اسلام میں درختوں، پتھروں اور مقامات سے تبرک لینے کا کوئی تصور نہیں

شیخ احمد رومی حنفی رحمہ اللہ متوفی1000؁ ہجری اپنی کتاب مجالس الابرار میں لکھتے ہیں :

قال ابوبکر طرطوشی :انظروا۔۔۔۔رَحِمَکُمَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔۔۔۔اَینَما وجدتم شجرۃ یقصدھاالناس ویعظمونہا ویرجون البرء والشفاء من قِبَلِہَا و یضربون بھا المسامیر وَالْخِرَقْ فہی ذات انواط فاقطعوہا

‘‘امام ابوبکر طرطوشی رحمہ اللہ متوفی 520ہجری نے فرمایا:

‘‘دیکھو!اللہ تم پر رحم کرے،جہاں کہیں بھی تم ایسا درخت دیکھو جولوگوں (کی حاجات)کا مقصود ہو ، اور وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں ،اور اس سے تندرستی اورشفاء کی اُمید رکھتے ہیں،ان میں کیل ٹھونکتے ہیں،اور ان پر کپڑے لٹکاتے ہیں، تو وہ (درخت ) ذاتِ انواط ہے ،پس اسے کاٹ دو ۔’’ (مجالس الابرار،مطبوعہ ریاض،ص:20)

یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عمرفاروق کو پتہ چلا کہ لوگ مقامِ حدیبیہ پر اس درخت کے پاس نماز پڑھنے کے ارادے اور قصد سے جاتے ہیں جس کے نیچے نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے بیعت لیا تھا ،تو عمرفاروق نے شریعت کے اُصول سدِّ ذرائع پر عمل کرکے اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا ۔ فاعتبروا یا اُولی الابصار۔

میں نے اپنے علاقے کے ایک مشہور قبرستان میں مرد وخواتین کو دیکھا کہ وہ ایک قبر کے پاس دوردراز سے آتے اور اس قبر پر سے کوئی بھی پتھر اُٹھا کر اپنے بدن یا بدن کے جس حصے میں تکلیف ہوتی ،اس پرمَلتے۔اس کے بعد قبر پر کھڑے درخت میں پتھر پھینکتے اور جب تک پتھر درخت میں اٹک نہ جائے تو اس وقت تک پھینکتے رہتے، اور اس کے ساتھ شائد یہ عقیدہ رکھتاہو کہ پتھر درخت میں اٹک جائے تو مراد پوری ہوگی۔مگر یہ بے وقوف لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اس لئے کہ جب تک پتھر درخت میں اٹک نہ جائے اس وقت پھینکتے ہیں،اگر ان میں ذرا سی بھی عقل ہوتی تو ان کے اس جاہلانہ عمل ہی میں اس کام کا غلط اور خرافات ہونا ظاہر ہے ،وہ اس رح کہ اگر یہ اس قبر کا یا قبر والے کا کمال ہوتا تو یا تو پہلی ہی باری میں اٹک جاتایا ہزار بار پھینکتے پر بھی اٹک نہ جاتا۔

قارئین! قبر پر کھجور ،یا بیری وغیرہ کا درخت اُگنانہ ہی کوئی کَرامت ہے اور نہ ہی شرعاً اس پر کوئی دلیل ہے۔میں نے مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں اور مکہ مکمہ میں جنت المعلیٰ میں اہلِ بیت،ازواج مطہرات اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قبور دیکھے ہیں مگر ان کے قبور پر نہ ہی کھجور کے درخت کھڑے ہیں اور ہی بیری کے۔بلکہ بیری درخت کے بارے میں ہم قارئین کو مزید کچھ بتاناچاہتے ہیں:

مدیر مجلۃ الدعوۃ جناب محترم امیر حمزہ صاحب سلطان باہو رحمہ اللہ کے دربار کے متعلق مزید رقمطراز ہیں:

‘‘اسی طرح دربار کے پیچھے ایک بیری کا درخت ہے،اس درخت کے نیچے مرد اور عورتیں جھولیاں اور دا من پھیلا کر بیٹھے ہوئے ہیں ،جس کی جھولی میں پتا گرجائے وہ سمجھتا ہے مجھے بیٹی مل گئی،جس کے دامن میں پھل(بیر)لگنے کے موسم میں بیر گرگیا، وہ سمجھتا ہے لڑکا مل گیا۔’’

معلوم ہواکہ عرب کی مشرکین کی طرح نام نہاد مسلمان بھی درختوں کی پوجا پاٹ کرتا ہے ، ان درختوں کے ساتھ چادریں،سبزرنگ کے دوپٹے،جانوروں کی رسیاں اور پٹے بطورِ تبرک باندھتا ہے اور یہاں آکر اپنی مرادیں طلب کرتا ہے ۔ ’’ (کلمہ گو مشرک،مطبوعہ دارالاندلس لاہور، ص :95,94 )

ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین کی طرف نکلے،اور قریش ایک سبزدرخت تھاجس کے پاس مشرکین ہرسال آتے،اور اس پر اسلحہ لٹکاتے ،اس کے پاس بیٹھتے اور جانور ذبح کرتے ۔اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حنین کی سفر پر نکلے اور ہم نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ۔اور مشرکین کایک بیر کا درخت تھا جس کے پاس آتے اور (اعتکاف کی طرح) بیٹھتے اوراس پر اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس درخت کو مشرکین ذاتِ انواط کہتے تھے، جب ہم اس درخت کے پاس سے گزرے تو تو ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ :

‘‘جس طرح ان مشرکین کیلئے ذاتِ انواط ہے ، ہمارے لئے بھی اسی طرح کا ذاتِ انواط بنا دیں ۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا:

 ‘‘سبحان اللہ ،اللہ اکبر(یعنی اللہ شرک سے پاک ہے اور اللہ سب سے بڑاہے) ! یہ تو اسی طرح ہے جیسے بنی اسرائیل نے(موسیٰ علیہ السلام سے) کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایک معبود مقرر کردیں جس طرح ان(مشرک قوم) کے معبود ہیں ۔ البتہ ضرور تم پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔۔’’ (سنن ترمذی،کتاب الفتن ،باب لترکبن سنن من کان قبلکم)

مصنف عبدالرزاق ،باب سنن من کان قبلکم،حدیث نمبر:20763 ،،

٭مسند احمد،حدیث ابی واقد اللیثی رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:22537،،

٭صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ ، ذکر الاخبارعن اتباع ھذہ الاُمۃ سنن من قبلھم من الاُمَم،،،، اور ،،،

٭السنۃ لابن ابی عاصم حدیث نمبر:76کی تصریح کے مطابق وہ بیری کا درخت تھا ۔

 مشرکین اس درخت پر اسلحہ لٹکا تے تھے تبرک کیلئے ، اور سلطان باہورحمہ اللہ کے دربار میں بھی بیری کے درخت کے نیچے لوگ بیٹھ کر اس درخت سے اولاد طلب کرتے ہیں ۔ذرا فرق ہمیں بتادیاجائے ؟

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ تبرک کیلئے درختوں پر اسلحہ لٹکانا، ان میں پتھر پھینکا ان میں کپڑے لٹکاکر گرہیں لگانادر حقیقت ان درختوں کو﴿ اِلٰہ﴾ بناناہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیری کے درخت کے ساتھ کوئی عقیدہ وابستہ کرنا شریعت کی رُو سے بے اصل اور بے بنیاد ہے۔

میں نے جب ایک قبرستان میں لوگوں کو ان خرافات کرتے دیکھا تو وہاں کے ایک عالم سے کہا کہ یہ کام جائز ہیں ؟ اس نے کہا بالکل نہیں ۔میں نے کہا پھر آپ کے گاؤں کے لوگ یہ کرتے ہیں اس سے معلوم ہواکہ آپ حضرات نے لوگوں کی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔اس نے کہا کہ یہ ہمارے گاؤں کے نہیں اردگرد کے دیہات سے آتے ہیں۔پھر ایک دن میں نے ایک لڑکے کو دیکھا کہ آنکھوں پر پتھر مَل رہاتھا، اس کی آنکھوں میں ہلکا سا بھینگا پن تھا،میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ایک لڑکے نے بتایا کہ یہ فلاں مولوی صاحب کا بھانجاہے،اور اسی مولوی صاحب کانام لیا، جس نے مجھے کہاتھا کہ ہمارے گاؤں کے لوگ ایسا نہیں کرتے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top