہونے تک عباد کرو۔نبی کریم ﷺ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہواتھا کہ:
ﵟوَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأۡتِيَكَ ٱلۡيَقِينُﵞ (سورت حجر،آیت:99)
’’اے نبیﷺ! اللہ کی عبادت میں اس وقت تک مشغول رہنا جب تک تمہیں وہ یقینی چیز یعنی موت نہیں آجاتی۔‘‘
قرآن کے اندر ہی یقین کا معنی موت ہے لیکن یہ نجس قرآن کی سمجھ سے محروم اور بدبخت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دجل ،فراڈ اور تحریف کی تردید یوں فرمائی ہے کہ:
’’جب جنتی جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس سبب نے جہنم پہنچادیا توان کئی اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہوگا،وہ خودکہیں گے کہ ایک باطنی پیر تھا ، وہ نماز نہ پڑھتا تھا تو ہم بھی اس کی پیروی میں نماز نہیں پڑھتے تھے،اور اب تم دیکھتے ہو کہ ہم جہنم میں ہیں:
ﵟ مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلۡيَقِينُﵞ
(سورت مدثر،آیات:43تا 47)
’’ہم ……نماز نہیں پڑھتے تھے، ……اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایاکرتے تھے،……اور فضول
بحثوں میں داخل ہوتے تھے،…… اور یومِ قیامت کے منکرتھے ، یہاں تک کہ ہمیں وہ یقینی واقع ہونے والی چیز یعنی موت آگئی۔‘‘
اُمِ العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
عثمان بن مظعون بیمار ہوئے، اور اسی میں وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں نے کہا ابو سائب آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو، میری آپ کے متعلق گواہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عزت فرمائی ہے ۔ اس پر نبی کریمﷺنے فرمایا:کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت افزائی فرمائی ہے؟میں نے کہا یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو، پھر اللہ تعالیٰ کس کی عزت افزائی فرمائے گا؟آپﷺ نے فرمیایا کہ اس میں شک نہیں ،اَمَّا ھُوَ فَقَدْ جَائَہُ الْیَقِینُ جہاں تک اس کی بات ہے تو اس کو یقین یعنی موت آچکی۔قسم اللہ کی میں بھی اس کے لئے خیر ہی کی امید رکھتاہوں لیکن واللہ مجھے اپنے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا گا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اُم العلاء نے کہا کہ اللہ کی قسم! اب میں کبھی کسی کے متعلق ( اس طرح کی) گواہی نہیں دوں گی۔‘‘(بخاری، کتاب الجنائز، حدیث رقم:1243)
یہ ہے اسلام میں عبادات کا مقام ،عبادات کا منکر یا غیر ضروری سمجھنے والاقطعاً کافر ہے۔ اور جو بوجہ
سستی یا غفلت کے عبادات کو بجانہیں لاتا تو وہ سخت گناہ گار اور فاسق ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود اگر کوئی بزعمِ خود اپنے آپ کو عبادت سے آزاد اور تکلیفِ شرعی کا پابند نہ سمجھے تو بالکل آزاد ہے اس معنی میں کہ اسلام کے دائرے سے آزاد ہے، کافر ہے۔
عرشِ عظیم کے رب کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ قرآن کی اس آیت کا یہی باطنی معنی میں نے براہِ راست کئی کئی مرتبہ اُن کے ہمارے علاقے والے پیر اور اس کے سینئر مرید سے سناہے، اس لئے قرآن کی تھڑیف کی وجہ سے ایسے سارے لوگ اسلام سے خارج و کافر ہیں۔
علامہ شامی حنفی متوفی1270 ہجری ، امام غزالی متوفی505ہجری کی کتاب(التفرقہ بین الاسلام والزندقہ) سے اس بارے میں نقل کرتے ہیں:
’’ازین قسم بعض بعض مدعیانِ تصوف کایہ دعوی باطل ہے کہ وہ عنداللہ ایسی حالت کو پہنچ گیاہے کہ اس سے نماز ساقط(ختم) ہوگئی اور اسے شراب نوشی اور سلطان کا مال کھانا وغیرہ گناہ حلال ہوگئے ، یہ ایسی صورت ہے کہ میں اس کے قائل کے واجب القتل ہونے میں شک نہیں کرتا جبکہ اس کا دینی نقصان عظیم ہے۔‘‘ (شامی ،کتاب الجہاد ،باب المرتدین)
اس لئے ان کافر صوفیاء کی مذکورہ بالا من مانی تاویلات اس مختصر جملے پر تمام ہوئے کہ شریعتِ محمدی (علی صاحبہا الف سلام) اور چیز ہے اور طریقت اور چیز ہے۔ اور یہ کہ طریقت، شریعت کی پابندیوں سے آزاد ہے۔ طریقت اور حلال و حرام کے احکامات سے آزاد ہے۔ طریقت، قرآن و سنت کے اَوامر و نواہی سے آزاد ہے، اور یہی وہ کفر ہے جو نمرود، فرعون، ابوجہل، ابولہب، قومِ نوح، قومِ لوط اور وقتِ آدم علیہم السلام سے لے کر قیامت تک ہر کفر سے بڑھ کر گندی اور غلیظ کفر ہے۔ اور ایسا عقیدہ رکھنے والا ابوجہل،نمرودہامان، شداد، فرعون اور ابولہب سے بڑھ کر کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔