سیدۃ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش سے متعلق من گھڑت روایات
.14 حدیث: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کس طرح وجود میں آئیں؟
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اکثر پیار لیتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا، یا نبی آپﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اکثر پیا ر لیتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب مجھے معراج ہوئی اور میں جنت میں داخل ہواتو مجھے جنت کے تمام پھل کھلائے گئے ،جس سے میری پشت میں نطفہ تیار ہوا، اوراس نطفہ سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہرا۔جب مجھے ان پھلوں کے کھانے کا شوق پیداہوتاہے تو میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیار لیتاہوں جس سے مجھے ان پھلوں کا مزہ آجاتاہے جو میں نے کھائے تھے۔’’ (موضوعات)
ان روایات پر تبصرہ:
ان روایات کے من گھڑت اور موضوع ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ:
٭ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کو نبوت ملنے سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔
٭ معراج نبی کریم ﷺ کو ہجرت سے ایک سال قبل نبوت کے بارہویں سال کرائی گئی تھی ۔ اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وفات کو تقریباََ دو سال گزر چکے تھے کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نبوت کے دسویں سال ماہِ رمضان میں انتقال کر چکی تھیں۔( تذکرۃ الموضوعات لابن جوزی )
٭جس وقت آپﷺ کومعراج کرائی گئی اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا عمر سترہ سال تھا ۔اور اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوچکاتھا ،رخصتی نہیں ہوئی تھیں،تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے یہ کب دیکھا ؟
٭ان روایات میں بھی اضطراب ہے ،کسی میں مذکور ہیں کہ جبریل علیہ السلام جنت سے تازہ کھجور کا طباق لے کر آیاتھا یعنی زمین پر ۔اور کسی میں مذکور ہے کہ معراج کی رات جنت میں جنت کی سیب کھلائی گئیں۔کسی میں سیب کا ذکر ہے تو کسی میں ناشپاتی کا۔
٭یہ بھی تو سوچو کہ اس روایت کی رُو سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہجرت سے تھوڑی پہلے پیدا ہوئی اور بوقتِ نکاح اس کی عمر دو سال بنتی ہے۔
جبکہ شیعہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت ملنے سے پانچ سال پہلے کی ہے،اور معراج نبوت ملنے کی بارہ سال بعد کی بات ہے۔
٭یہ بھی تو دیکھو کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا معراج سے پہلے وفات پاچکی تھیں، تو پھر یہ جنتی کھجور یا سیب کھانااور اس سے نطفہ بننا اور اس نطفے سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش ،کیا معنی رکھتی ہے۔
خدارا! ذرا عقل کے ناخن لو۔اے سُنی بھائیوں ! سُن سُن کر ماننے کا غلط طریقہ چھوڑ دو ،اور عقل و خرد کو بھی کام میں لاؤ،اور روایات کی تہہ میں پہنچنے کی عادت اپناؤ تاکہ غیروں کے تمسخر اور استہزاء سے بچ جاؤ،ورنہ ایسی روایات اگر غیروں کو پتہ چلے، تو وہ مذاق نہیں اُڑائیں گے تو کیا تمہارے ہاتھ چھومیں گے؟ہوش کے ناخن لو۔
٭ایک جوان عورت کے منہ میں زبان داخل کرنا ،اس کے گلے کا پیار لینا ،اس کی زبان کو شہد کی طرح چاٹنا یہ ایسے حرکات ہیں جو والد بھی اپنی جوان بیٹی کے ساتھ نہیں کرتا،سوائے شوہر کے۔اس باب سے متعلق مزید روایات آخر میں دی گئی ہیں۔
سُنی بھائیوں ! کیا اس روایت کو بھی روایت پرستی کی مرض میں روایت مان کر سینے سے لگاؤگے؟؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کس طرح وجود میں آئیں؟اس سلسلے کے دیگر روایات
روایت نمبر1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب خدیجہ رضی اللہ عنہا سے میرا بچہ مرا تو اﷲ تعالیٰ نے میرے پاس وحی بھیجی کہ تم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہ جانا اور میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کا عاشق تھا۔ لہٰذا میں نے اﷲ سے سوال کیا کہ ہم دونوں کو ملنے کی اجازت دی جائے۔تو ا چانک جبر یل علیہ السلام آئے اور یہ رمضان کی چوبیس شب تھی۔انکے ہاتھ میں جنت کی کھجوروں سے بھرا ہوا ایک طباق تھا ۔ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے کہا:
اے محمد اولاََ یہ کھجوریں کھاؤ۔اس کے بعد رات کو خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانا،میں نے ایسا ہی کیا۔جس کے باعث خدیجہ رضی اللہ عنہا کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہرا۔اب میں جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہ کو چاٹتا ہوں تو مجھے ان تازہ کھجوروں کی خوشبوں آتی ہے۔‘‘
حالانکہ سیدۃ خدیجہ رضی اللہ عنہا معرج سے پہلے وفات پا چکی تھیں۔
روایت نمبر2: ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اکثر پیار لیتے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا یا نبیﷺ! آپ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اکثر پیا ر لیتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب مجھے معراج ہوئی اور میں جنت میں داخل ہواتو مجھے جنت کے تمام پھل کھلائے گئے جس سے میری پشت میں نطفہ تیار ہوا، اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہرا۔جب مجھے ان پھلوں کے کھانے کا شوق پیداہوتاہے تو میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیار لیتاہوں جس سے مجھے ان پھلوں کا مزہ آجاتاہے جو میں نے کھائے تھے۔’’ (موضوعات)
حالانکہ جوان عورت ، چاہے بیٹی ہو، یا ماں، ایسا بالکل نہیں کرنے دے گی۔اور نہ ہی کوئی والد یا بیٹا ایسی حرکت کرے گا۔
روایت نمبر3: حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اور روایت میں زبان حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے منہ داخل کرنے اور شہد کی طرح چاٹنے کا ذکر ہے۔
روایت نمبر4: اسی طرح طبرانی المعجم الکبیر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اور روایت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گلے کا پیار لینے کا ذکر ہے ۔
روایت نمبر5: اسی طرح مستدرک حاکم میں سعد بن مالک سے روایت ہے کہ جب مجھے معراج کرایاگیا تو جب میرے پاس ایک سفرجلۃ(ناشپاتی) لایا اور میں نے اسے تناول فرمایا ، پھر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ملا اور اس نطفے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاپیدا ہوئی ،اب جب کبھی مجھے جنت کی خوشبو سونگھنے کا اشتیاق ہوتاہے تو میں فاطمہ کا گلا سونگھتاہوں۔امام حاکم حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتاہے کہ یہ روایت سند اور متن ہر دو لحاظ سے غریب ہے ،اس کا ایک راوی شہاب بن حرب مجہول ہے اور باقی رُوات ثقات ہیں۔’’
رُوَاتِ(سند کے راویوں) پر تبصرہ:
ان میں ہر ایک روایت کی سند میں کوئی نہ کوئی کذاب اور مجروح راوی موجود ہے جن کی وجہ سے یہ تمام روایات سنداََ بھی موضوع اور من گھڑت ہیں۔
پہلی روایت میں عمرو بن زیاد الثوبانی ہے ،اس کے متعلق امام دارِ قطنی رحمہ اللہ متوفی 385ہجری لکھتے ہیں کہ یہ احادیث وضع کرتاتھا۔
دوسری روایت میں حسن بن عبیداللہ الابزری ہے جس کا نام دراصل حسین تھا ،وہ بھی کذاب ہے۔
تیسری روایت میں احمد بن الاحجم ہے جو کذاب ہے ۔ایک اور روایت میں محمد بن الخلیل ہے ۔ حافظ ابن حجر اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی ذلیل انسان تھا۔
امام حاکم کی روایت میں خود امام حاکم نے ایک راوی شہاب بن حرب کو مجہول کہا ہے۔
امام دارِ قطنی نے حاکم کے ایک راوی مسلم بن عیسیٰ الصفار کو متروک کہا ہے، اور علامہ ذہبی نے حاکم کی روایت کو اسی مسلم بن عیسیٰ کا وضع کردہ بتایاہے۔(میزان الاعتدال،ترجمہ مسلم بن عیسیٰ الصفا،،،،،، مستدرک حاکم مع تلخیص الذھبی،،،،لسان المیزان لابن حجر عسقلانی)
قصہ مختصر یہ روایات عقل ونقل اور روایت و درایت کے تمام اصولوں کے مطابق درست نہیں اور نبی کریم ﷺ کی طرف ان کی نسبت کرنا حرام ہے۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ متوفی911 ہجری نے اس روایت کو طبرانی اور حاکم کے حوالہ سے‘‘ الخصائص الکبریٰ ’’میں نقل کیاہے اور لکھاہے کہ:
‘‘امام حاکم نے اس کوغریب کہاہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہاب بن حرب مجہول ہے۔اور علامہ ذہبی نے لکھاہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نبوت سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھی ۔’’
حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی852 ہجری لکھتاہے کہ اس کا موضوع ہونا ظاہر ہے اس لئے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا معراج سے پہلے پیدا ہوئی تھی ۔
جب نبی کریم ﷺ کو معراج کرایا گیا اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا زندگی کی سترہ بہاریں دیکھ چکی تھیں۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ والی روایت کو موضوع کہاہے اور اس کا بنانے والا عمرو بن زیاد کو بتایا ہے ۔اور لکھاہے کہ یہ عمرو بن زیاد جھوٹی احادیث بناتا تھا ۔’’
اور ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مروی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ و والی روایت کی ذیل میں لکھاہے کہ اس کا راوی احمد بن الاحجم کذاب یعنی سخت جھوٹاتھا۔امام ابن حبان رحمہ اللہ کی روایت کردہ عائشہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے بارے میں لکھاہے کہ عبداللہ بن واقد راوی متروک ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما والے روایت کے آخر میں لکھاہے کہ عبداللہ ابزاری راوی دل سے احادیث بناتاتھا۔(اللآلی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃ)
تفصیل کیلئے علامہ حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ متوفی 748 ہجری کی‘‘ میزان الاعتدال’’ ، امام جلال الدین سیوطی
رحمہ اللہ متوفی 911 ہجری کی اللآلی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃ ’’اور اور ابن جوزی رحمہ اللہ متوفی 597 ہجری کی ‘‘موضوعات’’ دیکھے جاسکتے ہیں۔