علماء، خطباء، واعظین اور پیر صاحبان کی سنگین غلطی
…منبر و محراب کا آغاز ہی نیک و مثبت مقصد کے لئے ہوا تھا۔ مگر افسوس کہ آج کل اسے صرف فرقہ
وارانہ سوچ اور اپنے اپنے فرقے کے غلط عقائد، خرافات اور من گھڑت کرامات، بدعات، ہندوانہ رسم و رواج اور پیر فقیر کی مشہوری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔
…منبر و محراب سے ایسے بکواسات سنائے جاتے ہیں کہ عقل دنگ اور اخلاق کا سر جھک جاتا ہے۔
ایک ویڈیو میں سنا :
’’پشاور کا ایک مجذوب کپڑے نہیں پہنتا تھا، ( سارا ’’سامان ‘‘لوگوں کو نظر آتا تھا)، مگر جب وہ توجہ کرتا تو پورا پشاور ہِل جاتا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور طقات کبریٰ میں عبدالوہاب شعرانی ، محمد شویمی کے بارے میں لکھتا ہے:
’’اور شویمی شیخ کے گھر میں داخل ہوتے تو عورتوں پرہاتھ پھیرتے ہوئے گزرتے تو لوگوں نے شیخ علی مدین سے شکایت کرتے تو آپ فرماتے تمہیں خیر حاصل ہوگئی، تشویش میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ (طبقاتِ کبریٰ 598)
بریلویوں کے اولیاء ایسے ہی ہوتے ہیں مگر اب بریلوی بھی ان گزرے کنجروں کی کنجر پنی پر سر جھکا کر شرماتے ہیں مگر ساتھ عوام کو اپنے قابو میں رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ اگت بگت کتابیں بھی ان کو دکھانے ہیں اس یہ بد بخت بریلوی ہر جگہ بد دیانتی ہی کرتے ہیں یہان پر بھی مترجم چشتی بریلوی کی بددیانتی ملاحظہ کیجئے، اس نے ترجمہ یوں کیا۔
جب کسی عورت یا بے ریش لڑکے کو دیکھتے تو غیر مناسب بات کہتے(آگے ڈیش ڈیش)۔۔۔۔۔ خواہ کسی امیر کا بیٹا بیٹی ہو یا وزیر کا۔(اردو ترجمہ، 653)
یہی ہوبہو اس کی بد دیانتی پر مبنی ترجمہ ہے جبکہ اوپر اصل عربی سے کیا ہوا ترجمہ ہے۔
یہاں پر اس بریلوی ’’آستانہ خور، مفت خور‘‘ نے رسول اللہ ﷺ کی فرمان کی مخالفت کی، اور اس جاہل صوفی کی خلافِ شریعت بات کو واضح نہیں کیا۔ بریلوی اور ان جیسے سارے صوفیاء قرآن چھوڑ سکتے ہیں، رسول اللہ کے احکامات چھوڑ سکتے ہیں، مگرغلط، ناجائز، حرام اور خلافِ شریعت کام یا بات پر جاہل اور مکار صوفیاء کا رَد نہیں کر سکتے۔حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ستر کو نہ دیکھے، اور نہ ہی کوئی عورت کسی دوسری عورت کی ستر کو
دیکھے ۔‘‘ (مسلم،کتاب الحیض، باب کراہیۃ النظر العورات)
فقہاء احناف کا فتوی ہے کہ :
و یحل للرجل ان ینظر من الرجل ما سوی تحت السرۃ الیٰ ان یجاوز الرکبۃ۔ و نظر المرء اۃ الیٰ المرء اۃ کنظر الرجل الیٰ الرجل والرکبۃ عندنا عورۃ
’’اور مرد دوسرے مرد کا ناف سے گھٹنے تک کے علاوہ دوسرے اعضاء دیکھ سکتاہے، اور یہی عورت کا
دوسری عورت کو دیکھنے کا حکم بھی ہے۔ اور گھٹنا ہمارے نزدیک پردے میں شامل ہے۔‘‘(فتاوی قاضیخان ،ج: 4، 367،کتاب الحظر والاباحۃ)
معلوم ہوا کہ یہ کوئی پاگل اور قابلِ رحم شخص تھا جس کو جہلاء اور گمراہوں نے ولی بنایا تھا اور ایسے مداہن مولویوں نے اس کی ولایت پر مہرِ جہالت ثبت کی تھی۔
لہذا ایسے مفتی، مولوی اور پیر کی کی تقاریر اور خطبات سننا بھی ، فائدے اور نقصان کی ملاوٹ کی وجہ سے ، جائز نہیں اس لئے کہ امام شاطبی غرناطی متوفی 790ہجری لکھتے ہیں کہ:
وکذلک جاء فی الشرع اصل{سد الذرائع}وہو منع الجائز لانہ یجر الی غیر الجائز وبحسب عظم المفسدہ فی الممنوع یکون اتساع الْمَنْعَ فی الذریعۃ وشدتہ
’’اور یہی وجہ ہے کہ شریعت میں اُصول سد الذرائع موجود ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی جائز
کام کو صرف اس لئے منع کرنا کہ وہ کسی ناجائز کام کا سبب بنتاہے ۔اور جتنابگاڑ کا امکان زیادہ ہو، اتنی ہی زیادہ اس کے منع کرنے میں فراخی اور شدت سے کام لیا جائے گا ۔‘‘(کتاب الاعتصام ،باب الوجہ
الخامس من النقل)
ایک اور مداہِن مولوی برسرِ منبر کہہ رہا تھا کہ جو عبدالرحمان بابا کے اشعار ترنم سے نہیں پڑھتا تو وہ ناراض ہوجاتا ہے، اور کہا کہ میں اس کے اشعار ترنم سے پڑھتا ہوں تو مجھے قبر سے سلام بھیجا ۔
فتاوی بزازیہ میں فرماتے ہیں :
{قَال عُلَمَائُ نَامَن قَالَ اِنَّ اَروَاحُ المَشَائِخ حَاضِرَۃ تَعلَم یُکَفَّرُ}(بزازیہ)
ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ بزرگوں کی روحیں حاضر ہیں اور وہ سب کچھ جانتی ہیں ایسا شخص کافر ہے۔‘‘ (اختلافِ اُ مت اور صراطِ مستقیم صفحہ 37 تا 39)
اسی طرح فقہ حنفی کی مشور کتاب’’ بحرالرائق شرح کنز الدقائق،باب احکام المتردین‘‘ میں بھی
’فتاوی بزازیہ‘ ہی کے حوالہ سے ایسا عقیدہ رکھنے والوں کی تکفیرکی گئی ہے یعنی ان کو کافر کہا گیا ہے ۔
یہ بات ہے اس سنہرے دور کی جب دنیا پر ہماری حکمرانی تھی۔ امن اور رزق کی فراوانی تھی۔ بکری
اور شیر ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ کسی قسم کی انفرادی و اجتماعی الجھنیں نہیں تھیں۔ لیکن پھر ہمیں کسی کی نظر لگ گئی۔ کچھ شر پسند عناصر نے فلسفے اور سائنس کی کتابیں پڑھنا اور پڑھانا شروع کر دیں۔ بس پھر کیا تھا، انفرادی و اجتماعی سکون برباد ہوگیا۔ لوگ طے شدہ امور پر سوچنے اور بات کرنے لگے۔ کچھ صدیوں تک یہ بے سکونی چلی، روز ہی ہنگامہ رہتا تھا، روز نئی دریافتیں اور انکشافات ہوتے تھے۔ بے تحاشا کتابیں لکھی جانے لگیں اور معاشرے کا انتشار بڑھتا چلا گیا. لیکن پھر کچھ اچھے درد دل رکھنے والے لوگ سامنے آئے جنہوں نے کتابوں کے مضر اثرات پر روشنی ڈالنی شروع کی اور رفتہ رفتہ ان کی کاوشوں سے شر پسند سائنسدانوں اور فلسفیوں کا محاسبہ ہونا شروع ہوا، انھیں قید کیا گیا، کہیں مارا گیا اور کہیں جلا وطن کیا گیا۔ پھر جابر سماج میں کچھ سکون ہوا۔ لیکن پھر بھی کتابیں تو موجود تھیں۔آخر ہلاکو خان کے عذاب نے ہمارے آباء کو کتابوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس کے بعد کئی صدیوں تک مسلم معاشروں میں چین رہا۔
عوام الناس کے لئے دینی کُتُب کے مطالعہ کے چند رہنما اُصول
مطالعہ کا انسانی زندگی کی تعمیر و ترقی،اورانسان کو راہِ راست پر لا کر قائم و دائم رکھنے میں اہم کردار رہا ہے۔ نیز اقوام کی تقدیر بدلنے اور اوقات کومفید بنانے میں بھی اس نے بڑا کار نامہ انجام دیا۔مطالعہ ہی نے لوگوں کے ذہن و دماغ کو کھول کر ان کو بے پناہ معلومات فراہم کیں۔ اسی کی بدولت دنیا کا ہر فرد ترقی کی منازل طے کرتا ہے اور وقت جیسے قیمتی دولت کو کار آمد بنا کر ضائع ہونے سے بچاتاہے ۔
عوام دینی کُتب کا مطالعہ استاد کی رہنمائی میں کرے
عوام الناس کے لئے دینی کُتب کا مطالعہ استاد اور رہنما کے بغیر مفید ہونے کی بجائے نقصادن دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
…اس لئے پیچیدہ باتوں کی سمجھ ،… کتابوں کی درجہ بندی کرنے اور…مشکل عبارتوں کو متعلقہ مضمون کے ماہر اساتذہ سے پوچھ کر حل کیا جائے،ورنہ یہی مطالعہ مفید ہونے کی بجائے اتنا مضر
ثابت ہوگا کہ ایمان و اعتقاد کو متزلز ل کر کے یا شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے چھوڑ دے گا۔
جبکہ شکوک و شبہات دور کرنے اور عبارتوں کی درست سمجھ کے لئے مخلص اور صحیح العقیدہ رہنما
ممکنہ نقصانات سے بچا سکتا ہے۔
…اس زمانے میں کتابوں کی کثرت اور آسانی سے دستیابی ہے، لہٰذاکتابوں کے انتخاب کے لیے ایک ماہر اور مخلص راہنما کی ضرورت ہے، کیونکہ کتابوں کا ازخود انتخاب کر کے مطالعہ کرنا بجائے مفید ہونے کے مضر ثابت ہوگا۔
…کسی کتاب کا سرسری مطالعہ کافی نہیں ہوتا بلکہ جب بات سمجھ میں نہ آئے تو اسی وقت اسی عبارت کو دوبارہ پڑھا جائے۔
… اسی طرح لوگوں کو استعداد اور لیاقتیں بھی مختلف ہوتے ہیں اس لئے اگر کسی کتاب کو پہلی بار پڑھنے سے اطمینان حاصل نہ ہو تو دوسری بار بلکہ تیسری بار پڑھنے کو بھی بوجھ نہ سمجھے ورنہ وقت کا ضیاع اور شکوک پیدا ہونے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے جس طرح علم بغیر استاذ کے خطرات سے خالی نہیں، اسی طرح مطالعہ بغیر رہنمائی کے سخت مضر ہے، کیونکہ بہت سی دقیق عبارات اور اہم مسائل ایسے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ بغیر استاذ کی رہنمائی کے بالکل بھی سمجھ میں نہیں آپاتے ہیں۔
مطالعہ کرنے والے کو یہ بات سامنے رکھنا چاہئے کہ مطالعہ کے دوپہلو ہیں، صحیح طور پر کسی کی رہنمائی میں مطالعہ کرنے کے جتنے فوائد ہیں، اس سے کہیں زیادہ بغیر رہنمائی حاصل کیے مطالعہ کرنے کے نقصانات ہیں۔
اس لئے نقصانات سے بچنے کے لئے کسی رہنما سے رہنمائی حاصل کرنے میں شرمندگی محسوس نہ کرنے والا کامیاب رہتا ہے۔
بقول عبدالوہاب شعرانی، عبدالقادر سبکی صاحبِ تصرف ولی تھا، کائنات کے سرخ و سفید کا مالک، لوگوں کی حاجات پورا کرنے والا، لوگوں کے گھروں کے اندرونی حالات کا خبر رکھنے والا(بس صرف
خدا کہنا باقی تھا )، مگر اخلاق و کردار اور قرآن وسنت کا کتنا پابند تھا، ذرا پڑھئے:
’’وہ کچھ یوں کلام کرتا تھا جو معاشرے میں شرمناک سمجھا جاتا ہے۔ ایک بار اس نے اپنے لئے ایک
دلہن تجویز کی۔ جب اسے دیکھا تو اس کے حسن و جمال سےخوش ہوا(بے قابو ہوا) تو اس نے لڑکی کے باپ سامنے کپڑے اُتار ے۔۔۔۔۔ اور اپنا آلۂ تناسل ہاتھ میں پکڑ لڑکی کو مخاطب ہوا کہ دیکھو! کیا یہ تمہارے لئے کافی ہوگا؟ نہیں تو تم کل کلاں اعتراض کر سکتی ہو کہ اس بندے کا آلۂ واردات بڑا ہے جو مین برداشت نہیں کرسکتی،یا یہ بہت چھوٹا ہے اور میں اس سے مطمئن نہیں ہوتی۔ پھر پریشانی میں(اِدھر اُدھر منہ ماری کرکے) مجھ سے بڑے’’ آلۂ واردات‘‘ والا شوہر ڈھونڈنے لگوگے۔ اور اس کی ایک بیٹی تھی جو یہ اپنے کندھوں پر لئے پھرا کرتا تھا جہاں بھی یہ جاتا۔یہاں تک کہ وہ بڑی ہوگئی۔اور کہا کرتا کہ ایسا میں معاشرے میں موجود حرامیوں کی وجہ سے کرتا ہوں۔‘‘
مگر بد دیانت مترجم نے یہ حصہ چھوڑا ہے۔ اس طرح اس کے بعض مداحوں نے شرمندگی کی وجہ سے اس میں خیانت پر مبنی ترمیمات کئے ہیں۔
ص:264،265؎
شعرانی، علی خوذۃ نامی بزرگ کے حالات میں لکھتے ہیں:
’’جب کسی عورت یا بے ریش لڑکے کو دیکھتے تو اپنے نفس پر قابو نہ پاتے(رال ٹپکنا شروع ہوجاتا۔ مؤلف) اور ان کی چوتڑوں پر ہاتھ پھیرتے۔خواہ کسی امیر کا بیٹا بیٹی ہو یا وزیر کا۔اور یہ سب ان کی اس کی والد وغیرہ کی موجودگی میں ہوتا تھا۔‘‘
یہاں پر مترجم صاحبزادہ پیر سید محفوظ الحق شاہ چشتی، صابری ، قادری بریلوی کی بددیانتی ملاحظہ کیجئے،اس نے ترجمہ یوں کیا:
’’جب کسی عورت یا بے ریش لڑکے کو دیکھتے تو غیر مناسب بات کہتے۔۔۔۔۔ خواہ کسی امیر کا بیٹا بیٹی
ہو یا وزیر کا۔ اور اس کا باپ وغیرہ کی موجودگی میں ہوتا تھا۔‘‘(اُردو ترجمہ، ص:653)