بابا حاجی شیر محمد دیوان عرف بابا چاؤلی مشائخ……حقیقی یا فرضی شخصیت؟

تحقیق: اکبر علی خان … بابا حاجی شیر محمد دیوان عرف بابا چاؤلی مشائخ…….  حقیقی یا فرضی شخصیت؟

اس کتاب میں کی تحقیق یہ ثابت کرے گی کہ بابا چاؤلی مشائخ  کوئی حقیقی شخصیت  اور تابعی نہیں بلکہ ایک فرضی، وہمی اور گھڑی ہوئی  خیالی شخصیت ہے جسے قبر فروشوں نے غوثِ زمان اور سرزمیں ہند و پاک پر پہلا تابعی صوفی قرار دیا ہے۔اسے فرضی بلکہ گھڑی ہوئی شخصیت کہنے کے وجوہات یہ ہیں:

۱۔ جائے پیدائش میں اختلاف۔۔۔ عرب میں پیدائش

اس کی جائے پیدائش میں  بھی اختلاف ہے۔ جو لوگ اس کے عباسی ہاشمی نسب ہونے کا  دعوی کرتے ہیں، ان کے بقول بابا چاؤلی مشائخ عرب کی سرزمین پر پیدا ہوئے، اور پھر اسلامی لشکر کے ساتھ سرزمین ہند پر حملہ آوری کے وقت ان کے ہمراہ  لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

مگر یہاں ان لوگوں کو مشکل یہ پڑے گی کہ عمرِ فاروق کے دور سے 15 ہجری سے پاک و ہند پر جنگی مہمات  شروع ہوئے، اور یہ سلسلہ 92 ہجری میں راجہ داہر کی شکست اور اس کے بعد 95 ہجری  میں  ملتان کے فتح  تک زور و شور سے جاری رہا۔ اور ان مہمات میں ہزاروں کی تعداد میں تابعین اور اتباعِ تابعین شہید ہوئے، …پھر ان کی مزارات کیوں نہیں بنائے گئے؟ اور ان کو غوثِ زمان کا درجہ کیوں نہیں ملا؟

…کیا اس بابا کے بارے میں ان قبر فروشوں پر اللہ کی طرف سے کوئی وحی۔نعوذباللہ۔ نازل ہوئی تھی؟

اس کا سیدھا جواب یہ  قوی امکان ہے کہ ہزاروں کو اس طرح مشہور کرانا مشکل تھا اس لئے ’’ایک ہو، مگر کام کا ہو‘‘  کے اُصول کے تحت اس کو جعلی طور پر پہلا تابعی صوفی مشہور کراکر اس کو  شہرت کے بامِ عروج تک پہنچایا  گیا اور پھر اس کی جعلی، غیر نسبی اولاد پیدا ہوئی جو  اس کے قبر پر ’’خزانے پر اژدھا‘‘ کے مصداق بیٹھ کر قبر کی کمائی سے بلا شرکتِ غیرے اَرب پتی بن گئے۔

اس کو صوفی کیسے بنایا گیا؟

 اس کا جواب یہ ہے کہ تابعین اور اتباعِ تابعین کے دور تک موجودہ عجمی  تصوف کا نام تک بھی کسی کی زبان پر نہیں تھا۔

 چونکہ تصوف کے چاروں  سلسلے بعد میں جعلی طور پر  سیدنا علی تک پہنچائے گئے،( اس پر میری تحقیق اانے والی ہے)، اور اس کو پہلا صوفی ثابت کیا گیا اس لئے اس بابا  شیر محمد دیوان کی بیعت کو، …باختلافِ اقوال…، سیدنا  امام حسن،  یا سیدنا امام حسین  رضی اللہ عنہما سے کرایا۔ اور  اس کو’’ صوفی‘‘ کہلوانا اس طرح ممکن بنایا گیا۔

۲۔ ملتان ڈھوٹ کمبوہ  قبیلے میں…… راجہ مہیپال کے گھر پیدائش

جو لوگ اس کو راجہ مہیپال کے گھر بطورِ ہندو راجپوت ، نام  رائے چاؤلہ ، یا مہاچاور سمجھتے ہیں ان کے دعوے کے مطابق  یہ  سندھ کے راجہ داہر کی بہن کے سوتیلے بیٹے تھے، اور راجہ داہر کی شکست کے بعد جب محمد بن قاسم کا لشکر ملتان فتح کرنے پہنچا ،  تو رائے چاؤلہ اپنے گیارہ سوتیلے بھائیوں کے ہمراہ اسلامی لشکر کے خلاف شدید مزاحمت کرتے ہوئے قیدی بنے، اور مدینہ یا بغداد پہنچائے گئے۔

قبولِ اسلام کے واقعے میں  اختلاف….. بغداد میں قبولِ اسلام

بابا چاؤلی  مشائخ کے قبولِ اسلام کے بارے میں دو مختلف مقامات پر دو مختلف واقعات ذکر کئے جاتے ہیں۔

قیدی بن کر جب بغداد پہنائے گئے تو وہاں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے حسنِ سلوک اور انصاف پسندی سے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔

غزنی کے مدرسہ  میں اپنے استاد سلطان فلک شیر خان کے ہاتھ پر قبولِ اسلام

مگر بابا چاؤلی  کا یہ استاد سلطان فلک شیر خان بھی ….. ایک  فرضی  بلکہ  گھڑی ہوئی شخصیت ہے، اس لئے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لئے جھوٹ کا لامتناہی

 سلسلہ شروع ہوتا ہے۔  دلائل یہ ہیں:

۱۔رانا  محمد اسلم صاحب، بابا چاؤلی شیر محمد دیوان   کے قبولِ اسلام کا واقعہ غزنی میں اس کے معلم سلطان فلک شیر خان سے متاثر ہونے  کا نتیجہ بتاتا ہے، مگر سلطان فلک شیر خان نامی فرضی معلم کا   اس وقت کے غزنی میں نام تک نہیں ملتا۔

 اور نہ ہی وہاں اس وقت کوئی ایسا مدرسے کا جود تھا جس میں ہر مذہب  کی تعلیم دی جاتی ہو، اور نہ ہی اس وقت تک وہاں اسلام پہنچا تھا۔

۲۔ پشتون تاریخ میں ڈیڑھ دو  سو سال پہلے کے افغانی بادشاہوں نے ’’خان‘‘کو نام کا حصہ بنایا۔ اس سے  کہیں بھی افغانوں میں ’’خان ‘‘ کا لفظ نہیں ملتا جبکہ ترکوں میں یہ حضرت نوح  علیہ السلام  کی ساتویں پشت سے جاری ہے، اور نوح علیہ السلام کی اولاد میں یافث کی اولاد میں ترک بن یافث کا ایک  بیٹا النجہ خان تھا۔

’’خان‘‘ ترک زبان کا لفظ ہے اور چین، ترکستان و تاتارستان کے بادشاہوں کا لقب تھا، جس کے معانی امیر، رئیس اور بیگ ہے۔ یہ لفظ ترکوں کے ساتھ وسطِ ایشیاء سے نکل کے مفتوح شدہ علاقوں میں پھیلا۔بعد میں یہ  لفظ مشرقی ایشیائی ممالک ،(منگولیا، ترک اور سلطنتِ عثمانیہ )کے سربراہان کے لیے مستعمل رہا۔‘‘

بابا دیوان شیر کا تاریخِ پیدائش 30 ہجری  مطابق 652 عیسوی بتایا جاتا ہے۔   اس  زمانے میں اس وقت غزنی میں کوئی ایسا مدرسہ نہیں تھا، اور نہ ہی  اس زمانے میں سلطان فلک شیر خان نام کا کوئی معلم  موجودتھا، بلکہ اس وقت غزنی اور آس پاس  بدھ مذہب کے لوگ  اور آتش پرست رہتے تھے۔اور اُن کے نام مسلمانوں کے نام سے یکسر مختلف تھے۔

غزنی  یا غزنہ کی پہلی صدی ہجری میں اہمیت

پہلی صدی ہجری میں غزنی کوئی اہم اور بڑا شہر نہیں تھا، بلکہ چوتھی صدی ہجری میں سبکتگین نے اس  کمزور، چھوٹے اور قبائلی اثر والے غزنی کو 977ء میں اپنے زیر تسلط کر کے اسے مضبوط قلعہ اور بعد میں سلطنت کی بنیاد بنایا۔اس کے بعد غزنی کی اہمیت بڑھ گئی، اور یہ وسطی ایشیا اور شمالی ہندوستان کے لیے ایک طاقتور مرکز بن گیا۔مذہبی لحاظ سے بھی  پہلی صدی ہجری کی شروعات میں بلخ اور آس پاس غزنی وغیرہ میں  بدھ مت  اور  آتش پرست زرتشتی مذہب کا غلبہ تھا۔630 عیسوی (مطابق 9 ہجری) میں جب مشہور چینی سیاح شوان زانگ (Xuanzang) بلخ آیا، تو اس نے وہاں لگ بھگ 100 بدھ خانقاہیں اور ہزاروں بدھ راہب دیکھے۔ یہاں کا سب سے بڑا اور مشہور معبد ’’نوبہار (Nava Vihara) تھا، جو بدھ مت کی عبادت کا مرکزی مقام تھا۔ اس لئے وہاں وہاں کوئی ایسا مدرسہ موجود نہیں جہاں ہر مذہب کی تعلیم دی جاتی تھی۔

افغانستان کے کسی علاقے میں سب سے پہلے اسلام کے  پائیدارنقوش  708 عیسوی میں اُموی افواج کے ہاتھوں بلخ کے فتح کے بعد پہنچے، اگر چہ  32 ہجری میں بعض علاقے فتح ہوئے تھے، مگر ان میں سے بیشتر نے بغاوت کردی تھی۔ جبکہ بابا شیر دیوان کو 15، 16 سال کی عمر میں کس مدرسے میں بھیجا گیا تھا؟ اس لئے یہ سارا افسانہ قبر پرستی کے گھڑا گیا ہے۔

وزٹ:  www.tauheedosunnat.com  

واٹس ایپ: 03109804145

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top