مسلمانوں کی بت پرستی میں مبتلاہونے کا ایک حقیقی اور عبرت آموز واقعہ۔۔ تحریر و تحقیق اکبر علی خان

ایک اور عبرت آموزواقعہـ:

‘‘محترم قارئین ہفت روزہ ‘‘نشانِ راہ بریلی’’ کے ایڈیٹر امداد حسین صاحب جعفری نے جو اتفاق سے بریلوی مکتبِ فکر ہی سے تعلق رکھتے ہیں،اپنے جریدہ مجریہ /2جون 1995؁ کے ایک مخصوص کالم میں موجودہ بُت پرستی کا ایک عبرت آموزوقاقعہ نقل کیا ہے جسے پڑھ کر ڈھونگی پیروں، نقلی صوفیوں اور پیٹوں ملّاؤں کے بہکاوے میں آنے والوں کے سلسلے میں ذہن و دامغ ایک عجیب ہیجان میں مبتلا ہو جاتا ہے،اور دل میں ایک ہوک اٹھتی ہے اور اس خوف سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ لذّت کام و دہن(منہ اور پیٹ)کیلئے ایمان کے سوداگروں کا اگر یہی حال رہا تو پھر قومِ مسلم کا اللہ ہی مالک ہے ۔امداد حسین جعفری صاحب رقمطراز ہیں:

‘‘ ایک دن ایک مسلمان عورت برقعہ پہنے حافظ گنج سے بریلی آئی اور ایوب خان چوراہے پر کسی رکشہ والے سے حضرت پہلوان صاحب کے مزار شریف کا پتہ پوچھا رکشہ والے نے ہاتھ کے اشارے سے بتا دیا کہ سیدھی چلی جاؤ آگے پہلوان صاحب کا مزار ہے ،وہ عورت جب ‘‘ہنومان’ ’(1)مندرکے پاس آئی اور وہاں اس نے عورتوں کی بھیڑ دیکھی تو وہ وہاں رُک گئی ۔ اب جو اس کی نظر‘ ‘ہنومان’ ’جی پہلوان کی اس مورتی پر پڑی، جو لنگوٹ باندھے اور ہاتھ میں گرز لئے کافی تازہ تھی تو اس نے بھی دوسری عورتوں کی طرح اس مورتی کے آگے سجدہ کیا اور کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی کہ‘‘ یا حضرت ‘‘پہلوان بابا’’! میرا آدمی بہت بیمار ہے ، ہر علاج کرالیا لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوتا ،وہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں ہے ۔پہلوان! میری حالت پر ترس کھاؤاور میرے آدمی کو اچھاکردو،میں چادر چڑھاؤں گی، اور ایک دیگ پکاکر آپ کی نیاز دلاؤ گی ۔ایک مسلمان راہگیر نے ایک برقعہ پوش مسلمان عورت کو اس مندر میں دیکھا تو وہ رُک گیا اور جب وہ باہر نکلی تو اس مردِ مسلمان نے پوچھا کہ بہن! تم اس مندر میں کیا کرنے گئی تھیں؟ تووہ عورت بولی کہ بھیّا!میں‘‘ پہلوان بابا’’ سے مراد مانگنے آئی تھی ،اس مسلمان مرد نے کہا کہ بہن یہ مزار نہیں ،بلکہ مندر ہے تو اس عورت نے کہا کہ نہیں بھیّاتم خود دیکھوکہ ‘‘پہلوان بابا ’’کس شان سے لنگوٹ باندھے اور ہاتھ میں گرز لئے کھڑے ہیں ،تم مجھے بہکارہے ہو ،میں تمہارے بہکاوے میں نہیں آؤں گی ،وہ مسلمان مرد اپناماتھا پیٹتا ہوا چلا گیا۔’’

اس واقعہ سے جوبات واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ عورت ان جعل ساز ملّاؤں (اور جاہل مجاورینِ مزارات) کے بہکاوے کا شکار تھی جو رات دن مزاراتِ اولیاء اور ان کے آستانوں سے وابستگی اور ان پرپیشانی رگڑنے کی نہ صرف یہ کہ تلقین کرتے ہیں بلکہ ان کی نذر و نیازکرنے ،ان سے منتیں اور مرادیں مانگنے کی ہدایت بھی کرتے رہتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ جو کچھ ملے گا انہی درباروں اور سرکاروں سے ملے گا ،کوئی بیمار ہے تو ‘‘شاہ دانا ولی’ ’کے مزار پر چادر پوشی کردے شفایاب ہوجائے گا ۔کسی کے ہاں لڑکا نہیں ہوتا تو ‘‘ننگے شاہ’ ’کے مزار پر یا ‘‘بدایوں کی چھوٹی سرکار یا بڑی سرکار’’کے آستانے پر اپنی عورت کی حاضری دلادے ،بیڑا پار ہوجائے گا ،اور سوفیصد لڑکا ہی ہوگا (لیکن رونے کی بات یہ ہے کہ جب ایسے لوگوں کے ہاں لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوتی ہے تو کہتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.1 ہندوؤں کے ایک دیوتاکانام ہنومان ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیں کہ اللہ میاں کاکام ہے یا اللہ میاں نے یہ دیا ،آج کل کے یہ مشرک مشرکینِ مکہ سے بھی بدتر ہیں ) ۔ کوئی صاحب کسی پری جمال پر عاشق ہے ،گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، ‘ ‘دولہاشاہ’ ’کے مزار پر لمبے لمبے لیٹ کر عاجزی اور گریہ و زاری کرتے رہیں، اور ان کی چوکھٹ پر ناک رگڑتے رہیں تو ‘‘شاہ’’ کے فیض وکرم سے پری تمثال قدموں میں ہوگی ۔’’

یہ ہے اس خانہ ساز شریعت کی ہلکی سی تصویر کہ جس کی تجارت ضلالت و گمراہی کی منڈیوں میں تھوک کے حساب سے ہورہی ہے اور عقیدہ و ایمان کے سوداگر کھلے بندوں اس تجارت کو فروغ دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں اور ابلیس کو اتنی لمبی رخصت (چھٹی) دے رکھی ہے کہ وہ بھی یہ سوچ کر مگن ہورہا ہوگا کہ چلواب اپنی ذمہ داری بٹ گئی ( اور انسانی شیطان فرشتہ صورتی پر لوگوں کو شیطان کے راستے پر چلارہے ہیں ) اس لئے کہ دین کے سوداگر،قبروں اور مزارات کے بیوپاریوں نے خود ہی وہ کام کرنے کا بیڑا اٹھالیا ہے جس کی وجہ سے میں اللہ عزوجل کی نظر سے گرا ،اور جنتسے ذلیل و خوار ہوکر نکلا تھا ۔ان حالات میں ایک مومن پر کیا گزرتی ہے اس کااندازہ وہی کرسکتا ہے جس کے سینے میں ذرا بھی ایمان ہے:

 ؂ لبادہ اوڑھ کر دینی،کریں تبلیغِ شیطانی ۔۔ بنامِ حق ،یہ باطل پروری دیکھی نہیں جاتی

جس نے تجھے اللہ بھلادیا ،وہ تیرا صنم (بُت)ہے

مشکل کی گھڑی میں ایک مسلمان صرف اور صرف اللہ کو پکارے گا، اور اللہ ہی سے مانگے گا اور جس چیز نے ایسے وقت میں تجھ سے اللہ کو بھلادیا تو سمجھو کہ تم نے اس چیز کو اِلٰہ اور مشکل کشا کا درجہ دیاہے۔بعض علماء کا قول ہے کہ:

‘‘جو چیز بھی تجھے اللہ سے غافل کردے وہی تیرا بُت ہے۔’’(اور تو اس کا پجاری ہے)

مدیر مجلۃ الدعوۃ جناب محترم امیر حمزہ صاحب سلطان باہو رحمہ اللہ کے مزار کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

‘‘میں ایک کمرے میں ۔۔۔۔اجازت پاکرجو میں اندر گیا تووہاں قبریں ہی قبریں تھیں،جنہیں میں نے گنا تو وہ تقریباً 19 تھیں۔ان قبروں میں بعض پر لکڑی کے بُت رکھے ہوئے تھے ،یہ بت خواتین کے تھے ،ایک بت کی ہیئت یوں تھی کہ عورت نے بچہ اُٹھایا ہوا ہے۔’’

‘‘اگر مزید تسلی مطلوب ہو تو لاہور میں گھوڑے شاہ کے دربار کا مشاہدہ کرلیں،جہاں پر گھوڑوں کے بُت کثیر تعداد میں رکھے ہوئے ہیں،اور خواتین بالخصوص ان گھوڑوں کی پوجا کرتی دکھائی دیں گی۔

شیخ احمد رومی حنفی رحمہ اللہ متوفی1000؁ ہجری اپنی کتاب مجالس الابرار میں لکھتے ہیں :

﴿قال ابوبکر طرطوشی :انظروا۔۔۔۔رَحِمَکُمَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔۔۔۔اینما وجدتم شجرۃ یقصدھاالناس ویعظمونہاویرجون البرء والشفاء من قِبَلِہَا و یضربون بھا المسامیر وَالْخِرَقْ فہی ذات انواط فاقطعوہا﴾

‘‘امام ابوبکر طرطوشی رحمہ اللہ متوفی 520 ؁ ہجری نے فرمایا: ‘‘ دیکھو!اللہ تم پر رحم کرے،جہاں کہیں بھی تم ایسا درخت پاؤ جولوگوں (کی حاجات)کا مقصود ہو ، اور وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں ،اور اس سے تندرستی اورشفاء کی اُمید رکھتے ہیں،ان میں کیل ٹھونکتے ہیں،اور ان پر کپڑے لٹکاتے ہیں، تو وہ (درخت ) ذاتِ انواط ہے ،پس اسے کاٹ دو ۔’’ (مجالس الابرار،مطبوعہ ریاض،ص:20)

یہی وجہ ہے کہ جب سےّدنا عمرفاروق کو پتہ چلا کہ لوگ مقامِ حدیبیہ پر اس درخت کے پاس نماز پڑھنے کے ارادے اور قصد سے جاتے ہیں جس کے نیچے نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے بیعت لیا تھا ،تو عمرفاروق نے شریعت کے اُصول سدِّ ذرائع پر عمل کرکے اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا ۔ فاعتبروا یا اُولی الابصار۔

میں نے اپنے علاقے کے ایک مشہور قبرستان میں مرد وخواتین کو دیکھا کہ وہ ایک قبر کے پاس دوردراز سے آتے اور اس قبر پر سے کوئی بھی پتھر اُٹھا کر اپنے بدن یا بدن کے جس حصے میں تکلیف ہوتی ،اس پرمَلتے۔اس کے بعد قبر پر کھڑے درخت میں پتھر پھینکتے اور جب تک پتھر درخت میں اٹک نہ جائے تو اس وقت تک پھینکتے رہتے، اور اس کے ساتھ شائد یہ عقیدہ رکھتاہو کہ پتھر درخت میں اٹک جائے تو مراد پوری ہوگی۔مگر یہ بے وقوف لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اس لئے کہ جب تک پتھر درخت میں اٹک نہ جائے اس وقت پھینکتے ہیں،اگر ان میں ذرا سی بھی عقل ہوتی تو ان کے اس جاہلانہ عمل ہی میں اس کام کا غلط اور خرافات ہونا ظاہر ہے ،وہ اس رح کہ اگر یہ اس قبر کا یا قبر والے کا کمال ہوتا تو یا تو پہلی ہی باری میں اٹک جاتایا ہزار بار پھینکتے پر بھی اٹک نہ جاتا۔

قارئین! قبر پر کھجور ،یا بیری وغیرہ کا درخت اُگنانہ ہی کوئی کَرامت ہے اور نہ ہی شرعاً اس پر کوئی دلیل ہے۔میں نے مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں اور مکہ مکمہ میں جنت المعلیٰ میں اہلِ بیت،ازواج مطہرات اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قبور دیکھے ہیں مگر ان کے قبور پر نہ ہی کھجور کے درخت کھڑے ہیں اور ہی بیری کے۔بلکہ بیری درخت کے بارے میں ہم قارئین کو مزید کچھ بتاناچاہتے ہیں:

مدیر مجلۃ الدعوۃ جناب محترم امیر حمزہ صاحب سلطان باہو رحمہ اللہ کے دربار کے متعلق مزید رقمطراز ہیں:

‘‘اسی طرح دربار کے پیچھے ایک بیری کا درخت ہے،اس درخت کے نیچے مرد اور عورتیں جھولیاں اور دا من پھیلا کر بیٹھے ہوئے ہیں ،جس کی جھولی میں پتا گرجائے وہ سمجھتا ہے مجھے بیٹی مل گئی،جس کے دامن میں پھل(بیر)لگنے کے موسم میں بیر گرگیا، وہ سمجھتا ہے لڑکا مل گیا۔’’

معلوم ہواکہ عرب کی مشرکین کی طرح نام نہاد مسلمان بھی درختوں کی پوجا پاٹ کرتا ہے ، ان درختوں کے ساتھ چادریں،سبزرنگ کے دوپٹے،جانوروں کی رسیاں اور پٹے بطورِ تبرک باندھتا ہے اور یہاں آکر اپنی مرادیں طلب کرتا ہے ۔ ’’ (کلمہ گو مشرک،مطبوعہ دارالاندلس لاہور، ص :95,94 )

ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین کی طرف نکلے،اور قریش ایک سبزدرخت تھاجس کے پاس مشرکین ہرسال آتے،اور اس پر اسلحہ لٹکاتے ،اس کے پاس بیٹھتے اور جانور ذبح کرتے ۔اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حنین کی سفر پر نکلے اور ہم نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ۔اور مشرکین کایک بیر کا درخت تھا جس کے پاس آتے اور (اعتکاف کی طرح) بیٹھتے اوراس پر اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس درخت کو مشرکین ذاتِ انواط کہتے تھے، جب ہم اس درخت کے پاس سے گزرے تو تو ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ :

‘‘جس طرح ان مشرکین کیلئے ذاتِ انواط ہے ، ہمارے لئے بھی اسی طرح کا ذاتِ انواط بنا دیں ۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا:

 ‘‘سبحان اللہ ،اللہ اکبر(یعنی اللہ شرک سے پاک ہے اور اللہ سب سے بڑاہے) ! یہ تو اسی طرح ہے جیسے بنی اسرائیل نے(موسیٰ علیہ السلام سے) کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایک معبود مقرر کردیں جس طرح ان(مشرک قوم) کے معبود ہیں ۔ البتہ ضرور تم پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔۔’’ (سنن ترمذی،کتاب الفتن ،باب لترکبن سنن من کان قبلکم)

مصنف عبدالرزاق ،باب سنن من کان قبلکم،حدیث نمبر:20763 ،،

٭مسند احمد،حدیث ابی واقد اللیثی رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:22537،،

٭صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ ، ذکر الاخبارعن اتباع ھذہ الاُمۃ سنن من قبلھم من الاُمَم،،،، اور ،،،

٭السنۃ لابن ابی عاصم حدیث نمبر:76کی تصریح کے مطابق وہ بیری کا درخت تھا ۔

 مشرکین اس درخت پر اسلحہ لٹکا تے تھے تبرک کیلئے ، اور سلطان باہورحمہ اللہ کے دربار میں بھی بیری کے درخت کے نیچے لوگ بیٹھ کر اس درخت سے اولاد طلب کرتے ہیں ۔ذرا فرق ہمیں بتادیاجائے ؟

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ تبرک کیلئے درختوں پر اسلحہ لٹکانا، ان میں پتھر پھینکا ان میں کپڑے لٹکاکر گرہیں لگانادر حقیقت ان درختوں کو﴿ اِلٰہ﴾ بناناہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیری کے درخت کے ساتھ کوئی عقیدہ وابستہ کرنا شریعت کی رُو سے بے اصل اور بے بنیاد ہے۔

میں نے جب ایک قبرستان میں لوگوں کو ان خرافات کرتے دیکھا تو وہاں کے ایک عالم سے کہا کہ یہ کام جائز ہیں ؟ اس نے کہا بالکل نہیں ۔میں نے کہا پھر آپ کے گاؤں کے لوگ یہ کرتے ہیں اس سے معلوم ہواکہ آپ حضرات نے لوگوں کی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔اس نے کہا کہ یہ ہمارے گاؤں کے نہیں اردگرد کے دیہات سے آتے ہیں۔پھر ایک دن میں نے ایک لڑکے کو دیکھا کہ آنکھوں پر پتھر مَل رہاتھا، اس کی آنکھوں میں ہلکا سا بھینگا پن تھا،میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ایک لڑکے نے بتایا کہ یہ فلاں مولوی صاحب کا بھانجاہے،اور اسی مولوی صاحب کانام لیا، جس نے مجھے کہاتھا کہ ہمارے گاؤں کے لوگ ایسا نہیں کرتے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top