میری کتاب قرآن اور جدید سائینس سے اقتباس۔۔۔ مصنف اکبر علی خان

حصہ اوَّل: قرآن میں سائنسی انکشافات

پہلاباب: واقعہ معراجِ رسولﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس لے گیا اور وہاں سے سات آسمانوں کے اُوپر معراج کرائی۔اس سفر کونبی کریم ﷺ کا معراج کہتے ہیں۔
معراج دو مرحلوں میں کرایاگیا
…پہلا مرحلہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس تک ہے ،…اور دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصٰی سے سِدرۃ المنتہیٰ تک ہے۔
پہلے مرحلے کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میںہے
سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِھ۪ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَھ۫ لِنُرِیَھ۫ مِنْ اٰیٰتِنَاﺚ(سورة بنی اسرائیل،آیت:1)
’’ پاک ہے وہ ذات جو نے رات کے ایک حصے میں اپنے پیارے بندے کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا ،وہ جگہ جس کے آس پاس کو اللہ نے بابرکت بنایاہے ،تاکہ وہ اپنے بندے کو اپنی قدرت کے بعض نمونے اور عجائبات دکھائیں۔‘‘
معراج کے دو حصوں میں سے مذکورہ آیت میں پہلے حصے کابیان ہے۔
دوسرے مرحلے کا بیان
جبکہ دوسرے مرحلے کا ذکر صحیح احادیث میں آیاہے۔بخاری کی روایت میں ہے :
’’ ۔۔۔۔۔پھر (جبریل علیہ السلام )مجھے لے کر آسمانِ دنیا (پہلے آسمان)کی طرف چڑھے،پس جب ہم آسمانِ دنیاپر پہنچے تو جبریل علیہ السلام نے آسمانِ دنیاکے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولو۔ ۔۔ ۔‘‘ (بخاری،کتاب الصلوة، باب کیف فُرِضَتْ الصلوة فی الاِسْرَائ)
مسند احمد کی حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ :
’’میرے پاس براق لایاگیا جو گدھے سے اُونچااور خچر سے نیچاتھا،ایک ایک قدم اتنی دور رکھتاتھا جتنی دور اس کی نگاہ پہنچے،میں اس پر سوار ہوا،وہ مجھے لے چلا ،میں بیت المقدس پہنچا اور اسی کنڈے میںبراق باندھ دیا جہاں دوسرے انبیاء علیہم السلام باندھاکرتے تھے ۔پھر میں نے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز اداکی ۔ ‘‘(مسند احمد)
اس کے بعد اس روایت میں دوسرے مرحلے کے سفر کابیان ہے۔
قرآن و سنت کے ان دلائل سے معلوم ہوا کہ آپﷺکو بیداری کی حالت میں جسمِ عنصری کے ساتھ معراج کرایا گیا۔مگر جب اس کی خبر آپﷺ نے لوگوں کودی، تو قریش مذاق اُڑانے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ رات کے ایک حصے میں یہاں سے بیت المقدس، جو فلسطین میں ہے،اور ایک مہینے کا سفر ہے ،تک پہنچ گئے۔اور وہاں سے سات آسمانوں کے اُوپر ، عقلاً محال ہے، وہاں گئے اور آئے ۔کفار نے اس کو جھوٹ اس لئے سمجھا کہ ان کے حساب کے مطابق بیت المقدس کا سفر ایک مہینے کاتھا۔ مگر سائنس کے ایجادات نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی، جو اس وقت ناممکن سمجھے جاتے تھے۔
پہلے مرحلے کی سائنسی تصدیق
آج کل کے سائنسی دور میںمہینوں کا زمینی سفر زمین ہی کے راستوں گھنٹوں تک محدود ہوکر رہ گئی ۔ اس زمانے میں تجارتی قافلے روزانہ 16میل سفر طے کرتے تھے، ایک مہینے میں 480 میل ۔
آج کل اتنا لمبا سفر یعنی 480میل یا 700کلومیٹر تقریباً یورپ اور عرب ممالک میں پانچ گھنٹو ں کا ہے ، اور ہمارے ملک پاکستان کے حساب سے تقریباًآٹھ گھنٹے کاہے۔لہٰذا ایک بندہ کیسے رات کے ایک حصے میں اتنے دور گئے ،یہ بات اب کوئی محالِ عقلی نہیں رہی۔بلکہ آج کے سائنسی ایجادات کی وجہ سے آسانی سے عقلِ انسانی میں آنے والی ہے۔
دوسرے مرحلے کی سائنسی تصدیق
ہوائی جہازوں کی ایجاد سے معراج کے دوسرے مرحلے کی تصدیق ہوتی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس لئے کہ جب ابتداء میں ہوائی جہاز کی ایجاد کی خبر اُن علاقوں تک پہنچی جہاں لوگ زیادہ پڑھے لکھے اور علم سے آشنا نہیں تھے تو لوگوں نے ایک دوسرے کو ایسی بات کہنے پربے دین کہنا شروع کیا ہوگا ۔بلکہ ہم نے خود بزرگوں سے سناہے کہ فلاں آدمی نے فلاں سال اخبار پڑھ کر جب اس طرح کی باتیں لوگوں کو بتائیں تو لوگوں نے اس کو ’’بے دین‘‘ کہنا شروع کیا ۔
مگر تھوڑے ہی عرصے میں یہ ایجاد ساری دنیامیں متعارف ہوئی اور لوگ اس میں سفر کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ سائنسدانوں نے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی غرض سے اس ایجاد میں ’’ بہتری ‘‘ لانے کیلئے تگ ودو شروع کی، اور ایسے جہاز ایجاد کئے جن کی رفتار ابتدائی جہازوں کی رفتار کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ اور آج کل تو ’آواز سے تیز رفتار‘ (SuperSonic ) جہاز بھی موجود ہیں۔بلکہ خلائی جہازوں کی رفتار ایک گھنٹہ میں ناقابلِ یقین حد تک یعنی ایک لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے۔بلکہ خلائی شٹل(Space Shuttle) 45 منٹ میں پورے زمین کا چکر لگاتی ہے ۔
تو میرے بھائیوں! جب ایک سائنس دان اللہ تعالیٰ کے عطا کئے گئے …دماغ، …عقل اور …سائنسی بصیرت کو کام میں لاکر اتنے تیز رفتار طیارے بنا سکتاہے، تو ہمارا تمہارا اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبیﷺ کو رات کے ایک حصے میں معراج کیوں نہیں کراسکتا۔
٭ اس واقعہ معراج کے علاوہ ایک اور اشارہ بھی اللہ کی طرف سے دیاگیاتھا اور وہ ہے سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت اور تخت سلیمانی کی شکل میں:
تختِ سلیمانی علیہ السلام ،،، ہوا میں اُڑنے کا واضح الہامی اشارہ
سلیمان علیہ السلام کیلئے ہوا کے مسخَّر ہونے میں انسان کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ اے انسان! تُو بھی اللہ کے دئیے ہوئے عقل کو کام میں لاکر ہوا میں اُڑ سکتے ہو۔اہلِ مغرب کا دماغ صرف ہوا میں اُڑنے والے پرندے کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے اس میں پہل کی۔
سنا ہے کہ پرانے زمانے میںایک شخص نے پرندے کو دیکھ کر پرندے جیساپَرو بازو والا لباس بنایا اور اسے پہن کر اُڑنے کے جنون میں ایک چھت سے کھودا اور جان کی بازی ہار گیا۔
اُنیسویں صدی کے آخری عشرے میں جب جرمن انجینئر Otto Lilienthalاٹو لی لینتھل نے گلائیڈر پروازوں کے مظاہرے کئے تو ہوا میں اُڑان بھرنے میں دو مکینک بھائیوں Orwil Wright اور Wilber Wright کی دلچسپی کوایک تحریک ملی۔اُنہوں نے پرواز کے دوران جہاز کی پوزیشن درست رکھنے کے لئے اس کے وزن میں تغیرات کی بجائے پروں کی حرکت کو آزمایا۔اپنے تجربات کے دوران اُنہوں نے ہوا کے دبائو اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے دھکیل(Drift)پر قابلِ ذکر اعداد وشمارجمع کئے ۔(1)
17دسمبر1903؁ ء کو اُنہوں نے انجن سے چلنے والے پہلے قابو یافتہ جہاز کو اُڑایا۔ اس دن اُنہوں نے چار پروازیں کیں۔ان کا یہ پرواز ہوا میں 59 سیکنڈسے زیادہ نہ تھا۔
(اُردوسائنس انسائیکلوپیڈیا ، ج:10، ص:1898)
مگر ان چند سیکنڈ ہوامیں اُڑتا رہنے سے نہ صرف ان کو، بلکہ ساری دنیا کی سائنسی ذہن
رکھنے والے لوگوں کو، ایک مُہیجSpur (تحریک)مہیّا کی گئی کہ ہوا میں اُڑنا ممکن ہے۔ اور جب وہ لوگ اس کام کی طرف متوجہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے وحی ایجادی کے ذریعے ہوامیں اُڑنے اور پرواز کرنے کی ساری ٹیکنالوجی ان کے ذہن میں ڈال دی۔ اس بات کا اعلان اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے قرآن میں کیاتھا اور قرآن کے نزول سے ہزاروں سال پہلے تختِ سلیمانی کی شکل میں اس کے عملی مظاہرے کی خبربھی انسان کو دی گئی تھی:
اَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَا۬ئِﺚ مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلَّا اللہُﺚ(النحل:79)
’’کیا ان لوگوں(منکرین ومشرکین)نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو حکم کے بندھے آسمان کی فضاء میں ہیں ،جنہیں اللہ کے سواء کوئی اور تھامے ہوئے نہیں۔‘‘
اور یہ ارشاد ِ باری تعالیٰ:
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صٰ۬فّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَﺔ مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُﺚ
(الملک:19 )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
875.1 ؁ء میں مسلمان بربر ٹیکنالوجسٹ اور کیمیادان عباس ابن فرناس نے اپنے ایجاد کردہ گلائیڈر میں قرطبہ کے قریب ایک پہاڑی جبل العروس سے چھلانگ لگائی،تجربہ کامیاب رہااور اسے ایک بڑے ہجوم نے ہوا میں تیرتے دیکھا،تاہم وہ باحفاظت اُترنے میں ناکام رہااور اس کی کمر پر چوٹ آئی ۔ماہرین کاخیال ہے کہ وہ دُم کی اہمیت سمجھنے اور اس کا قائم مقام بندوبست کرنے میں ناکام رہا ۔بیشتر مسلمان اسے پرواز کی پہلی سائنسی کوشش قرار دیتے ہیں ہیں ۔‘‘(اُردو سائنس انسائیکلوپیڈیا،ج:5،ص:851 )
مگر اہلِ مغرب ہمارے کارنامے یا تو چھپاتے ہیں ،یا یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اپنے باصلاحیت لوگوں کے کارنامے دنیاکو دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔
’’کیا ان لوگوںنے( فضائے آسمانی میں) اُڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا ۔ان پرندوں کو (فضائے آسمانی میں) اللہ کے سوا کون تھامے ہوئے ہیں؟‘‘ (ہے کوئی اور تھامنے والاتو بتا دیجئے ) ۔
اور یہ ارشاد ِ باری تعالیٰ:
فَسَخَّرْنَا لَھُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِھ۪ رُخَا۬ئً حَیْثُ اَصَابَﭳﺫ(سورت ص ،آیت:36)
’’اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کیلئے ہواکو کام میں لگایاجو اس کے حکم سے (جہاں آپ چاہتے)نرمی سے (اُسے اس کے حکم سے لے کر) چلتی تھی ۔‘‘
اور یہ ارشاد ِ باری تعالیٰ:
وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّرَوَاحُھَا شَھْرٌﺆ(سورت سباء ،آیت:12)
’’اور ہم نے کام میں لگایا ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے لئے،کہ صبح کی منزل اس کی مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی مہینہ بھر کی ہوتی تھی۔‘‘
ان آیات میں واضح اشارہ تھا کہ… اے مسلمان!
اُٹھواور ہوامیں اُڑنے کاسامان ڈھونڈو،…یہ کائنات تمہارے کام میں لگایا گیا ہے، … تمہارے لئے پیدا کیاگیا ہے ، …ان وسائل کا استعمال کرکے جہاز بنائو سفری سہولت اورسفرِ حج کیلئے ،…ہیلی کاپٹر بنائواپنے مسلمان بھائیوں کو سیلاب و طوفان جیسے مصائب میں سے نکالنے کیلئے ، …بمبارجہاز بنائو اللہ کے اس حکم کی تعمیل کیلئے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے :ـ
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ۔(النساء:71)
’’اے مسلمانوں!اپنے حفاظت کاسامان تیار رکھو۔‘‘
…کیونکہ اللہ کے علمِ سابق میں تھا کہ کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور زیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیںگے ۔اس لئے قرآن میں واضح اشارات ملتے ہیں:
… جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے اور اس کو فروغ دینے کے۔انسان کو صرف ان چیزوں کی طرف متوجہ ہونا ہے ،باقی کام اللہ کا ہے وحی ایجادی کے ذریعے ان تمام چیزوں کی کلی و جزئی تفصیل انسان کی ذہن میں منتقل کرنے کا۔
بھئی سائنسدان کے دماغ میں ’’نظر نہ آنے والی عقلی لحاظ سے ناممکن کو ممکن بنانے والی قوت اور استعداد‘‘ کس نے رکھی ہے ؟ ذرا سوچو!وہ ذات خو د کتنا بڑا ہوگا؟
اس ذات کی بڑائی اور عظمت کا ذکر بھی اسی ذات نے خود قرآن میں چیلنج کے انداز میں کیاہے:
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰھٌ غَیْرُ اللہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَا۬ئٍﺚ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَﮖ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَیْکُمُ النَّھَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰھٌ غَیْرُ اللہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْھِﺚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَﮗ
(سورت قصص،آیات:72,71)
’’تم بتائو اگر اللہ عزوجل قیامت تک تم پر رات مسلط کردے، توکیا اللہ عزوجل کے سواءکوئی اور }اِلٰھ{ ہے جو تم کو روشنی لاسکے،پھر کیوں نہیں سنتے؟بتائو تو اگر اللہ عزوجل قیامت تک تم پر دن مسلط کردے، تو کیا اللہ عزوجل کے سواکوئی اور}اِلٰھ{ہے جو تم کو آرام حاصل کرنے کیلئے رات لاسکے ،پھر کیوں نہیں دیکھتے؟‘‘
فائدہ:
قرآن و سنت میں مذکورہ قصہ معراج میں ’’ عقلی لحاظ سے ناممکن ‘‘ اور ناقابلِ یقین حد تک حیران کن سائنسی ایجادات کی طرف اشارہ ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top