فرضی اور جعلی سادات اور بزرگانِ تصوف کے جعلی شجرہ ہائے نسب کا آپریشن
فراڈی پیرانِ طریقت، جاہل صوفیاء اور جعلی شجرے بنانے والوں نے اپنے نسب کو خلیفۂ اول امیرالمؤمنین سیدنا ابو بکر صدیق، خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین سیدناعمر فاروق اور خلیفہ ثالث امیر المؤمنین سیدنا علی رضون اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب کرکے جعلی صدیقیت، جعلی فاروقیت اور جعلی حسنی حسینی سادات ہونے کے من گھڑت شجرے بنائے ہیں۔ اور اس لعنتی اور قبیح فعل کا محرک شروع ہی سے دنیا دولت اور جاگیروں کا ناجائز حصول، جعلی اور من گھڑت بزرگی اور معاشرے ،یں تعظیم و تکریم کا حصول رہاہے۔
شروع ہی سے لوگ ان مقاصد کے لیے خود کو جعلی سیِّد ظاہر کرتے رہے ہیں:
۱۔ مسلم معاشروں میں سادات کو ملنے والے عزت و احترام نے بہت سارے قسمت آزما اور معاش سے تنگ محتاجی اور مفلسی کی زندگی گزارنے والے لوگوں نے جعلی سید بننے کے دعوے کرنے پر مجبور کئے۔
۲۔ پیری مریدی اور جھاڑ پھونک کے نام پر صدقات، نذرانے اور شکرانے سمیٹنے کے ساتھ ساتھ دیگر مفادات کے حصول کے لئے ، کمی کمہار، میراثی، پشتون، چوہدری وغیرہ جھوٹےسیِّد بن گئے، اوران مقاصد کے حصول کے لئے اور اصلیت ظاہر ہونے کی ڈر سے اپنا علاقہ چھوڑ کر کہیں اور آباد ہوئے اور وہاں کسی معروف سید خاندان سے خود کو منسوب کرنے لگے۔。
۳۔ اکثر لوگ اچھے رشتوں کے حصول اور اُونچے اور معزز خاندانوں کے ساتھ رشہ داریاں کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں، اور سید وغیرہ بنتے ہیں۔
اگرچہ نمبر 3 کے سلسلے میں پٹھانوں کی اکثریت کے درمیان منافقانہ طرزِ عمل رائج ہے۔ پٹھانوں کی اکثریت برائے نام تو سادات اور علماء کی بڑی عزت و تکریم کرتے ہیں مگر جب انہی سادات اور علماء کے طرف سے ان لوگوں سے رشتے مانگے جائیں تو بسا اوقات ان پٹھانوں کے منہ سے بڑے ہلکے اور حقارت پر مبنی الٖفاظ سنے جاتے ہیں، جیسے وظیفہ خور وغیرہ۔
موجودہ دور میں سادات سازی
موجودہ دور میں بھی سادات سازی کا قبیح اور لعنتی سلسلہ بدستور جاری ہے۔جعلی سیِّد اپنے پیر کے کہنے پر نام کے ساتھ پہلے ’’شاہ‘‘ کا لاحقہ لگاتے ہیں، اور اس کے بعد اسی پیڑی میں یا دوسری پیڑی میں ’’سیِّد‘‘ کا سابقہ لگانا شروع ہوجاتا ہے۔ اور پھر جعلی ’’سید زادہ ‘‘بن کر معاشرے سے ’’سید‘‘ ہونے کے بہانے حرام جاگیر، حرام اور شرکیہ نذرانے وغیرہ وصول کرتے ہیں، اور اپنے بارے من گھڑت قصے کہانیاں مشہور کرواتے ہیں۔ اس کام کے لئے ہر معاشرے میں ڈرامہ باز اور مکار خواتین سے پیسوں کی عوض مشہوری کرائی جاتی ہے۔
میرے اپنے گاؤں کے کچھ پشتون گگیانی نسب سے تعلق رکھنے والے میرے رشتہ دار جعلی سیَّد بنے ہوئے ہیں۔اُن کا پیر بٹل بٹگرام کا ایک غیر سیِّد پشتون تھا، غربت کے ہاتھوں مجبور ہر کر پنجاب ہجرت کی، وہاں خود کو سید مشہور کیا اور 30 ایکڑ زمین کسی جاہل جاگیردار کی طرف سے ملی۔
اس فرقے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر مرید کو نام کے ساتھ ’’شاہ‘‘ لکھنے کا حکم دیتا ہے، اور اسی طرح اس کے مریدوں کے مرید بھی یہی کرتے آرہے ہیں۔
وہ نام کے ساتھ ’’خواجہ صوفی‘‘ کا سابقہ اور ’’شاہ‘‘ کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ اور ’’دین اور اصلاح‘‘ کے نام پر اس کے مریدوں کے لئے پنجاب اور سندھ کی سرزمین خاصی زرخیز ہے۔ میرے گاؤں کے ان جعلی ’’شاہ‘‘ پیر صاحبان کا اور میرا لکڑ دادا پانچویں ، چھٹے پشت پر ایک ہی ہے، اس لئے اگر میں سید نہیں تو وہ کیسے سید بن گئے؟
مگر حقیقت یہی ہے کہ آج اسلامی ممالک کا کوئی ضلع، تحصیل، بڑا، چھوٹا شہر بلکہ چھوٹے سے چھوٹے 50 گھرانوں کے دیہات میں بھی آپ کو سادات کا خاندان ملے گا، اور یہ اسی جعلی طریقے سے بننے والے سادات ہیں۔
واقعہ کربلا کے وقت حسن رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا حسن مثنّٰی اور حسین کا بیٹا علی زین العابدین( علی اصغر) زندہ بچ گئے تھے۔مگر دنیا میں سادات کی تعداد باقی نسبوں کی نسبت بہت زیادہ ہے، اسی جعلسازی کے سبب۔
پشتون کس طرح سیِّد بنتے ہیں ذرا مندرجہ ذیل لنک کاپی کرکے کھول کر دیکھیں:
آج نام کے ساتھ ’’شاہ‘‘ مگر سو پچاس سال بعد ان کی اولاد کے ہاتھ میں حسنی حسینی سید ہونے کے جعلی شجرے ہوں گے۔
اپنے گاؤں کے جعلی سادات کا قصہ ذکر کرنے کے بعد جب ہم بابا فرید کے شجرے کا آپریشن آپ کے سامنے رکھیں گے، تو قارئین پر اس جعلسازی کا راز فاش ہوجائے گا۔
خانقاہوں کی شکل میں پرائے زمینوںپر قبضے کرنے والا دنیا کا پہلا قبضہ مافیا
ہمارے صوبہ پختونخواہ کے ایک بریلوی خاندان کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے معاش کے ہاتھوں تنگ ہوکر اپنے علاقے سے ہجرت کی، اور دور کہیں پہاڑی علاقے (پرانے علاقہ غیر)میں آباد ہوئے، جب وہاں اثر رسوخ بڑھنے لگی، تو اپنے مریدوں کے دو گروہ تیار کئے اور اُن کی تربیت کی۔
ایک گروہ جاتا اور کسی قبیلے کو اُکساتا کہ فلاں پہاڑی سلسلہ تمہارے خاندانی ملکیت ہے اور اس پر قابض فلاں لوگ ہیں۔اسی طرح دو قبیلوں کے درمیان جھگڑا پیدا کیا جاتا اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال ہوجاتا۔
اس دوران اس کا تیار کردہ مریدوں کا دوسرا گروہ دونوں قبیلوں سے ملتا اور کہتا کہ پہاڑوں اور پر پتھروں پر ایک دوسرے کو مارنے سے بہتر ہے کہ اسے پیر صاحب کو سیرئ(ہبہ) کیا جائے تاکہ خونی جنگ ٹل جائے۔
اس طرح دونوں قبیلے تھوڑی سی پس و پیش کے بعد تیار ہوجاتے اور اس طرح مکاری، دغابازی اور شاطرانہ چال سے پیر صاحب نے اس علاقہ غیر کے بیشتر علاقے پر قبضہ کیا۔ ایسی شاطرانہ چالوں سے بھی کسی کی زمین ہتھیانا حرام اور قریب قریب غصب ہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ﵟوَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِﵞ
’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق اور ناجائز طریقوں سے ہتھیاؤ مت۔‘‘
ابن جوزی رحمہ اللہ متوفی 597 ہجری اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے کہ کسی کا مال ناحق اور ناجائز طریقوں سے کھانے اور ہتھیانے کے عموماً دو طریقے ہیں:
ﵟأحدهما: أن يأخذه بغير طيب نفس من مالكه، كالسرقة، والغصب، والخيانة.والثاني: أن يأخذه بطيب نفسه، كالقمار، والغناء، وثمن الخمرﵞ
’’ایک یہ کہ کسی کا مال اس کے مالک کے مرضی کے بغیر چوری، زبردستی غصب کرنے اور دھوکے (خیانت) سے ہتھیایا جائے۔
اور دوسرا طریقہ یہ کہ مال اس کے مالک کی مرضی سے جوے(قمار)، گانے بجانے، اور شراب کی قیمت کی شکل میں ہتھیایا جائے۔‘‘(تفسیر زادالمسیر)
لہذا اس آیت کی رُو سے جعلی صوفیاء اور پیرانِ باطل نے آستانوں اور خانقاہوں کے نام پر فقراء اور مساکین کو چرب زبانی سے پھنسا کر ان کو وقف پر مجبور کرنا
بھی خیات اور دھوکہ سے مال ہتھیانا ہی ہے جوکہ اس آیت کی رُو سے حرام ہے۔اور کئی کئی ایکڑ پر آباد خانقاہوں اور آستانوں کا وجود اسی دھوکہ دہی کی مرہونِ منت ہے۔
فرض کیجئے، ایک غریب ہاری ، کسان ہے، جس کے پاس دو ایکڑ زمین ہے، جس سے بمشکل اس کے بچوں کا پیٹ پلتا ہے، مگر پیر صاحب رات دن ایک کرکے وعظ و خطبات میں ترغیب دینا شروع کرے کہ جس نے مسجد بنایا، جس نے یہ کیا ، جس نے وہ کیا، جس نے کسی اللہ والےکو سر چھپانےکی جگہ دی ، اسے یہ یہ انعامات آخرت میں ملیں گے۔
اس کے بعد وہ غریب ہاری، کسان آئے اور پیر صاحب کو اپنا زمین ہبہ کرے تو پیر صاحب اگر مسلمان ہے، انسان کا بچہ ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، خیانت، دھوکے اور باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے اور ہتھیانے کے قرآنی احکامات سے واقف ہے تو اسے چاہئے کہ اس جاہل غریب کو کہے کہ بیٹا! تم تو خود محتاج اور مشکل سے بچوں کا پیٹ پالتے ہو، جاؤ ، تم کو اپنے بچوں کا خیال اور پرورش کرنا چاہئے اس زمین سے۔ اور پھر اس کو قرآن و سنت کی روشنی میں خیرات اورصدقات کے آسان احکامات اور طریقے سمجھائے، جیسے ہاتھ پاؤں سے ضرورتمندوں اور بیواؤں کی خدمت، نوافل کا اہتمام وغیرہ ،تو وہ غریب کسان سمجھ جائے گا۔ مگر پیرانِ باطل اور صوفیائے جاہل لوگوں کو سمجھاتے نہیں بلکہ لوگوں کولوٹتے ہیں اور اپنے بچوں کی کئی کئی نسلوں تک کے لئے نہ ختم ہونے والا مال جمع کرکے مردار ہوجاتے ہیں۔ دھوکہ اور چرب زبانی سے کسی کا مال ہتھیانا دھوکہ ہے۔نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:
مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا یعنی جس نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ ( مسلم ، حدیث : 283 )
ایک بار رسولِ کریم ﷺغلہ کے ڈھیر پر سے گزرے۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس غلہ میں داخل کیا تو ہاتھ پر گیلا پن محسوس کیا ، آپ علیہ السّلام نے فرمایا : یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی : یا رسولَ اللہﷺ: آسمان سے بارش ہوئی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا : اس گیلے غلے کو اُوپر کیوں نہیں کیا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے ، (اور فرمایا)جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ ( مسلم، حديث : 284 )
نبی کریم ﷺ فرمایا : دھوکے باز ، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ ( ترمذی ، 3 / 388 ، حدیث : 1970 )
اس لئے جو لوگ جنت نہیں جا سکتے وہ کسی کےروحانی پیشوا کیسے بن سکتے ہیں؟
آپﷺ نے یہ بھی فرمایا : مؤمن ( دنیا کے بارے میں ) بھولا بھالا اور کریمُ النفس ہوتا ہے ، جب کہ کافر اور منافق دھوکے باز ، خبیث اور کمینہ ہوتا ہے۔‘‘ ( ترمذی ، 3 / 388 ، حدیث : 1971 )
اس لئے دھوکے باز، خبیث اور کمینے لوگ ،جعلی پیشوا بن سکتے ہیں مگر حقیقی پیشوا نہیں۔
آپﷺنے فرمایا : قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ( بطورِ نشانی ) ایک جھنڈا ہوگا جس کے ذر یعے وہ پہچانا جائے گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی دھوکے بازی ہے۔‘‘ ( مسلم ، حدیث : 4535)
قارئین!یوں سمجھیں کی دنیا میں قبضہ مافیا کا آغاز ہی جعلی اور دنیادار صوفیاء نے ہی کیا ہے، آج دیکھیں اپنے ملک پاکستان میں اور باقی دنیا میں خانقاہی نظام کے نام پر کئی کئی ایکڑ پر پُر تعیس اور پُرآسائش خانقاہیں مذہبی ٹچ اور تذکیہ و اصلاح کے نام پر مقامی آبادی کے کسی جاہل سردار، جاگیر دار، چوہدری ِ خان وغیرہم سے حاصل حاصل کئے گئے ہیں۔اور اس میں بیٹھا بڑے توند والا جعلی پیر، خواہ کسی بھی مکتب فکر اور مذہب و مشرب سے تعلق رکھتا ہو ، ہر موروثی گدی پر بیٹھا جاہل عوام کو لوٹ رہاہے۔ کبھی اصلاحی اجتماع کے نام پر ، کبھی روحانی اجتماع کے نام پر، کبھی سالانہ اجتماع کے نام پر، کبھی عرس کے نام پر، کبھی محفلِ میلاد کے نام پر، کبھی محفلِ ذکر کے نام پر، کبھی ہفتۂ اصلاح و ارشاد جیسے حسین اور پر کشش مذہبی ناموں پر۔
اگر میری بات کا یقین نہیں تو ایک لٹمس ٹیسٹ بتائے دیتا ہوں:
آج سے مرید ان اجتماعات میں خالی ہاتھ آستانوں پر جانا شروع کرے، بلکہ وہاں ایک کپ چائے پینا بھی ’بطورِ تبرک‘ضروری سمجھے تو ایک ماہ کے اندر آستانے کا گدی نشین ڈنڈا ہاتھ میں لئے آستانے کے دروازے سے ہی آنے والوں کو مار مار کر بھگاناشروع کر دے گا۔
یہ سارا قبضہ مافیا ہے، اور ان کا تعلق دین و اصلاح کے نام پر صرف دنیا کے حصول سے ہے۔ یہ سارے جعلی پیرانِ طریقت باتیں تو شہد سے میٹھی اور پیاری
کرتے ہیں جس سے سامنے بیٹے حاضرین و سامعین کو مسحور کرتے ہیں مگر ان کے دل وہ نہیں جو لوگوں کے سامنے اپنی باتوں سے ظاہر کرواتے ہیں۔ ان کا قول ان کے فعل کے ساتھ میل نہیں کھاتا، ان کا زُہد کا ڈھونگ اُن کے دنیاداری اور پُر آسائش طرزِ زندگی سے مَیل نہیں کھاتا۔ فاقوں میں زندگی بسر کرنے والے جاہل مریدین پر کبھی اُن بھیڑیوں کو ترس نہیں آتا ، اور بے شرمی سے اُن کے نذرانے بھی قبول کرتا ہے۔
اسی طرح یہ لوگ اپنی نرم اور میٹھی باتوں سے مریدوں کو اپنا گریدہ بناتے ہیں اور ان کے زمین، جائیدادیں خانقاہ اور آستانہ کے نام پر ’’وقف‘‘ کرواتے ہیں، جن میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی ساری جمع پونجی صرف زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے۔
بعض اوقات یہ لوگ یہ ڈھونگ رچاتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کوخواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ تم اپنا علاقہ چھوڑ کر اس علاقے میں اس پہاڑی وغیرہ تک اپنا آستانہ بناؤ اور اس علاقے کے لوگوں کو تبلیغ و اصلاح کے کام میں لگ جاؤ۔ یہ بھی جھوٹ اور دھوکہ ہی ہے، اور رسول اللہ پر جھوٹ بولنا عام جھوٹ بولنے ے زیادہ خطرناک ہے:
﴿مَن کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًافَلیَتَبَوَّاْ مَقعَدُہُ مِنَ النَّار﴾
‘‘ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تلاش کرنا چاہئے۔‘‘(بخاری، باب اثم من کذب علی النبی ﷺ)
٭ہمارے پہچان والوں میں سے ایک نام نہاد جھوٹے اور دغاباز نے اپنے شاگرد جاہل خواتین کو ایک بار کہاکہ ہم ایسی باتیں لوگوں کے سامنے نہیں کرتے اس لئے کہ لوگ یقین نہیں کرتے مگر میں تم کو ایک واقعہ سناتاہوں ۔
’’میرے پاس فلاں جگہ ایک حاجی صاحب آیا اور ایک تصویر مجھے دکھایا اور پوچھا کہ یہ کس کی تصویر ہے ۔میں نے اس حاجی صاحب کو کہا کہ جانتاتو نہیں کہ کس کی ہے مگر خوبصورت بہت ہے۔تو اس شخص نے کہاکہ یہ مجھے مدینہ منورہ میں ایک شخص نے دیا اور کہا کہ اسے خواب میں نبی کریم ﷺ آئے تو آپﷺ کا یہ نقش یعنی تصویر بنا۔‘‘
اس پیر کا ذکر میں نے اپنی کتاب’’عقیدہ حاضر و ناظرمع فرقہ سیفیہ کا آپریشن‘‘ میں کیا ہے۔وہاں دیکھ لیجئے۔
زندہ پیر کا من گھڑت خواب اور زندہ پیر کی حقیقت
گھمکول کا زندہ پیر 1912 میں جنگل خیل کوہاٹ میں پیدا ہوئے،مدرسہ سکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔ 1938 میں انگریز فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے اور انگریز کی حرام تنخواہ سے کھاتے پیتے رہے، اور انگریز سرکار کی خدمت بجا لاتے رہے۔1952میں بحری جہاز سے حج پر گئے واپس آئے تو کھجور،پانی اور تسبیح کے علاوہ ایک’’ کہانی شریف‘‘ بھی ساتھ لائے۔کہانی یوں ہے:
جعلی سید سپاہی حضرت شاہ حج سے فراغت کے بعد مدینہ تشریف لائے۔ اور گنبد خضراء کے سامنے کھڑے ہو کر درخواست کی، کہ حضور میرے لئے کیا فرمان ہے؟ آپ پر رسول پاکﷺ کی تجلی ہوئی،حضور پاک نے اپنا دست مبارک کے اشارے سے کوہاٹ کی پہاڑی کی طرف اشارہ کیا اور ساتھ میں لائیو دربار عالیہ گھمکول شریف کا نظارہ کروایا۔سپاہی حضرت شاہ واپس آکر پہاڑوں پر چڑھ گئے،وہی دربار عالیہ گھمکول شریف کی بنیاد رکھی۔
اس جاہل کو اتنی عقل نہیں کہ صحابہ کرام کن کن فتنوں، مصیبتوں اور آمائشوں میں نہ پڑے، ان پر جنگِ صفین اور جنگِ جمل جیسے واقعات ہیش آئے، قاتلینِ عثمان کے قصاص کے لئے عائشہ صدیقہ ، سیدنا علی کے خلاف کھڑی ہوئیں، مگر ان میں سے کسی نے بھی روضہ مبارکہ آکر یہ عرض نہیں کیا کہ حضور! ان مصائب و آمائش سے نکلنے کے لئے ہمیں مشورہ دیجئے، یا یہ ہمارے لئے اس وقت کیا حکم ہے؟
مگر ہر دو ٹکے کا جھوٹا جعلی پیر جب روضہ رسول پر حاضر ہوا تو اپنے ساتھ بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے رسول اللہ کی طرف کوئی نہ کوئی جھوٹ منسوب کرکے من گھڑت قصہ ساتھ لاتا رہا۔
جھوٹا خواب بیان کرنے پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سخت وعید
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” مَنْ تَحَلَّمَ حُلُمًا كَاذِبًا , كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ , وَيُعَذَّبُ عَلَى ذَلِكَ”.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس نے جھوٹا خواب بنا کر بیان کیا، وہ (قیامت کے دن) اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اور اس پر وہ عذاب دیا جائے گا۔‘‘ (سنن ابن ماجه،حدیث: 3916)
چونکہ جَو کے ان دو دانوں کے درمیانوہ گرِہ نہ لگا سکے گا اس لئے اس پر اس کو عذاب دیا جائے گا۔ بیداری میں بھی جھوٹ بولنا گناہ ہے، مگر خواب میں جھوٹ بولنا اس سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے، کیونکہ خواب نبوت کے مبشرات میں سے ہے، پس اس میں جھوٹ بولنا گویا اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے۔
جبکہ رسول اللہ ﷺ کے مقدس نام کے عاشق فی الحقیقت ’’نان‘‘ کے عاشق ہیں اس لئے وہ ’’نان‘‘ کی مقدار میں اضافہ کرنے کے لئے عشقِ رسول جیسا مقدس ترین دعوی جھوٹ موٹ کرتا پھرتا ہے۔
ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ یہ کمی کمہار اور اَچھوت قسم کے میراثی وغیرہ جب دو چار رکعت نفل پڑھتے ہیں تو آسمان کی طرف وحی کے انتظار میں دیکھتے رہتے ہیں۔
یہ اس جھوٹے گھمکول کی طرف سے لوگوں کا زمین اور پہاڑ ہتھیانے کے لئے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ اور بہتان ہے کہ آپﷺ کسی کا زمین ، خواہ حکومت کا ہو، یا عوام کا شاملاتِ مشترک، یا کسی فرد کی ذاتی ملکیت، اصلی مالک کی دلی رضا و اجازت کے بغیر، لینے کا فرمان جاری کرے۔ آپ نے ایسا کبھی زندگی میں بھی نہیں کیا ۔ بلکہ آپﷺ کا فرمان ہے:
ﵟمن أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضينﵞ
جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی ظلم و زبردستی سے لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔‘‘(مشکوۃ باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254)
رسول اللہ ﷺ جب حیات تھے، تب بھی آپﷺ کے دینے سے کسی کا پرایا مال،لینے والے کے لئے حلال نہیں ہوتا تھا، آپﷺ نے فرمایا:
’’تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی بات بیان کرنے کے لحاظ سے دوسرے کی نسبت زیادہ چالاک (ثابت) ہو۔ اور میں جس طرح اس سے سنوں، اسی طرح اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، تو جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں، وہ اسے نہ لے(اگر حقیقت میں اس کا نہ ہو)، میں اس صورت میں اس کے لیے آگ کا ٹکرا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔‘‘(صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4473)
مگر سپاہی حضرت شاہ کو پورا پہاڑی علاقہ دیا، اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ تم زندہ پیر ہو۔نام نہاد اور جاہل صوفیاء نے رسول اللہ ﷺ پر جتنا جھوٹ بولاہے ، اور اب بھی بول رہے ہیں، اتنا جھوٹ اسلام دشمن زنادقہ اور کفار نے بھی نہیں بولا۔
سپاہی حضرت شاہ اگر انگریز سرکار کی پنشن پر انحصار کرکے بیٹھتا تو بھوکا مرتا، مگرآج زندہ پیر کے مزار اور دربار سے اسکی نسلیں کھا رہی ہیں۔ مگر دونوں ہاتھوں سے ادھر اُدھر پھینکنے سے بھی مال میں کمی نہیں آئے گی۔یہ الگ بات ہے کہ عقیدے اور پیسے دوسروں کے تباہ ہو رہے ہیں،ہر سال زندہ پیر کا عرس ہوتا ہے،مردہ ضمیروں اور مریدوں کی تعداد لاکھوں میں جمع ہوتی ہے۔ایسے ہی چرب زبان دھوکہ بازوں اور بہروپیوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ﵟأَنَّهُ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ:إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌﵞ
’’مشرق کی جانب سے دو آدمی آئے، اور انہوں نے خطاب کیا، تو لوگوں کو ان کے اسلوبِ خطاب و بیان پر تعجب ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بلاشبہ، بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘(سنن ابو داؤد، حدیث:5007)
ابن قتیبہ دینوری رحمہ اللہ متوفّٰی 276 ہجری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
ﵟوَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا”، يُرِيدُ: أَنَّ مِنْهُ مَا يُقَرِّبُ الْبَعِيدَ، وَيُبَاعِدُ الْقَرِيبُ، وَيُزَيِّنُ الْقَبِيحَ وَيُعَظِّمُ الصَّغِيرَ، فَكَأَنَّهُ سِحْرٌ وَمَا قَامَ مَقَامَ السِّحْرِ، أَوْ أَشْبَهَهُ، أَوْ ضَارَعَهُ، فَهُوَ مَكْرُوهٌ كَمَا أَنَّ السِّحْرَ مُحَرَّمٌﵞ
’’اور بلاشبہ کچھ فصاحت و بلاغت جادو کی مانند ہوتی ہے،“ یعنی دور کی چیز دور کی چیز کو قریب اور قریب کی چیز کو دور کر دیتا ہے، ( یعنی گدھے کو گھوڑا اور گھوڑے کو گدھے بنا کر پیش کرتا ہے)بدصورت کو حسین اور چھوٹی چیز کو عظیم بنا کر پیش کرتا ہے؛ گویا کہ ایسا چرب زبانی جادو ہی ہے۔ اور جو چیز جادو کی جگہ لے لے، یا اس سے مشابہت رکھے، یا اس جیسی ہو، تو اسے بھی اسی طرح ناپسند کیا جاتا ہے جس طرح جادو حرام ہے۔‘‘ (تاویل مختلف الاحادیث)
اور فرمایا:
«يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ» الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ، أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ، يَقُولُ اللهُ عز وجل: أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا. وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں (درندوں)کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں۔ میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔(ترمذی:2404)
اس کی شرح میں مُظہرالدین زیدانی حنفی متوفی 727 ہجری لکھتے ہیں:
ﵟيختلون أهل الدنيا بعمل الدين؛ يعني: يعملون الأعمال الصالحة ليعتقد الناس فيهم الخير والصلاح ويظنونهم الصلحاء؛ ليدفعوا إليهم الأموال، وليخدموهم، وليس في نيتهم إخلاص، بل جذب المال والجاه.”يلبسون للناس جلود الضأن”؛ يعني: يلبسون اللباس من الصوف؛ليظنهم الناس زهَّادًا عبَّادًا تاركين الدنيا، لبس الصوف إن كان بهذه النية فهو مذموم، وإن كان من الفقراء أو لكسر النفس وغير ذلك فهو جائز.”من اللين، ألسنتهم أحلى من السكَّر” أراد بـ (اللين): التملُّق والتواضع في وجوه الناس؛ ليصير الناس لهم مريدين، “وقلوبهم قلوب الذئاب”؛ يعني: قلوبهم شديدة مسودةٌ من غاية حبِ الدنيا وحب الجاهﵞ
’’یعنی دین کے نام پر دنیا طلب کریں گے، وہ نیک اعمال اس لئے کرتے ہوں گے تاکہ لوگ ان کو بزرگ اور اہلِ خیر وصلاح سمجھے، اور اس طرح ان کو پیسے دیتے رہیں،اور ان کی خدمت کرتے رہیں،مگر ان کی نیت خالص نہیں ہوگی۔بلکہ مال و دولت کے حصول کے خواہش مند ہوں گے۔وہ ٹاٹ کے کپڑے(آج کل کے زمانے میں سادہ لباس، سفید لباس ، لمبی چوڑی قمیص) پہنتے ہوں گے تاکہ لوگ ان کو دنیا دولت سے بے رغبتی رکھنے والا زاہد، تارک الدنیا اور بزرگ سمجھیں۔ لوگوں کے سامنے عاجزی کرتے ہوں گے تاکہ لوگ ان کے مرید بنیں مگر ان کے دل بھیڑئے (مکار درندے)کے ہوں گے۔‘‘(مفاتیح شرح المصابیح)
احادیث میں دل کی مثال بھیڑئے سے دینے کا سبب خود رسول اللہ ﷺ نے بتایا:
’’تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے۔‘‘(سنن ابوداؤد، حدیث: 547)
جس طرح بھیڑیا اکیلی بکری کھاجاتا ہے اسی طرح یہ ظاہردار صوفیاء لوگوں کی جہالت کا فائدہ اٹھا کر ان کی کمائی کھا جاتے ہیں۔
اس حدیث کی رُو سے ایسے سارے پیرانِ طریقت مراد ہیں جن کے آستانے اور خانقاہیں جاہل عوام سے بزرگی کا لباس پہن کر حاصل کئے گئے بلکہ ہتھیائے گئے ہیں۔ مگر حقیقت میں طاہر القادری اور اس جیسے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک چہروں سے معصوم اور حقیقت میں مکار ہوں گے۔ آج کل کے سارے پیر بلا استثناء بریلوی دیوبندی سب ایک ہی تھیلے کے چھٹے بھٹےاور غریبوں اور یتیموں کا مال ناجائز طریقوں اور مکاری سے حاصل کرنے والے بھیڑئےہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ اُمتِ محمد کو خبردار کرنے کے لئے فرماتا ہے:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗﵞ
’’ اے ایمان والو! اکثر علماء اور عابد(صوفیاء) لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں، اور اللہ کی راہ سے روک دیتے۔‘‘
اس کی تفیسر میں ابن کمال پاشا حنفی رحمہ اللہ متوفی 940 ہجری لکھتے ہیں:
ﵟلا تتوهَّموا في كثير من الأحبار والرُّهبان صلاحًا، ولا تغترُّوا بظاهر زِّيهم وسكونهم؛ فإنَّ ذلك كلَّه مصائدُ للمطامع، واستجلابٌ للرِّئاسة۔ قال عبد الله بن المبارك: وهل أفسدَ النَّاسَ إلَّا الملوكُ…. وأحبارُ سوءٍ ورهبانُهاﵞ
’’بہت سارے علماء اور صوفیاءکی بزرگی کا عقیدہ (شریعت کی کسوٹی اور عملی تجربے کے بغیر)نہ رکھو، اور نہ ہی ان کے ظاہری شکل و صورت سے دھوکہ کھاؤ، اس لئے کہ یہ (ظاہری شکل و صورت اور شیرین بیانی)طمع و لالچ کی تکمیل اور سرداری کے حصول کے جال ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن مبارک فرماتا ہے:
دین کو برے علماء اور مکار پیرانِ طریقت اور جابر و شاطر حکمرانوں نے اپنے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے۔‘‘(تفسیر ابن کمال پاشا)
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 748 ہجری لکھتے ہیں:
ﵟوالمقصود التحذير من علماء السوء وعباد الضلال كما قال سفيان بن عيينة: من فسد من علمائنا كان في شبه من اليهود، ومن فسد من عبادنا كان فيه شبه من النصارىﵞ
’’مراد اس آیت سے اُمتِ محمد کو بُرے علماء اور گمراہ عابد وصوفیاءسے خبردار کرنا ہے۔ سفیان بن عیینہ فرماتا ہے کہ ہمارے علماء میں جو بگڑے ان میں یہود کے ساتھ مشابہت ہے، اور ہمارے صوفیاء میں جو بگڑے، ان میں نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے۔‘‘(تفسیر ابن کثیر)
اور اسی لئے انہی لوگوں سے خبردار کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے اُمت کو خبردار کیا تھا۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال رحمّۃ اللہ علیہ ایک پیر صاحب کے پاس بیٹھے تھے ، ایک مرید آيا اور ہاتھ چوم کے ایک روپیہ نذرانہ پیر کے قدموں میں رکھا
اور عرض کی حضرت ،دعا فرمائیں ،مقروض ہو گيا ہوں ۔پیر صاحب نے دعا کی ،،جب پیر صاحب نے دعا ختم کی تو علامہ اقبال نے مرید سے پوچھا ،کتنا قرض ہے ،بولا ساٹھ روپیہ۔ علامہ اقبال نے فرمایا ،،ساٹھ نہیں ابھی اکسٹھ بتایا کرو ۔یعنی پیر کو نہ دیتے تو 59 ہوتے ،تو اسی دکھ میں علامہ نے ایک نظم لکھی:
باغی مرید۔ فرمایا:
؎ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی۔۔۔گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
؎شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ۔۔۔مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن
؎نذرانہ نہیں، سُود ہے پیرانِ حرم کا۔۔۔ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
؎میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد۔۔۔زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن
غریب مرید کے گھر میں تیلسے جلنے والا چراغ بھی نہیں مگر جاہل مریدوں کی حرام نذرانوں کی بدولت پیر صاحب کے گھر میں قمقمے روشن ہیں۔
یعنی اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی جاہل پیرانِ طریقت کی پوجا میں ایسے لگے ہیں جیسے بت پرست بتوں کی پوجا کرتے ہیں، اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔
پیرانِ باطل اور مفت خور بڑڑی بڑی توند والے جاہل موروثی پیر، صوفی یہ پیر ہم سے جو خراج وصول کرتے ہیں یہ نذرانہ نہیں بلکہ سود کے مانند ہے،
جبری ٹیکس ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان مکرو فریب کے پتلوں کے اندر کوئی ہندو مہاجن اور سودی کاروبار کرنے والا والا بیٹھا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ وعظ و نصیحت کی مسندیں ان ناعاقبت لوگوں کو ورثے میں ملی ہوئی ہیں جو خود شریعت سے ہٹے ہوئے قبلہ کی بجائے مشرق کو قبلہ بنائے بیٹھے ہیں ۔ یہاں سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ خانقاہیں نہیں عقابوں کے گھونسلے کوؤں کی کمین گاہ اور دھوکہ باز مفت خوروں کے اڈےبنے ہوئے ہیں ۔
ان جعلی نسبتوں کا مقصد صرف دنیاوی مفادات اور معاشرتی عزت و تکریم کا حصول تھا۔ ان جعلی نسبتوں کے ذریعے علاقے کے عوام سے زمینیں اور جاگیریں ہتھیائے گئے، اور آ ج حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں ان جعلی سادات کو جاگیریں دینے اور ان کو نوانے والے جاہل خان، جاگیردار ، چوہدری آج مفلس ،اور بے جائیددا ہوچکے ہیں، اور اُن کی اولاد جاہل آباؤاجداد کی وجہ سے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں جبکہ جعلی سادات اور ان کی جعلی اولاد کروڑ پتی بلکہ ارب پتی اور مخدوم و جاگیردار بن گئے ہیں۔
میں (اکبرعلی خان) اولیاء کرام رحمہم اللہ کے ساتھ نیک گمان رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ یہ شجرے ان مشہور بزرگ ہستیوں نے نہیں بنائے ہوں گے بلکہ ان کے بعد ان کی بدعقیدہ اولاد اور جاہل مجاورینِ مزارات نے سیِّد ہونے کا ڈھونگ رچاکر دنیاوی فائدے اور معاشرتی وقار کے لئے جعلی شجرے بنائے ہوں گے۔
لیکن اگر یہ بات درست نکلے کہ یہ شجرے ان مشہور بزرگ ہستیوں نے خود بنا کر اپنی اولاد کو وراثت میں چھوڑے ہیں تو پھر میں بلا لومۃ لائِم ببانگِ دُہل کہتا ہوں کہ یہ لوگ اس وقت کے عوام کی نظروں میں توبزرگ تھے، اور آج بھی انہیں عندالعوام بزرگی اور ولایت کا مقام حاصل ہے مگر اللہ کی نظر میں یہ لوگ بہروپئے، جھوٹے، کذاب، حرام خور، حدیث کی رپو سے لعنت کے مستحق اور دنیا دولت سمیٹنے کے لئے چکر بازی کے ماہر عیار، مکار ، شاطر اور ابلیس کے شاگرد تھے۔
قارئین! عثمان علی ہجویری رحمہ اللہ عرف داتا گنج بخش کی چار شادیوں میں سے کوئی اولاد نہیں تھی، مگر آج تک اس کا مزار اس کی جعلی اور حرامی اولاد سے خالی نہیں ہوئی بلکہ ان میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہاہے۔
ان شاء اللہ جلد ہی نامی گرامی بزرگانِ تصوف کے جعلی سادات سازی کا بھانڈہ 12 سو سال پہلے انسابِ قریش پر لکھی گئی کتابوں سے پھوڑا جائے گا۔
