مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب کے اصطلا حا ت اور افعال
مافوق الاسباب کی تعریف
وہ کام جو دنیاوی اسباب وذرائع کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ اللہ عزوجل کی مشیئت کے محتاج ہوتے ہیں ، ان کو (مافوق الاسباب) کہتے ہیں۔ مثلاً …دل میں ہدایت جاگزیں کرنا،…دوائی میں مرض ختم کرنے کی تاثیر ڈالنا،…بیج سے نیاپودا یا درخت اُگانا وغیرہ۔ ان کاموں کو کائنات میں اللہ عزوجل کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا، نہ ہی انبیاء، نہ ہی فرشتے علیہم السلام اور نہ ہی اولیاء اللہ رحمہم اللہ ۔
ماتحت الاسباب کی تعریف
وہ کام جو دنیاوی… اسباب وذرائع اور… انسانی محنت ، …وقت اور …عقل وفہم کے محتاج ہوتے ہیں، مثلاًکاشت کاری… کسان کی محنت ،…زمین کی تیاری ،… خاص موسم،…بیج، … مناسب کھاد اور… آبپاشی وغیرہ کا محتاج ہے۔ ان تمام کاموں کے کرنے کا اختیار، قابلیت اور صلاحیت اللہ عزجل نے انسان کو دیا ہے اور انسان ہی یہ سارے کام انجام دیتا ہے۔
ان (ما تحت الاسباب) کاموں کے کرنے کی نسبت اللہ عزوجل کو کرنا گمراہی ہے۔ اس لئے گناہ کے کاموں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا بد ترین گمراہی ہی نہیں بلکہ کفر ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ ۔نعوذباللہ۔اللہ میرے شراب پینے سے راضی ہے اس لئے تو میں پیتاہوں، تویہ کفر ہے اس لئے کہ اگر کوئی شراب پینے پر (بسم اللہ) کہے تو وہ بھی کفر ہے اسلئے اللہ کو شراب پینے پر راضی سمجھنا بھی کفر ہے ۔وجہ یہ ہے کہ مشرک بھی کہیں گے کہ:
ﵟسَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ148ﵞ
’’ یہ کافر کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ہر گز شرک نہ کرتے۔‘‘
اس کا جواب اللہ یہ فرماتاہے کہ:
ﵟوَقَالُواْ لَوۡ شَآءَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَا عَبَدۡنَٰهُمۗ مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ 20ﵞ
’’(مشرکین کہیں گے کہ)اگر اللہ چاہتا تو ہم ان غیراللہ کی عبادت نہ کرتے۔(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ ان (مشرکین کو) اس کی کچھ خبر نہیں،یہ تو صرف اٹکل پچو جھوٹ باتیں کہتے ہیں۔‘‘
اپنے شرک کی ثبوت میں مشرکین کے یہ بیہودہ دلائل بیکار ہے اس لئے کہ:
’’ نیک کاموں میں اللہ عزوجل کا ارادہ شامل ہوتا ہے، اور گناہ کے کاموں میں اللہ عزوجل کاارادہ شامل نہیں ہوتا ۔‘‘
}مافوق الاسباب{ اور }ماتحت الاسباب{ اصطلاحات کی دلیل
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان مافوق الاسباب اُمور و افعال کا ذکر فرماتا ہے جو مخلوق میں کوئی بھی انجام نہیں دے سکتا، حتّٰی کے انبیاء علیہم السلام بھی نہیں ، اور انبیاء علیہم السلام میں سے سردارِ انبیاء محمد مصطفیٰﷺبھی ان کو انجام نہیں دے سکتا، چند اُمور بطورِ مثال و عبرت نظرِ قارئین ہیں:
٭کیا مخلوق میں کوئی ہے جو ایک پرندے کو ہوا میں تھام سکے؟
ﵟأَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ﵞ(سورت نحل:79)
’’کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہوکر فضا میں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا
کوئی اور تھامے ہوئے نہیں۔بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئےنشانیاں ہیں۔‘‘
٭ مافوق الاسباب نفع یا نقصان نہ کوئی نبی پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ولی یا فرشتہ۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟمَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٖ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَاۖ وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ 2 ﵞ (سورت فاطر:2)
’’اللہ تعالیٰ جو رحمت و مہربانی لوگوں کے لئے کھول دے، تو اللہ کے سوامخلوق میں) اس رحمت
کو روکنے والاکوئی نہیں، اور اللہ جس رحمت و مہربانی کو روک دے، تو اللہ کے بعد (مخلوق میں)
اس رحمت کا کوئی جاری کرنے والا نہیں۔ اور وہی غالب اور حکمت والاہے۔‘‘
٭بے ستون آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے رکھنا اور زمین پر نہ گرنے دینا نہ ہی نبی کا کام ہے اور نہ ہی ولی کا۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟأَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ
وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ﵞ (سورت حج:65)
’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخرکر دی ہیں، اور اس کے حکم سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی(تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں)۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہیں کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر نہ گرے۔بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت و نرمی کرنے والا اور مہربان ہے۔‘‘
٭اگر آسمان یا زمین زمین اپنی جگہ چھوڑ کر ڈگمگائے تو نہ ہی کوئی نبی ان کو تھام سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ولی یا مقرب فرشتہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟإِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا ﵞ (سورت فاطر:41)
’’بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں، اور اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام نہیں سکتا۔ وہ حلیم اور غفور ہے۔‘‘
٭بے ستون آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے رکھنا اور زمین کو ہلنے جلنے اور حرکت سے روکے رکھنا تاکہ اس پر بسنے والے مخلوق کی زندگی مشکل نہ ہو، یہ کام نہ کوئی نبی کر سکتاہے اور نہ ہی کوئی ولی یا مقرب فرشتہ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟخَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ
وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ
كَرِيمٍ هَٰذَا خَلۡقُ ٱللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ بَلِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖﵞ (سورت لقمان:11،10)
’’اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستون کے پیدا کیاہے، تم انہیں دیکھ رہے ہو۔اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وہ تمہیں لے ڈگمگائے نہیں۔اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلادئے۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس(زمین) میں ہر قسم قابلِ قدر جوڑے نباتات اگائیں۔یہ تو ہوئی اللہ کی (پیداکردہ) مخلوق۔اب تم مجھے دکھاؤکہ اللہ کے سوا (پیر، فقیر، ولی،نبی،جیلانی، بدوی،رفاعی) نے کونسی مخلوق پیدا کی ہے۔ ( ایسی بات ہر گز نہیں) بلکہ یہ ظالم (مخلوق پرست) کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘
اللہ کی طرف سے ملنے والی مصیبت نہ کوئی نبی ٹال سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ولی۔ بھلے کوئی اُن کو چیخ چیخ کر پکارتا رہے۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ (سورت انعام:17)
’’اور اگر تجھ کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی خیرپہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
٭ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی خیر وبھلائی بھی نہ کوئی نبی ٹال سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ولی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟوَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٖ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُﵞ( یونس:107)
’’اور اگر تجھ کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ اور
اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی خیرپہنچانا چاہے تواس کے کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں، وہ اپنے
بندوں میں سے جس پر چاہے فضل برسا دے، اور وہ بڑی مغفرت ، بڑی رحمت والا ہے۔‘‘
٭اگر اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے کہ پانی چوس جائے تو مخلوق میں نہ کوئی نبی اور نہ ہی کوئی ولی اسے جاری کروا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ﵟقُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭﵞ( الملک:30)
’’(اے نبی) آپ کہہ دیجئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں (ناقابلِ رسائی حد تک) نیچے چلاجائے تو کون ہے(اللہ کے سوا) جو تمہارے لئے نتھرا ستھرا پانی لائے؟
ﵟأَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَﵞ
’’ بھلا دیکھوتو جو فصل تم بوتے ہو (یعنی جو بیج بوتے ہو)اس کو تم اُگاتے، ہو یاہم۔‘‘
ﵟقُلۡ أَفَرَءَيۡتُم مَّاتَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ إِنۡ أَرَادَنِيَ ٱللَّهُ بِضُرٍّهَلۡ هُنَّ كَٰشِفَٰتُ ضُرِّهِۦٓ أَوۡ أَرَادَنِي بِرَحۡمَةٍ هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكَٰتُ رَحۡمَتِهِۦۚقُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُۖﵞ
’’(اے نبی) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جن (اولیاء، شیخ جیلانی ، عطاری، مداری)کو
تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ (لوگ) اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ(لوگ) اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟آپ کہہ دیں کہ اللہ میرے لئے کافی ہے، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
ﵟإِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ ﵞ (سورت انعام:95)
’’بے شک اکیلا اللہ عزجل ہی دانے اور بیج کو پھاڑ کر اس سے نیا پودا نکالتا ہے۔‘‘
اس طرح بے شمار قرآنی آیات اس بات پر گواہ ہیں۔
احادیث سے دلیل
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لاَ یَقُولَنَّ زرَعْتُ،وَلٰکِنْ لَیَقُلْ: حَرَثْتُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ۔فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالزَّارِعُ (تفسیر قرطبی،،،تفسیر ابن کثیر)
’’یوں نہ کہو کہ میں نے اُگایا بلکہ یوں کہوکہ میں نے بویا۔‘‘
اور بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ: ’’ اُگانے والااللہ ہی ہے۔‘‘
ان اصطلاحات کی دلیل قرآن و سنت کی مندرجہ ذیل آیات اور احادیث ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ﵟأَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ79ﵞ
’’کیا ان لوگوں(منکرین ومشرکین)نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو حکم کے بندھے آسمان کی فضا میں ہیں،جنہیں اللہ کے سوا کوئی اور تھامے ہوئے نہیں۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
ﵟأَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ 63 ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ 64ﵞ
’’ بھلا دیکھوتو جو فصل تم بوتے ہو (یعنی جو بیج بوتے ہو)اس کو تم اُگاتے، ہو یاہم۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
ﵟإِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ 95ﵞ
’’بے شک اکیلا اللہ عزجل ہی دانے اور بیج کو پھاڑ کر اس سے نیا پودا نکالتا ہے۔‘‘
اس طرح بے شمار قرآنی آیات اس بات پر گواہ ہیں۔
احادیث سے دلیل
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
عن ابوہریرہ:لاَ یَقُولَنَّ زرَعْتُ،وَلٰکِنْ لَیَقُلْ: حَرَثْتُ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ۔فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالزَّارِعُ (تفسیر قرطبی،،،تفسیر ابن کثیر)
’’یوں نہ کہو کہ میں نے اُگایا بلکہ یوں کہوکہ میں نے بویا۔‘‘
اور بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ: ’’ اُگانے والااللہ ہی ہے۔‘‘
استمداد یا غیراللہ سے مدد مانگنا
بریلوی یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر مخلوق کچھ نہیں کرسکتا،… اور یہ کہ اگر} غیراللہ{ سے مددمانگناجائز نہ ہوتو پھر قرآن میں یہ کیوں آیاہے کہ:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَﵞ
’’اے ایمان والو! نماز اور صبر کے ذریعے مدد طلب کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا ساتھی(مددگار) ہے۔‘‘
…اور عیسیٰ علیہ السلام کایہ فرماناکہ اللہ کی راہ میں مدد کرنے والاکون ہے؟
سیفی بریلوی کہتے ہیں کہ اگر مخلوق اور غیراللہ سے مددمانگنا جائز نہیں تو یہاں بھی
غیراللہ اور مخلوق (نماز، صبر اور حواریوں)سے مددمانگنا کیوں کر جائز ہوا؟ جیساکہ عیسیٰ
علیہ السلام کا اپنے حواریوں سے مدد مانگنا قرآن میں بایں الفاظ موجود ہے:
ﵟفَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنۡهُمُ ٱلۡكُفۡرَ قَالَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ لۡحَوَارِيُّونَ
نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ52ﵞ
’’مگر جب عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا کفر محسوس کیا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا: کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ کے مددگار ہیں۔‘‘
…قارئینِ کرام!ہم بھی ان باتوں سے انکار نہیں کرتے مگر اس سے یہ بات کہاں ثابت ہے کہ انسان سب کچھ کر سکتاہے۔ ہمارے جوابات کو غور سے پڑھنے کے بعد قارئین کی ذہن صاف ہوجائے گی۔
اس بے جااعتراض کا مدلل اور مسکت جواب
مذکورہ دو آیات جوسیفی بریلوی فرقہ کے مستدل ہیں۔ ہم ان کی الگ الگ جوابات دیں گے ،تاکہ قارئین خوب سمجھ جائیں کہ بریلوی، سیفی عطاری وغیرہم کن کن طریقوں اور دھوکہ آمیز من گھڑت دلائل سے سادہ لوح اور کم علم عوام کی ایمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
…قارئین! آیت: ﵟٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚﵞمیں کسی مخلوق سے مدد مانگنے کی تعلیم نہیں بلکہ مدد تو جناب باری تعالیٰ سے مانگنے کا حکم ہے اور صبر اور نماز ،جوبندہ کا فعل ہے، ایک ذریعہ ہے اللہ کی توجہ حاصل کرنے اور مدد مانگنے کا یعنی صبر اور نماز کی بجاآوری کو ذریعہ بتایا اللہ کی مدد حاصل کرنے کا، اس لئے کہ آیت کے آخر میں اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ﵟإِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَﵞ
’’بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا ساتھی(مددگار) ہے۔‘‘
اس لئے اس آیت سے غیراللہ کی مدد مانگنے پر دلیل پیش کرنا صرف جاہل مریدوں کو مغالطے میں رکھنا ہے۔
…دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اپنی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی کسی تکلیف میں گھر جاتے تو نماز شروع کردیتے۔اور صبر بقول علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ مصائب ختم کرنے کی کنجی ہے۔‘‘ (تفسیرروح المعانی،سورت بقرہ،آیت:45)
صبر کے بارے میں دوسرے روایات بھی تفاسیر اور احادیث میں مذکور ہیں، اس لئے سیفی بریلویوں کا صبر اور نمازکے ذریعے اللہ سے مدد مانگنے کو وفات یافتہ اولیاء سے مدد مانگنے کے برابر قرار دینا جہالت، شرک پسندی اور مفاد پرستی ہے، اللہ تعالیٰ ان کو قرآن کی صحیح سمجھ عطافرمائے،آمین۔
اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی774 ہجری لکھتے ہیں:
’’خذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جنگِ خندق والی رات نبی کریمﷺکے پاس گیا ،تو آپ کو نماز میں مشغول پایا، اور نبی کریمﷺجب کسی کام کی وجہ سے پریشان ہوتے تو نماز شروع کرتے ۔ اور علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ بدر والی رات نبی کریمﷺجاگتے رہے اور پوری رات صبح تک نماز اور دعا میں مشغول رہے۔اورنبی کریمﷺابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا تو آپﷺنے اس سے پوچھا : کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے؟ بتایا : ہاں! آپﷺنے فرمایا: اُٹھو اور نما پڑھو اس لئے کہ نماز شفاء ہے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر،سورت بقرہ:45)
اب یہاں سیفی بریلوی کیا کہیں گے؟ کیا نماز دردِ قولنج کی گولی ہے جسے پانی کے ساتھ کھایا جاتا ہے؟ نہیں بھئی! …بلکہ نماز سبب ہے اس کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے انسان کو بیماری سے شفاء بھی عطا فرماتاہے۔اس طرح صبر اور نماز ذریعہ بتلایاگیاہے اللہ کی مددحاصل کرنے کا۔
…تیسرا جواب یہ ہے کہ سیفی بریلوی فرقہ ذرا اس مفسر یا عالم کانام بتائیں جس نے اس آیت کی تفسیر میں (غیراللہ) سے مدد مانگنے پر استدلال کیاہو ،اور اپنی کتاب یا تفسیر میں نقل کیا ہو۔
قیامت کی صبح تک ان کیلئے مہلت ہے مگر مفسر ہو تو]کل پرسوں[ کا کوئی ہندوستانی نام نہاد خودساختہ مفسر نہ ہو بلکہ:
…صحابہ کرام میں سے ہو،…صحابہ کرام کے شاگردوں تابعین میں سے ہو… تابعین کے شاگردوںاتباعِ تابعین میں سے ہو،…چارمجتہد اماموں میں سے کوئی ہو،…عبداللہ ابن عباس ، مجاہد،حسن بصری ،ا بن ابی حاتم متوفی 277 ہجری سے لے کر…مشہور، …مستند،… معتبر اور …قابلِ اعتماد مفسرین میں سے کوئی ہو۔رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
قارئین! یہ اس لئے کہ اگر… ہر کسی کو… کسی بھی وقت… قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کا حق دیا جائے تو پھر قادیانی ملعون نے جن آیات کی من پسند تاویلات کئے ہیں ،پھر ان کو بھی ماننا پڑے گا ، جبکہ ایسا کرنے کیلئے خود بریلوی ،سیفی فرقے بھی تیار نہیں۔
اس لئے صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی توجہ حاصل کرکے مدد مانگنا قرآن و سنت کی
نص سے ثابت ہے جبکہ غیراللہ یعنی مخلوق سے مافوق الاسباب مدد مانگنا قرآن و سنت کی رُو سے شرک ہے، اس لئے کہ جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کسی مافوق الاسباب اور انسان کی دسترس اور اختیار و قدرت سے باہر کسی فعل کا اپنے لئے بلا شرکتِ غیرے ثابت بیان فرماتا ہے وہی فوراً انسان سے سوال کرتا ہے کہ:
ﵟقُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ
’’تم بتاؤ اگر اللہ عزوجل قیامت تک تم پر رات مسلط کردے، توکیا اللہ عزوجل کے سواکوئی اور ﵟاِلَٰهﵞ ہے جو تم کو روشنی لاسکے،پھر کیوں نہیں سنتے۔‘‘
ﵟ قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭﵞ
’’اے نبی تو کہہ دو کہ اگر تمہارے پینے کاپانی زمین چوس جائے تو کون ہے (یعنی کوئی نہیں )جو تمہارے لئے نتھرا ہوا جاری پانی لائے۔‘‘
مطلب یہ کہ کوئی بھی مخلوق میں ایسی ہستی موجود نہیں جو یہ مافوق الاسباب کام کر سکے، انبیاء مرسلین میں بھی کوئی ایسا نبی نہیں جو یہ کام کر سکے۔
أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ 61
’’کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان ن ہریں جاری کر دیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنادی، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی ﵟاِلَٰهﵞ بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں۔
پھر خود ہی ارشاد فرماتا ہے:
ﵟوَهُوَ ٱلَّذِي مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا 53ﵞ
’’اور وہی ہے(رب تمام کائنات کا پالنہار اورچلانے والا)جس نے دو سمندر ساتھ ساتھ جاری کئے، یہ میٹھا ہے، اور یہ کھاری نہایت تلخ۔اور ان دونوں(جدا اور مختلف ذائقہ رکھنے والے پانی) میں ایک پردہ اور روکنے والی آڑ رکھی،(تاکہ ایک کا پانی دوسرے سے نہ ملے )۔‘‘
أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ 62
’’(کون ہے اللہ کے سواجو)پریشان حال اور مجبور کی پکار کو جب وہ پکارے اسے، کی پکار قبول کرکے اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور ﵟاِلَٰهﵞ بھی ہے؟ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔‘‘
علامہ ابن کثیررحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق تفسیرمیں مسند احمد اور تاریخ ابن عساکر کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث اور چند واقعات ذکر کئے ہیں جو ہم قارئین کے استفادے کیلئے یہاں لکھتے ہیں :
’’ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپﷺ کس چیز کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:اللہ کی طرف جو اکیلاہے،جس کا کوئی شریک نہیں،جو اس وقت تجھے کام آتا ہے جب تو کسی مصیبت میں پھنساہاہو،وہی ہے کہ جب تو جنگلوں میں راہ بھول کر اسے پکارے تو وہ تیری رہنمائی فرما دے ،تیراکوئی کھو گیاہو اور تو اس سے التجاکرے تو وہ اُسے تجھ کو ملادے ،قحط سالی ہوگئی ہو اور تو اس سے دعا
کرے تو وہ موسلادھار بارش تجھ پر برسادے۔۔۔۔۔۔
’’ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب میں نقل کیاہے۔ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زبدانی لے جایاکرتاتھا اور اسی کرایہ پر میری گزر بسر تھی ۔ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر کرایہ پر لیا ،میں نے اسے سوار کرایا اور لے چلا۔ایک جگہ جہاں دوراستے تھے ، پہنچے تو اس نے کہ اس راستے سے چلو ۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں۔سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اس نے کہا مجھے معلوم ہے یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔میں اس کے کہنے پر اسی راہ سے چلا۔تھوڑی دیر کے بعد میں دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم آگئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا،نہایت خطرناک جنگل اور بَن ہے اور ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں،میں سہم گیا۔وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اُترناہے۔میں نے لگام تھام لی وہ اترا اپنا تہمد اونچاکرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا، میں وہاں سے سر پھٹ بھاگالیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑ لیا۔میں اسے قسمیں دینے لگالیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔میں کہااچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے۔اس نے کہایہ تو میرا ہوہی چکاہے لیکن میں تو تجھے زندہ چھوڑنا چاہتا ہی نہیں۔ میں نے اس سے التجاکرکے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی،اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لو ، میں نے نماز شروع کی لیکن میری زبان سے کچھ نہیں نکل رہاتھا، میں دہشت زدہ کھڑا تھااور وہ جلدی مچا رہا تھا کہ اس وقت میری زبان پر یہ آیت آگئی:
أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ
پس اس آیت کا زبان سے جاری ہوناتھا جو میں نے دیکھا درمیان جنگل سے ایک گھڑ
سوار نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہاہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں نیزہ گھسیڑا ،وہ اسی وقت بے جان ہوکر گر پڑا۔لیکن میں اس شخص کے قدموں سے لپٹ گیا اور بالحاح (زاری کرکے)کہنے لگا کہ خداکیلئے یہ تو بتلاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہواہوں جومجبوروں ،بے کسوں اور بے بسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت و آفت ٹال دیتا ہے ۔میں نے اللہ کا شکر اداکیا اور وہاں سے اپنا خچر اور مال لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔‘‘(تفسیر ابن کثیر،سورت نمل، آیت :62 ،،،،، تاریخ ابنِ عساکر،فصل من المجہولین،رجل حکی عنہ ابوبکر محمد بن داؤد الدینوری،ترجمہ نمبر:9271)
…کیا مخلوق میں کوئی ہے جو اس طرح دور و نزدیک سے یکساں پریشان حال لوگوں کی
مدد لئے پکار سن کر اس کی ایسی مدد کرے کہ جس کی مدد کی جاتی ہو وہ بھی حیرت میں پڑے کہ یہ سب کچھ کس طرح ہوا؟