چودہواں باب: قبوری شرک سے متعلق چند اور قصے جو حقیقت ہیں اور جن کی معلومات کی جاسکتی ہے
بعض سادہ لوح لوگوں کے بچے جب رونا شروع کردیتے ہیں تواس کو کسی ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بجائے اسے کسی قبر یا مزار پر لے جاتے ہیں کہ یہ اس بیماری کاہسپتال ہے،حالانکہ اس بارے میں لوگوں سے ایسے ایسے قصے سنے ہیں کہ سن کر بندہ حیرت سے پاگل ہوجاتا ہے۔
……٭ہمارے علاقے میں ایک نامعلوم اور گمنام قبر ہے علاقے کے لوگوں سے پتہ چلا ہے کہ ایک بچے نے ایک گدھے کا بچہ پالا تھا وہ اسے بہت عزیز تھا جب وہ گدھے کا بچہ مرگیا تو وہ بچہ بہت روتا تھا اس کا باپ اسے لے کر اس جگہ لے گیا جہاں اس گدھے کے بچے کو دفنایا تھا بچے نے جب دیکھا کہ میرا پالتوگدھا اب ڈھیروں مٹی تلے دفن ہے تو اس کا رونا بند ہوا بس عورتوں کو پتی چلنا ہی تھا کہ وہ بھی اپنی اولاد کو وہاں لے جاتے تھے جب ان جاہل عورتوں کو حقیقتِ حال بتایا جائے تو وہ کہتے ہیں ،ہم کیا کریں ہمارا کام ہوتا ہے اس لئے ہم جاتے ہیں ،تو کام کا ہونا کسی کام یا عمل کے ٹھیک ہونے کی ضمانت اور سند نہیں،کسی کام کے جائز اور ناجائز ،حلال اور حرام ہونے کیلئے شریعت میں دلیل چاہئے۔(تفصیل کیلئے،ص:۔۔۔۔۔)
……٭اسی طرح کا قصہ مجھے میرے رفقائے کار(Colleagues) نے اپنے علاقہ خویشگی ضلع نوشہرہ کے ایک پرانے مزار کابتایا۔ اس زیارت کانام ‘پوخلے بابا’ تھا(پوخلے پشتو زبان میں
کالی کھانسی یا Pneumonia کو کہتے ہیں۔)وہ کہتے ہیں کہ (شائد) انگلینڈ کے کچھ لوگوں نے اپنے سفارت خانے کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے اجازت لے کراس مزار کی کھدائی کی اجازت چاہی ۔ضلع بھر کی پولیس کی نگرانی میں قبر کی کھدائی کی گئی تو اس میں سونے کے بڑے بڑے بت برآمد ہوئے ،جو اُن انگریزوں کے آباؤاجداد نے پاکستان آزاد ہونے کے بعد اس جگہ دفن کئے تھے اور اپنی روایتی چالاکی سے اس کو مزار مشہور کرایاتھا۔’’
اس واقعے سے لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئے مگر شیطان مختلف وسوسوں اور حیلے بہانوں سے انسان کو دوبارہ ایسی گمراہانہ افعال پر مجبور کرتا ہے۔اس واقعہ سے صحیح اور سچے اولیاء اللہ کی ولایت جو اللہ کے ہاں ان کو حاصل ہے پر فرق نہیں پڑتا ،نہ ہی ان کے درجات جو عنداللہ ان کوحاصل ہیں ان پر بھی فرق نہیں پڑتا ہم سب بلکہ ہر مسلمان اللہ کے دوستوں کا قدر کرتے ہیں ، ان کی درجات کی بلند ی کی دعائیں کرتے رہتے ہیں ،کیونکہ ان بزرگ ہستیوں نے اپنے اپنے زمانوں میں دینِ اسلام کی خاطر اور تبلیغِ دین کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں ۔مگر بحیثیت مسلمان ہمیں ان کی تعلیمات کا مطالعہ کرنا چاہئے،ان کی زندگیاں اپنے لئے مثال بنانا چاہئے ،ان کی نصیحتوں پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نیک اور بزرگ ہستیاں ہونے کے باوجود وہ انسان ہی تھے وہ اپنی زندگیوں میں اس وقت کے لوگوں کی ضرورتیں اپنی مقدور بھر پوری کرسکتے تھے اور عملاََ ایسا کئے بھی ہیں ،انہوں نے خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلایا،خود سختیاں جھیلے اور دوسروں کیلئے آسانیاں اور راحت پیداکیا کرتے تھے ،جیسے ابراہیم ابن ادہم رحمہ اللہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کیا کرتا تھا حالانکہ وہ بلخ کا حکمران رہ چکا تھا اور جب دل دنیا سے بھر گیا تو بادشاہت کو لات مارکر فقیری اختیار کی اور ایسا فقیر بن گیا جس کے قصے آج بھی لوگ عبرت کیلئے پڑھتے ہیں اور بہت بڑا ولی اللہ بن گیا۔اس طرح کی ایثار بھری کہانیاں قرونِ اولیٰ کے اولیاء اللہ کے تذکروں میں بکثرت ملتے ہیں اور آج بھی ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں کیونکہ ولی، اللہ کے ہاں قرب اور نزدیکی کے درجے کو پہنچا ہوا اللہ عزوجل کے نیک بندے کو کہتے ہیں ،ایک انسان اس درجے پر اللہ کے ہاں فائز ہوگا اور اس کو پتہ بھی نہیں ہوگا۔کیونکہ ولایت اللہ کی دوست کو کہتے ہیں اور دوستی کی سند اللہ عزوجل کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ اللہ عزوجل کسی کو اپنے دوستوں میں شمار کرے اور اسے پتہ نہ ہو کیونکہ یہ ایک غیبی امر ہے اور غیبی امور کا علم اللہ عزوجل کے سوا کسی کو نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ عزوجل اپنے کسی ولی کو ایسے طریقے سے مدد کرے ،اس کے ہاتھ پر یا اس کی اعزاز واکرام کیلئے یا اس کو کسی آزمائش میں کامیاب کر نے کیلئے ایسا خلافِ معمول کا م ظاہر کرے جسے کرامت کہا جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کو اس کی ولایت کا یقین ہوجائے کہ دیکھوجی! ‘‘یہ اللہ کا ولی ہے۔’’
تو قارئین نوٹ فرمالیں کہ دونوں باتوں کا احتمال ہے ،پتہ لگنے کا بھی اور پتہ نہ لگنے کا بھی ۔
اس طرح کے مزارات نہ صرف برصغیر میں بلکہ دنیا کے کونے کونے میں مل سکتے ہیں ۔
ایک عجیب داستان اور سنئے:
٭٭٭ایک قبرہے ہمارے علاقے میں ،‘‘چواڑے’’ کے نام سے مشہور ہے ،لوگ وہاں بھی بچوں کو کسی بیماری(بیماری کا مجھے نام معلوم نہیں)سے شفا کیلئے لے جاتے ہیں اور وہاں جس مٹکے سے بچے کو پانی پلاتے ہیں اسے قبر کے اوپر توڑتے ہیں۔لیکن قارئین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ‘چواڑے’ عیسائی عورت کو پشتوزبان میں بولتے ہیں ۔ایک اور معنی بھی ہے وہ یہ کہ :کسی خاتون سے نفرت یا کسی کی حقارت مقصود ہو ، تو اسے ‘‘چواڑے’’ کے نام سے پکارتے ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے ایک مسیحن (عیسائی عورت) کیسے اللہ کا ولیہ(ولی کا مؤنث) بن گئی ؟
اور دوسرے معنی کے لحاظ سے جس سے نفرت کی جاتی ہے، اس سے بندہ کوسوں دوربھاگتا ہے مگر پتہ نہیں، جاہل خواتین کب اللہ عزوجل پر توکل مضبوط کرکے صحیح موحد مُسلِمات بنیں گے !
لیکن خواتین کا تو ایک ہی فارمولا ہے اور وہ یہ کہ‘‘ہمارا کام ہوجاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے کسی اللہ کے ولی کا قبر ہو یا کسی فرعونِ زمانہ کا ،خواتین کی کتاب میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کو تو اپنے کام سے عرض ہے۔’’ اللہ عزوجل ان کو عقلِ سلیم اور حق پہچاننے اور سمجھنے کی توفیق عطافرمائے،آمین۔
بی بی سیدہ
……٭ضلع چارسدہ کے ایک گاؤں ترنگ زائی میں ایک مزار ہے جو بی بی سیدہ کے نام سے مشہور ہے ،لوگوں کا عقیدہ کہ جو بچے روتے ہیں وہ اس مزار پر لے جانے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں ھالانکہ یہ عقیدہ کھلا کھلا شرک کاہے کیونکہ بیماری سے شفاء اللہ عزوجل ہی دیتا ہے اللہ عزوجل کاغیر ا س پر قادر نہیں،اور یہ بھی کہ مرض سے شفایابی کیلئے اس طریقے کا نہ ہی قرآن کریم میں کوئی دلیل ہے نہ نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے اور نہ ہی اصحابِ کرام اور اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر عمل رہا ہے ، نہ ہی اصحاب کرام اور اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیماری کی صورت میں افضل البشر، سیدالانبیاء ، فخرِ دو عالم، حبیبِ ربِّ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قبر مبارک پر تشریف لے گئے ہیں۔اور قارئین یہ پورا قصہ سن کر ہنسیں گے قصہ یوں ہے کہ:
‘‘مذکورہ گاؤں کے ایک متمول گھرانے کے ہاں ایک وفادارنوکرانی تھی ،اس گھر کے سارے بچے اس کی گود میں پلے بڑھے تھے اور اس سے بہت مانوس ہوگئے تھے جب وہ مرگئی تو سب بچے اس کو نہ دیکھ کر روتے تھے ،بچوں کے والدین تنگ آکر ایک دن سب بچوں کو اس کی قبر پر لے گئے اور ان کو بتایا کہ یہ ا س کی قبر ہے اور وہ مر چکی ہے اب وہ ان سے نہیں مل سکتی بچے یہ سن کر اور قبر دیکھ کر چُپ ہوگئے،جب علاقے کے جاہلوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اس کو قبر کی کرامت مشہور کردی ،اب جاہل عورتوں کو کون قابو کرتا ؟ کون ان کو سمجھاتا؟ان کی قانون کے مطابق تو وہ بس اسی کام کیلئے منتخب تھیں،ان کا قانون یہ ہے کہ :
‘‘چاہے قبر کسی فاسق ،فاجر کا ہی کیوں نہ ،کسی عیسائی ،مشرک کا ہی کیوں نہ ہو لیکن ان کاکام ہو جاتا ہے پس وہ اس قبر پر جایا کریں گے۔’’
یہ صرف چند مثالیں ہیں جو عبرت کیلئے بیان کئے گئے اور اسی غلط رویے کی بیماری کی وجہ سے سب کچھ کر گزرنے کو تیا ہوتے ہیں ۔اسی مرض کی وجہ سے بہت سارے خلاف شریعت باتیں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔بعض اوقات بعض لوگوں کو حقیقت حال معلوم بھی ہو جاتی ہے لیکن پرانی روایت پرستی کی وجہ سے ان کیلئے ان غلط باتوں کا چھوڑنا مشکل ہوجاتاہے۔حالانکہ یہ نظریہ آخرت میں نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتا ،بلکہ الٹا دوزخ میں جھونکے جانے کا سبب بنے گا۔
خواتین کس طرح اولیاء رحمہم اللہ کے مزارات پر جاکر گڑگڑاتے ہیں؟
میں اللہ عزوجل کوحاضروناظر جان کر ایک دن سوموار (پیر) کے دن اپنے گاؤں کے قبرستان گیا ، اس قبرستان میں بقول روایات کے محمود غزنوی یا کسی دور کے شہداء کے قبریں ہیں واللہ اعلم، وہاں پر میں ایک خاتون دیکھا جو:
قبر کے پاؤں کی طرف،،،٭سر برہنہ بیٹھی اور ٭جھولی ‘‘بابا’’ کے حضور پھیلائی،،،٭ بدن کو چاروں طرف گھما رہی تھی۔اب ایسا کرنا ذرا تجزیاتی نظر سے دیکھئے:
٭٭ہمارے پشتون ثقافت میں کسی کو جھگڑے کے بعد منانا ہو تواس کے پاؤں پڑتے ہیں۔اس لئے یہ خاتون زبانِ حال سے ‘‘بابا’’ کو منارہی تھی کہ:
‘‘بابا’’ تو مان جا ،تو اللہ کا چہیتا ہے ،اللہ تیری بات کو رَد نہیں کرتا (1)تو اللہ میاں سے ہماراکام کرواسکتاہے، ورنہ بیڑا غرق ہے ہمارا۔یہی اس عورت کا عقیدہ تھا ۔
٭٭کسی نے سخت غلطی کی ہو تو عاجزی ظاہر کرنے کیلئے برہنہ سر خواتین مظلوم فریق کے گھر بھیجتے ہیں تو جرگہ مانا جاتا ہے ۔ اب یہ خاتون بھی ‘‘ بابا’’ کے حضور بطورِ جرگہ آئی ہوئی تھی اور اس کا یہ پکا عقیدہ تھا اور بہت سارے لوگوں کا ایسا عقیدہ ہے کہ اولیاء وفات کے بعد بھی ہمارے حال سے باخبر ہیں اور وہ ہماری فریاد سنتے ہیں حالانکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ صریح کفر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان ‘‘ چہیتوں ’’ کی بات رَد نہیں کرسکتا ،یہ ‘‘ نہیں کرسکتا’’ کے الفاظ والا عقیدہ اگر کوئی رکھتا ہو تو یہ کھلی کھلی گمراہی بلکہ کفر ہے۔
٭٭جھولی پھیلانا بھی جرگہ کی ایک شکل ہے جس میں بعض اوقات مشرانِ جرگہ مظلوم فریق کے آگے جھولی پھیلاتے ہیں، اور ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ ہماری جھولی بھردو ،ہمیں خالی ہاتھ جانے نہ دو یعنی ہماری بات مان لو اور یہ جھگڑا ختم کردیجئے۔
٭٭تکلیف اور مصیبت کے وقت بدن کا ہلنا یا ہلانا ایک نفسیاتی بات ہے کہ انسان غیر اختیاری اور غیر ارادی طور پر ایسا کرتا ہے اور اس سے عاجزی کی ایک پہلو بھی نمایاں ہوجاتی ہے ۔
قصہ مختصر:
٭٭یہ خاتون بالکل اس خیال اور عقیدے سے آئی ہوئی تھی کہ ‘‘بابا’’ ہمارا سنتا ہے۔ہماری درخواستیں آگے اللہ میاں کے حضور پیش کرتا ہے ،اور اللہ میاں ۔نعوذ باللہ۔ان کے آگے مجبور ہے ،اور ان کی درخواست پر فیصلہ صادر فرماتا ہے ،کیونکہ یہ اللہ میاں کا چہیتا ہے اور چہیتے کی ہر بات مانی جاتی ہے خواہ کسی کی اپنی مرضی ہو یا نہ ہو۔
اس طرح کا عقیدہ بلا شک وریب شرک کا عقیدہ ہے اور اس طرح کرنے سے انسان بلا شک وریب مشرک بن جاتا ہے۔ان بد عقیدہ لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ موسی علیہ السلام کی دعا چالیس سال بعد قبول ہوئی تھی ،اس طرح ایوب علیہ السلام بھی ایک مدت مصیبت سے گزر کر اور اللہ میاں سے مسلسل مانگ مانگ کر اس دعا قبول ہونے میں بھی ایک عرصہ لگاتھا ۔کیونکہ انسان دعا مانگتا رہے گا کیونکہ وہ محتاج ہے لیکن اس کی دعا کب قبول ہوتی ہے یہ اللہ عزوجل کی رضا و مشئیت پر موقوف ہے کائنات میں کوئی بھی اللہ عزوجل کو مجبور کرنے والا نہیں ،چاہے کو ئی جلیل القدر نبی علیہ السلام ہو ،مقرب فرشتہ علیہ السلام ہو یا کوئی ولی اللہ رحمہ اللہ۔
کسی کی دعا جلد قبول نہ ہونے کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ اللہ عزوجل اس سے ناراض ہے اس لئے اس کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ یہ ہماری دعائیں اللہ عزوجل کی دربار میں موجود رہتی ہیں اور اس کی کسی نہ کسی شکل میں ہمیں فائدہ ملتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
﴿ما من مسلم یدعو اللہ بدعوۃ الا استجاب لہ فہو من دعوتہ علی احدی ثلاث اما ان یعجل لہ فی الدنیا واما ان تدخر ویؤجر فی الآخرۃوام ان یدفع عنہ من البلاء مثلھا ﴾(معجم الصغیر،باب المیم من اسمہ محمد)
ترجمہ :‘‘ جب کوئی مسلمان اللہ سے دعا مانگتاہے تواس کو تین باتوں میں سے ضرور ایک ملتی ہے :یا تودنیا میں اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے،یا آخرت میں اس کے بدلے اجر ملے گا، یا اس کے بدلے اس دعا کے برابر اس سے کوئی آنے والا مصیبت اللہ عزوجل ہٹاتا ہے۔’’
یہ بھی نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
﴿ یُستَجَابُ لِاَحَدِکُم مَالَم یُعَجِّل ےَقُول: دَعَوتُ فَلَم یُستَجَب لِی﴾(بخاری ،کتاب الدعوات،باب یستجاب للعبد مالم یعجل)
ترجمہ:‘‘تم میں سے ہر شخص کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ اس بارے میں عجلت سے کام نہ لے ،یعنی یہ نہ کہے :میں دعا کرتا رہتاہوں مگر قبول نہیں ہوتی۔’’(مسنون اذکار،ص:25)
لہٰذا دعا ئیں مانگنے میں فائدے ہی فائدے ہیں۔اللہ عزوجل کی تقدیر اور اندازوں پر صبر کرنے کی عادت بنانا چاہئے ۔
پندرہواں باب: دنیا میں بت پرستی کیسے اور کب شروع ہو ئی؟
اﷲ عزوجل نے تخلیق آدم اسلئے کیا کہ بنی آدم علیہ السلام پر اپنی وحدانیت ظاہر کریں۔اور یہ کہ اس کی عبادت کی جائے ۔اور اس دعوے کے تبلیغ کیلئے وقتا فوقتا انبیاء و رسل مبعوث فرمائے۔جنکی دعوت کا بنیا دی نکتہ اﷲ عزوجلکی وحدانیت پر ایمان لانا تھا ۔تمام کے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام نے اﷲ عزوجل کی توحید ووحدانیت کی تبلیغ کی۔اور لوگوں کو اس ایک اﷲ عزوجل کی عبادت کی طرف بلایا ۔ اس دعوت کی انجام دہی میں ان مقدس نفوس کو کذاب ،ساحر، جادوگر اور دیوانوں جیسے برے القاب سے ملقب کئے گئے۔اس دعوتِ توحید کے عمل میں زکریا علیہ السلام کو آرے سے چیرا گیا ، ابراہیم علیہ السلام کوآگ میں ڈالا گیا۔ عیسیعلیہ السلام کوبظاہر سولی پر چڑھایا گیا۔حضرت محمد مصطفیﷺ کو پتھر مارے گئے اور آخر میں کفارِ مکہ کے ظلم و جور کی وجہ سے گھر بار چھوڑنا پڑا۔بنی اسرائیل ایک دن کئی سو انبیاء کو قتل کئے اور پھر بازار میں جاکر اپنے معمول کے کاموں میں مشعول ہو جاتے۔شہادتِ توحید کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿شَہِدَاللّٰہُ اَنَّہ’ لَااِلٰہَ اِلَّا ہُوَ وَالمَلَائِکَۃُ وَاُولُوالعِلمِ قَائِماََ بِالقِسطِ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ العَزِیزُالحَکِیم﴾
ترجمہ:‘‘ اﷲ عزوجل نے خود شہادت دی ہے ۔کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور (یہی شہادت) سب فرشتوں اور اہل علم نے بھی دی ہے،وہ انصاف پر قائم ہے۔اس زبردست حاکم کے سوا فی لواقع کو ئی لائقِ عبادت نہیں۔’’(سورت آل عمران،آیت:18)
توحید کا معنی و مطلب یہ ہے کہ اس ذات پاک کے سوا کوئی اور ہستی یا شے عبادت کا مستحق نہیں ۔اور جو کوئی اﷲ عزوجلکے سوا کسی اور کو اس کی عبادت میں شر یک کر یگا اس کیلئے ارشاد باری ہوا:
﴿وَمَن ےَّدعُ مَعَ اللّٰہِ اِلَہاََ آخَرَ لَابُرہَانَ لَہُ بِہِ فَاِنَّمَا حِسَابُہ’ عِندَ رَبِّہِ اِنَّہ’ لَا ےُفلِحُ الکٰفِرُون﴾
‘‘اور جو کوئی اﷲ عزوجل کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے جس کیلئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اسکے رب عزوجلکے پاس ہے۔بیشک کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔’’ (مومنون،آیت: 117)
٭ہم غلام، وہ آقا،٭ہم عبد، وہ معبود،٭ہم مملوک، وہ مالک،٭ہم مخلوق، وہ خالق،٭ہم مرزوق، وہ رازق و رزاق ،٭ہم مانگنے والے، وہ عطاء کرنے والا،٭ہم عاجز وبے بس ،و ہ بے نیاز،٭ہم محتاج ،وہ غنی۔
اسلئے اگر ہمارے :
٭ضروریات پوری کرنیوالا،٭مصیبت کے وقت مدد کرنیوالا،٭بیماری سے شفاء دینے والا
، ٭ دوسروں سے بے نیاز کرنے والا وہی ہے۔ ’’
تو فطری بات ہے کہ ہم بھی اسی اللہ عزوجل کا ہو جائے کیونکہ دنیاوی اصول ہے کہ:
‘‘ غلام اپنے آقا کی نافرمانی کر ے تو اسے سزا ملتی ہے،مانگنے والا اگر دینے والے کی نکیر کرے تو اسے وہ دینا بند کر دیتا ہے۔لیکن اﷲ عزوجل ہماری نافرمانیوں کے باوجو د ہمیں اپنے احسانات میں بھولتا نہیں ۔ہم پر اپنے نعمتوں کی بارش روکتا نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ صرف اسکی ذات ہی عبادت کے لائق ہے اور ہم کسی صورت میں بھی اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔
اسلئے ارشادہوا:
﴿یَااَیُّہَا النَّاسُ اعبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُم وَالَّذِینَ مِن قَبلِکُم لَعَلَّکُم تَتَّقُون٭ اَلَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الاَرضَ فِرَاشاََ وَالسَّمَاءَ بِنَاءََ وَاَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءََ فَاَخرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزقاََ لَّکُم فَلاَ تَجعَلُوا لِلّٰہِ اَندَاداََ وَاَنتُم تَعلَمُون﴾
ترجمہ:-‘‘لوگوں ،بندگی اختیار کرو اپنے اس رب عزوجل کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں اس سب کا خالق ہے۔ عجب نہیں کہ تم (دوزخ سے) بچ جاؤ۔وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا اور آسمان کی چھت بنائی اور اوپر سے پانی برسایا اور اسکے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچا یا۔بس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اﷲ مد مقابل نہ ٹھہراؤ۔’’ (سورت قرہ ،آیات:22,21)
ابولفداء محمد اسماعیل ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی 774 ہجری اپنی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر میں یوں لکھتے ہیں:
ترجمہ:ـــ‘‘ان تما م مذکورہ اشیاء کا خالق ہی ہر قسم کی عبادت کا صحیح حقدار ہے۔’’( تفسیر ابن کثیر ، سورت بقرہ،آیت:22)
اسلئے غیر اﷲ کو پکارنے کو شرک کہا گیا ہے۔جو انسان کو ایمان سے خارج کرتا ہے۔
قبورِ اولیاء رحمہم اللہ اور انبیاء علیہم السلام ۔۔۔۔۔بت پرستی کا نقطہء آغاز
دنیا میں اللہ عزوجل کی ذات وصفات کے ساتھ شرک اور بتوں کی عبادت ،اپنے اپنے زمانے کے نیک لوگوں ،اولیاء اللہ رحمہم اللہ ،انبیاء علیہم السلام کی قبروں پر جاجاکر دعائیں مانگنے اور ان بزرگ اور جلیل القدر ہستیوں کی عبادت کی وجہ سے پھیلی ہے۔مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ہم ان نیک لوگوں کی مجسموں کی عبادے نہیں کرتے بلکہ صرف اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ عزوجل کے قریب کرسکتے ہیں،ان کے اس باطل عقیدے کی رد میں ارشادِ ربانی ہوا:
﴿مَا نَعبُدُہُم اِلاَّ لِےُقَرِّبُونَا اِلَی اللّٰہِ زُلفٰی﴾ (سورت زمر آیت:3 )
ترجمہ:‘‘ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے مگر صرف اس لئے کہ یہ (نیک لوگ) ہمیں اللہ عزوجل کے قریب کردیں۔’’
امام فخرالدین رازی اس آیت کا مطلب بیان کرتے ہو ئے لکھتے ہیں:
‘‘ اولیاء اور نیک لوگ رحمہم اللہ جب مرجاتے تو لوگ ان کی شکل و صورت پرمورتیاں بنالیتے اور ان کی تعظیم میں لگ جاتے اور اس سے ان کا مقصد ان وفات شدہ بزرگوں کی تعظیم ہوتی تاکہ وہ بزرگ، اللہ عزوجلکے دربار میں ان کے سفارشی ہو۔’’ (تفسیر کبیر،سورت نوح:23)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ متوفی 1176ہجری اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
‘‘اور بعض لوگوں کا اعتقادہوتا ہے کہ سردار اور مدبر تو اللہ ہی ہے لیکن وہ کبھی کبھی اپنے بعض بندوں کو بزرگی اور معبودیت کا خلعت پہنا دیتا ہے اور بعض خاص کاموں کا ان کو اختیار مل جاتا ہے ،وہ ان کی سفارش کو قبول کرتا ہے جیسے کوئی شہنشاہ کسی حصہ ملکی پر کسی بادشاہ کو بھیجتا ہے اور وہ بجز بڑے بڑے کاموں کے اس ملک کی پوری تدبیر اُس کے سپرد کردیتا ہے۔’’
جاہلوں کے عقائد اور ان کا ان نیک بندوں سے ڈرنے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :
‘‘اس وجہ سے ایسے شخص(نیک بندہ) کی حق میں اُن لوگوں کو(جاہل معتقدین اور قبر پرستوں وغیرہ کو)بنداگانِ خداکہنے کی جراء ت نہیں ہوا کرتی کہ کہیں وہ اوروں کے برابر نہ ہوجائیں ۔ وہ بجائے اس نام(بندہ خدا) کے ان کو ابن اللہ اور محبوبِ الٰہی کہتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کا غلام سمجھتے ہیں وہ اپنانام عبد المسیح اور عبد العزی رکھتے ہیں ۔عام یہود اور نصاری کو اور مشرکین کو یہ مرض ہوتا ہے ۔اور فی زماننا (ہمارے زمانے میں)اسلام میں بھی ایسے غالی(حد سے گزرنے والے) منافق موجود ہیں۔’’ (حجۃ اللہ البا لغۃ،فصل حقیقتِ شرک،مطبوعی دارالاشاعت کراچی،ص:104)
شاہ صاحبرحمہ اللہ ایک اور جگہ اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ان بُتوں کو صاف‘‘ قبلہ’ ’تحریر فرماتے ہیں:
‘‘مشرکین کا عقیدہ تھا کہ پہلے صلحاء رحمہم اللہ نے جو خدا کی خوب عبادت کی اور بارگاہِ الٰہی میں مقرّب ہو گئے ہیں خدا نے ان کو اُلوہیت عطاء کردیا ہے۔۔۔۔۔۔مشرکین کا قول ہے کہ بغیر ان کی پرستش شامل کئے عبادت مقبول نہیں ہوتی ،بلکہ خدا کا رتبہ نہایت بلند ہے اس کی عبادت سے تقرّب الٰہی حاصل نہیں ہوتاالبتہ ان لوگوں کی پرستش ضروری ہے
تاکہ یہ قربِ الٰہی کیلئے ذریعہ بن جائے ۔۔۔۔۔۔ اسی لئے مشرکین نے ان (بزرگوں)کے نام کے پتھر( کے بت بنا کر)تراش لئے۔ جب وہ (مشرکین) اُن بزرگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اُن پتھروں کو اپنی توجہ کا‘ قبلہ’ بنا لیتے۔۔۔۔۔۔اسی وجہ سے اللہ عزوجل نے ان مشرکین کے رَد میں تنبیہ فرمائی کہ حکومت اور قدرت صرف اللہ عزوجل ہی کا خاصہ ہے اور کبھی فرمایا:
﴿اَلَہُم اَرجُل‘’ یَّمشُونَ بِہَا اَم لَہُم اَیدِِ ےَبطِشُونَ بِہَا اَم لَہُم اَعےُن‘’ ےُبصِرُونَ بِہَا اَم لَہُم اَذَان‘’ ےَسمَعُونَ بِہَا﴾ (اعراف:195)
‘‘کیا ان کے پاؤں ہیں جن کے بل پر وہ چلتے ہیں یا ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑ سکتے ہیں یا آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں یا کان ہیں جن سے وہ کچھ سن سکیں۔’’ (حجۃ اللہ البالغہ،باب توحید کا بیان،ص:101)
یہی حال آج کل کے کلمہ گو مشرکین کا بھی ہے،جب ان سے کہاجاتا ہے کہ ان نیک لوگوں سے حاجات طلب کرنا شرک ہے تو وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم ان انیک لوگوں کی عبادت نہیں کرتے ،ان سے حاجات طلب نہیں کرتے ،بلکہ صرف یہ ہے کہ چونکہ ہمارا مرتبہ اتنا نہیں کہ اللہ عزوجل تک رسائی ملے اس لئے یہ نیک لوگ اور اولیاء اللہ رحمہم اللہ ہماری التجائیں اور دعائیں اللہعزوجل کی دربار میں پیش کرتے ہیں ۔کیا ان کے شرک میں اور مشرکینِ مکہ کی شرک میں عملاََ کوئی فرق ہے؟ بالکل نہیں ،اور اگر ہے بھی تو یہی کہ وہ نصب کئے گئے بتوں کی عبادت کرتے تھے اور آج کل کے کلمہ گو ،اولیاء اللہ رحمہم اللہکے مزارات کی عبادت کرتے ہیں ،ان کے آگے سجدے کرتے ہیں ،ان سے حاجات طلب کرتے ہیں۔
قومِ نوح علیہ السلام کے پانچ معبودین
اسی طرح قومِ نوح علیہ السلام جن پانچ بُتوں کی عبادت کیاکرتے تھے وہ بھی اپنے وقت کے نیک اور بزرگ لوگ تھے۔
صحیح بخاری میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:
﴿اسماء رجال صالحین من قوم نوح،فلما ہلکوا اوحی الشیطان الی قومہم ان انصبوا الی مجالسہم التی کانوا یجلسون انصاباََ وسموہا باسماۂم ،ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ہلک اولئک وتنسخ العلم عُبِدَت﴾(صحیح بخاری،کتاب التفسیر،باب وداََ ولا سواغا۔۔ ولا یغوث ویعوق)
ترجمہ:‘‘(قومِ نوح علیہ السلام کے پانچ معبودین یعنی وس ،سواغ،یغوث،یعوق،نسر )قومِ نوح علیہ السلام کے پانچ نیک لوگ تھے ،جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ ان نیک افراد کے مجسمے بناکر وہاں رکھ دیں جہاں یہ نیک لوگ بیٹھا کرتے تھے،اور ان مجسموں کو ان نیک افراد کے نام پر منسوب کریں ،انہوں نے ایسا ہی کیا ،اور ان کی عبادت اس وقت نہیں کی جاتی تھی۔لیکن جب وہ موجودہ لوگ مرگئے اور ان کے بارے میں معلومات اگلوں کو نہ رہی تو ان کی عبادت کی جانے لگی۔’’
تفسیر کے امام،امام ابن جریرطبری رحمہ اللہ متوفی 310 ہجری ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
‘‘یہ اولادِ آدم کے نیک لوگ تھے،لوگ ان کی پیروی کرتے تھے، جب یہ اولیاء اللہ وفات پا گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا :اگر ہم ان کی شکل بنا لیں ،جب ہم ان کی شکلوں کو دیکھ کر ان کی یاد تازہ کر لیں گے اور عبادتِ الٰہی میں ذوق و شوق پیدا ہوجایا کرے گا ،چنانچہ اُنہوں نے ان کے مجسمے بنا ڈالے ۔جب موجودہ لوگ مرگئے اور نئی نسل آئی تو شیطان نے ان کو یہ پٹی پڑھائی کہ تمہارے اسلاف تو ان کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی کے صدقے بارش سے سیراب ہوتے تھے ،چنانچہ اُنہوں نے بتوں کی پوجا شروع کردی۔’’ (تفسیر طبری سورت نوح،آیت:23)
امام رازی رحمہ اللہ متوفی606 ہجری سورت نوح کی آیت:23 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
﴿انہ کان یموت اقوام صالحون فکانوا یتخذون تماثیل علی صورہم ویشتغلون بتغظیمہا﴾
ترجمہ:‘‘یہ کہ جب ان میں کوئی نیک بندہ فوت ہوجاتا تو اس کی صورت پر اس کا مجسمہ بناتے اور اس کی تعظیم میں مشغول ہوجاتے۔’’
آگے لکھتے ہیں :
‘‘جب کوئی بادشاہ یا بڑی شخصیت مرجاتا تولوگ اس کی مورتی بنا کر اس کو دیکھا کرتے تھے،پھر( موجودہ لوگوں کے مرنے کے بعد) اور لوگ آئے تو انہوں نے (غلطی سے)یہ سمجھا کہ ہمارے آباؤ اجداد ان مورتیوں کی عبادت کیا کرتے تھے، تو وہ بھی ان کی عبادت کرنے لگے ۔ ’’ (تفسیر کبیر، سورت نوح:23)
امام رازی رحمہ اللہ متوفی606 ہجری آگے وہی تفصیل کرتا ہے جو ابن جریر طبری رحمہ اللہمتوفی310 ہجری کی ہے۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ بتوں کی عبادت سے مشرکین کا مقصد(چونے اور پتھر وغیرہ کی بنی) بتوں کی عبادت نہیں تھابلکہ ان مشرکین کا اصل مقصد ان نیک لوگوں اور اولیاء اللہ کی عبادت اور رضا طلبی تھی جن کی صورت پر یہ بت بنائے گئے تھے ،تاکہ یہ نیک لوگ ان خوش ہو کر اللہ کی رضا کا سبب بنے۔
امام رازی رحمہ اللہ متوفی606 ہجری سورت بقرہ کی آیت :22 کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہے:
﴿انہ متی مات منہم رجل کبیر یعتقدون انہ مجاب الدعوۃ ومقبول الشفاعۃ عند اللہ تعالی اتخذوا صنماََ علی صورتہ ۔۔۔۔۔۔۔ ﴾
ترجمہ:‘‘جب کوئی عظیم بندہ جس کے بارے میں ان کا عقیدہ ہوتا کہ اس کی دعا قبول اور اس کی سفارش اللہ عزوجل کے ہاں مقبول ہے، مرجاتا تو وہ(مشرکین) اس (نیک شخص)کی شکل پر بت بنالیتے اور اس کی عبادت اس عقیدے کے ساتھ کرنے لگتے کہ یہ روزِ قیامت اللہ کے دربار میں ان کی سفارش کرے گااس کی خبر اللہ تعالیٰ نے سورت یونس:18میں دی ہے : یہ (بت جن کی ہم عبادت کرتے ہیں ) اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔’’(سورت بقرہ،آیت:22)
ایک اور مقام پر امام رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ترجمہ:‘‘اگر کوئی اعتراض کرے کہ کوئی عقل مند انسان پتھر یا لکڑی کی عباد کیوں کر سکتا ہے ؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کی عبادت اس خیال سے کرتے تھے کہ ان مشرکین کا عقیدہ تھا کہ یہ مورتیاں ستاروں کی شکلوں پر بنائی گئی ہیں، یا فرشتوں اور گزشتہ حضرات انبیاء اور اولیاء صالحین کی شکلوں پر بنائے گئے مورتیاں ہیں ۔اور ان مورتیوں کی عبادت سے دراصل ان کا مقصدان کو اپنی عبادت کا قبلہ بناناتھا، نہ کہ حقیقتاً ان مورتیوں کی عبادت۔’’ (تفسیر کبیر ، سورت زمر،آیت:3 )
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
‘‘اُنہوں نے یہ بت اپنے انبیاء اور اولیاء کے ناموں پر بنائے تھے ،اور ان کا عقیدہ تھا کہ جب ہم ان کی عبادت کریں گے تو یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی بنیں گے۔اور اس کی مثال ہمارے زمانے میں لوگوں کا اولیاء اللہ کی قبروں کی حد درجہ تعظیم میں مشغولیت ہے اس عقیدے کے ساتھ کہ جب ہم ان اولیاء کی قبور کی تعظیم کریں گے تو یہ ہمارے سفارشی بنیں گے۔’’ (تفسیر کبیر، یونس:18)
سورت احقاف آیت:5
﴿وَمَن َاضَلَّ مِمَّن یَّدعُوا مِن دُونِ اللّٰہ ِمَن لَا یَستَجِیبَ لَہ’ اِلٰی یَومِ القِےَامَۃِ وَہُم عَن دُعَائِہِم غٰفِلُون﴾(سورت احقاف،آیت:5)
ترجمہ:‘‘اور اس شخص سے کون زیادہ گمراہ ہوگا (یعنی نہیں)جو اللہ کے ماسوا ان کو پکارتے ہیں جو قیامت تک اس کی پکار کو نہیں سن سکتے اور وہ اس (بے وقوف)کی پکار سے غافل ہیں۔’’
کی تفسیر میں امام رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
‘‘اور یہ مطلب لینا بھی مناسب ہے کہ اس سے مراد اللہ عزوجل کے ماسوا تمام باطل معبودان، فرشتے،عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام اور بُت ہو۔’’(تفسیر کبیر،تفسیر سورت احقاف،آیت:5)