اولیاء اللہ کے مزارات پر ہونے والے شیطانی کام۔ تحریر اکبرعلی خان

اولیاء کے مزارات پر شیطانی کام

ایمانوں کے سوداگروں کاایک اور دھوکہ۔۔ دنیا سمیٹنے کی غرض سے

قارئین حج لغیراللہ کے نام سے حیران مت ہو ،ہم ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں مسلمان کے نام سے ایسے ناسمجھ اور دین ِ اسلام کی روح و جوہرسے نا آشنالوگ موجود ہیں جو مخلوق کیلئے حج کرتے ہیں،یا بیت اللہ شریف کے علاوہ کسی پیر کے آستانے یا کسی وفات یافتہ بزرگ کے قبر کی زیارت کو حج کے برابر سمجھتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں:

 لعل شہباز قلندر رحمہ اللہ کے مزار کے باہر بالکل حجِ بیت اللہ کے طرز پر:

٭وہاں جاکر طواف کرتے ہیں، جس کا جائز سمجھنا قطعی کفر ہے۔یہ بات ابھی اُوپر گزری ہے۔

جمرات کے طرز پر وہاں موجود ایک مقام پر:

 ٭سات کنکریاں مارتے ہیں، اور وہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس مقام پر لعل شہباز قلندر رحمہ اللہ کو شیطان دکھائی دیا، تو حضرت نے اس کو سات کنکر مارے۔

بھلا جاہل عوام کی نظر میں لعل شہباز قلندر رحمہ اللہ ،، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں، اورجاہل عوام اور گمراہ مجاوروں کی نظر میں لعل شہباز قلندر رحمہ اللہ کیا ابراہیم علیہ السلام سے کم ہے ، العیاذ باللہ من ذلک۔

یہی ہے‘‘ مسلم نما مشرکین’’ کا حج لغیراللہ۔ اب یقین آگیا نا ۔دین اب بھی نہ سمجھوگے،تو کب سمجھوگے۔

قارئین! یہ بات یاد رکھئے کہ بالفرض اگر لعل شہباز قلندر کو شیطان نظر بھی آیاہو،اور اس نے شیطان کو مارابھی ہو پھر بھی ،ہر گز ہر گزاس کے اس عمل کو دہرایانہیں جائے گا، بلکہ اس کا دہرانا بدترین گمراہی ہوگا ۔ اس کایہ عمل اس وقت تک تھا ،کسی کو اس کی نقالی کرنا جائز تو کہاں ہوگی بلکہ بہت بڑا گناہ اور اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے ۔بلکہ ایمان کیلئے قوی خطرہ ، اس لئے کہ اس میں حج کے ساتھ مشابہت ہے اور حج کے احکام مکہ مکرمہ میں موجود خاص مقامات تک محدود ہے ،ان مقامات کے علاوہ مکہ مکرمہ کے کسی اور جگہ پر ان احکام کا بجالانا بھی درست نہیں تو صوبہ سندھ میں کہاں جائز اور کس نے جائز کیا؟؟؟؟

قارئین! یہ بات ذہن میں رکھئے کہ اگر کوئی حاجی عرفہ کے دن غروبِ آفتاب تک عرفات کی بجائے مزدلفہ میں وقوف کرے ،عرفات نہ جائے تو اس سے مزدلفہ میں یہ وقوف عرفات کی وقوف کی جگہ قبول نہیں کیاجائے گا ،اور اس طرح حج کا سب سے بڑا رکن اس سے فوت ہوجائے گا ،اور اس کا یہ حج قبول نہیں ہوگا بلکہ وہ اس حج کی قضا اگلے سال کرے گا۔

حج صرف اللہ کے گھر بیت اللہ کی ہوتی ہے، کسی ولی کے قبرکی زیارت کو حج کہنا ایمان کیلئے قوی خطرہ ہے

حج صرف اللہ کے گھر کی ہوتی ہے جس کے بارے میں قرآن وسنّت کا حکم موجود ہے۔حج کی فرضیت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتَ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا﴾(آلِ عمران،آیت:97)

ترجمہ:‘‘اور اللہ کی طرف سے اللہ کیلئے لوگوں پر اللہ کے گھر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔’’

حج میں بڑے عید کے دن نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق صرف بڑے جمرے کو اوراس کے بعددو دن تینوں جمرات کو،ہر ایک کو سات، سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

اب بھی لوگ وہاں جاکروہی حج والی تعداد میں اس جگہ سات،سات کنکریاں ماری جاتی ہے ۔ کیا یہ اللہ اور اس کے دین کے ساتھ غداری اور بد معاشی نہیں؟

انہوں نے کاروبار چلانے کیلئے وہی بات مشہور کی جو نبی ابراہیم علیہ السلام کو اس مقام پر پیش آئی تھی،یعنی شیطان کا نظر آنا اور ابراہیم علیہ السلام کا اس کو کنکریاں مارنا ۔

پھر اللہ کے حکم سے اس عمل کو مناسکِ حج میں سے قرار دیا گیا ۔

 اب کوئی یہ بتا سکتاہے کہ لعل شہباز قلندر رحمہ اللہ کے عمل کو کس بنیاد پر سنت یا واجب قرار دیاگیا۔یہ

دین میں کھلی تحریف اور تبدیلی ہے ۔ اور ایسا کرنے سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتاہے اس

 لئے کہ ہمیں نبی عربی ﷺ کے احکام کا پابند بنایاگیاہے نہ کہ مجاروں کے مشہورکردہ بکواسات کا۔

 قارئین!اگر لعل شہباز قلندر رحمہ اللہ خودبھی یہ بات کہتا ، پھر بھی اس کی اس بات کی اتنی بھی وقعت نہیں تھی جیسے مچھر کا پَر، اس لئے کہ وہ پیغمبر نہیں بلکہ پیغمبرِپاک نبی عربی ﷺ کا اُمتی تھا اور چار وناچار اس نبی ﷺ کی شریعت کااسی طرح پابند اور مکلَّف تھا جس طرح ایک عام مسلمان۔اس لئے کہ شریعت کی پابندی میں میں ہر خاص وعام برابر ہے ،خواہ کوئی ولی ہو یا کوئی غلام۔ولی کو ولایت نبی کریم ﷺ کی اطاعت کی وجہ سے ملتی ہے کسی اور وجہ سے نہیں ،ور اگر کسی ولی نے اپنے لئے نبی کریم ﷺ کی اطاعت کو ضروری نہیں جاناتو اسی وقت وہ ولی نہیں رہے گا اور اللہ اس کی ولایت سلب کرے گا ۔

بالفرض اگر وہ اس طرح کاکوئی حکم اپنے مریدوں کو فرماتا تو اس طرح فرمانے سے وہ شریعت کا مجرم ٹھہرتا ۔ اس لئے کہ ابراہیم علیہ السلام کے شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اللہ نے زندہ رکھا ،اور نبی کریم ﷺ کے حکم سے اس عمل کو واجب قرار دیاگیا۔

قارئین! اللہ کا حکم حج کے بارے میں تم نے پڑھا جبکہ باطل طریقت کے دعویدار حج پر نہیں جاتے بلکہ اپنے میر کے آستانے اور مزار پر جانے کو حج کہتے ہیں ،اور نہ صوف یہ کہ اس کا حج کہتے ہیں بلکہ عملاً بھی اپنے مریدوں کو حج جانے سے منع کرتے ہیں۔

مشہور ایرانی صوفی ابو سعید کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے مریدوں کو حج سے منع کرتے تھے اورکہتے تھے کہ وہ(بیت اللہ) تو محض پتھر کاایک گھر ہے۔’’ (وحدت الوجود۔ایک غیراسلامی نظریہ،مطبوعہ دوست ایسوسی ایٹس تاجرانِ کتب لاہور،ص:129)

ایک دفعہ اسی ابو سعید کے درویش وجد ورقص میں مصروف تھے کہ اذان کی آواز آئی لیکن انہوں نے درویشوں کا رقص جاری رہنے دیا اور کہا کہ تمہاری نماز یہی ہے۔۔۔۔(وحدت الوجود۔ایک غیراسلامی نظریہ،ص:129)۔اس کفر سے اللہ کی پناہ۔

ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی اپنے مقالے‘‘ ہنداسلامی تہذیب اور تصوف’’ میں لکھتے ہیں:

‘‘ذوالنون مصری کا قول ہے کہ:

‘‘کوئی شخص ہرگز مرید نہیں ہوسکتا جب تک خدا سے زیادہ اپنے استاد(پیر) کا فرماں بردار نہ ہوجائے۔’’

پیر کا یہی وہ بلند وبرتر موام ہے جس کی وجہ سے صوفیاء نے اپنے لئے سجدہ تعظیمی رَوارکھاہے۔’’

آگے لکھتے ہیں:

‘‘بلکہ بعض صوفیاء نے تو بادشاہوں کو سجدہ تعظیمی کا مستحق بنادیاہے۔بادشاہ اکبر کو دین سے بیزار کرنے میں انہی جاہل صوفیاء کا کردار رہاہے۔

آگے لکھتے ہیں :

‘‘شیخ کی انہی خدائی صفات کی بناپر صوفیاء کرام حجِ بیت اللہ پر شیخ کی قبروں کی زیارت کو ترجیح دیتے ہیں۔بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ حج پر وہ جائے جس کا کوئی پیر نہ ہو۔’’(مضامینِ تصوف،ص:97,96,95)

قارئین! ایک آسان سوال:

……ایک طرف اللہ کی بات ہے اور دوسری طرف پیر یا استاد کی،کس کی بات ماننے میں ایمان کی سلامتی اور آخرت کی نجات ہے؟اس سوال کا جواب خود کو دیجئے اور ایمان کی سلامتی کی فکر میں جاہلوں کے محافل سے پرہیز کیجئے۔

…… اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم اللہ نے دیاہے ،اور اس حکم میں اولیاء اور صوفیاء بھی شامل ہیں ۔اب ذرا یہ بتاؤ کہ جو لوگ اس حکم سے خود کو آزاد سمجھے تو کیا ان کی ایمان سلامت رہے گی؟

﴿بہشتی دروازے﴾ کے نام پر دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ اور سب سے بڑی کفر

قبر پرست، اسلام کے دشمن اور لوگوں کے ایمانوں کے سوداگر ہیں

پاک پتن(پنجاب) میں بابافریدالدین گنج شکر رحمہ اللہ کے مزار پر بہشتی دروازے کے نام پر ایک دروازہ نصب ہے ،وہاں کے مجاورین دعوی کرتے ہیں کہ یہ دروازہ بابافرید کیلئے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بھیجاتھا۔

جاہل قبر پرستوں اور اولیاء کو اللہ کا درجہ دینے والے گمراہوں کے دل کعبہ شریفہ میں نصب ﴿جنتی پتھر﴾ حجر اسود کودیکھ دیکھ کرحسد سے جلنے لگے تو یہ من گھڑت بات مشہور کردی ، دل کا بھڑاس نکالنے کیلئے اور گمان کرتے ہوئے کہ ہمارے پیر کا مزار کعبہ سے کم ہے کیا ۔العیاذ باللہ من ذلک۔

قارئین!حجرِ اسود جنتی پتھر ہے مگر اس کے جنتی پتھر ہونے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے زبان مبارک سے کئی ایک احادیث بطورِ دلیل موجود ہے۔اس دروازے کے بہشتی ہونے کے بارے میں کوئی قرآن کی آیت یا نبی کریم ﷺ کی حدیث بطورِ دلیل پیش کر سکتاہے؟ اگر نہیں تو یہ سو فیصدی سے بھی زیادہ گمراہانہ جھوٹ ہے۔

……اگر کوئی کہے کہ بابا فریدرحمہ اللہ نے کہاتھا کہ یہ میرے پاس جنت سے بھیجاگیاہے۔

تواس کا جواب یہ ہے کہ بابافرید پیغمبر نہیں ،کہ اس کی یہ بات مانی جائے۔بلکہ قبروں میں مدفون بہت سارے مزعومہ اولیاء اپنے اپنے زمانے میں وہ لوگ تھے جو آج کل ان صوفیاء اور پیروں کی شکل میں موجود ہیں، خود گمراہ اور صراطِ مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں اور مخلوقِ خدا کو گمراہ کرنے پر لگے ہوئے ہیں، اور جن کے عقائد کی گندگی سے مشرکینِ مکہ کی شرک بھی پناہ مانگتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں نے بابا فریدرحمہ اللہ کی طرف یہ جھوٹی بات منسوب کی ہے ،بابا فریدرحمہ اللہ نے ایسی گندی جھوٹ کبھی نہ بولاہوگا، اس لئے کہ اگر وہ ولی تھا تو ولی گناہوں سے دور بھاگتاہے ، قصداً جھوٹ بولنے جیسی گناہ کا ارتکاب تو فاجروں کا کام ہے۔

 اور اگر ثابت ہوجائے کہ بابافریدرحمہ اللہہی نے یہ بات کہی ہے تو ہم یہی کہیں گے کہ بہر صورت یہ بات غلط اور من گھڑت ہے۔اور جس نے بھی کہی ہے ہے جھوٹ ہی ہے اوربولنے والا جھوٹ کا مرتکب ہواہے۔اس لئے کہ ہم دین میں بابافریدرحمہ اللہ کی بات ماننے کے پابند نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بات ماننے کے پابند ہیں۔ اور جس طرح ہم آپﷺ کی بات ماننے کے پابند ہیں اسی طرح بابافریدرحمہ اللہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح یکساں طور پر نبی کریم ﷺ کی بات ماننے کے طوعاً و کرہاً پابند ہیں۔

 اس سے ثابت ہواکہ ہماری ہی طرح بابافرید رحمہ اللہ بھی تابع ہے متبوع نہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ ساری اُمت کیلئے یکساں متبوع ہے۔جوبھی آپﷺ کی اطاعت سے نکلے گا، کافر ہوجائے گا۔

میں کہتاہوں پھر تو لانے والے فرشتے نے بابافریدرحمہ اللہ کو اللہ کاکوئی پیغام بھی سنایاہوگا۔ نعوذباللہ من ذلک۔ اللہ کے بندو! یہ جھوٹ ہے۔

قرآن میں اللہ عزوجل بیت اللہ کے بارے میں فرماتاہے کہ:

﴿وَمَن دَخَلَہ’ کَانَ آمِنًا ﴾

ترجمہ:‘‘اور جو اس میں داخل ہوا تو اسے امان ملا۔’’

یہ آیت مجرم کے بارے میں ہے کہ جرم کے بعد اگر وہ حرم میں داخل ہوا تو اس کے ساتھ تعرض نہیں کیا جائے گا حتی کہ نکل نہ جائے۔اور حرم کے ساتھ خاص ہے ،کسی اور مقام کو اس پر قیاس نہیں کیاجاسکتا۔

 اب جاہل قبر پرست اور پیٹ کے پجاری کعبے سے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے،ان کو بھی پیروں کے مزارات کعبۃ اللہ سے کم نظر نہیں آتے،اسلئے انہوں نے بھی اس آیت کو اپنے پیر صاحب کے مزار میں لکھناچاہاکہ بھئی ایک حرم مکہ میں اور دوسری حرم پاکستان میں۔ انہوں نے پاک پتن میں فریدالدین گنج شکر رحمہ اللہ کے مزارکو ۔العیاذ باللہ من ذلک ۔ کعبے سے بھی بڑا درجہ دیا اور وہ یہ کہ اس ‘‘ بہشتی دروازے’ ’ سے گزرنے والے اور اس کے کواڑ کو ہاتھ لگانے والے کو جہنم کی آگ سے امان ہے ۔اور دروازے پر یہی آیت ﴿وَمَن دَخَلَہ’ کَانَ آمِنَا﴾ لکھا ہے،اور اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ جو اس دروازے میں سے داخل ہوا،وہ کامیاب ہوا،اور اسے دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔یہ اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے شریعت کا مقابلہ نہیں تو اور کیا ہے اللہ کے بندو سوچو !

بابافرید کیلئے جنت سے صفر دروازہ بھیجنے کی کیا ضرورت ،پورا جنت ہی بھیج دیتے؟

اے سادہ مسلمانوں! قبر پرستی ہی کی بدولت مزارات پر بیٹھے ہوئے دین کے دشمن مجاور اور صاحبِ مزار کی ‘‘جعلی’’ اولادبن کر یہی لوگ تو کھرب پتی بن بیٹھے مگر تمہاری ایمانوں کا جنازہ نکال دیا۔کچھ تو عقل سے کام لو۔

جنت کی نعمتوں کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ:

‘‘میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے (جنت میں)وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہیں ، اور نہ ہی کسی کان نے سنے ہیں ،اور نہ کسی کی خاطر میں آئے ہیں،اگر تم اس کی تصدیق چاہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو:﴿ فَلَا تَعْلَمُ نَفْس’ُ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃَ اَعْیُنٍ ﴾ (بخاری،کتاب بدء الخلق ،باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ )

جنت کی کوئی چیز ماسوائے حجرِ اسود کے انسانی آنکھ نے نہیں دیکھی ہے۔ اللہ نے اپنے پیارے نبی کو شبِ معراج جنت دکھایا تو زمین پر موجود شیطان نما مجاورینِ مزارات کے دل یہ سوچ کر جلنے لگے کہ ہمارامرشد نبی کریم ﷺ سے کم ہے کیا،اس لئے اس سوچ کے بعد شیطان نے ان کو سب کچھ بتادیا کہ میرے دوستوں سینے کی جلن اس طرح ٹھنڈی کرنا۔اللہ ہم سب کو شیطان کے دھوکوں سے محفوظ رکھے،آمین۔

قارئین! ان میں بہت سارے شیطان نما پیروں کا یہ خیال ہے کہ ولی، نبی سے درجہ میں بڑا ہوتا ہے اس لئے کہ ولی کو ولایت محنت اور ریاضت سے ملتی ہے اور نبی کو نبوت بغیر محنت کے ملتی ہے ۔ اللہ ایسے سوچنے والوں پر بھی کروڑوں لعنت برسائے ،اور ان کی جہلِ مرکب اور کفر سے اُمتِ محمدی کو بچائے، آمین۔

جنت کے دروازوں کے نام

جنت کے کل آٹھ دروازے ہیں جن کے نام احادیث میں یہ بتائے گئے ہیں ،اور ساتھ ہی جو لوگ اس میں سے داخل ہوں گے ،ان کے بارے میں بھی بتلایاگیاہے:

……پہلی حدیث جس سے جنت کے آٹھ دروازے ثابت ہیں:

سھل بن سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 ﴿فی الجنۃِ ثمانٰیۃَ ابوابٍ فیھا باب’ُ یسمَّ الرَّیََّانَ لا یَدخُلُہ’ الاَّالصَّائِمُونَ﴾

‘‘جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، ان میں سے ایک کانام ریَّان ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ۔’’( بخاری ،کتاب الصوم ،باب الریَّان للصائمین،،،کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابواب الجنۃ)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

﴿للجنۃ ابواب: فمن کان من اہل الصلوۃ دعی من باب الصلوۃ، ومن کان من اہل الجہاد دعی من باب الجہاد، و من کان من اہل الصدقۃ دعی من باب الصدقۃ، ومن کان من اہل الصیام دعی من باب الصیام باب الریان۔ قال ابوبکر بابی انت قو اُمی یا رسول اللہ ما علی من یدعی من تلک الابواب من ضرورۃٍ ۔ فھل یدعی احد’ُ من تلک الاابواب کلھا؟قال نعم۔ ارجوا ان تکون منھم ﴾ (بخاری ،کتاب الصوم ،باب الریَّان للصائمین واللفظ لہ’،،،مؤطا امام مالک،،،، مسند الشامیین )

‘‘جنت کے آٹھ دروازے ہیں: نماز کے پابندی کرنے والے باب الصلوۃ میں سے بلائے جائیں گے۔جہاد کرنے والے باب الجہادمیں سے بلائے جائیں گے۔صدقہ خیرات کرنے والے باب الصدقۃ میں سے بلائے جائیں گے۔روزہ دار باب الصیام باب الریانمیں سے بلائے جائیں گے۔یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان !سب دروازوں سے کسی کو پکاراجائے،اس کی ضرورت تو نہیں ہے(کیونکہ اصل مقصد یعنی دخولِ جنت ایک دروازے سے داخل ہونے میں حاصل ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی پوچھتاہوں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگاجسے (تکریماً تشریفاً)تمام دروازوں سے بلایاجائے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں!اور مجھے امید کہ تم ایسے ہی لوگوں میں سے ہوں گے ۔’’

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی852؁ ہجری لکھتے ہیں اس حدیث سے جنت کے آٹھ دروازوں کا علم ہوا:.1 باب الصلوۃ میں،.2 باب الجہاد،.3 باب الصدقۃ،.4باب الصیام

اس کے بعد ابن حجر لکھتے ہیں کہ ایک باب الحج یقیناً ہوگااور ایک دروازہ ان حجرات کیلئے ہوگاجو غصہ کو پی جاتے ہیں جس کے متعلق مسند احمد میں ایک حدیث وارد ہے۔اور ایک دروازہ( باب الایمن ) متوکلین کیلئے ہوگاجو بلاحساب و بلا عذاب اس دروازے سے داخل ہوں گے، اور ایک باب الذکر ہوگاجس کی طرف ترمذی کی ایک حدیث میں اشارہ ہے اور یہ بھی امکان ہے کہ آٹھواں دروازہ باب الذکر نہ ہو باب العلم ہو۔واللہ اعلم۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری)

نیز فتح الباری میں یہ بھی لکھاہے کہ اعمالِ صالحہ والوں کیلئے جو الگ الگ دروازہ مقرر کیاگیاہے ان اعمال سے اعمالِ واجبہ (فرض اعمال ، عبادات)مراد نہیں بلکہ ان سے نفلی اعمال مراد ہیں جو شخص کسی نفلی عمل میں زیادہ آگے بڑھاہواہوگا وہ اس عمل کے مقرر دروازہ سے داخل ہوگا۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری)(مرنے کے بعد کیاہوگا،تالیف مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی،مطبوعہ دارالاشاعت کراچی،ص:226,225)

اب ذرا بہشتی دروازہ کے نام پر کاروبار کرکے ارب پتی بننے والے مجاورین یہ بتائیں کہ ان کا دروازہ ان آٹھ دروازوں میں سے کونسا ہے؟؟ اس کا کیانام ہے؟ کیا جنت کا یہ دروازہ اکھاڑ کر جنت کی خوبصورتی میں فرق نہ رہا؟

ایک اور بات

قارئین چند سال پہلے جہلاء کی رَش اور ہجوم کی وجہ سے اس دروازے میں داخل ہونے والوں میں سے کئی ایک لوگ مرچکے تھے، کیایہ کافی ثبوت نہیں کہ یہ‘‘ بابِ جنت’’ نہیں بلکہ

﴿ بابِ بطن﴾ ہے۔اس لئے کہ جنت کے دروازوں کے کواڑوں کے بارے میں صحیح احادیث میں آتا ہے کہ

جنت کے کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ داخل ہونے والوں کی بھیڑ کے سبب اتنا برا دروازہ بھی تنگ پڑجائے گا۔ (مرنے کے بعد کیاہوگا،ص:226)

قارئین! کبھی نبی کریم ﷺ یا آپ سے پہلے انبیاء میں سے کسی نبی نے ایسا دعوی کیاہے؟

کیا صحابہ کرام میں سے کسی نے ایسادعوی کیاہے؟

کیا اہلِ بیت مطہرین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اُمہات المونین رضوان اللہ علیہن اجمعین نے کبھی ایسا دعوی کیاہے؟

اللہ کے بندو! ہوش سے کام لو ، ورنہ نہ ادھر کے رہوگے اور نہ ہی اُدھر کے۔

اے مسلمان ! اگر تیرا یہی روش رہا اور اسی طرح گندے عقائد میں لت پت رہے تو ورزِ قیامت کفار بھی طعنے دے دے کر تم کو اپنانے سے شرمائیں گے ۔

مسلمانوں! ہوش میں آؤ،،یہ لوگ تمہارے ایمانوں کا سودا کرکرکے کھرب پتی بن گئے، اور یہی ان کا اوَّلین مقصد ہے ۔نہ ان کو اپنی آخرت کی فکر اور نہ ہی دوسروں کی۔ان تمام فساد میں ان اولیاء رحمہم اللہ کا کوئی قصور نہیں ۔ان اولیاء کرام کبھی بھی زندگی میں وہ دعوے نہیں کئے جو ان کی وفات کے بعد ان کے ‘‘ جھوٹ موٹ’’ کے اولاد نے ان کے بارے میں عوام میں مشہور کرکے ان بیچاروں کے جیب جیب خالی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایمانوں سے بھی کھیلنے لگے۔

علماء کرام سے بصد احترام دردمندانہ التجاہے کہ خدارا!اگر شرک کے اڈوں اور خرافات کے مراکز کو اگر بند نہیں کرواسکتے تو کم ازکم عوام کی اصلاح تو کیجئے تاکہ جب وہاں جانے والے نہ ہو تو یہ دین سے دشمنی کرنے والے قبر پرستوں کے دماغ ٹھکانے آجائیں گے اور کم ازکم یہ لوگ کسی اور کاروبار میں مشغول ہوکر لوگوں کے ایمانوں کے جنازے تو نہیں نکالیں گے۔

قارئین! آ ج کا مسلمان یہ ہضم نہیں کرسکتا کہ اللہ ۔نعوذ باللہ۔کیونکر ایک ہوسکتاہے؟

……آج کا مسلمان یہ ہضم ہی نہیں کرسکتا کہ بیت اللہ صرف ایک ہو، بلکہ ان کے بیت اللہ ان کے بقول ان کے پیروں کے آستانے ہیں یقین نہیں آتا توجاہل شاعرکے یہ اشعار پڑھئے:

 ؂چاچڑ وانگ مدینہ جاتم تے کوٹ مٹھن بیت اللہ

 رنگ بنا بے رنگی آیا کیتم روپ تجلی

 ؂ظاہر دے وچ مرشد ہادی باطن دے وچ اللہ

 نازک مکھڑا پیر فریداسانوں ڈسدا ہے وجہ اللہ

یہ لوگ اپنے پیر کے آستانے پر جانے کو حج سمجھتے ہیں، اس لئے ان کے نزدیک کعبہ مبارکہ اور ان کے پیر کا آستانہ ایک ہی ہے۔العیاذ باللہ من تلک الہفوات۔

چند اشعاراور پڑھ کر ان کے ‘‘کفریات ’’ پر جتنا آنسوبہاسکتے ہو ،بہائیے:

؂دوستی رب دی لوڑ ناہیں………….قلعے والے دا پلڑا چھوڑ ناہیں

‘‘اللہ کی دوستی کی ضرورت ہی نہیں،،،بس قلعے والے سرکارکادامن نہ چھوڑنا’’

؂قلعے والے دے گرد طواف کرلے ………….مکے جاونے دی کوئی لوڑ ناہیں

‘‘قلعے والے سرکارکے گرد طواف کرلو،،،مکہ جانے کی کوئی ضرورت نہیں’’

؂ایہہ قصور نگاہ دا، نادانوں………….رب ہور ناہیں پیر ہور ناہیں

‘‘اے نادانوں! یہ تو نظر کی کمی ہے،،،ورنہ اللہ اور پیر میں فرق ہی نہیں’’

؂فضل رب دا جے مطلوب ہووے………….قلعے والے ولوں مکھ موڑ ناہیں

 ‘‘اگر اللہ کی رحمتیں چاہئے تو،،،قلعے والے سرکار سے منہ نہیں موڑنا’’

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

؂توہیں نورِ خدا قلعے والیا………….نائبِ مصطفی، قلعے والیا

سانوں کعبے دے جانے دی لوڑ نئیں………….کعبہ روضہ تیرا ،قلعے والیا

یعنی یہ ناداں بلکہ جاہل و مشرک شاعر اپنے پیر غلام مرتضیٰ قلعہ شریف ضلع شیخوپورہ والے کی مدح میں کہتاہے کہ:

‘‘ یہ خداکانور ہے ،اور نبیﷺ کانائب ہے ،بلکہ رب اور پیر ایک ہی ہیں،اس لئے ہمیں کعبے جاکر طواف وزیارت کی ضرورت نہیں کیونکہ پیر کا آستانہ وروضہ بذاتِ خود کعبہ ہے۔العیاذ باللہ!

 اس لئے ہم یہاں ہی طواف کریں گے۔’’

قارئین ! ذرا تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کی دین کو ہر شے پر مقدم جان کر فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ سب شرک ہے یا نہیں؟

مسلمانوں کا شرک میں واقع ہونے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی پیش گوئیاں

نبی کریم ﷺ کی وہ پیشگوئیاں کہ یہ اُمت ایک بار پھر شرک میں مبتلا ہوگا بالکل سچ ثابت ہورہے ہیں ۔اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 ﴿لاَیُذھِبُ اللَّیلَ وَالنَّہَارَ حَتّٰی تُعبَدُاللاَّتَ وَالعُزَّی﴾(مسلم ،کتاب الفتن)

ترجمہ:‘‘آپﷺنے فرمایاکہ اتنی دیر تک رات دن ختم نہیں ہوں گے(قیامت نہیں آئے گی) یہاں تک کہ لات اور عزیٰ (کفارِ مکہ کے دوبتوں کے نام)کی پرستش دوبارہ شروع ہوگی۔’’

سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿لاَ تَقُومُ السَّاعَۃ حَتّٰی تَلحَق قَبَائِل مِن اُمَّتِی بِالمُشرِکِین وَحَتّٰی تَعبُد قَبَائِل مِن اُمَّتِی الاَوثَان﴾(ابوداؤد ،کتاب الفتن،باب ذکرالفتن ودلائلہا)

ترجمہ:‘‘قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک میری اُمت کے قبائل مشرکین سے مل نہ جائیں اور یہاں تک کہ میری اُمت کے قبائل بتوں کی عبادت نہ کریں۔’’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿لاَ تَقُومُ السَّاعَۃ حَتّٰی تَضطَرِب اَلےَاتِ نِسَاءَ دَوسِِ عَلَی ذِی الخَلصَۃَ وَذُو الخَلصَۃَ : طَاغِیَۃ الَّتِی کَانُوا یَعبُدُونَہَا فِی الجَاہِلِیَّۃ﴾(بخاری ،کتاب الفتن ،باب تغیر الزمان حتی تعبدالاوثان،،،،، مسلم ،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب لاتقوم الساعۃ حتی تعبد دوس ذاالخلصۃ)

ترجمہ:‘‘ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک بنی دوس قبیلے کی عورتوں کے سرین ذی الخلصۃکے گرد طواف کرتے ہوئے ہلیں گے نہیں ۔ذوالخلصۃ بنی دوس قبیلے کا بت تھا جس کی وہ جاہلیت میں عبادت کیا کرتے تھے۔’’

سرین ہلنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بت کا طواف اور اس کی بندگی کریں گی۔اور طواف خصوصیاتِ کعبہ میں سے ہیں اور عبادت ہے۔

یہ قبیلہ اب بھی اسی نام سے مکہ مکرمہ سے تقریباً 100کلومیٹر دور طائف میں آباد ہے ، اورسوفیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے مگر یہی قبیلہ ایک بار پھر شرک میں مبتلا ہوگا اس کے بعد قیامت آئے گی، اس لئے جونام نہاد مولوی یا پیر فقیر لوگوں کو اس دھوکے میں رکھتے ہیں کہ بھئی مسلمان مشرک نہیں بن سکتا ،ان سے اس حدیث کا جواب لیجئے۔

بھئی ہم قارئین کو سمجھاتے ہیں کہ مسلمان کو کوئی بھی مشرک نہیں کہتااور نہ ہی شرک کئے بغیر کوئی مسلمان مشرک بن سکتاہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی مسلمان شرک نہیں کرتا تو مشرک نہیں کہلاتا، اور جب شرک کرے تو مسلمان نہیں کہلاتا بلکہ اب اسے مشرک ہی کہاجائے گاخواہ وہ خود کو مشرک سمجھے یا نہ سمجھے،اور خواہ دنیا اس کو مشرک سمجھے یا نہ سمجھے مگر قانونِ شریعت کی رُو سے ارتکابِ شرک کے بعد بندہ مشرک کہلائے گا۔پس اس بات پر خوب غرو کیجئے۔

قارئین! مزارات پر سجدہ ریزی اور وفات شدہ اولیاء رحمہم اللہ سے دعائیں اور مدد مانگناہی مسلمانوں کی ‘‘ بت پرستی ’’ ہے ، اس لئے کہ مشرکین اپنے وقت کے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء رحمہم اللہ کے بت،تماثیل ،مجسمے اور مورتی بناکر ان سے دعائیں طلب کرتے اور ان کی عبادت کرتے اور مسلمان یہی سب کچھ مزاراتِ اولیاء رحمہم اللہ سے طلب کرتے ہیں ، عملاََ کچھ فرق نہیں۔

قبر پرستوں کی ایک اور خرافات:﴿چولہوی﴾ اور ﴿ تندوری﴾ علاج

قارئین! ان قبر پرست جعلی ‘‘سیّدوں’’ نے عوام میں یہ خرافات بھی پھیلایاہے کہ کسی تکلیف یا مصیبت کے وقت ،یا جب اولادمانگناہو تو مریض کو ہمارے گھر کر چولہے کہ گرد پھیرے دو،اور ہمارے گھر کے چولہے میں مریض یا اولاد کی طلبگار عورت کو حلوہ پکاکر دو،تو مراد پوری ہوگی۔اور یہی وہ برملا کہتے ہیں کہ اے بی بی! ہمارے گھر کے چولہے پرتو آکر دیکھ۔ کام نہ ہواتو پھر کہناکہ توجھوٹی۔یہ بھی مشہور کیاہواہے کہ کسی سےّد کے گھر کے چولہے میں حلوہ پکاؤگے تو بچے پیدا ہوں گے یا کوئی اور مراد پورا ہوگا۔

اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ حلوہ بھی ملے ،حلوے کے ساتھ نقدی بھی ملے ،اسی کیلئے یہ سب کاروبار شروع کئے گئے ہیں،اور ان ‘‘کاروباروں ’’کاموجد شیطان لعین ہے اسلام میں ان خرافات کی کوئی حقیقت نہیں۔

قارئین! ہر مسلمان کو اس واقعے سے عبرت لیناچاہئے:

عابس بن ربیعہ سے روایت ہے کہ عمررضی اللہ عنہماحجر اسود کے پاس آکر اس سے مخاطب ہوئے:

﴿اِنِّی لَاَعلَم اَنَّک حَجَر لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنفَعُ وَلَولاَ رَاَیتُ رَسُولُ اللّٰہ یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلتُک﴾(بخاری،کتاب الحج، باب ما ذکر فی الحجر اسود )

‘‘میں جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو ،تم نہ نفع دے سکتے ہو اور نہ نقصان ،اگر میں رسول اللہﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے نہ دیکھتا تومیں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔’’

سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کو حجرِ اَسود جیسے جنتی پتھر میں بیماری سے شفاء کی تاثیر نظر نہیں آتا ،یا وہ اس کو شفاء ملنے میں سبب نہیں سمجھتا تو کسی ‘‘ سیّد یا شاہ جی’’ کے گھر کا ‘‘ چولہا ’’ یا ‘‘تنور’’ کیا معنی رکھتاہے۔

 اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس مدینے کے بچے خیروبرکت کی دعاکیلئے لاجاتے تھے مگر بی بی صاحبہ نے کبھی کسی کو نہیں کہاکہ اس بچے کو ہمارے گھر کے چولہے کے گرد پھیرادو۔تو کسی اور کے گھر کا چولہا کس کھیت کی مولی ہے۔

……کیا نبی کریم ﷺ نے اپنے پیارے جگر گوشوں حضرات حسنین رضی اللہ عنہم کو بیماری کی صورت میں اپنے گھر کے چولہے کے گرد پھیرے دئے ہیں، یا ان کے منہ میں اپنے چولہے کا راکھ بطورِ علاج رکھا ہے ؟

……کیا نبی کریم ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء راشدین اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا ہے؟

اگر ان سوالات کے جوابات ‘‘ نہیں’’ ہیں تواتنی سی بات بھی ہر مسلمان کے عقیدے کی اصلاح کیلئے کافی ہے۔

مقامِ حسرت

مگر افسوس کا مقام ہے کہ جو کام جہالت کی وجہ سے چند ٹکوں کی خاطر شروع کیاگیاتھا ،اور پھرمتعدی بلا بن کر کئی علاقوں تک پھیل چکاتھا،آج بھی انہی گھرانوں میں وہ کام جاری ہے۔باوجود اس حقیقت کے ان گھرانوں میں سے کئی ایک میں علماء بھی پیداہوئے،وہ علماء جو دیوبندیت اور صحیح العقیدہ ہونے کے دعویدار ہیں مگر افسوس کہ ان کے ناک کے نیچھے ان ہی کے گھروں میں ان کے خواتین لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصورفِ عمل ہیں اور ان علماء حضرات کی کان پر جؤں تک نہیں رینگتی۔ایسے ہی وقت میں اسلام کی غرابت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایاتھا:

﴿بدء الاسلام غریبا وسیعود کما بدء فطوبی للغرباء ﴾(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان ان الاسلام بدا غریبا)

ترجمہ:‘ نبی ﷺنے فرمایا کہ اسلام کا ظہور اس حال میں ہوا کہ وہ لوگوں کی نگاہ میں اجنبی تھا او ر پھر ایک وقت آئیگا۔کہ پہلے کی طرح اجنبی ہو جائیگا سو اس وقت ﴿غرباء ﴾ کیلئے خوشخبری ہو۔’’

اور غرباء کون ہیں ؟فرمایا:

‘‘﴿غرباء ﴾ وہ لوگ ہوں گے جو زیادہ لوگوں میں موجود ،صالح لوگوں کی تھوڑی سی جماعت ہے ، ان کے مخالفین کی تعداد ان کی تابعداروں کی نسبت کم ہوگی۔’’(مسند احمد ابن حنبل،مسند عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ)

قارئین! علماء کی مثال بڑی سے بڑی عمارت میں درمیان والی ستون کی ہے ،اگر ستون موجود ہے مگر کمزور ہے پھر بھی چھت ایک نہ ایک طرف مائل ہوکر گرے گی ۔اسی طرح درمیان والی ستون موجود ہی نہیں تو پھر بھی چھت گرے گی۔بڑی سے بڑی عمارت کو قائم اور متوازن رکھنے کیلئے درست اور مستقیم درمانی ستون کی ضرورت ہوتی ہے ،یہی مثال ہے علماء کی ۔ان کا لوگوں کی طرف ناجائز میلان ،،یا ان کا عوام سے ڈر خوف ،،یا ان کالفظ ‘‘حکمت ’’ کا غلط استعمال دین کو،لوگوں کی عقائد کو اور شرک ،بدعت اورخرافات کے پھیلاؤ کو ترقی دے گا، اور ان کی استقامت اور دین کی صحیح مطلوبہ خدمت کا بے لوث اور نڈر جذبہ لوگوں کے عقائد کی درستگی اور اسلام کا دوسرے اقوام کیلئے مرغوب بننے میں مدد دے گا۔

بہشتی دروازہ کے نام پر جاری ‘‘کاروبار’’ کو بندکرنا حکومت وقت کا فرض ہے

قارئین!آپ نے یہ بالکل نہیں سناہوگا کہ کسی مقام پر سال بھر میلے ہوتے ہو، اسلئے کہ سال بھر میلوں سے لوگ اُکتاہٹ کے شکار ہوجاتے ہیں اس لئے اکثر میلے عید کے ایام میں ہوتے ہیں اور ان میلوں میں ہر قسم کے سٹالز لگائے جاتے ہیں ،اور ہر سٹال پر خوب دکانداری ہوتی ہے اسی طرح یہ بھی سمجھوکہ بہشتی دروازہ کے نام پر من گھڑت بات مشہور کرکے اس کیلئے ایک دن مقرر کیا جس پر یہ کھولاجاتاہے اور یہ مشہور کیا کہ جو اس سے گزرگیا وہ کامیاب ہوا، اللہ الہ خیر سلا عمل کی کوئی ضرورت نہیں ،قاتل، زانی، بدکار، والدین کا نافرمان،جھوٹا،جعل ساز، سمگلر، زانیہ،چغل خور، چوروغیرہ،جوکوئی اس سے پار ہوااس کا بیڑا پار ہوا۔

قارئین! ایک بات پوچھتاہوں :

قرآن وسنّت میں ان تمام کبیرہ گناہوں کیلئے بڑٰ بڑی سزائیں بتائیں گئیں ہیں،کیا ان سزاؤں کے ساتھ ایسی کوئی استثناء موجود ہے کہ اے مسلمانوں ! فلاں ملک میں ایک جنتی دروازہ ہے اس سے گزروگے تو معاف کئے جائے گے؟ ہر گز نہیں بلکہ گناہ کی سزاکا ذکر جب آیاہے تو مطلق آیا مگر ایک شرط کے ساتھ اس کے معاف ہونے کا بیان موجود ہے شریعت میں اور وہ ہے توبہ، مگر توبہ سے بھی صرف وہ گناہ معاف کئے جائیں گے جو حقوق اللہ سے متعلق ہو، جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے وہ جب تک متعلقہ بندے سے معاف نہ کرائے جائیں اللہ ان کو معاف نہیں فرمائے گا، حتٰی کہ اللہ راہ میں شہادت جیسی بلند مترتبہ شہید کیلئے بھی یہی بات ہے کہ اسے حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے۔پھر اس جھوٹے دروازے کی کیا حیثیت؟ مگر یہ ان مجاوروں کا ایک کاروباری من گھڑت مشہور کیاہوا چال ہے ،شکار کو پھنسانے کیلئے شکاری ہر پرندے والی بول سیکھتاہے، اسی طرح ان لوگوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا کہ جولوگ عبادت کے نام سے بھی ڈرتے ہیں اور ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے حامی ہیں ان کو اسی طرح لوٹا جاسکتاہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top