خَمْر کا مفہوم
الخمر خَمَرَ سے ماخوذ ہے بمعنی چھپانا، اسی سے خِمَارُ الْمَرَأۃِ ہے، عورت کا دوپٹہ (یعنی سر چھپانے والا کپڑا) چنانچہ کوئی چیز جب کسی چیز کو ڈھانپ لے تو کہتے ہیں خَمَرَہٗ۔ نشہ کو خَمْر اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ انگور کے پکائے گئے پانی کو بھی خَمْر کہتے ہیں اور جو بھی چیز عقل کو ماؤف کردے وہ بھی اس کے حکم میں ہے۔
خَمْر کی لغوی تحقیق
فیروز آبادی متوفی817ہجری القاموس المحیط میں لکھتے ہیں:
’’خَمْر وہ ہے جو انگور کی رَس سے کشید کی جائے۔یا یہ (خَمْر) عام ہے یعنی جو کسی بھی چیز سے بنائی جائے خَمْرکہلاتا ہے۔اور حقیقت میں اسے عموم پر ہی رکھنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ جب شراب حرام ہوئی تو اس وقت مدینہ میں انگوروں سے شراب بنانے کا
تصور نہیں تھا بلکہ وہ تو کچی پکی کھجوروں سے شراب بناتے تھے۔‘‘(القاموس، مادۃ خَمْر)
جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ ہرنشہ آور چیز کو خَمْر کہتے ہیں خواہ وہ…انگوروں کےرَس یا خشک انگور کو پانی میں بھگو کر بنائی جائے…اسے آگ پر پکایا جائے…یا بغیرآگ کے اس میں نشہ پیدا ہوجائے۔
جمہور کی اس تعریف کی تصدیق رسول اللہ ﷺکی اس حدیث سےبھی ہوتی ہےجو ابن عمر رضی اللہ عنہما نےروایت کی ہےکہ رسول اللہﷺنےفرمایا:
’’ہر نشہ لانے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔‘‘( صحیح مسلم:2003)
اسی طرح سورت نحل کی آیت:67 میں بالکل واضح طور پر فرمایا گیا :
ﵟوَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلۡأَعۡنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنۡهُ سَكَرٗا وَرِزۡقًا حَسَنًاۚﵞ
’’اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنالیتے ہو، اور عمدہ رزق بھی حاصل کرتے ہو۔‘‘
یہ مکی سورت ہے،جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی لیکن اس آیت میں خمر یعنی شراب کی حرمت کی طرف اشارہ ہے کہ ان ہی درختوں کی پھل سے حیات بخش غذا بھی حاصل ہوتی ہے، اور ان ہی درختوں کے پھلوں سے وہ ناپاک چیز بھی حاصل ہوتی ہے جو سڑ کر نشہ آور الکوحل بن جاتا ہے۔ اب یہ انسان کی اپنی قوتِ انتخاب پر منحصر ہے کہ وہ ان درختوں کی پھلوں سے پاک رزق حاصل کرتا ہے یا عقل کو زائل کرنے والی ناپاک اور حرام شراب۔ (تفہیم القرآن)
اس آیت میں لفظ سَکَر سے مفسرین نے صحابہ میں سےعبداللہ ابن مسعود، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن عباس اور تابعین میں حسن بصری، سعید بن جبیر، مجاہد اور قتادہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خمر(سے شراب اور ہر نشہ آور چیز، خشک ہو یا مائع)مراد لیا ہے۔ (دیکھئے تفسیر زاد المسیر، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر)
اس لئے اس کے بعد نازل ہونے والی آیت میں لفظ (خمر) سے مراد ہر نشہ آور چیز ہےاور بقول عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،اگر نشہ پانی اور روٹی میں بھی پیدا ہوجائے تو وہ بھی شراب کی طرح ہی حرام ہوگی۔(نسائی: 5683)
اندازہ کیجئے کہ مرادِ رسول ﷺعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے زیادہ کون جان سکتا ہے؟
قرآن میں حرمتِ خَمْر کے تین مراحل
سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نے شراب کے حرمت کے بارے میں دعا مانگی تھی:
یا اللہ! شراب کے بارے میں واضح حکم بیان فرما۔اس پر سورت بقرہ آیت:219 اُتری اور فرمایا گیا کہ:
ﵟيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِۖ قُلۡ فِيهِمَآ إِثۡمٞ كَبِيرٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثۡمُهُمَآ أَكۡبَرُ مِن نَّفۡعِهِمَاۗ ﵞ
’’اے نبی! یہ لوگ آپ سے شراب اور جوا بازی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ ان کو بتا دیجئے کہ ان دونوں میں بڑی گناہ بھی ہے اور فائدہ بھی۔ اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔‘‘
اس کا اثر یہ ہوا کہ کچھ لوگ اس کو گناہ سمجھ کر چھوڑنے لگے اور کچھ لوگ فائدے کو دیکھ کر استعمال کرنے لگے۔چونکہ اس میں شراب قطعاً حرام نہیں ہوا تو عمر فاروق نے پھر یہی دعا مانگی! یا اللہ! شراب کے بارے میں واضح حکم بیان فرما۔ اس پر سورت نساء آیت:43 اُتری اور مسلمانوں کو نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا تَقُولُونَﵞ
’’ اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جاؤ۔ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو۔‘‘
سورت نساء آیت:43 کی شانِ نزول
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دعوت کی، سب
نے کھانا کھایا، پھر شراب پی لی اور مست ہوگئے۔ اتنے میں نماز کا وقت آگیا، ایک شخص کو امام بنایا، اس نے ﵟقُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَﵞ اس طرح پڑھا:
مَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ وَ نَحۡنُ نَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ یعنی میں اس کی عبادت نہیں کرتا، جس کی تم عبادت کرتے ہو، اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اس پر یہ آیت اُتری اور نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر)
اس پر بھی عمر فاروق مطمئن نہیں تھے اور پھر وہی دعا مانگی جس پر اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کی واضح اور قطعی حکم نازل فرمائی۔
تیسرا اور فیصلہ کن مرحلہ:
دوسرے مرحلے کا حکم نازل ہونے کے بعد لوگوں نے نمازوں کے اوقات میں شراب پینا چھوڑ دیا۔اسے سن کر بھی سیدنا عمر فاروق ضی اللہ عنہ نے یہی دعا مانگی تو قطعاً حرام کرنے والی یہ آیت اتری:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ
مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ فِي ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّنتَهُونَﵞ
’’اے ایمان والو! بالیقین شراب، جوا، بتوں کے تھان اور فال نکالنے کے پانسے (تیر)
شیطانی کام ہیں، ان سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ بے شک شیطان کی تو یہ خواہش ہے کہ شراب اور جوے بازی کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے، اور تم کو نماز اور اللہ کی یاد سے روک دے۔کیا اب بھی تم باز نہیں آؤگے۔‘‘(المائدة: 90، 91)
پہلے مرحلے میں بتایا گیا کہ شراب پینے میں کچھ فائدہ ہے یعنی عارضی سرور کی کیفیت ۔ اور اسی طرح جوے میں بھی عارضی قسم کی جیت کا امکان ہے اور یہ بھی جوئے باز کو فائدہ نظر آتا ہے۔ مگر ان دونوں کاموں میں گناہ بھی ہے، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس میں صرف یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شراب بری چیز اور گناہ کا کام ہے اور گناہ کے کام اللہ کو پسند نہیں، چنانچہ اس حکم کے ساتھ ہی مسلمانوں میں سے ایک گروہ شراب پینے سے پرہیز کرنے لگے۔
دوسرے مرحلے میں نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ نشہ اُتر جائے اور انسان جو کچھ کہہ رہا ہو ، سمجھ کر کہہ رہا ہو۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے شراب پینے کے اوقات بدل دئے۔
تیسرے مرحلے میں شراب قطعی طور پر حرام قرار دی گئی اور اس سے سختی سے بچنے کی
تاکید کی گئی اور ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ کیا اب بھی تم لوگ شراب پینے سے بازنہیں آؤگے؟ جب کہ اس کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ دوسرے مرحلے کے نازل کردہ سورت نساء کی آیت:43
میں لفظ شراب (خمر) نہیں بلکہ سَکَرْ یعنی نشہ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ نشہ خواہ انگوری شراب کا ہو، یا جوش مارے نبیذ کا، کھجور کے بنی چیز کا نشہ ہو، یا شہد سے بنی چیز کا، بہر صورت ہر نشہ لانے والی چیز استعمال کرنے کے بعد نماز نہ پڑھو۔ اس لئے بعض لوگوں کی جو غلط فہمی ہے کہ صرف خَمر یعنی انگوری شراب حرام ہے، باقی نشہ آور اشیاء یعنی چرس، بھنگ، افیون، ہیروئن اور دیگر کیمیاوی نشہ آور اشیاء حرام نہیں، یہ بالکل غلط اور قرآن فہمی سے بے خبری کی دلیل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورت نحل کی آیت:67 میں انگور اور کھجور سے نشہ آور چیز کو سَکَر کا نام دے کر خمر (شراب) کی وضاحت فرمادی کہ خمر ہی وہ چیز ہے جو سَکَر کا سبب ہے اور اس کی حرام ہونے کا سبب سَکَر یعنی نسے کی کیفیت پیدا کرنا ہی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں زکوۃ کا ذکر آیا ہے مگر نصاب کا ذکر نہیں۔قرآن میں نماز کا ذکر آیا ہے مگر مقررہ اوقات اور رکعات کی تعداد کی بعینہ تعین نہیں۔قرآن میں حج کی فرضیت آئی ہے مگر حج کے تفصیلی احکامات ذکر نہیں کئے۔
اب ان مذکورہ تینوں عبادات کے تفصیلی احکامات ہمیں قرآن میں نہیں ملتے بلکہ ان کی پوری، واضح اور صریح احکامات ہمیں سنتِ رسول ﷺمیں ملتےہیں۔ اس لئے ہمیں ذخیرہ احادیث میں نشہ آور اشیاء کی تفصیل بھی ملتی ہے جس میں واضح طور پر ہر نشہ آور چیز استعمال کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
خمر یعنی نشہ آور اشیاء کو خبائث، رجس اور عملِ شیطان کہا گیا ہے
اسلام میں وہ تمام چیزیں بھی ممنوع ہے جو انسان کے اخلاقی وجود کے منافی ہیں۔
شراب کو سورت بقرہ کی آیت 219 میں ﵟإِثۡمٞﵞ یعنی گناہ قرار دیا گیاہے۔ اور لفظﵟإِثۡمٞﵞ اخلاقی برائیوں اور گناہوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح سورت مائدہ کی آیت: 90 میں اسے رِجس یعنی گندگی اور عملِ شیطان قرار دیا گیا ہے، اس سے بھی شراب اور نشہ آور اشیاء کی اخلاقی قباحت واضح ہوتی ہے۔سورت نساء آیت:43 سے واضح ہوتا ہے کہ شراب کی حرمت کا اصل سبب اس کا
نشہ آور ہونا ہے۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جب تم نشہ اور جنابت کی حالت میں ہو تو نماز نہ پڑھو۔ نشہ اور جنابت دونوں کو ایک ساتھ ذکر کرکے دونوں کو ایک ساتھ نماز کے لئے مُفسِد قرار دے کر اس حققیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں حالتیں نجاست اور گندگی کے ہیں، بس فرق یہ ہے کہ نشہ عقل کی نجاست ہے، اور جنابت جسم کی نجا ست ہے۔ اور قرآن نے جو شراب کو رِجس یعنی گندگی یا گندہ کام کہا ہے یہ اس کی وضاحت ہے۔
شراب کی حرمت کے وقت مدینہ اور جزیرہ عرب میں مختلف شراب
جس وقت خمر یعنی شراب کی حرمت نازل ہوئی اس وقت مدینہ اور جزیرۃالعرب میں انگور کے علاوہ بھی کئی اقسام کی شراب بنائے جاتے تھے۔ اور ان تمام اقسام کو خمر ہی کہا جاتا تھا۔ مثلاً سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق: مدینہ میں …انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے شراب (خمر) تیار کئے جاتےہیں۔ اور فرمایا کہ:
ﵟ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَالْعَقْلﵞ اور شراب (خمر) ہر وہ پینے کی چیز ہے جو عقل کوڈھانپ لے (زائل کردے)۔‘‘ (بخاری: 4619)
یمن کے لوگ دو قسم کے نشہ آور مشروب استعمال کرتے تھے:ایک البِتع جو شہد سے بنتا تھا۔ اور دوسرا المْزر جو مکئی اور جَو کو پانی میں بھگو کر تیار کیا جاتا تھا۔‘‘(نسائی:5704)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق: ….پکی اور گچی کھجور کی شراب جسے فضیخ کہا جاتا تھا۔‘‘ (بخاری: 5622)
اور بروایت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اہلِ حبشہ(ایتھوپیاکے لوگ):
…مکئی اور جوار سے غُبَیراء نامی شرا ب بناتے تھے، اور اس کو سُکْرُکَۃُ بھی کہا جاتا تھا۔ ( ابو داؤد: 3685)
اور اُن سب اقسام کی شراب میں حرام ہونے کی عِلَّتِ مشترکہ ان سب کا نشہ آور ہونا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺنے اسی علت مشترکہ کی وجہ سے ہر نشہ آور چیز کو شراب (خمر) کا نام دے کر ہر نشہ آور چیز کو قیامت تک حرام قرار دیا، اور اُمت کو اس کے استعمال سے منع فرمایا۔
نبی کریمﷺکے زمانے میں رائج مختلف شراب یا نشہ آور اشیاء کی تفصیل
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم یمن میں دو قسم کے مشروب استعمال کرتے تھے: ایک البِتع جو شہد سے بنتا ہے حتی کہ اس میں جوش پیدا ہوجاتاہے۔ اور دوسرا المْزر جو مکئی اور جَو کو پانی میں بھگو کر تیار کیا جاتا تھا حتی کہ اس میں
نشہ پیدا ہوجاتا۔ ان دونوں کے متعلق میں نے رسول اللہﷺسےپوچھا تو آپﷺنےفرمایا: ﵟكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌﵞ ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘
فصاحت و بلاغت اور جوامع الکلم کی صفات سے متصف نبی عربی ﷺ نے اس تعریف کے ذریعے ہر نشہ آور چیز کو ’خمر‘ کا نام دیا۔ لہذا مُسْکِرَات کی بعض اقسام کو ’خمر‘ کانام دے کر دیگر اقسام کو اس سے خارج کر دینا غلط فہمی اور ایک عام لفظ کو بلا دلیل خاص کر دینا ہے۔مزید بر آں اس مسئلہ میں منقول احادیث بھی اس موقف کو تقویت دیتی ہے کہ ’خمر‘ صرف انگور سے بنائی ہوئی شراب کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللَّهِ ﷺنے فرمایا:
ﵟحَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌﵞ
’’اللہ تعالیٰ نے خمر (شراب) حرام کی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘(نسائی: 5703)
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ﵟاِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْراًﵞً
’’1. گندم سے( بنی ہوئی نشہ آور چیز ) شراب ہے، 2. جَو سے( بنی ہوئی نشہ آور چیز) شراب ہے، 3. مُنَقّٰی سے( بنی ہوئی نشہ آور چیز )شراب ہے، 4.خشک کھجور سے (بنی ہوئی نشہ آور چیز ) شراب ہے اور 5. شہد سے ( بنی ہوئی نشہ آور چیز ) شراب ہے۔‘‘ (ابن ماجہ:3379)
جابر رضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
ﵟأَنَّ رَجُلًا مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ قَدِمَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهﷺعَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ، يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّﷺ: أَمُسْكِرٌهُو؟قَالَ:نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ:كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ اللهَ عز وجل عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ. قَالُوا:يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ قَالَ: عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
’’ جیشان(یمن کا ایک قبیلہ) کا ایک شخص آیا اور رسول اللہ ﷺ سے مکئی کے بنےاس مشروب کے بارے میں پوچھا جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے اور اسے مِزْر کہتےتھے۔نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: کیا وہ نشہ لاتا ہے؟ وہ بولا: ہاں۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہے کہ جو نشہ لانے والی چیز پئےگا تو اللہ تعالیٰ اسے طینۃ الخبال پلائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا: طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپﷺنے فرمایا:جہنمیوں کا پسینہ، یا فرمایا: جہنمیوں کا پیپ۔‘‘(نسائی:5712)
قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ، فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الْأَشْرِبَةِ، فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ
’’ایک شخص نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: میں اہلِ خراسان میں سے ایک فرد ہوں، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے، ہم مُنَقّٰی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان مشروبات کی کئی قسمیں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید قسمیں۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ (ابن عباس) اس کو نہیں سمجھ سکے۔ ابن عباس نے اس سے کہا: تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو جائے، اس سے بچو۔ (خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے)۔‘‘ (نسائی: 5692)
’’عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے ایک شخص نے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْئٍ يَنِشُّ
’’ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔‘‘ (نسائی، حدیث نمبر:5699)
انس بن مالک رضی الله عنہسے روایت ہے کہ میں اپنے قبیلے میں چچاؤں کو شراب پلا رہا تھا، اور اس وقت میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اتنے میں کسی نے کہا کہ شراب (خمر) حرام قرار کر دی گئی۔( ابو طلحہ نے کہا کہ) شراب پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے پھینک دی۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے انس رضی الله عنہسے پوچھا کہ اس وقت لوگ کس چیز کی شراب پیتے تھے۔ کہا کہ پکی اور گچی کھجور کی۔ اور یہی اس وقت ان (اہلِ مدینہ) کا شراب (خمر ) ہوتا تھا۔ (بخاری: 5622)
اگر روٹی اور پانی میں بھی نشہ پیدا ہو تو وہ بھی شراب کی طرح حرام ہے
ﵟعَنْ عَائِشَةَ سَأَلَهَا أُنَاسٌ كُلُّهُمْ يَسْأَلُ عَنِ النَّبِيذِ يَقُولُ: نَنْبِذُ التَّمْرَ غُدْوَةً وَنَشْرَبُهُ عَشِيًّا وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا وَنَشْرَبُهُ غُدْوَةً قَالَتْ: لَا أُحِلُّ مُسْكِرًا وَإِنْ كَانَ خُبْزًا وَإِنْ كَانَتْ مَاءً قَالَتْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
’’سیدۃ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے کچھ لوگوں نے مسائل پوچھے۔ تقریباً سبھی لوگ ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، کہ ہم صبح کے وقت کھجوروں کو بھگوتے (نبیذ) بناتے ہیں اور شام کو پی لیتے ہیں۔ اور شام کو بھگوتے (نبیذ بناتے) ہیں اور صبح کو پی لیتے ہیں۔تو بی بی صاحبہ نے فرمایا: میں کسی نشہ آور چیز کو حلال نہیں کہہ سکتی، خواہ روٹی ہو، خواہ پانی ہو۔ اُنہوں نے یہ تین دفعہ فرمایا۔‘‘ (نسائی: 5683)
اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے شراب(خمر)،
جوے، کوبۃ اور غُبَیراء سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اور غبیراء نامی شراب اہلِ حبشہ (ایتھوپیا) کے لوگ مکئی اور جوار سے بناتے تھے، اور اس کوسُکْرُکَۃُ بھی کہا جاتا تھا۔( ابو داؤد: 3685)
اس سے بھی ثابت ہوا کہ نشہ خواہ کسی بھی چیز میں پیدا ہو، وہ خمر ہے اس لئے کہ عقل کو خراب کرنے والی ہے۔
نشہ آور اشیاء کی مختلف اقسام
الکوحل، شراب، چرس، بھنگ، بھنگ والی ٹھنڈائی، آئس، کلوروفارم، کوکین، مارفین اور دیگر نشہ آور کیمیکلز وغیرہ۔یہ تمام چیزیں نشہ پیدا کرتی ہے اور قرآنی اصطلاح میں یہ سارے رِجس یعنی گندگی ہیں، اور من عمل الشیطان (شیطانی چیزیں) ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے نماز کے قریب بھی نہ جانے کے لئے جس سبب سے منع کیا تھا وہ سبب نشہ تھا۔ اور صاف الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ نشہ یعنی سَکَر ہی استعمال فرمایا ہے۔ اس لئے مندرجہ بالا تمام اشیاء میں حرام ہونے کی علتِ مشترکہ موجود ہے اور وہ ہے ان تمام چیزوں کا نشہ آور ہونا۔
اس لئے قرآنی اصطلاح یعنی خَمر کا اطلاق ہر نشہ آور چیز پر ہوتا ہے، اور پھر رسول اللہﷺ نےبھی خمر کی تفسیر ہر نشہ آور چیز کی ہے۔ لہذا ان سب نشہ آور اشیاء کا استعمال حرام ہے۔ نوجوان طبقہ نشہ موج مستی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور پھر اس میں رغبت پیدا ہوتی ہے اور جس خبیث، ناپاک اور گناہ کے کام میں رغبت پیدا ہو، وہ حرام ہوجاتا ہے۔ ہمارے تحصیل شبقدر کے ایک گاؤں کے نوجوان 35، 40 سال پہلے کھانسی کا شربت ٹُسی ول کی پوری بوتل نشہ کے لئے ایک وقت میں پیتے تھے جس سے ان کو مکمل نشہ چڑھتا تھا۔ اسی طرح آج کل بعض لوگ ربڑ اور دیگر چیزوں کو چپکانے والی سلوشن، بانڈ وغیرہ سونگھتے ہیں جس سے ان کو نشے جیسے کیفیت ملتی ہے کیونکہ ان سلوشنز میں کلوروفارم اور آکٹین وغیرہ کی ایک خاص مقدارشامل ہوتی ہے۔
جن چیزوں کی حرمت کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہو، وہ تو ہے ہی حرام، البتہ جن چیزوں کا ذکر قرآن و سنت میں نہ ہو مگر ان میں سببِ حرمت موجود ہو جسے فقہ کی اصطلاح میں حکم کی عِلَّت کہاجاتا ہے، ان سب چیزوں کو بھی علتِ مشترکہ کی موجودگی کی وجہ سے منصوس اشیاء پر قیاس کرکے اُن کی حرام ہونے کا فتوی دیاجائے گا۔
قیاس کیا ہے؟
علمائے اُصول کی اصطلاح میں قیاس کی تعریف یہ ہے:
’’جس مسئلہ کے حکم کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو اس کو اس مسئلہ سے ملانا جس کے بارے میں نص موجود ہو، اس حکم کی علت(سبب) میں دونوں کے مشترک ہونے کی وجہ سے۔‘‘
قیاس میں مقیس (بھنگ، چرس، افیون وغیرہ) اور مُقِیس عَلیہ (خمر، شراب) کےدرمیان اشتراکِ معنوی کا ہونا ضروری ہے، جیساکہ شراب اور بھنگ میں سَکَر یعنی نشہ ایک معنوی چیز ہے،اس لئے شراب پر قیاس کرکے فقہاء نے بھنگ کو بھی نشہ پیدا کرنے کی علتِ مشترکہ کی وجہ سے حرام قرار دیاہے اگرچہ قرآن و سنت میں بھنگ کا لفظ یا اس کی حرمت منقول نہیں۔اس تفصیل کی وضاحت یہ ہے کہ شارع کبھی کسی واقعہ کے بارے میں خاص حکم واضح طور پر بیان فرماتے ہیں (جسے نص کہا جاتا ہے) اور مجتہد (فقیہ، عالم) اس حکم کا علت معلوم کرتاہے۔ پھر ایک دوسرا واقعہ پایا جاتاہے جس کے حکم کے بارے میں نص(واضح حکم) وارد نہیں ہوتا لیکن یہ حکم کی علت میں پہلے واقعے کے برابر ہوتاہے۔ پس مجتہد اس واقعہ کو پہلے واقعہ کے ساتھ ملادیتاہے اور ان دونوں کاایک حکم بیان فرماتاہے۔ پس یہ ایک واقعہ دوسرے سے ملانا قیاس کہلاتا ہے۔ ‘‘ ( الوجیز فی اُصولِ فقہ، مکتبہ رحمانیہ،ص:238,237 ۔۔۔ تحفۃ المناظر، ص:387)
اور فقہ کا اُصول ہے کہ حکم علت کے ساتھ رہتا ہے وجود و عدم دونوں اعتبار سے۔ یعنی جب علت کسی جگہ موجود ہوگی تو اس کے ساتھ حکم بھی موجود ہوگا۔ اور جب علت زائل ہوگی تو حکم بھی زائل ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ شراب نشہ آور ہونے کی علت کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے، مگر جب شراب کا سرکہ بن جائے تو اس میں نشہ باقی نہیں رہتا اس لئے علت یعنی نشہ زائل ہونے کی وجہ سے حکم یعنی حُرمت بھی جاتی رہی۔
اس سے ثابت ہوا کہ شریعت کسی چیز کو کسی خاص علت (سبب) کی بنا پر حرام قرار دیتا ہے، اور وہ سبب جن جن چیزوں میں پایا جائے گا، اس پر وہی اصل والا حکم لگے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شراب کو نشہ آور ہونے کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے۔ اب جس چیز میں بھی نشہ پیدا کرنے کی خاصیت ہوگی وہ بھی شراب کی طرح حرام اور شراب کی طرح قابلِ سزا قرار پائے گا۔
چرس، افیون، بھنگ اور دیگر منشیات میں بھی شراب کی طرح حدّ لگے گی
یہ حیثیت ہر نشہ آور چیز کو شامل ہے، چاہے وہ نشہ آور کھانے کی چیز ہو یا پینے کی، جامد (خشک) ہو یا مائع (سیال بہنے والا)، اگر وہ شراب کی تاثیر رکھتی ہے تو حرام ہے۔ اگر کو ئی حشیش، چرس وغیرہ کو مائع شکل میں ڈھال کر پی لے تو وہ بھی حرام ہوگا۔ نبی اکرمﷺ جو امع الکلم سے متصف تھے۔ آپ ایسا جامع لفظ بولتے تھے جو استعمال کے اعتبار سے عام اور اپنے مفہوم میں شامل تمام اشیاء پر مشتمل ہوتا تھا، چاہے وہ آپ کے زمانہ میں موجود ہوں یانہ ہو۔
صحابہ کرام جو کہ آپﷺ کی صحبت میں کسبِ علم و فیض کرتے رہے، آپ ﷺ کی حدیث کو اُن سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا، اُن کا بھی یہی کہنا ہے۔
عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو منبرِ رسول پر کہتے سنا کہ: ﵟ اَلْخَمْرُ مَا خَامَرَالْعَقْلﵞ
’’ہر وہ پینے کی چیز جو عقل کو ڈھانپ لے، خمر (شراب) ہے۔‘‘ (بخاری: 4619)
مزید برآں عقلِ صحیح اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ فرضِ مُحال آپ ﷺ کے الفاظ ہرنشہ آور چیز کو خمر کا نام دینے میں شامل نہ بھی ہوں، تاہم قیاسِ صحیح و صریح جس میں اصل(خمر) و فرع(بھنگ، چرس) ہر اعتبار سے برابر ہوں، تو اس کا فیصلہ یہی درست ہے کہ مُسکر کی تمام انواع و اقسام ایک ہی حکم میں داخل ہیں۔لہٰذا ان انواع میں فرق کرنا متماثلَین(دو برابر چیزوں) کے درمیان فرق کرنے کے قبیل سے ہوگا اور یہ عقل و قیاسِ صحیح کے خلاف ہے۔ اس بنا پر منشیات کی تمام اقسام (چرس، افیون، ہیروئن وغیرہ) حرام ہیں اور ان پر خمر (شراب) کا نام صادق آتا ہے کیونکہ یہ نشہ آور ہیں اور عقل ماؤف کر دیتی ہیں۔فاسق و فاجر لوگ سرور ومستی کی کیفیت طاری کرنے کیلئے اُنہیں لیتے ہیں او ریہی اوصاف شراب میں پائے جاتے ہیں۔
بعض علمائ کا موقف ہے کہ حد یعنی کوڑوں کی سزا صرف خمر یعنی شراب میں ہے جوانگور کے شیرے سے بنائے جاتے تھے، اور باقی نشہ آور اشیائ میں تعزیر ہے جو قاضی اور جج کی صوابدید پر منحصر ہے کہ جو سزا مناسب سمجھے، دے دے۔ جبکہ بعض دیگر علمائ کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہر نشہ آور چیز کو خمر کہا ہے، اس لئے انگور کے علاوہ دیگر پھلوں سے بنائی گئی شراب بھی خمر ہے، اور خمر میں چونکہ حد ہے اس لئے جو بھی چیز نشہ لاتا ہو اس پر حد لگے گی یعنی کوڑوں کی سزا، اور یہی بات حق کے قریب ہے۔ اوپر تفصیل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ رسول اللہ نے ہر نشہ آور چیز کو خمر کا نام دیا ہے۔عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ
’’ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اور ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے۔’‘(نسائی:5704)
عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
اِجْلِدُوافیِ قَلِیلِ الْخَمْرِ وَ کَثِیرِہِ
’’کسی نے تھوڑا شراب پیا ہو یا زیادہ، اس کو کوڑے مارو۔‘‘(بیہقی، کتاب الاشربۃ)
اور یہ بھی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺسے روایت کرتی ہے کہ:
اجْلِدوا في قَليلِ الخَمرِ وكَثيرِهِ فإِنَّ أَوَّلَها وآخِرَها حَرامٌ
’’کسی نے تھوڑا شراب پیا ہو یا زیادہ، اس کو کوڑے مارو۔ اس لئے کہ شراب کی پہلی گھونٹ اور آخری گھونٹ ایک جیسا حرام ہے۔‘‘ (بیہقی، کتاب الاشربۃ، باب فی وجوب الحد۔۔)
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں کہ جس طرح پہلا گھونٹ حرام ہے، اسی طرح آخری بھی حرام ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جس طرح پہلی بار نشہ آور چیز پینے والے کو نشہ چڑھتا ہے اور وہ کوڑوں کی سزا کا مستحق ہے اسی طرح جس کو عادت کی وجہ سے پورا
نشہ نہ چڑھتا ہو وہ بھی سزا کا اسی طرح مستحق ہے جس طرح پہلی بار نشہ کرنے والا۔
…اور جب یہ بات بھی ثابت ہے کہ رسول اللہﷺکی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا
گیا جو نشہ کی حالت میں تھا، اس نے منقیٰ اور انگور کا بنا نبیذ پیا تھا، آپﷺنے اس پر حد جاری کر دی تھی۔‘‘ (مسند احمد)
…اور جب یہ بات بھی ثابت ہے کہ شراب کی حرمت کا حکم نازل ہونے کے وقت مدینہ میں کچی اور پکی کھجور کا شراب بنتا تھا، انگور کے شیرے کا نہیں۔
…اور جب یہ بات بھی ثابت ہے کہ عرب صرف انگور سے نہیں بلکہ دیگر چیزوں سےبھی شراب بناتے تھے، …اور جب یہ بات بھی ثابت ہے کہ دیگر افراد، جن کو حد لگائی گئی تھی، کس قسم کی شراب پر لگائی گئی تھی، اس کا ذکر نہیں کہ انگوری شراب پر ، یا شہد کی بنی شراب پر، جَو یا گندم کی بنی شراب پر، یا کھجور کی بنی شراب پر۔ تو پھر ان علماء کا قول راجح ہے جو ہر نشہ آور چیز ، خواہ سائل ہو یا جامد وخشک، میں حد لگانے کے قائل ہیں۔لہذا شراب ہو، یا الکوحل، بھنگ ہو ، یا چرس یا کوئی اور کیمیکل نشہ۔سب میں حد لگاناقرآن و سنت میں بیان کردہ خَمْر اور مُسکِر کے الفاظ سے ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں مناسب ہے اس لئے کہ ان تمام اشیاء میں حرمت کی علتِ مشترک ان سب کا نشہ آور ہونا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’شریعت کا قاعدہ ہے کہ وہ حرام اشیاء جن میں انسانی نفوس رغبت رکھتے ہیں، ان کے ارتکاب پر حد لازم ہے جیسا کہ شراب اور زنا۔ اور جس میں رغبت نہیں جیسا کہ مردار کا استعمال تھا، اس میں تعزیر ہے۔ چرس اور افیون ان اشیاء سے تعلق رکھتی ہیں جن میں ان کے استعمال کرنے والے رغبت اور خواہش رکھتے ہیں اور اسے چھوڑ نہیں سکتے تو اس کے استعمال پر بھی حد لگے گی۔‘‘