مجبور ،مُضطر پریشان حال اور بے کس کی دعاجلد قبول ہوتی ہے
اولیاء اللہ ،، شہداء اور قبروں سے مانگنے والوں ذرا اپنے اللہ کی بات تو سن لو ،اللہ کیا فرماتاہے:
﴿اَمّنْ یُّجِیبَ المُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکشِفَ السُّوءَ﴾(سورت نمل ، آیت :62 )
ترجمہ:‘‘(کون ہے اللہ کے سواجو)پریشان حال اور مجبور کی پکار کو ،جب کہ وہ پکارے اس کو ، قبول کرکے سختی اور تکلیف دور کر دیتاہے ؟’’
دعاکی قبولیت کیلئے نذر ماننایا کسی ولی یا شہید کے مزار پرجاناخلافِ شریعت من گھڑت عوام کے ایجاد کردہ اُمورِ شنیعہ ہیں،جس کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ملتی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ عظام اور ائمہ کرام رحمہم اللہ سے اس طرح کی کوئی شرط منقول نہیں ۔جبکہ قرآن میں مُضطر و پریشان حال کی دعا کی قبولیت کا واضح اشارہ موجود ہے۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی شہرہ آفاق تفسیرمیں مسند امام احمد اور تاریخ ابن عساکر کے حوالوں سے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث اور چند واقعات ذکر کئے ہیں جو ہم قارئین کے استفادے کیلئے یہاں لکھتے ہیں:
‘‘ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپﷺ کس چیز کی طرف لوگوں کو بلارہے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا:اللہ کی طرف جو اکیلاہے،جس کا کوئی شریک نہیں،جو اس وقت تجھے کام آتا ہے جب تو کسی مصیبت میں پھنساہاہو،وہی ہے کہ جب تو جنگلوں میں راہ بھول کر اسے پکارے تو وہ تیری رہنمائی فرمادے،تیراکوئی کوئی کھو گیاہو اور تو اس سے التجاکرے تو وہ اُسے تجھ کو ملادے ،قحط سالی ہوگئی ہو اور تو اس سے دعا کرے تو وہ موسلادھار بارش تجھ پر برسادے۔ آخر تک۔۔۔۔۔
‘‘حضرت طاؤس رحمہ اللہ ایک بیمار کی بیمار پرسی کیلئے گئے تو بیمار نے کہاکہ میری لئے دعاکیجئے۔ حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: خود اپنے لئے دعاکیجئے بے قرار کی بے قراری کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
‘‘ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب میں نقل کیاہے۔ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زبدانی لے جایاکرتاتھا اور اسی کرایہ پر میری گزر بسر تھی ۔ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر کرایہ پر لیا ،میں نے اسے سوار کرایااور لے چلا۔ایک جگہ جہاں دوراستے تھے ،پہنچے تو اس نے کہ اس راستے سے چلو ۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں۔سیدھا راستہ یہی ہے۔اس نے کہا مجھے معلوم ہے یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔میں اس کے کہنے پر اسی راہ سے چلا۔تھوڑی دیر کے بعد میں دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم آگئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا،نہایت خطرناک جنگل اور بَن ہے اور ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں،میں سہم گیا۔وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اُترناہے۔میں نے لگام تھام لی وہ اترا اپنا تہمد اونچاکرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔میں وہاں سے سر پھٹ بھاگالیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑ لیا۔میں اسے قسمیں دینے لگالیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔میں کہااچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے۔اس نے کہایہ تو میرا ہوہی چکاہے لیکن میں تو تجھے زندہ چھوڑنا چاہتا ہی نہیں ۔ ۔ ۔ میں نے اس سے التجاکرکے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی،اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لو ، میں نے نماز شروع کی لیکن میری زبان سے کچھ نہیں نکل رہاتھا،میں دہشت زدہ کھڑا تھااور وہ جلدی مچارہاتھا کہ اس وقت میری زبان پر یہ آیت آگئی: ﴿اَمّنْ یُّجِیبَ المُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکشِفَ السُّوءَ﴾پس اس آیت کا زبان سے جاری ہوناتھا جو میں نے دیکھا درمیان جنگل سے ایک گھڑ سوار نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہاہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں نیزہ گھسیڑا ،وہ اسی وقت بے جان ہوکر گر پڑا۔لیکن میں اس شخص کے قدموں سے لپٹ گیا اور بالحاح (زاری کرکے)کہنے لگا کہ خداکیلئے یہ تو بتلاؤکہ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہواہوں جومجبوروں ،بے کسوں اور بے بسوں کی دعا قبول فرماتاہے اور مصیبت و آفت ٹال دیتا ہے ۔میں نے اللہ کا شکر اداکیا اور وہاں سے اپنا خچر اور مال لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔’’(تفسیر ابن کثیر،سورت نمل، آیت :62 ،،،،، تاریخ ابنِ عساکر،فصل من المجہولین،رجل حکی عنہ ابوبکر محمد بن داؤد الدینوری،ترجمہ نمبر:9271)
چوتھاباب:
دعا کی قبولیت کیلئے مخصوص اوقات اور مقامات جہاں اور جن اوقات میں اللہعزوجل دعا قبول فرماتاہے:
دعا ہر وقت اور ہر جگہ قبول ہوتی ہے،لیکن جو اوقات رسول اللہ ﷺ کے احادیثِ پاک میں منقول ہیں ان میں قبولیت کی اُمید بہت زیادہ ہے، اس لئے ان اوقات کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
دُعا کی قبولیت کیلئے کسی ولی کے قبر کے پاس جانا ضروری نہیں،اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے جن مقامات اور اوقات کی نشان دہی فرمائی ہے ان میں کہیں بھی یہ منقول نہیں کہ ولی یا شہیدرحمہم اللہ کے قبر کے پاس دعابھی قبول ہوتی ہے۔
قارئین! غور کا مقام ہے کہ جب آپﷺنے ان تمام مقامات کی نشان دہی فرمائی جہاں قبولیتِ دُعاکاامکان بنسبت دوسرے مقامات کے ،زیادہ ہے اور ان میں کسی ولی یا شہید کے قبر کا ذکر نہیں فرمایاتو یہ بات واضح ہوئی کہ دعاکیلئے اولیاء اور شہداء رحمہم اللہ کے قبروں پر جانادعاکی قبولیت کا سبب نہیں بلکہ گناہ کا سبب ہے ۔اس لئے کہ یہ خیال من گھڑت ہے ، ہم تم نے اور علمِ دین سے پیدل لوگوں نے ازخود بنایاہے۔
جبکہ ہم تم کو یہ اختیار قطعاً نہیں تو جب اختیارہی نہیں تو پھر شارع(شریعت ساز)بننے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے بلکہ شریعت کی مکمل پیروی اور اطاعت کرنی کی کوشش کرنا چاہئے ۔
جب ہمارے تمہارے آقاحضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں وہ تمام مقامات بتادئے جہاں دعا مانگنا بنسبت دوسرے مقامات زیادہ مفید ہے، وہ تمام اوقات بتادئے جن میں بنسبت دوسرے اوقات کے دعامانگنا زیادہ مفید ہے تو ان چیزوں پر زیادتی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان پر عمل کرکے سچی عشقِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ پیش کرنا چاہئے اور وہ ہے آپﷺ کی تعلیمات پر من و عن عمل ،اور آپﷺ کے طریقوں کی پیروی ،اور آپﷺ کے لائے گئے اس دین میں ایجادات اور اختراعات سے پرہیز اس لئے کہ پچھلی تمام شریعتیں اس طرح کی من مانی تحریفات کے شکار ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان اقوام پر اللہ کا عذاب نازل ہواتھا۔
دعاکی قبولیت کیلئے احادیث میں مذکور مندرجہ ذیل مقامات اوراوقات کا خیال رکھنا چاہئے ،تا کہ ہماری دعا قبول ہو:
1۔ رات کے آخری پہر میں اور فرض نماز کے بعد دعا قبول ہوتی ہے:
حدیث نمبر1:
نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
﴿وعن اَبِی اُمامۃ قال قِیلَ یا رسولَ اللّٰہ اَیُّ الدُّعَاء اَسمَع قَالَ جَوفِ اللَّیلِ الآخِرِ وَدُبُرَ الصَّلٰوتِ المَکتُوبَات﴾
ترجمہ:‘‘حضرت ابو اُمامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کون(سے وقت)کی دعا قبول ہوتی ہے؟ فرمایا: ‘‘پچھلی رات کی دعا اور فرض نماز کے بعد والی دعا ۔’’ (ترمذی ،کتاب الدعوات عن رسول اللہ ، باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید )
حدیث نمبر2:
یہ بھی ارشادِ نبی ﷺ ہے کہ :
﴿عن اَبیِ ہُرَیرَۃ رضی اللہ عنہ اِنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺقَالَ ےَتَنَزَّل رَبُّنَا تبارک وتعالیٰ کُلُّ لَیلَۃِِ اِلٰی السَّمَاءَ الدُّنےَا حِینَ یَبقَی ثُلُثَ اللَّیلَ الآخِر ےَقُول مَن ےَّدعُونِی یَستَجِیبُ لَہُ، مَن یَّساَلنِی فَاُعطِیہُ،مَن ےَّستَغفِر نِی فَاغفِرلَہُ ﴾
ترجمہ:‘‘ہمارا رب عزوجل رات کے آخری پہر میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے،اور اپنی مخلوق کو آواز دیتا ہے کہ ہے مجھ سے کوئی دعا مانگنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں،ہے مجھ سے کوئی مانگنے والا کہ اس کی حاجت پوری کروں ، ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ اس کی خطا معاف کروں ۔’’ (بخاری،کتاب الدعوات،باب الدعاء نصف اللیل)
حدیث نمبر3:
یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ:
﴿وعن ابی امامۃ قال سمعت النبی ﷺ یقول من اٰوٰی الیٰ فراشہ طاہراََ و ذکر اللہ حتّٰی یدرکہ النعاس لم یتقلب ساعۃََ من اللیل یسال اللہ فیھا خیراََ من خیر الدنیا والآخرۃ الا اعطاہ ایاہ﴾(ذکرہ اللنووی فی کتاب الاذکار بروایۃ ابن سنی)
ترجمہ:‘‘حضرت ابوامامہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سناہے کہ جو شخص رات آرام کرنے کیلئے انے بستر پر پاک حالت میں (یعنی باوضو)پہنچا اور اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ اسے نیند نے پکڑ لیا تو رات میں کسی بھی وقت جب کروٹ بدلتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دنیا وآخرت کی کسی چیز کا سوال کرے گا تو اللہ تعالیٰ وہ خیر ا س کو عطا فرمائے گا۔’’
حدیث نمبر4:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کویہ فرماتے سنا ہے کہ:
﴿ان فی اللیل ساعۃ لا یوافقھا رجل مسلم یسال اللہ فیھا خیراََ من امرالدنیاوالآخرۃ الَّا اعطاہ ایاہ وذلک کل لیلۃ﴾
ترجمہ:‘‘بلاشبہ رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی مسلمان شخص اس میں اللہ سے دنیا وآخرت کی کسی خیر کا سوال کرے گا اللہ عزوجل اسے ضرور عطا فرمائے گا اور یہ گھڑی ہر رات ہوتی ہے۔’’(مسلم ،کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا،باب فی اللیل ساعۃ مستجاب فیہا الدعاء )
2۔ اذان و اقامت کے درمیان قبولیتِ دعا:
حدیثِ نبویﷺ کہ:
‘‘اذان و اقامت کے مابین دعا رَد نہیں کی جاتی،صحابہ نے پوچھا کہ ہم اس وقت کس قسم کی دعا مانگ سکتے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرو۔’’(ترمذی ، باب ما جاء فی ان الدعاء لا یرد بین الآذان والاقامۃ،،،مسند احمد، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
3۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کیلئے دعا کرنا :
ارشادِ نبی ﷺ ہے کہ:
‘‘ مسلمان کی وہ دعا قبول ہوتی ہے جو وہ اپنے بھائی کیلئے اس کی غیر موجودگی میں کرتا ہے،اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ کھڑا ہوتا ہے ،جب وہ کوئی خیر کی دعا کرتا ہے تو اس پر فرشتہ﴿ آمین﴾کہتا ہے اور دعا دیتا ہے کہ تمہیں بھی ایسا ہی خیر مل جائے۔’’ (مسلم، باب فضل الدعاء للمسلمین بظھر الغیب)
یہ بھی نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک ہے:
﴿اَعْظَمُ الدُّعَاءِ اِجَابَۃً دُعَاءُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ﴾
‘‘قبولیت کے لحاظ سے سب سے بہترین اور عمدہ دعا غیر حاضر کی غیر حاضر کیلئے دعا ہے ۔’’ (ابوداؤد،کتاب الصلاۃ بظہرالغیب،،،،،ترمذی،ابواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی دعوۃ الاخ لاخیہ بظہرالغیب)
4۔ جمعہ کے دن ایک مخصوص وقت میں قبولیتِ دعا:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
﴿ان فی الجمعۃ لساعۃ لا یوافقھا عبد مسلم یسال اللہ فیھا خیرا الا اعطاہ ایاہ،قال وہی ساعۃ خفیفۃ﴾
‘‘جمعہ کے روز ایک ایسی ساعت ہے جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کو طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ عطافرمائیں گے ،آپ ﷺ اپنے ہاتھ کے اشارے سے سمجھا رہے تھے کہ وہ وقت بہت تھوڑا ہوتا ہے۔’’ (بخاری ،کتاب الجمعۃ،باب الدعاء فی الساعۃ التی فی الجمعہ،،،،مسلم ،کتاب الجمعۃ ،باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ)
5۔ ماہِ رمضان اورافطاری کے وقت اور خاص لیلۃ القدرمیں قبولیتِ دعا:
حدیث نمبر1:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
﴿ان رسول اللہ قال یوماو حضر رمضان اتاکم رمضان شہر برکۃ یغنیکم اللہ فیہ فینزل الرحمۃ ویحط الخطایاویستجیب فیہ الدعاء ینظراللہ الیٰ نفائسکم ویباہی بکم ملائکتہ فاروا اللہ من انفسکم خیراََ فان لشقی من حُرِمَ فیہ رحمۃ اللہ عَزَّ وَ جَلَّ ﴾
‘‘رسول اللہ ﷺ نے ایک دن رمضان سے پہلے فرمایاکہ تم پر رمضان آیا جو برکتوں کا مہینہ ہے ، اللہ تم کو اس میں اپنی رحمتوں سے ڈھانپتاہے۔ پس اس مہینہ میں رحمتوں کا نزول ہوتاہے اور گناہ مٹائے جاتے ہیں ،اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں،اللہ تمہارے درمیان اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کو دیکھتاہے اور فرشتے تم پر فخر کرتے ہیں، پس تم اپنی طرف سے اللہ کے ہاں نیکیاں جمع کرو، اس لئے کہ بد بخت وہ ہے جو اس مہینے میں اللہ کی رحمتوں سے محروم رہا۔’’ ( مسند الشامیین،،،،،،مجمع الزوائد، کتاب الصیام ،باب فی شہور البرکۃ وفضل شہر رمضان،،،، کنزالعمال۔کتاب الصوم ،باب الاکمال من فضل صوم شہر رمضان)
حدیث نمبر2:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ:
﴿یا رسول اللہ ارایت ان وافقت لیلۃ القدر ما اَدعَوا؟قالﷺ تقولین اللہم انک عفواََ تحب العفو فاعف عنی ﴾
اگر میں اس رات جاگتی رہی تو مجھے کیا پڑھ لینا چاہئے؟آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دعا پڑھنی چاہئے: ﴿اللہم انک عفواََ تحب العفو فاعف عنی ﴾ یا اللہ!تو معاف کرنے والا ہے ، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے پس مجھے معاف کیجئے۔’’(سنن ابن ماجہ،باب الدعاء بالعفو والعافیۃ)
.6اگر روزہ دار کے پاس کوئی کھانے لگے تو روزہ دار کیلئے فرشتے دعا کرتے ہیں:
ارشاد نبی ﷺ ہے :
ترجمہ:‘‘حضرت اُمِّ عُمَّارہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ میرے پاس تشریف لاے ۔میں نے آپﷺ کیلے کھانا منگایا،آپﷺ نے فرمایا کہ تم بھی کھاو! میں نے عرض کیا ،میں روزہ سے ہوں۔یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ جب روزہ دار کے پاس کھایاجاے تو اس کیلے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ کھانے والے فارغ ہو۔’’(مشکوۃ ،باب فی الافطار من التطوع)
.7 مظلوم مسافر،عادل حکمران،روازہ دار اور والدین کی دعا قبول ہوتی ہے:
٭……٭ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
﴿ثلاث دعوات مستجابۃ دعوۃ الوالد علی ولدہ ودعوۃ المظلوم ودعوۃ المسافر و زاد فی روایۃ دعوۃ الصائم ودعوۃ الذاکر اللہ کثیراوامام المقسط ﴾
‘‘تین دعائیں قبول ہوتی ہے: والد کی دعا اپنی اولاد کیلئے،مظلوم(جس پر ظلم کیا گیا ہو) کی دعا اور مسافر کی دعا،اور ایک روایت میں صائم یعنی روزہ دار ،اللہ کی یاد کی کثرت کرنے والے اور عادل حکمران کی دعا کا ذکر بھی ہے۔’’(شُعُبُ الایمان للبیہقی،باب دعاء الوالدین)
9۔ حج اور عرفات میں ٹھہرنے کے وقت قبولیتِ دعا
نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ:
﴿خیرالدعاء یوم عرفۃ وخیر ما قلت انا والنبیےون من قبلی لَا اِلَہَ اِلَّا اﷲُ وَحدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ المُلکُ وَلَہُ الحَمدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَی ءٍ قَدِیر﴾
‘‘سب سے بہتر دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، اور سب سے بہتر اللہ کا ذکر جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے (عرفات میں )کیا ہے وہ یہ ہے: ﴿ لَا اِلَہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَی ءٍ قَدِیر﴾یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کے لئے ملک ہے ،اسی کے لئے حمد ہے ،اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔’’ (ترمذی ،کتاب الدعوات،باب فی دعاء یوم عرفۃ)
10۔ اللہ کے راستے میں جہاد میں صف باندھتے وقت اور بارش کے وقت قبولیتِ دعا
سہل بن سعد روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ سے کہ آپﷺ نے فرمایا:
﴿ثنثان لا تردان او قلما تردان الدعاء عندالنداء وعندالباس حین یلحم بعضہم بعضا وفی روایۃ قال ووقت المطر ﴾
‘‘دو دعائیں ایسی ہیں جو رَد نہیں کی جاتیں یا بہت کم ہی رَد کی جاتی ہیں ،اذان کی وقت کی دعا اور جہاد کے موقع پر جنگ کرتے وقت جبکہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہو۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ بارش کے وقت دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔’’(ابو داؤد،کتاب الجہاد، باب الدعاء عنداللقاء)
11۔ قبولیتِ دعا کی دو مبارک ساعتیں ،،نماز کیلئے اقامت کے وقت اور جہاد میں صف با ندھتے وقت
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
﴿ساعتانِ تَفتَحُ فیھما ابوابُ السماءِ فلما تُردُّ علی داعٍ دَعوُتُہ’ عند حضرۃ النداءِ للصلوۃوالصفِّ فی سبیلِ اللہِ﴾
ترجمہ:‘‘دوساعتیں ایسی ہیں جن میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں،اور کم ہی کسی کی دعا رَد کی جاتی ہے۔نماز کھڑی ہونے کے وقت اور راہِ الٰہی میں (جہاد لئے) صف باندتے ہوئے ۔’’ (ابو داؤد ،کتاب الجہاد،باب الدعاء عنداللقاء،،،،،صحیح ابن حبان)
12۔ جس دعامیں گناہ کی کوئی بات نہ ہویا صلہ رحمی توڑنے کی بات نہ ہو اللہ جلَّ مجدُہ’اس کو قبول فرماتاہے
﴿ ما من داعٍ یدعوا اللہ بدعوۃٍ لیس فیھا اِثْم’ُ وال قطعۃُ رحِمٍ الا اعطاہ اللہ بھا احدَی خِصالٍ ثلاثٍ : اِمَّا ان یُعجِّلَ لَہ’ دعوتَہ’ و اِمایَدَّخِرَلَہ’ من الخیرِ۔ و اما ان ےُصرِفَ عنہُ من الشرِّ مثلُھَا، اذًا نُکْثِرُ، اللہُ اَکْثرُ﴾
ترجمہ:‘‘جو شخص بھی اللہ تعالیٰ سے ایسی دعاکرتاہے جس میں نہ گناہو اور نہ قطع رحمی، تو اللہ تعالیٰ اس کو تین چیزوں میں سے ایک چزے عطافرماتاہے:
٭یاتواس کی وہ دُعا فوراً قبول کرلیتاہے،،
٭یا اس کیلئے اس کی مثل ذخیرہ کر دیتاہے،،
٭ یا اس سے ویسی ہی بُرائی دور کردیتاہے،صحابہ نے کہاپھر تو ہم اللہ سے بہت زیادہ دعائیں مانگیں گے۔آپﷺ نے فرمایا: اللہ اس سے بھی زیادہ دینے پر قادر ہے۔’’(مسند احمد ،مسند ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ)
13۔ مکہ مکرمہ میں قبولیتِ دعا:
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے اپنے ایک خط میں مکہ والوں کو لکھا تھا کہ مکہ مکرمہ میں پندرہ مقامات میں دعا قبول ہوتی ہے(دعا ہر جگہ قبول ہوتی ہے ،یہاں ان پندرہ مقامات سے مراد یہ ہے کہ یہاں قبولیت کا امکان زیادہ ہے )
1 ۔بیت اللہ کاطواف کرتے ہوئے،، 2۔ بابِ ملتزم سے چمٹ کر،،
3۔میزاب کے نیچے (کعبہ شریف کی چھت سے پانی بہہ کر نیچے آنے کا جونالہ ہے اسے میزاب ِ رحمت کہتے ہیں )اور یہ حطیم میں گرتا ہے ،اس کے نیچے دعا قبول ہوتی ہے،،
4۔ کعبہ شریف کے اندر،، 5۔زمزم کے کنویں کے قریب،، 6۔ صفا پر ،،
7۔ مروہ پر،، 8۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے،،،
9۔ مقامِ ابراہیم کے پیچھے،، 10۔ عرفات میں،، 11۔مزدلفہ میں،،
12 ۔ منیٰ میں،، 13،14،15تینوں جمرات کے قریب ۔’’ (الحصن الحصین)
ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں دعا کے مواقع کی تعداد پندرہ میں مُنحَصِر نہیں ہے ۔ رکنِ یمانی پر اور رکنِ حجرِ اَسود کے درمیا ن بھی دعا قبول ہوتی ہے ،نیز دارِ اَرقم ،غارِ ثور اورغارِ حرا کو بھی ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اجابتِ دُعا کے مقامات میں شمار کرایاہے۔(حاشیہ الحصن الحصین)
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے ذکر کردہ پندرہ مواقع لکھنے کے بعد الحصن الحصین کے مصنف علامہ جزری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
﴿وان لم یجب الدعاء عندالنبی ﷺ ففی ای موضع یستجاب﴾
یعنی حضور اقدس ﷺ کی قبر شریف کے قریب دعا قبول نہ ہوگی تو پھر کس جگہ قبول ہوگی (یعنی روضہ اقدس پر جب سلام غرض کرنے کیلئے حاضری دیں تو قبلہ رخ ہوکر اللہ پاک سے دعا بھی کریں )کعبہ شریف پر نظر پڑے تو اس وقت بھی دعا کرے ،اس موقع پر دعا قبول ہونے کے بارے میں بعض روایات وارد ہوئی ہیں۔’’(تحفہ خواتین ،مصنف مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری ،مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور،ص:356,355)
خالصتاً ان مقامات پردعا کرنے کے ارادے اور نیت سے ان مقامات کا سفر کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے کوئی حکم منقول نہیں اور نہ ہی صحابہ کرام نے ،جو اس دین کوہم سب سے زیادہ جاننے والے ، نیکیوں پر حد سے زیادہ حریص اور نبی کریم ﷺ سے اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبت کرنے والے اور آپ ﷺ کی ہر،ہر ادا کے سب سے زیادہ پیروی کرنے والے تھے، ایسے سفر کئے ہیں۔ اس لئے دعا کی نیت سے ایسے مقامات کا سفر مشروع نہیں مگر اتفاقاًان مقامات جاناپڑے تو ان مذکورہ مقامات میں دعاکی قبولیت کا امکان بنسبت دوسرے مقامات کے زیادہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعتِ محمدی پرپوراپورا عمل کرنا نصیب فرمائے، آمین ۔