کشف المحجوب اور تفسیر طبری میں سید المرسلین ﷺ پر ایک بہتان۔۔۔ تحریر و تحقیق اکبر علی خان

سیدالمرسلین ﷺ پر ایک افتراء

جھوٹ بنانے والوں نے جہاں بہت جھوٹ بولاہے وہاں ان کی جھوٹ سے معصوم انبیاء  علیہم السلام بھی نہ بچ سکے،اور جہاں جہاں،جتناجتنا ان سے ہوسکا انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی عصمت کو داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اور یہ بات چونکہ مشہور اور معتبر تفاسیر میں ہیں اس لئے ہمارے سُنی حضرات بھی ”سُن سُن“ کر ماننے کے مرض میں مبتلاہونے کی وجہ سے نبی کی عصمت پر داغ برداشت کر سکتے ہیں مگر کسی مفسر یا محدث سے خطا ہونے کو ممکن نہیں مانتے اور نہ ہی کسی روایت کے راوی کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔اسی گندہ مرض کانام روایت پرستی ہے۔

قارئین یہ بات ذہن نشین کیجئے کہ اس واقعے کے متعلق جو روایات نقل کئے گئے ہیں اگر ان کو درست تسلیم کرکے اس واقعے کو درست تسلیم کیاجائے تو ایمان کا خطرے میں پڑنا یقینی ہے۔ اس لئے بہت سے محقق مفسرین نے ان روایات کو ذکر کرنا بھی پسند نہ کیا اور مختصر الفاظ میں یہ کہا کہ ان کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں۔جیسے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ۔

زینب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی بے جوڑ شادی کی وجوہات

حضرت زینب حضور ﷺکی پھوپھی زاد اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تھیں جبکہ زید نبی کریم ﷺ کے منہ بولے بیٹے اور آپﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔اس لئے حضرت زینب اور اس کے بھائی رضی اللہ عنہما کی مرضی حضرت زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کرنے کی نہ تھی۔لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ کو یہ دنیاوی امتیازات نکاح کے راستے میں رکاوٹ بننا پسند نہ تھے،اس لئے آپﷺ نے حضرت زینب اور اس کے بھائی پر زور دیا کہ اس نکاح کو قبول کرلیں،پھر اس کے بارے میں یہ آیت بھی اُتری:

وَمَاکَانَ لِمُؤمِنِ وَّلاَ مُؤمِنَۃٍ اذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسَولَہ‘ اَمرًا اَن یَکُونَ لَہُمُ الخِیَرَۃُ مِن اَمرِہِم

”کسی مؤمن مرد یا عورت کو،جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا فیصلہ فرمادے،اپنے کسی کام کا اختیار نہیں رہتا۔‘‘ (سورت احزاب،آیت:36)

اس آیت کے بعد ان دونوں نے اپنی مرضی کو اللہ اور رسولﷺ کی مرضی پر قربان کر دیا،اور زینب کا نکاح حضرت زید سے ہوگیا۔زینب کی نگاہ میں حضرت زید حقیر لگتے، مزاج کی موافقت نہیں ہوئی،جب آپس میں لڑائی ہوتی تو حضرت زید حضور  ﷺ سے ان کی شکایت کرتے اور کہتے کہ میں ان کو چھوڑتاہوں،حضور  ﷺمنع فرماتے اور کہتے کہ ایسا نہ کر۔اللہ سے ڈرتے رہو،اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنی اہمیت نہ دو۔

جب معاملہ کسی طرح نہ سلجھا،اور باربار جھگڑے اور قضیے پیش آتے رہے تو ہوسکتاہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ سوچاہو کہ اگر زید اس کو طلاق دے گا تو زینب کی دلجوئی اس کے سوا کسی اور بات میں نہ ہوگی کہ میں خود اس سے نکاح کروں،مگر منافقین کی بدگوئی سے اندیشہ تھا کہ وہ کہیں گے کہ دیکھو اپنے بیٹے کی بیوی کو گھر میں رکھ لی۔

اور یہ تو پہلے سے معلوم ہے کہ اللہ کے نزدیک منہ بولے بیٹے کو کسی بات میں بھی بیٹے کا حکم نہیں،ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظورتھاکہ اس جاہلانہ رواج کو اپنے نبیﷺ کے ذریعے ختم کردے تاکہ منہ بولے بیٹے(1) کے معاملے میں لوگ خودساختہ تنگی سے نکل جائیں۔ اور یہی اس نکاح کی سب سے بڑی اور پوشیدہ حکمت تھی،جو نبی کریم ﷺ کو پہلے سے وحی الٰہی کے ذریعے بتادی گئی تھی۔

حضرت زید اور حضرت زینب کا نکاح،اگر چہ حضرت زینب کی مرضی کے خلاف ہواتھا مگر نبی کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کی شادی ایک غلام سے کرکے قبیلے اور نسب پر جاہلانہ فخروغرور اور امتیازکا خاتمہ کردیا۔ اب آئیے اس تما م قصے کے بعد وہ تفسیری روایات بھی دیکھتے ہیں:

مفسرطبری نے اپنی تفسیر طبری اور تاریخِ طبری میں یہ روایت نقل کی ہے کہ:

’’ایک دفعہ نبی کریم ﷺ حضرت زید سے ملنے ان کے گھر گئے،زید موجود نہ تھے۔ حضرت زینب اس وقت کپڑے تبدیل کر رہی تھیں،اسی حال میں نبی کریم ﷺ کی نظر اس پر گئی،نبی کریم ﷺ کے دل میں اس کی صورت کھپ گئی(یعنی وہ آپﷺ کو پسند آگئی،العیاذ باللہ من ذلک)،جس کی وجہ سے وہ زید کے دل سے اُتر گئیں۔اس کے بعد زید نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ: منہ بولا یا لے پالک بیٹایا بیٹی نہ وراثت کا حقدار ہے، اور نہ ہی اس سے دوسرے محرم رشتہ داروں کی طرح پردہ نہ کرنا جائز ہے،بلکہ جو عورت منہ بولے باپ، بیٹے یا بھائی سے پردہ نہ کرے گی،وہ سخت گناہ گار اور حکمِ الٰہی کو توڑنے والی ٹھہرے گی،اسی طرح جو مرد منہ بولے ماں، بیٹی یا بہن سے پردہ نہیں کرے گا وہ بھی سخت گناہ گار اور حکمِ الٰہی کا توڑنے والاٹھرے گا۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی دوسرا شرعی رکاوٹ نہ ہو تو منہ بولے باپ،بیٹے، بیٹی اور بہن سے نکاح جائز ہے،خواہ ایک کروڑ بار کسی کوباپ، بھائی،بہن،بیٹا یابیٹی کہاہو۔قارئین اگر کبیدہ خاطر نہ ہو تو یہ سب:   ”کچھ کرنے“  کے آسان ٹوٹکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قانونِ الٰہی پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زینب آپ کو پسند آگئی ہو تو میں انہیں طلاق دے دوں۔“(تفسیر طبری،سورت احزاب،آیت:37،،،،، تارخ طبری)

اس واقعے کی سندی حیثیت ذکرکرنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کیجئے کہ ان روایات میں جو یہ بات کہی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نظر حضرت زینب پر پڑ گئی اور اس کی صورت آپ کے دل میں گھر کر گئی،اور آپﷺ زینب کے گھر سے (سبحان اللہ العظیم، سبحان مقلب القلوب) کہتے ہوئے لوٹ آئے۔“

ذرا ان روایات گھڑنے والے خبیث رایوں کے ذہن کو دیکھئے کہ کس طرح نبی کریم ﷺ کی عصمت اور پاکدامنی کو داغدار کرناچاہتاہے۔

قارئین اس حقیقت کو ذہن میں رکھئے کہ حضرت زینب آپﷺ کی پھوپھی زاد تھی۔خاندان ایک، گھرانہ ایک۔حضور  ﷺ کا اپنے پھوپھی کے گھر آمد ورفت رہتاتھا،ویسے بھی پردہ کا حکم اس وقت نازل نہیں ہواتھا،اس لئے بچپن سے لے کر بلوغت تک زینب آپﷺ کی آنکھوں کے سامنے پلیں بڑھیں،حضرت زینب کی بچپن اور اس کے بعد کا زمانہ آپﷺ کی آنکھوں کے سامنے گزراتھا،وہ ہمیشہ آپ ﷺ کی نظروں کے سامنے رہتی تھی اس کے باوجود آپﷺ نے اس کی شادی حضرت زید سے کردی۔اگر آپﷺشروع ہی سے اس سے نکاح کا اظہار کرتے تو ان لوگوں کی خوشی کی انتہانہ ہوتی بلکہ وہ تو اللہ کا شکر اداکرکے اس شادی کو منظور کر لیتے مگر حضور  ﷺ نے اس کا نکاح اس کے باوجود حضرت زید سے کردیا، اسلئے اس خبیث راوی کی یہ بات کہ:

٭حضرت زینب کپڑے تبدیل کر رہی تھی اور آپﷺ کی نظر اس پر پڑ گئی،اور آپﷺ کے دل میں اس کی صورت جگہ کرگئی،،،

٭اور آپﷺ(سبحان اللہ العظیم، سبحان مقلب القلوب) کہتے ہوئے لوٹ آئے،،،

نبی کریم ﷺ کی عصمت کو داغدار کرنے کے سوا کسی اور مقصد کیلئے نہیں، اللہ ان روایات کے گھڑنے والوں پر کروڑبار لعنت بھیجے،آمین۔

دِرایت کی رُو سے اس من گھڑت قصے کی خامیاں

قارئین! یہ بات تو جانتے ہی ہے کہ:

٭ جب کوئی کسی کے گھر جاتاہے تو تین بار اجازت مانگتاہے،یہ ہمیں ہمارے پیارے اور شفیق نبی علیہ السلام نے سکھایاہے،اگر اجازت مل جاتی ہے، تو ٹھیک ورنہ گھر داخل نہیں ہونا۔

٭دوسری بات یہ ہر باحیاء خاتون کپڑے اندر کمرے میں تبدیل کرتی ہے،باہر صحن میں نہیں۔

٭تیسری بات یہ جب کوئی قریبی رشتہ دار بھی کسی کے گھر جاتاہے تو لپک اندر کمرے میں گھستا نہیں بلکہ باہر سے کہتاہے کہ:  ”بھئی کوئی ہے گھر پر۔“

٭چوتھی بات یہ کپڑے تبدیل کرتے وقت اپنی بیوی بھی شوہر کو کہہ دیتی ہے کہ:

”صبر کیجئے آتی ہوں۔“

یہ نہیں کہتی کہ:    ”اندر آجا۔“

٭اور جب کمرے میں کپڑے تبدیل کرتی ہو، اور کوئی کہے کہ میں آجاؤ تو ایسے میں کوئی بازاری عورت کسی کو اندر آنے کی اجازت دے سکتی ہے،وہ عظیم خاتون نہیں جسے نبی کریم ﷺ کی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہو، جو نبی کریم ﷺکے معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہو، اور جو بالآخر نبی کریم ﷺ کی بیوی بننے والی ہو۔

اس من گھڑت قصے کی سندی حیثیت

ابن جریر طبری نے یہ قصہ تفسیرطبری میں ابن زید کی سندسے اور تاریخِ طبری میں مشہورِ زمانہ دروغ گو واقدی کی سند سے نقل کی ہے۔ان دونوں کا حال ملاحظہ کیجئے:

ابن زید سے مراد عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے یہ امام مالک کے ہم عصر ہے،اس سے اُپر کے راوی غائب ہیں۔اس طرح یہ روایت منقطع ہوئی،اور منقطع روایت قابلِ حجت نہیں ہوتی۔

عبدالرحمن بن زید بن اسلم:یہ مدنی کہلاتاہے۔ترمذی اور ابن ماجہ میں اس کی روایات پائی جاتی ہیں۔یہ تین بھائی ہیں:عبدالرحمن،عبداللہ اور اُسامہ۔

قاضی ابویعلیٰ موصلی کابیان ہے کہ میں نے امامِ رجال یحییٰ بن معین کو یہ فرماتے سناکہ زید بن اسلم کے تینوں بیٹے کچھ نہیں ہیں۔عثمان دارمی نے یحییٰ کا یہ قول نقل کیاہے کہ عبدالرحمن ضعیف ہے۔امام بخاری کابیان ہے کہ علی بن المدینی نے اس عبدالرحمن کو سخت ضعیف قرار دیاہے۔

 امام احمد فرماتے ہیں کہ ان تینوں میں عبداللہ قابلِ اعتبار ہے، باقی دونوں ضعیف ہیں۔

ربیع بن سلیمان کاکہناہے کہ میں نے امام شافعی کو یہ فرماتے سناہے کہ میں نے اپنے کانوں سے سناکہ ایک شخص نے اس عبدالرحمن سے سوال کیا کہ کیاتم نے اپنے والد سے یہ روایت بھی سنی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی نے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی؟یہ صاحب کہنے لگا کہ ہاں۔

محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کا کہناہے کہ امام شافعی کا یہ بھی بیان ہے کہ امام مالک کے سامنے ایک روایت پیش کی گئی،امام مالک نے پوچھا کہ یہ روایت کس نے بیان کیا،اس نے جواب دیا کہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے۔امام مالک نے فرمایا: وہ تو اپنے باپ کے واسطے سے حضرت نوح علیہ السلام سے بھی روایت نقل کردے گا (مطلب یہ کہ جھوٹ بولنا اس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے)۔“(میزان الاعتدال، ترجمہ عبدلارحمن بن زید بن اسلم)

اس طرح یہ روایت اس عبدالرحمن بن زید کا جھوٹ کا جھوٹ ہے۔

امام حاکم نیشاپوری اس ابن زید کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

”عبدالرحمن بن زید اپنے باپ کے نام سے موضوع روایات نقل کرتاہے۔“(المدخل الیٰ معرفۃ الصحیح من السقیم)ا

امام ابوجعفر طحاوی حنفی متوفی321؁ ہجری کہتے ہیں کہ یہ عبدالرحمن محدثین کے نزدیک انتہائی ضعیف ہے۔ابن حبان کہتاہے کہ یہ احادیث میں تبدیلیاں کرتاہے۔قولِ تابعی کو قولِ رسول ﷺ  بنا کر پیش کرتاہے۔حافظ ابو نعیم نے بھی امام حاکم کا اُوپر مذکورہ قول نقل کیا ہے۔ (السلسلۃ الاحادیث الضعیفہ،ج:1،ص:38)

طبری کی تاریخ والی روایت

طبری کی تاریخ والی روایت میں مشہورِ زمانہ دروغ گو واقدی ہے۔ حیلہ اسقاط والی روایت میں اس پر جرح گز چکی ہے،مگر قارئین کووہاں دوبارہ دیکھنے کی تکلیف دینے کی بجائے یہاں اس کو دوبارہ مختصراًً نقل کرتے ہیں:

محمد بن عمرالواقدی متوفی207؁ ہجری :

تاریخ طبری والی سند میں مشہور زمانہ دروغ گو اور کذاب محمد بن عمر واقدی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ آگ دراصل اُسی کی لگائی ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں اما م بخاری،عبد اللہ ابن مبارک ، ابن نمیراور اسماعیل بن زکریا اور ابو نعیم اصفہانی رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ یہ متروک الحدیث ہے۔‘‘ (کتاب الضعفاء للاصفہانی ، ،، ، ، الضعفاء الصغیر للبخاری)

یحییٰ بن معین رحمہ اللہمتوفی 233 ؁ہجری کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں ۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہمتوفی1 24؁ ہجری  لکھتے ہیں کہ:’’ یہ سخت جھوٹا ہے۔

اسحاق ابن راہوَیہ متوفی238؁ ہجری اورابو حاتم رحمہ اللہ متوفی 327 ؁ہجری لکھتے ہیں کہ:’’یہ جعلی حدیثیں گھڑا کرتا تھا یعنی واضع الحدیث تھا ۔‘‘(المجروحین لابن ابی حاتم)

امام نسائی رحمہ اللہ متوفی 303؁ہجری کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ پر جو چار لوگ جھوٹی حدیثیں بنایا کرتے تھے ان میں واقدی مدینہ ، خراسان میں مقاتل، سعید المصلوب شام میں اور ایک اور ۔ ( تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی ،ترجمہ واقدی)

امام ابو دائود کہتاہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ علی بن مدینی کہاکرتے تھے کہ یہ واقدی تیس ہزار غریب احادیث روایت کرتاہے۔(اس کے سواکوئی اور ان کو روایت نہیں کرتا)

اسحاق بن الطباع کا کہناہے کہ میں نے واقدی کو مکہ جاتے ہوئے دیکھاتھا۔ یہ تو نماز بھی بری طرح پڑھتا تھا ۔‘‘(میزان الاعتدال،ترجمہ محمد بن عمر الواقدی،ترجمہ نمبر:7993)

امام شافعی رحمہ اللہمتوفی 204 ؁ ہجری لکھتے ہیں کہ:’’واقدی کی کتاب ساری کی ساری جھوٹ ہے۔‘‘

انتہائی مجروح اور ناقابلِ اعتبار راوی ہے جس روایت میں یہ ذاتِ شریف آئے اس روایت کے جھوٹے اور من گھڑت ہونے کیلئے صرف یہ صاحب بھی کافی ہے۔ اس کو متروک،کذاب اور جھوٹی احادیث گھڑنے والاکہاگیاہے۔(دیکھئے:  کتاب الضعفاء للاصفہانی۔۔۔الضعفاء الصغیر للبخاری۔۔۔المجروحین لابن ابی حاتم۔۔۔تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی،ترجمہ واقدی۔۔۔میزان الاعتدال،ترجمہ محمد بن عمر الواقدی،ترجمہ نمبر: 7993)

 حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور آپﷺ کی نکاح کا پورا قصہ

ایسے کمزور اور دروغ گو راویوں کی روایات پر اعتبار کرکے نبی کریمﷺ کی ذات پر ایسا ناپاک حملہ صحیح ماننا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔اب آئیے پورا قصہ پڑھئے:

زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے،آپﷺ اس کو بہت عزیز رکھتے تھے۔حتی کہ لوگ اس کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے مگر جب یہ آیت اُتری: اُدعُوھُم لِآبَاءِ ھِم ھُوَ اَقسَطُ عِندَاللّٰہ

”ان کوان کے باپوں کے ناموں سے پکارو،یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔‘‘

اس کے بعد لوگ اسے زید بن محمد کہنا چھوڑ گئے۔آپﷺ نے اس کا نکاح اپنی پھوپی زاد بہن زینب بنت جحش سے کرایاتھا، چونکہ زید ایک غلام تھے اور زینب ایک اُونچی خاندان کی لڑکی تھی، مگر نبی کریم ﷺ کے حکم کے سامنے حضرت زینب نے سرِ تسلیم خم کیا،اور اس کے ساتھ نکاح کرنا قبول کیا۔مگر ان کا گھر نہ بنا اور بالآخر حضرت زید نے اسے طلاق دے دی۔ چونکہ عرب اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح عیب جانتے تھے،اور اللہ کو اس طرح منظور نہیں تھا بلکہ یہ ان حرام کردہ رشتوں میں تو نہیں تھا جن سے نکاح کرنا اللہ کی طرف سے حرام قرار پا گیا تھا اس لئے اس کام کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت زید سے طلاق کے بعد زینب کا نکاح نبی کریم ﷺ کے ساتھ کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں پر اس معاملہ میں کوئی حرج نہ ہو،اور وہ اس کو معیوب سمجھنا چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

(وَاِذ تَقُولُ لِلَّذِی اَنعَمَ اللّٰہُ  عَلَیہِ وَ اَنعَمتَ عَلَیہِ اَمسِک عَلَیکَ زَوجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ  وَ تُخفِی فِی نَفسِکَ مَا اللّٰہُ مُبدِیہِ وَ تَخشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن تَخشَاہُ فَلَمَّا قَضٰی زَید‘ُ مِنھَا وَطَرًازَوَّجنَاکَھَا لِکَی  لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِےَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًاوَ کَانَ اَمرُاللّٰہِ مَفعُولًا))

جب کہ تو اُس شخص سے کہہ رہاتھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیااور تو نے بھی،کہ تو اپنی بیوی کو آباد رکھ اور اللہ سے ڈر، اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا،اور تو لوگوں سے خوف کھاتاتھا اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو اس سے ڈرے۔پس جب کہ زید نے اُس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے،جب کہ وہ (منہ بولے بیٹے) اپنا جی ان سے بھر لیں۔اور اللہ کایہ حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا۔ (سورت احزاب،آیت:37) “

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 774 ہجری لکھتے ہیں کہ:

”مفسر ابن ابی حاتم متوفی277 ہجری اور مفسر و مؤرخ ابن جریر طبری  310 ہجری نے اس مقام پر بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنابھی ہم نامناسب سمجھ کر ترک کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔مسند احمد میں ایک روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے، اس لئے ہم نے اس کا بھی ذکر نہیں کیا۔صحیح بخاری میں ہے کہ یہ آیت حضرت زینب بنت جحش اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کے بارے میں اُتری ہے۔

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے نبی کریم ﷺ کو خبر دے دی تھی کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کے نکاح میں آئیں گی۔

یہی بات تھی جسے آپﷺ نے ظاہر نہیں کیا اور زید کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں اور اپنا گھر نہ توڑیں۔“(تفسیر ابن کثیر،سورت احزاب،آیت:37)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔(تفسیر طبری،سورت احزاب، آیت:37)

(وَ تُخفِی فِی نَفسِکَ مَا اللّٰہُ مُبدِیہِ وَ تَخشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن تَخشَاہُ) (سورت احزاب،آیت:37)

”اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا،اور تو لوگوں سے خوف کھاتاتھا اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو اس سے ڈرے۔“

اور صحیح بخاری کی روایت میں صرف اتنا ہے،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ کے بارے میں اُتری ہے۔“(بخاری،کتاب التفسیر)

آیت میں ان الفاظ سے:

”یعنی تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا“

بہت سارے حضرات کو مغالطہ ہوا اور پھر قصہ گو اور اسلام دشمن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی شخصیت کو داغدار کرنے کیلئے قصے کہانیاں گھڑ کر آپﷺ کی ذات پرحملہ کرنے کیلئے مستشرقین کو اُنگلی اُٹھانے کی راہ ہموار کردی۔

علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی کا بخاری کی روایت پر تبصرے کا خلاصہ

جبکہ بات بہت سیدھی تھی اور وہ یہ کہ لوگ کہنا شروع کریں گے کہ محمد ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کی، اور جو بات آپ ﷺ چھپاناچاہتے تھے وہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پہلے سے خبر دی تھی کہ ان دوں کی نہیں بنے گے،اورحضرت زینب آخر میں آپﷺ کی زوجیت میں آئے گی۔اتنی سی بات پر اکتفا کیاگیاہے۔حافظ ابن حجر نے حضرت قتاہ والی روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھاہے کہ اس سلسلہ میں دوسرے آثار بھی منقول ہیں جنہیں ابن ابی حاتم اور طبری نے نقل کیاہے اور دوسرے مفسرین نے بھی نقل کیاہے لیکن وہ تمام روایات اس لائق نہیں کہ ان کا ذکر بھی زبان پر لایاجائے۔(فتح الباری،شرح صحیح بخاری))

 وہ کیا تھا جو آپﷺ چھپاناچاہتے تھے اور اللہ اسے ظاہر کرناچا ہتا تھا

جو بات نبی کریم ﷺ چھپارہے تھے، اور اللہ نے فرمایا کہ اللہ وہ بات لوگوں پر ظاہر کر دے گا آخر وہ کونسی بات تھی؟ تو قارئین وہ بات یہ تھی جو اس آیت میں ہے کہ:

(فَلَمَّا قَضٰی زَید‘ُ مِنھَا وَطَرًازَوَّجنَاکَھَا)(سورت احزاب،آیت:37)

’’پس جب کہ زید نے اُس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔‘‘

اور یہ کس واسطے ہونے والا تھا؟

اس کی وضاحت بھی اللہ تعالیٰ نے فرمادی:

(لِکَی  لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِےَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًا)(سورت احزاب،آیت:37)

تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے، جب کہ وہ (منہ بولے بیٹے)اپنا جی ان سے بھر لیں۔‘‘

اور چونکہ اللہ کے علمِ ازلی میں یہ بات تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبیﷺ کو بذریعہ وحی بتایاتھا کہ زید اس بیوی کو طلاق دے گا اور پھر آپﷺ سے اس کی شادی ہوگی،اس لئے آیت کے آخر میں فرمایا:

 (وَ کَانَ اَمرُاللّٰہِ مَفعُولًا)(سورت احزاب،آیت:37)

”اور اللہ کایہ حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا۔“

مگر اسلام دشمن راویان نے کچھ کا کچھ بنادیا،یہاں تک کہ غیر محتاط مفسرین نے ایسے ایسے روایات اپنی تفسیروں میں درج کئے جنہیں پڑھ کر انبیاء علیہم السلام کی عصمت پر پختہ یقین رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

یہ بات غلط مشہورہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے نبی ﷺ کی نکاح میں دے دیا اس لئے ولی کی،مہر کی،گواہوں کی اور ایجاب وقبول کی ضرورت نہیں۔یہ مغالطہ بعض حضرات کو آیت کے ان الفاظ سے ہواہے:

 (فَلَمَّا قَضٰی زَید‘ُ مِنھَا وَطَرًازَوَّجنَاکَھَا)(سورت احزاب،آیت:37)

”پس جب کہ زید نے اُس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔“

چونکہ حضرت زینب ایک مطلقہ عورت تھیں اس لئے امام ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق اس کی نکاح کیلئے ولی کی ضرورت نہیں تھی۔

اس کا یہ مطلب لینا غلط ہے کہ اس کی نکاح آپﷺ کے ساتھ اللہ نے کیا اس لئے مہر، ولی وغیرہ کی ضرورت نہیں رہی۔

 اس لئے کہ بقول ابن ہشام حضرت زینب کا نکاح اس کے بھائی ابو احمد بن جحش نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیا اور آپﷺ نے چارسودرہم مہر ادافرمایا۔اگر اس روایت کی سند میں کوئی اشکال بھی ہو تو پھر بھی یہ قرآن مقدس کی واضح آیات اور اُصولِ شرعیہ کے عین مطابق ہے۔اور جن روایات میں مہر ادا نہ کرنے کا ذکر ہے،وہ خلافِ قرآن ہونے کی وجہ سے قطعاً ناقابلِ قبول ہیں۔

’’قرآن کے ان الفاظ (زَوَّجنَاکَھَا) ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔‘‘ کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نکاح زمین پر نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زید سے طلاق پانے اور عدت پوری ہونے کے بعد اس کی نکاح کا فیصلہ ہم نے آپﷺ سے کردیا۔“

اس کا آسان مطلب یہی ہے۔ اور یہ مطلب بھی کہ جو رکاوٹ تھی کہ عرب اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح معیوب سمجھتے تھے، اس رکاوٹ کو اپنے حکم کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور کر دیا۔اور آیت میں ہماری اس بات کی تائید بھی ان الفاظ میں موجود ہے:

(لِکَی  لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِیَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًا)(سورت احزاب،آیت:37)

’’تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے،جب کہ وہ(منہ بولے بیٹے) اپنا جی ان سے بھر لیں۔‘‘

اور جب نکاح ابواحمد بن جحش کی موجودگی میں ہواتو  ابو احمد بن جحش اس نکا ح کا گواہ بھی ہوا،اس لئے یہ کہنا کہ نکاح بغیر گواہوں کے ہوا ہے یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ایک اور ثبوت ہماری اس بات کی یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ پر آیت نازل ہوئی، اور آپﷺ کو اس نکاح کی اجازت مل گئی تو آپﷺ نے یہ آیت سب سے پہلے کاتبینِ وحی سے لکھواکر لوگوں کو ضرور سنایا ہوگا ،جو اس نکاح پر گواہ بن گئے۔

قرآن کے اس لفظ(زَوَّجنَاکَھَا) ’’ہم نے اُسے تیرے نکاح میں دے دی۔‘‘

کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نکاح زمین پر نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زید سے طلاق پانے اور عدت پوری ہونے کے بعد اس کی نکاح کا فیصلہ ہم نے آپﷺ سے کردیا۔“ اس کا آسان مطلب یہی ہے۔ اور یہ مطلب بھی کہ جو رکاوٹ تھی کہ عرب اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح معیوب سمجھتے تھے، اس رکاوٹ کو اپنے حکم کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور کر دیا۔اور آیت میں ہماری اس بات کی تائید بھی ان الفاظ میں موجود ہے:

(لِکَی  لَایَکُونَ عَلَی المُومِنِینَ حَرَج‘ُ فِی اَزوَاجِ اَدعِےَاءِھِم اِذَا قَضَوا مِنھُنَّ وَطَرًا)(سورت احزاب،آیت:37)

’’تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے،جب کہ وہ(منہ بولے بیٹے) اپنا جی ان سے بھر لیں۔‘‘

اور جب نکاح ابواحمد بن جحش کی موجودگی میں ہواتو  ابواحمد بن جحش اس نکا ح کا گواہ بھی ہوا،اس لئے یہ کہنا کہ نکاح بغیر گواہوں کے ہوا ہے یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ایک اور ثبوت ہماری اس بات کی یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ پر آیت نازل ہوئی اور آپﷺ کو اس نکاح کی اجازت مل گئی تو آپﷺ نے یہ آیت سب سے پہلے کاتبینِ وحی سے لکھواکر لوگوں کو ضرور سنایا ہوگا،جو اس نکاح پر گواہ بن گئے۔اور یہ آپﷺ کی عادت تھی کہ جو آیت اُترتی آپﷺ اسے لوگوں کے سامنے تلاوت فرماتے۔اس لئے روایات میں جو مشہور ہے کہ آپﷺ بغیر اطلاع اس کے گھر چلے گئے تھے وہ بھی غلط ہے اس لئے کہ:

 جب آیت نازل ہوئی،اسے لوگوں کو سنایاگیا، کاتبین سے لکھوایاگیا، ابواحمدبن جحش نے نکاح کیا،تو اس تمام مرحلے کے بعد حضرت زینب آپ ﷺ  کی بیوی بن چکی تھی، اس لئے آپﷺ کا اس کے گھر جانے کیلئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت تو نہیں رہی تھی۔

کون ہے جو اپنے بیوی کے ہاں جانے سے پہلے لوگوں سے اجازت مانگتاہے؟سوچوبھئی!!!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top